اردو میں کلاسیکیت اور جدیدیت کے مباحث (حصہ دوم) : ڈاکٹرناصر عباس نیر ّ

ناصرعباس نیر
اردو میں کلاسیکیت اور جدیدیت کے مباحث ( مابعد نوآبادیاتی تناظر)
       (حصہ دوم )
اردو میں کلاسیکیت کا ڈسکور س ایک طرف اس ثنوی رشتے کی مدد سے خود کو واضح کرتا ہے جو اس نے جدیدیت سے قائم کیا ہے؛ کلاسیکیت کے دلائل کی سب آگ جدیدیت کی غیر مصالحانہ مخالفت سے حاصل ہوتی ہے ، دوسری طرف وہ اس فاصلے میں اپنا اظہارکرتا ہے جو اس نے معاصر ادب سے قائم کیا ہے اور مسلسل برقرار رکھا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ معاصر ادب سے کلاسیکیت کے ڈسکورس کی بیگانگی ،جدیدیت سے اس کے اِبا کا راست نتیجہ ہے۔گزشہ صفحات میں ہم یہ تو واضح کرآئے ہیں کہ کلاسیکیت ،روایت اور تہذیب تینوں جدیدیت کو اپنا حریف گردانتی ہیں، مگر اس بات کو واضح کرنا باقی ہے کہ وہ جدیدیت کون سی ہے؟ ابھی تک ہم نے جدیدیت کو اس مغربی جدیدیت کے مفہوم میں زیادہ تر استعمال کیا ہے، جو فرد کی خود مکتفی بشریت سے عبارت ہے،یعنی فرد کا اپنی بشریت میں وہ اعتقاد جو اسے دوسرے ، تاریخی، اساطیری ،مذہبی ذرائع سے بے نیاز کرتا ہے؛ وہ باقی سب دیوتائوں ،خدائوں، سورمائوں سے بیگانگی اختیار کرتاہے اور تمام طرح کی دیوتائی اور خدائی صفات خود اپنے اندر موجود تصور کرتاہے۔ وہ روایت سے اس لیے باغی ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے تاریخی عہد ، دوسرے اشخاص، دوسروں کے وضع کیے ہوئے تصورات سے عبارت ہوتی ہے ،جو اس کے مستند ، حقیقی وجود کے اظہار میں حائل ہوتی ہے، نیز وہ پر اعتماد ہوتا ہے کہ وہ خود ’روایت سازی ‘کرسکتا ہے جو ماضی کی روایت سے مختلف ، درجے میں کم تر ہوسکتی ہے، مگر وہ اس کے لیے حقیقی ہوتی ہے کہ اس پر اس کے دست خط ہوتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اردو میں اس یورپی جدیدیت کے بعض تصورات ظاہر ہوئے ہیں،لیکن اس کے سوا بھی بہت کچھ ہے ،جسے شاید ہی واضح کیا گیا ہو ۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے ابتدائی عشروںمیں اس اردوجدیدیت پر لکھا جانا لگے تھاجس کی اوّل اوّل نمائندگی حالی اور ان کے معاصرین کررہے تھے۔ اس ضمن میں سر عبدالقادر کی A New School of Urdu Poetry،موہن سنگھ دیوانہ کی Modern Urdu Poetryاور عبدالقادر سروری کی ’’جدیداردو شاعری ‘‘ اس ضمن میں قابل ذکر ہیں۔ سر عبدالقاد ر نے بہ زبان انگریزی لکھا کہ ’’اردو واحد زبان ہے جو ملک کو قومی ادب بہم پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے‘‘۔
یہ (اردو) واحد زبان ہے جو ملک کوقومی ادب بہم پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے ،جس (قومی ادب )کے بغیرکوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی ،کیوں کہ قوم جو کچھ ہے،اسے بنانے میں ادب کا کردار معمولی نہیں ہوتا۱۹۔
گویا جدید اردو شاعری کی امتیازی خصوصیت اس کا ’قومی ‘ ہوناہے۔بعد میں اسی بات کو ن ۔م ۔راشد نے جدید شعرا کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے آگے بڑھایا۔
یہ شاعر ان متضاد اورفکری اسلوبوں کا نتیجہ تھے جو اردو ادب میں داخل ہوچکے تھے۔ان میں سے کئی نے مغربی تعلیم حاصل کی تھی اور بعض نے انگریزی ادب کا سخت مطالعہ بھی کیا تھا۔ساتھ ہی ان کے ذہن کے دروازے نئی معلومات کے لیے واتھے اور یہ وہ فکری پہلو ہے جس میں انھیں اور حالی کو بہت کامیابی نصیب ہوئی تھی ۔نئے نئے علوم مثلاً نفسیات اور نفسیاتی تجزیہ جو علم کا نیا معیار قرار پاتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور غیر ملکی سماجی اور سیاسی تحریکوں کا شعوراور ان میں عملی حصے نے مل کر انھیں ایک ایسی نئی زندگی دی جو حالی ،آزاد اور اقبال کی شعوری کیفیات سے بالکل مختلف اور روایتی شاعری کی راہ سے مکمل علاحدگی کے مترادف تھی۲۰۔
واضح رہے کہ راشد نے یہاں مغربی جدیدیت کے چند منتخب عناصر پیش کیے ہیں؛کچھ ایسے عناصر کا ذکر بھی کیا ہے ،جنھیں صرف اردو کی جدیدیت کی پہچان کہنا چاہیے۔ ان میں معاصر ملکی و غیر ملکی سیاسی تحریکوں کا شعور بہ طور خاص قابل ذکر ہے۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں معاصر ملکی صورتِ حال استعماریت سے عبارت تھی۔راشد کا تجزیہ درست ہے کہ حالی کے یہاں اس کا قابل ذکر شعور نہیں تھا۲۱۔ گویا حالی جس جدید شاعری کی نمائندگی کررہے تھے ،اس کی اساس ’روایتی اردو شاعری ‘ سے اس بے زاری پر تھی جس کا محرک برطانوی تعلیمی اصلاحات تھیں،اور یہی بات حالی کی ’جدید شاعری ‘ کے تصور کو محدود کرتی تھی ،مگر حالی ان جدیدمغربی علوم تک براہ راست رسائی سے قاصر تھے ،جن کے مطالعے کا موقع راشد کی نسل کو ملا تھا۔لیکن ایک چیز اردو کی جدیدیت (جو کئی منازل سے گزری ہے،حالی کا عہد اس کا ابتدائی، عبوری عہد تھا) میں پہلے دن سے تھی، وہ تھی قومی شاعری ۔یہ ایک ایسا پہلو تھا جو اردو جدیدیت کو مغربی جدیدیت سے الگ کرتا ہے؛یہ جدیدیت کا ایک مقامی (Indigenised)متن تھا۔واضح رہے کہ جدیدیت کی ایک اور صورت بھی اردو شاعری میں پہلے سے موجود تھی جس کا مئوثر اظہار بیدل اور غالب کی شاعری میں خاص طور پر ہوا ہے۔ ۔ راشد جس جدیدیت کا تصور پیش کررہے ہیں ،یہ نو آبادیاتی عہد میں یورپی جدیدیت کے ساتھ مکالمے (Negotiation)کے نتیجے میں رونما ہوئی۔ یہ نہ صرف مغربی جدیدیت (جس کے نمائندے ٹی ایس ایلیٹ، ایذرا پائونڈ ، ییٹس ،بادلیئر ، ملارمے ، رلکے وغیرہ ہیں)سے مختلف ہے، بلکہ اس جدیدیت سے بھی جدا ہے جسے ’استعماری جدیدیت ‘ کہنا چاہیے، جسے انیسویں صدی کے اواخر میں استعماری حکمران اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کے ذریعے متعارف کروارہے تھے۔نو آبادیاتی عہد میں وضع اور رائج ہونے والی ’مقامی جدیدیت ‘ میں قوم کا وہ تصور ایک یا دوسری شکل میںموجود چلاآتا ہے، جو متعارف تو یورپی اثر سے ہوا،مگر جس نے برصغیر کے حقیقی سیاسی حالات کے تحت خاص صورت اختیار کی۔اردو میں جدیدیت پر ابتدائی تحریروں میں اس جانب واضح اشارے ملتے ہیں۔عبدالقادر سروری لکھتے ہیں:
قومیت اور وطنیت کا احساس اور آزادی کی روح جدید اردو شاعری کا بڑا وصف ہے۔قومیت اور وطنیت کا احساس اردو شاعروں کے ذہن میں آہی نہیں سکتا تھا ۔یہ چیز یورپ اور خصوصاً انگریزوں کا تحفہ ہے،جن کی قومیت اور وطنیت تنگ نظری کو پہنچ گئی ہے۔مشرق میں مذہب کا خیال قوموں کا محرک ہوا کرتا ہے،اسی لیے آج بھی قومیت اور مذہب کے جذبات میں گڑ بڑ ہوجانے سے ہمارے ذہنوں میں عجیب کش مکش پیدا ہوگئی ہے۲۲۔
’قومیت اور آزادی ‘نو آبادیاتی عہد کی اردو شاعری میں ظاہر ہونے والی جدیدیت کے دو مرکزی عناصر ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ جدید شاعروں کے یہاں یہ دونوں عناصر بہ یک وقت کارفرما ہوتے ہیں؛کہیں ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو اور کہیں ایک دوسرے کا ضمیمہ بنتے ہوئے۔ کہنے کا مقصود یہ ہے کہ اردو جدیدیت جس آزادی کا تصور کرتی ہے ،وہ اپنے ’آج ‘ یعنی قومی صورت حال کے تناظرمیں کرتی ہے۔ شاید ہی کسی جدید اردو شاعر کے یہاں اس آزادی کا اظہار ہوا ہو جو عدمیت یا نفی کامل کا حامل ہو،جسے مغربی جدیدیت کے فلسفے میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ تو درست ہے کہ ـ’’آزادی جس کے اردو شاعر متلاشی نظر آتے ہیں،وہ محض سیاسی نہیں ہے،بلکہ اس کا دائرہ وسیع تر ہے۔اس میں ہر قسم کی بے جا بندش سے خلاصی کی سعی شامل ہے۲۳‘‘،مگر جن بندشوں سے جدید اردو شاعر آزادی چاہتے ہیں،ان کا لازماً سیاسی پہلو ہے۔یہاں تک کہ وہ جنس ،اخلاقیات ، مذہبی تصورات سے جس آزادی کی آرزو کرتے ہیں،اس کا بھی سیاسی رخ ہے۔
اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ بیسویں صدی کے تما م جدید شعرا نے اسی طر ز کی قومی شاعری لکھی ہے ،جس کی ابتدائی مثالیں حالی ،شبلی ، اکبر کے یہاں ملتی ہیں،اور جسے بعد میں نقطہ ء عروج پر اقبال نے پہنچایا۔’ قومی شاعری ‘ قوم کے امتیازی تصور کو تفاخر آمیز پیرائے میں پیش کرتی ہے۔نیز قومی شاعری میں قوم کی آزادی کا پرشکوہ بیان ہوتا ہے مگراس میں جدیدیت اور اس کی روح آزادی سے بے زاری پائی جاتی ہے۔جب کہ جدید شعرا جدیدیت کی روح آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے ،قومی شناخت کا سوال اٹھاتے ہیں۔ان کے لیے قوم ایک بنا بنایا تصور نہیں ہے،جسے وہ اپنے شعری تخیل میں حاکمانہ حیثیت دیں۔ ایک حقیقی جدید شاعر کسی تصور کو حاکمانہ مرتبہ نہیں دیتا؛ وہ تمام مقتدر تصورات پر استفہام قائم کرنے ہی میں اپنی تخلیقی آزادی دیکھتا ہے۔ وہ قوم کے رائج تصورات کو بھی اسی طرح contestکرتا ہے ،جس طرح جنس،مذہب، سیاست ، معاشرت ، شاعری کے اسالیب ، تیکنیکوں ،ہیئتوں کو contestکرتا ہے ۔
یہ تفصیل پیش کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اردو کلاسیکیت کا ڈسکورس جس جدیدیت کو اپنی ضد قرار دیتا ہے ،وہ اصل میں ’یورپی جدیدیت ‘ہے،اردو کی’ مقامی جدیدیت‘ نہیں،مگر کلاسیکیت اور روایت کے ڈسکورس میں دونوں قسم کی جدیدیت کا فرق نہیں کیا گیا؛دونوں کو ایک ہی چھڑی سے ہانکنے کی روش اختیار کی گئی ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، یورپی جدیدیت بھی ایک مجرد اصطلاح ہے۔یورپ میں کئی طرح کی جدیدیتیں ہیں۔ ہمارے یہاں برطانوی جدیدیت کے اثرات ، استعماری فضا میں مرتب ہوئے۔ جن لوگوں نے اپنی برطانوی تعلیمی اصلاحات کے تحت اپنی ثقافت کو حقیر سمجھا اور ترقی کے لیے انگریزی زبان، انگریز کلچر، انگریزی آداب ، انگریزی ادب کی آرزو کی(جس کی مثال گزشتہ صفحات میںنظم طباطبائی کی نظم کے اشعار میں پیش کی گئی ہے) اور ان سب کے ذریعے اپنی نئی شناخت قائم کی، وہ استعماری جدیدیت کے علمبردار بنے ، انھیں اگر کلاسیکیت اور روایت کی بحثوں میں تنقید کی سان پر چڑھایا گیا ہے تو بالکل بجا ہے ،مگر جس ادب میں معاصر قومی صورتِ حال اور تخیل کی حقیقی آزادی کو ایک ساتھ ظاہر ہوئی، وہ اردو کی مقامی جدیدیت تھی،اور اسے لحاظ میں رکھا جانا چاہیے تھا ۔ اردو کلاسیکیت کا ڈسکورس اس مقامی جدیدیت کو ’یورپی جدیدیت ‘کا ظل قرار دے کر اس کی مخالفت میں سرگرم ہوتا ہے۔ اس کے ایک سے زیادہ اسباب ہوسکتے ہیں۔اردو کی مقامی جدیدیت ،یورپی علوم سے استفادہ کرتی ہے۔کلاسیکی عہد کے ادب سے منقطع ہونے کا اعلان کرتی ہے؛ غزل کے بجائے اس جدید نظم میں اپنا اظہار کرتی ہے ، جسے یورپ ہی سے لیا گیا۔ نیز کلاسیکی شعری زبان کو کلیشے قرار دے کر ، ایک نئی زبان وضع کرنے کی سعی کرتی ہے۔ لیکن یہ سب مقامی جدیدیت کی بالائی سطح ہے۔ اس سطح پر یہ جس قدر یکسر نئی دکھائی دیتی ہے، ہے نہیں۔ مثلاً اردو شاعر ی نے پہلے فارسی سے اصناف مستعار لیں ،زبان ، اسالیب اخذ کیے ،مگر ان سب کو ‘مقامی ‘ بنایا۔ گویااردو شاعری کی روایت میں دوسری تہذیبوں سے رسم و راہ پہلے سے چلی آتی ہے۔ یہاں تک کہ برصغیر میں لکھی جانے والی فارسی شاعری کا سبک ہندی ، ایرانی شعری اسالیب سے اپنی واضح الگ پہچان رکھتا ہے۔ جدیداردو شاعری نے بھی ’یورپی اثرات‘ کو مقامی بنایا۔ کلاسیکی شاعری میں مقتدر ہیئتوں کو چیلنج کرنے کا توانا رویہ تھاجو شیخ و زاہدو برہمن اور مذہب کی رسمی علامتوں پر تنقید کرتا تھا، یہی رویہ جدید شاعری میں بھی موجود ہے۔ فرق یہ ہے کہ اب مقتدر ہیئتیں بدل گئی ہیں۔ کلاسیکی شاعری میں کفر کی مدح سرائی ، اپنے زمانے کی مقتدر ہیئتوں کو چیلنج کرنے کی غرض سے ہے۔ جدید شاعری میں جنس ، مذہب ، اخلاق، سیاست ، قوم کے مقتدر تصورات پراستفہا م ملتاہے۔ اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اردو میں کلاسیکیت کا ڈسکورس جس جدیدیت کو مسترد کرتا ہے، وہ بیرونی ، مسلط کی ہوئی، اوڑھی ہوئی نہیں ہے، بلکہ مقامی، اختیاری اور باطنی سطح پر محسوس کی گئی ہے۔اس کے سوالات ، مسائل اسی سے مخصوص ہیںاور انھیں پیش کرنے کی شعری زبان اس کی اپنی ہے۔یہ حقیقت کلاسیکیت اور روایت کے مباحث میں جگہ نہیں پاسکی، جس سے کئی مغالطوں نے جنم لیا۔
جس طرح روایت کا تصور ،ایک جدید تصور ہے ، اسی طرح کلاسک ،کلاسیکل، کلاسیکیت کی اصطلاحات بھی یورپی الاصل ہیں۔اب آئیے دیکھتے ہیں کہ انگریزی میں لفظ کلاسیک ،کلاسیکی، کلاسیکیت کن معنوں میں استعمال ہوتاہے، اور ہمارے یہاں اسے کس مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے۔ فرانسیسی ساں بیو( Charles Augustin Sainte Beauve )(۱۸۰۴ء–۱۸۶۹ء) اور امریکی برطانوی ٹی ایس ایلیٹ نے بالترتیب ۱۸۵۰ء اور ۱۹۴۴ء میں ’’ کلاسک کیا ہے؟‘‘ کے عنوان سے مضامین لکھے ہیں، دونوں کے اردو تراجم ہوئے ہیں اور خاصے پڑھے بھی گئے ہیں۔علی جاوید نے ’’کلاسیکیت اوررومانویت ‘‘ کے عنوان سے مرتبہ کتاب میں یہ دونوں مضامین یکجا کیے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان مضامین میں کلاسیک کا جو تصور پیش ہوا ہے، وہ اردو میں عام طور پر سامنے نہیں رکھا گیا۔ کلاسیک کا لفظ رومیوںنے طبقہ ء اعلیٰ کے لیے استعمال کیا ، جس کی مخصوص آمدنی ہو۔ کم آمدنی والوں کے لیے infra classemکی اصطلاح استعمال کی گئی۔ گیلیوس (Aulus Gellius)نے اسے استعاراتی معنوں میں استعمال کیا،اور اس سے مراد معتبر اور ممتاز مصنف لیا۔ رومیوں کے لیے یونانی کلاسیک تھے، اور نشاۃ ثانیہ میں وہ دونوں اہل یورپ کے لیے کلاسیک بنے۔ انگریزی ، جرمن، فرنچ ،اطالوی کا جدید ادب پہلے انھی کلاسیک کی نقل ،پھر ان سے انحراف (جسے رومانویت اور پھر جدیدیت کا نام ملا) کے نتیجے میں سامنے آیا۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ کلاسیک کا مخصوص تصور یورپ کے جدید ادیبوں نے قائم کیا۔خود یونانی اور لاطینی ادیب اپنے ادب کو اس مفہوم میں کلاسیکی نہیں کہتے تھے جو مفہوم جدید عہد کے یورپی مصنفوں نے وضع کیا۔ ساں بیو کے مطابق کلاسیک کا اطلاق صرف مخصوص ادیب پر ہوتا ہے ،نہ کہ ایک عہد کے سب ادیبوں پر۔جب کہ ہم پورے عہد کو کلاسیکی کہتے ہیں(غالباً ٹی ایس ایلیٹ کے اثر سے کہ وہ کلاسیکل عہد کی ترکیب استعمال کرتا ہے)۔ ساں بو کہتے ہیں:
ایک حقیقی کلاسک وہ مصنف ہے جس نے انسانی ذہن کو مالا مال کیا ہو،اس کے خزانوں میں اضافہ کیا ہواور اس کے ایک قدم آگے بڑھنے کا سبب بنا ہو،جس نے کسی اخلاقی ،نہ کہ غیر یقینی سچائی کو دریافت کیا ہو،یا اس دل میں کسی ابدی ولولے کو منکشف کیا ہو جہاں سب کچھ معلوم اور دریافت شدہ دکھائی دیتا ہے؛جس نے اپنے خیال، مشاہدے یا ایجاد کو،خواہ وہ کسی بھی ہیئت میںہو ،شرط یہ ہے کہ اسے وسیع اور عظیم بنایا ہو، نفیس بنایا ہواور باشعوربنایا ہو، حکمت سے لبریز کیا ہو اور اسے اپنے آپ میں خوب صورت بنایا ہو؛جس نے سب کو اپنے مخصوص اسلوب میں مخاطب کیا ہو،ایک ایسا اسلوب جو پوری دنیا کا محسوس ہوتا ہو،نیا ہو مگر نئی الفاظ سازی کے بغیرہو،نیااور پرانا ،سہل معاصر مگر سب زمانوں کا ہو۲۴۔
یہ خصوصیات مثالی ہیں اور مصنف کو ’خدائی صفات ‘ کا حامل قرار دیتی محسوس ہوتی ہیں ۔ ان کے پس منظر میں ادب کا یہ تصور کارفرما نظر آتا ہے کہ وہ قوم ، زبان ، زمانے کی حدبندیوں سے ماورا ہوتا ہے،خدا کی مانند۔ اسی لیے ساں بیو ایک طرف روم کے ہوریس،برطانیہ کے پوپ ، فرانس کے بولیو،ہندوستان کے والمیکی اور ویاس اور ایران کے فردوسی کو کلاسیک کی مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔کوئی مصنف کیوں کر اپنے زمانے ، وطن ، قوم ،تاریخ سے ماورا ہوسکتا ہے؟ اس کے جواب میں ساں بو ’’ہم وضعیت، حکمت، اعتدال اور تعقل ‘‘ کو بہ طور شرائط پیش کرتا ہے ،اور ان میں تعقل کو اولیت دیتا ہے۔ تعقل کو وہ شینئر (Marie-Juiph Chenier) کے حوالے سے واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نیکی، ذکاوت ، صلاحیت اور روح تک تعقل کی صورتیں ہیں۔ جب تعقل عمل میں آتا ہے تو یہ نیکی ہے؛ تعقل کو ارتفاع حاصل ہو تو یہ ذکاوت ہے؛ قابلیت کے ساتھ تعقل کا تجربہ کیا جائے تو یہ صلاحیت یا ٹیلنٹ ہے اور تعقل نفاست کے ساتھ عمل میں ظاہر ہو تو یہ روح ہے۔یوں لگتا ہے کہ ساں بیو کو ایک ایسے ابدی و آفاقی اصول کی تلاش تھی جس کی مدد سے وہ پوری دنیا کے بڑے ادب کے ہمیشہ باقی رہنے کی خصوصیت کی وضاحت کرسکے،لیکن جس کا حصول آسان نہ ہو۔ اسے یہ اصول تعقل میں دکھائی دیا۔تعقل کو ارتفاع، قابلیت،نفاست سے وابستہ کرنا آسان نہیں۔
ٹی ایس ایلیٹ کا کلاسک کا تصور ساں بیو کی نسبت محدود بھی ہے کچھ مختلف بھی۔یوں لگتا ہے کہ اس کے سامنے ساںبیو کا مضمون نہیں تھا۔ وہ پختگی (maturity) کو کلاسک کی اوّلین شرط قرار دیتا ہے۔ اس پختگی کا تعلق صرف مصنف سے نہیں ، بلکہ زبان اور تہذیب کے ساتھ بھی ہے۔
ایک کلاسیک اس وقت ظہور میں آتی ہے، جب کوئی تہذیب کامل ہوتی ہے۔ جب اس کا زبان و اد ب کامل ہوتاہے ۔ساتھ ساتھ وہ کسی کامل ذہن دماغ کی تخلیق ہوتی ہے۔دراصل یہ اس تہذیب اور اس زبان کی اہمیت اور ساتھ ساتھ کسی منفرد شاعر کے دماغ کی جامعیت ہے جو کسی تخلیق کو آفاقیت کا درجہ عطا کرتی ہے۲۵۔
ساں بیو کلاسیک کو زباں اور تہذیب کے ساتھ نہیں جوڑتا، بلکہ ادیب کے تعقل کے ساتھ جوڑتا ہے۔نیزاس کی نظر میں کلاسیک آفاقی ہوتا ہے، جب کہ ایلیٹ آفاقی کلاسیک اور ایک زبان کے کلاسیک میں فرق کرتا ہے۔ ایلیٹ نے یہ سارا مضمون دراصل ورجل کو آفاقی کلاسیک کے طور پر پیش کرنے کی غرض سے لکھا ہے۔ چناں چہ وہ رومی تہذیب اور لاطینی زبان کو پختگی کا حامل قرار دیتا ہے ، گویا ورجل کبھی ایک آفاقی کلاسیک کے طور پر سامنے نہ آسکتا ،اگر اس کا تعلق رومی تہذیب اور لاطینی زبان سے نہ ہوتا۔ ایلیٹ نے اس مضمون میں اسی منطق سے کام لیا ہے ،جسے وہ انفرادی صلاحیت اور روایت کے تصور میں پیش نظر رکھتا ہے۔ روایت، ایک شخص کی صلاحیت سے بڑی ہوتی ہے۔ ساں بیو کے یہاں جو مرتبہ تعقل کا ہے ،وہ ایلیٹ کے یہاں روایت کا ہے۔ بلاشبہ یہ فرق دونوں کے زمانے سے پیدا ہواہے۔ ساں بیو نے انیسویں صدی کے فرانس میں کلاسیک پر لکھا ،جب رومانویت کا خاتمہ ہورہا تھا اور اس کی جگہ علامت پسندی لے رہی تھی، مگر ساں بیو روشن خیالی کے نظریات میں یقین رکھتا محسوس ہوتا ہے ، جو تعقل کو اولیت دیتے ہیں۔ جب کہ ایلیٹ نے یہ مضمون ۱۹۴۴ء میں اس وقت لکھا تھا جب دوسری عالمی جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اگرچہ اس مضمون میں کہیں اس جنگ کا ذکر نہیں ،سوائے اس اشارے کے کہ اسے لائبریری سے کتب کے حصول میں دشواری ہوئی، تاہم اگر ایلیٹ کے مضمون کو دوسری عالمی جنگ کے تناظر میں پڑھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پہلی بڑی جنگ کی مانند ،دوسری بڑی جنگ بھی معاصر یورپی تہذیب کے بڑے ہونے پر سوالیہ نشان لگا رہی تھی اور کسی کلاسیک کے وجود میں آنے کے امکان کی نفی کررہی تھی۔اسی لیے ایلیٹ، کلاسیک کی تلاش میں قدیم روم کی طرف جاتا ہے۔علاوہ ازیں ایلیٹ جدیدیت کا ایک ایسا تصور بھی رکھتا تھا جو روشن خیالی کے عہد کی تعقل پسندی کو شک کی نظر سے دیکھتا تھا۔ ایلیٹ امریکی تھا جو ترک وطن کرکے برطانیہ آباد ہواتھا۔ جے ایم کوٹزی نے ایلیٹ کے اسی مضمون پر لکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ورجل کے ذریعے برطانوی بننے کی کوشش کرتا ہے۔کوٹزی کے مطابق ایلیٹ کلاسیک کی اس تعبیر کی روشنی میں اپنی ایک نئی شناخت بنانے کی سعی کرتا ہے؛ایک ایسی نئی شناخت جس کی بنیاد امیگریشن ، آباد کاری ، ثقافتی انجذاب وغیرہ کی بجائے عا لمیت یا کو سموپولیٹن ازم پر ہو۔ورجل اور ڈانٹے اسی عا لمیت کی نمائندگی کرتے ہیں۲۶۔یوں بھی امریکیوں کے لیے یونان و روم کی وہ اہمیت نہیںجو یورپ کے لیے ہے۔دوسری طرف یورپ نے یونان وروم سے اپنا رشتہ ،نشاۃ ثانیہ کے دوران میںقائم کیا تھا، یعنی یونان و روم کی شکل میں اپنے عظیم ثقافتی آبا تلا ش کیے تھے۔ ورجل کے ذریعے برطانوی بننے کی ایلیٹ کی آرزوبھی قریب قریب ایسی ہی ہے۔ کوئٹزی کے اس مضمون سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جدید عہد میںجلاوطنی کی حالت کس طرح لکھنے والوں کو مسلسل اور کئی سطحوں پر مضطرب رکھتی ہے اور وہ اس سے عہدہ برا ہونے کے لیے کس طرح اپنی جڑوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ایلیٹ اپنی جڑیں اس ثقافت میں تلاش کرتے ہیں جو کلاسیک کی طرح آفاقی ہے۔ایلیٹ نے روایت کا تصور بھی پورے یورپ کی صدیوں پر پھیلی تاریخ میں تلاش کیا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ اردو والوں کو ساں بیو کے تعقل کے بجائے ایلیٹ کا زبان اور تہذیب میں جڑیں رکھنے والا کلاسیک کا تصور زیادہ قابل قبو ل لگا ہے۔
اردو میں کلاسیک مصنف کی بحث بہت کم ہوئی۔ کلاسیک کی جگہ عظیم شاعر یا خداے سخن کی بحثیں ضرور ہوئیں( خداے سخن میر کہ غالب کے عنوان سے ہونے والی بحثیں) ،جو ٹی ایس ایلیٹ کے ایک زبان کے کلاسیک کے مفہوم کے متوازی سمجھی جاسکتی ہیں۔ اردو میں کلاسیکی عہد کی اصطلاح رائج ہوئی،جسے ۱۸۵۷ء کے بعد شروع ہونے والے جدید عہد سے الگ اورمختلف قرار دیا گیاہے۔ ولی سے غالب تک کے شعرا کو کلاسیکی قرار دیتے ہوئے، لفظ کلاسیک کے ان مفاہیم کو پیش نظر نہیں رکھا گیا جو اس اصطلاح سے مخصوص ہیں، اور جسے خود اردو والوں نے بھی پیش کیا ہے۔ مثلاً محمد ذاکر لکھتے ہیں:
کلاسیکیت کو زمانیت اور مقامیت میں محدود نہیں کیا بھی نہیںجاسکتا۔کلاسیکیت سے مراد یہ ہے کہ فن پارے میں ایسی جاذبیت ہو ،فکر وخیال کو تازہ کرنے والی یا دل میں ایک گونہ مسرت یا نشراح کی کیفیت پیدا کرنے والی ایسی صلاحیت ہو جس کی وجہ سے وہ دیرتک زندہ رہ سکے ۔کلاسیکی فن پارہ ،فنکار کے مزاج کے رچائواور پختگی کا نتیجہ ہوتاہے اور یہ رچائو اور پختگی اس کے معاشرے کے تہذیبی رچائو اور پختگی سے ہم آہنگ ہوتی ہے‘‘۲۷۔
یہ آر ایلیٹ کے خیالات سے ماخوذ ہیں،صرف اس فرق کے ساتھ کہ انھوں نے لفظ کلاسیک کا اطلاق مصنف پر اور ذاکر صاحب نے فن پارے پر کیا ہے۔اس سے کئی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ نہ تو ہر مصنف کلاسیک ہوتا ہے ،نہ ایک (کلاسیکی ) عہد میں سامنے آنے والے سب فن پارے کلاسیکی عظمت کے حامل ہوتے ہیں۔ جب ایک عہد کو کلاسیکی قرار دیا جاتا ہے تو اس عہد کے سب مصنفین سے فن کی وہی پختگی، کاملیت ،رچائو اور عظمت تصور کی جانے لگتی ہے ،جسے حقیقت میں کوئی کوئی فنکار ہی حاصل کرپاتا ہے۔ ہماری رائے میں کلاسیک مصنف کا تصور ،کلاسیکی عہد کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔میراور غالب کلاسیک ہیں۔ عظیم ہیں۔ اپنے زمانے کو عبور کرکے آئندہ زمانوں میں بھی ان کی شعری کائنات سے پھوٹنے والا نور پہنچ رہا ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کلاسیک مصنف اپنے زمانے کو عبور کرجاتا ہے تو اس کا مطلب یہ (بھی )ہے کہ ان کی شاعری اس کاملیت اور جامعیت کو پہنچ گئی تھی ،جسے ان کے اپنے تاریخی وثقافتی تناظر کے علاوہ تناظرات میں بھی سمجھا جاسکتاہے، ان کی شاعری کے نور سے دیگر زمانوں کے تاریک گوشوں کو منور کیا جاسکتا ہے، اور ان کی شاعری کی ایک ایسی تعبیر کی جاسکتی ہے ،جو ان کے اپنے زمانے میں ممکن نہیں تھی؛ ان کے متن کے اطراف اصل میں کھلے ہوتے ہیںیعنی وہ متن open endedہوتا ہے۔ اگر کسی مصنف کو محض اس کے زمانے کی شعریات اور تاریخی و ثفاقتی فضا ہی میں سمجھا جاسکے تو اس کی حیثیت محض تاریخی ہوسکتی ہے، لازمانی کلاسیک کی نہیں۔ایلیٹ کے کلاسیک کے تصور میں ایک کمی یہ ہے کہ اس نے کلاسیک مصنف کو اس کی تہذیب کی پختگی سے غیر ضروری طور پر وابستہ کیا ہے۔ اوّل یہ کہ اگر تہذیب کی پختگی ہی کلاسیک مصنف کے وجود میں آنے کی شرط ہے تو پھر اس عہد کے ہر مصنف کو کلاسیک ہونا چاہیے،جو آج تک ممکن نہیں ہوا۔بلاشبہ زمانے کا اثر لکھنے والوں پرہوتا ہے ، مگر یہ اثر سب پر یکساں نوعیت کا نہیں ہوتا۔ تخلیق کار اپنے زمانے کو سیدھا سادہ منعکس نہیں کرتے، اس سے جھگڑتے ہیں، اس سے مکالمہ کرتے ہیں، اس سے فاصلہ اختیارکرتے ہیں، اس کی ملامت بھی کرتے ہیں اور اسے ان باتوں کی طرف متوجہ بھی کرتے ہیں ، جن پر اس زمانے کی باقی چیزوں ی نگاہ نہیں جاتی۔ یعنی وہ اپنے زمانے سے ایک مکالماتی رشتہ استوار کرکے ،ایک نیا قسم کا زمانہ ،ایک نئی طرح کی آرٹ کی تہذیب کو جنم دیتے ہیں۔ دوم یہ کہ کلاسیک مصنف ، ان زمانوں میں بھی اپنی شعری دنیا کی آب وتاب قائم رکھتا ہے جو تہذیبی اعتبار سے پختگی سے محروم ہوتے ہیں،نیز دوسری تہذیبوں میں بھی (جن کے تصور دنیا یکسر مختلف ہوں) وہ قابل فہم اور قابل تحسین ہوتے ہیں۔
ایک اہم بات کی نشان دہی یہاں ضروری ہے کہ کلاسیک کی اصطلاح کی وضاحت تو مغربی تنقید سے اخذ شدہ خیالات کی روشنی میں کی گئی ہے ،اور اس کا اطلاق اردو کے کلاسیکی ادب پر کیا گیا ہے،مگر کلاسیکی تنقید سے وہ تنقید مراد لی گئی ہے جس کی بنیاد ’’عربی وفارسی شعریات پر ہے اور عربی وفارسی شعریات کا دائرہ علم بدیع وبیان اور معانی کے ساتھ علم عروض و قوافی و قواعد پر محیط ہے۔۔۔یہ بہ طور خاص ہیئت اور اسلوب کے حسن پر اصرار کرتی ہے‘‘۲۸۔اصولاً کلاسیکی تنقید سے مراد وہ اصول ہاے نقد لیے جانے چاہییں جو کلاسیک مصنف کی عظمت کی بنیادوں کو واضح کرسکیں، اس کی پختگی، کاملیت کی تعبیر کرسکیں۔اس کے برعکس اردو کی ’کلاسیکی تنقید ‘ شاعری کی ہیئت اور اسلوب کی ایک ہی ڈھنگ سے وضاحت کرتی ہے؛وہ اس سوال کا جواب فراہم نہیں کرتی کہ تشبیہ، استعارے، تمثیل ،کنائے اور مختلف شعری صنعتوں کا یکساں استعمال میرو غالب کو بڑا شاعر بناتا ہے ، قائم ، درد ، شاہ نصیر ،ذوق ، داغ کو اوسط درجے کا۔اصل یہ ہے کہ کلاسیک مصنف کی عظمت وکاملیت کونہ تواردو کی رائج کلاسیکی تنقید گرفت میں لے سکتی ہے نہ کوئی ایک طرز نقد ۔البتہ جسے کلاسیکی عہد کہا گیا ہے، اس کے معمول کے لکھنے والوں کی شعریات کی تفہیم ، کلاسیکی تنقید کے اصولوں کی روشنی میں کی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میں شمس الرحمٰن فاروقی نے ’’شعر شور انگیز‘‘ میں میر کی شعریات کی تفہیم جدید و مابعد جدید تنقید کی روشنی میں کی ہے۔انھوں نے شعریات کاجو تصور پیش نظر رکھا ہے ، وہ اصل میں مغربی اور ساختیاتی ہے۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ ’’اگر میں مغربی تصورات ادب اور مغربی تنقید سے واقف نہ ہوتا تو یہ کتاب وجود میں نہ آتی۔ کیوں کہ مشرقی تصورات ادب اور مشرقی شعریات کو سمجھنے اور پرکھنے کے طریقے اور اس شعریات کو وسیع تر پس منظر میں رکھ کر دونوں طریقہ ہاے نقد کے بے افراط وتفریط امتزاج کا حوصلہ مجھے مغربی تنقید کے طریق کاراور مغربی فکر ہی سے ملا‘‘۲۹۔ فاروقی صاحب نے ’’بے افراط وتفریط امتراج ‘‘ کی ترکیب وضع کرکے ،اس مسئلے کا ایک قابل عمل حل نکالا ہے کہ کلاسیکی ادب کی تفہیم میں آیا صرف مشرقی تنقیدمعاون ہے یا محض مغربی تنقید۔ تنقید کا بنیادی کام ادبی متن کے معنی کی تلاش، تفہیم ،تعبیر اور تجزیہ ہے۔متن پرانا یا نیا ،کلاسیکی یا جدید یا مابعد جدید ہوسکتا ہے مگر اس کے معنی کی تلاش کا عمل ایک طرف ، متن کے فوری اور تاریخی سیاق کا پابند ہوتا ہے ، دوسری طرف معاصر عہد کے تناظر کا۔ اگر آ پ صرف متن کے اساسی ،واحد معنی تلاش کرنے تک محدود رہیں تو پھر تنقید کے معاصر نظریات کی ضرورت نہیں ،لیکن اگر آپ متن کے معانی کی ان کی حدود کو بھی پانا چاہتے ہیں جو متن کی محدود دنیا سے باہر ، آپ کی اپنی ،معاصر دنیا میں اتری ہوئی ہیں تو معاصر تنقیدی نظریات سے استفادہ کیے بغیر چارہ نہیں،وہ خواہ کہیں کے ہوں۔شرط یہ ہے کہ یہ استفادہ ایک تنقیدی نظر کے تابع ہواوراس نظر کا رخ جتنا مغربی تنقید کی طرف ہو، اتنا ہی مشرقی تنقید کی طر ف ہونا چاہیے۔ ایک سے عقیدت اور دوسری سے مرعوبیت ،دونوں ہی خطرناک ہیں۔ یہ دونوں جذبے ، تنقید کے بنیادی عقلی وتجزیاتی عمل کو مجروح کرتے ہیں۔
یہ حقیقت اٹل ہے کہ اردو کا کلاسیکی عہد ایک ایسا گزرا ہوا زمانہ ہے ،جس کی تفہیم ،خود اس کی شعریات کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے، اس کی تحسین کی جاسکتی ہے،تحسین میں مبالغہ بھی کیا جاسکتا ہے، ان سے کہیں کہیں انسپیریشن بھی لی جاسکتی ہے مگرنہ تو اسے واپس لایا جاسکتاہے، نہ اس عہد میں جاکر سانس لیا جاسکتا ہے اورنہ اس کے تصور دنیا کو اپنے زمانے کی دنیا ،ادب ،سماج کے لیے حکم بنایا جاسکتا ہے۔آپ ولی، میر،سودا، آتش، غالب کو سالوں پڑھ سکتے ہیں، ان کی تفہیم کے نئے نئے در وا کرسکتے ہیں،مگر ان کی مانند لکھ نہیں سکتے۔ اسی طرح داستانوں کو سن سکتے ہیں ،سن کر خود کو ایک نئی افسانوی ،طلسماتی دنیا میں پہنچا محسوس بھی کرسکتے ہیں،داستانوں کی علامتوں کی گرہیں کھول سکتے ہیں،اور ان کی عظمت کو دل سے سراہ سکتے ہیں،مگر ناول چھوڑکر داستان لکھنا شروع نہیں کرسکتے ، ہاں اپنے ناولوں میں کہیں کہیں داستانی علامتوں کو نئے اندا ز میں برت سکتے ہیں، اس شرط کے ساتھ ، ناول داستاں نہیں بنے گا۔اسی طرح مثنویوں کی تحسین کرسکتے ہیں، ان کے بیانیہ انداز کی خوبیوں کو سراہ سکتے ہیں،مگر آزاد یا نثری نظم لکھنا چھوڑ کر مثنوی اختیار نہیں کرسکتے۔یہی صورت باقی اصناف اور کلاسیکی تنقید کے اصولوں کے ساتھ ہے۔ہم اپنے زمانے کو لاکھ برا کہیں، اس سے تنفر کریں مگر اس سے لاتعلق ہوکر کسی گزرے عہد (خواہ وہ کتنا ہی مثالی ہو)میں جی سکتے ہیں ،نہ اسے واپس لاسکتے ہیں؛ہمیں جینا تو اپنے عہد کے جہنم ہی میں ہے۔ ساں بیو کے لفظوں میں :’’ہم انھیں(کلاسیک) جاننے پر اکتفا کریں، انھیں گہرائی میں سمجھیں ،ان کی تحسین کریں مگر ہم دیر سے آنے والے وہ بننے کی کوشش کریں جو ہم ہیں۔۔۔آئیں ہم اپنے ہی خیالات ،اپنے ہی احساسات سے مخلص ہوں ،اسی سے بہت کچھ ممکن ہے ۳۰‘‘۔
اپنے ہی خیالات و احساسات سے مخلص ہونا آسان نہیں۔لوگ خود سے اور اپنے عہد کی آگ سے بچنے کے لیے ماضی یا مستقبل میں پناہیں تلاش کرتے ہیںاور نتیجے میں وہ راستے مسدود کردیتے ہیں ،جن پر چل کر ہی وہ ’بہت کچھ ممکن بناسکتے تھے‘۔
حواشی
۱۔ جارج ایڈورڈ مور،اصول اخلاقیات (ترجمہ عبدالقیوم ) مجلس ترقی ادب ، لاہور،۱۹۶۳ء ،ص ۲۹۹
۲۔ شہر آشوب اردو شاعری کی مروجہ ہیئتوں: رباعی،مثنوی،قصیدے، مخمس، مسدس وغیرہ میں لکھے جاتے ہیں۔اسے ایک ایسی صنف ادب قرار دیا گیا ہے ،جس میں کسی شہر کی تباہی وبربادی کے ساتھ ساتھ عوام کی زبوں حالی ،ملک کی معاشی ابتری، انتشار اور عمارتوں اور شہروں کے مٹنے کے غم کا اظہار کیا گیا ہو‘‘۔( امیر عارفی،ایک تجزیہ،شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی ،دہلی،۱۹۹۴ء ص ۳۹)اگرچہ اسے تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے : ابتدا تا ۱۸۵۷ء؛۱۸۵۷ء تا ۱۹۰۰ء ؛اور ۱۹۰۰ء تا حال،مگر اس کا زریں عہد ۱۸۵۷ء تک ہی ہے۔مرزا رفیع سودا بلاشبہ اس صنف کے ممتازترین شاعر ہیں۔ صرف ایک ٹکڑا دیکھیے:
رینکے ہے گدھاآٹھ پہر گھر میں خدا کے
نے ذکر،نہ صلوات ،سجدہ نہ اذاں ہے
اور وہ جو ہیں کمزو ر،سو وہ آن کے بیٹھے
ریتی کے جو آگے کی یہ ہر ایک دکاں ہے
اٹھ اٹھ کے دکھاتے ہیں انھیں حال وہ اپنا
دربار رَواِس عہد میں جو خرد وکلاں ہے
یوں بھی نہ ملا کچھ تو ہر اک پالکی آگے
اس سج سے رسالے کا رسالہ ہی دواں ہے
کوئی سر پہ کیے خاک ،گریباں کسو کا چاک
کوئی رووے ہے سرپیٹ ،کوئی نالہ کناں ہے
ہندوومسلماں کا پھر اس پالکی اوپر
ارتھی کا توہم ہے ،جنازے کا گماں ہے
[ مرزا رفیع سواد، انتخاب سودا( مرتب رشید حسن خاں، مکتبہ جامعہ ،نئی دہلی، ۲۰۰۴ء ص۲۵۵۔۲۵۶]
۳۔ عنوان چشتی ،اردو میں کلاسیکی تنقید مکتبہ جامعہ دہلی،۲۰۱۲ء ،، ص ۹
۴۔ مسعود حسن رضوی ادیب، ہماری شاعری ،نظامی پریس ، لکھنئو، ۱۹۳۵ء ص ۷
۵۔ ایضاً،ص ۷۹
۶۔ شمس الرحمٰن فاروقی ،شعر شور انگیز، جلد دوم ،ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، ۱۹۹۱ء،ص ۴۰
۷۔ محمد حسن عسکری، جھلکیاں،حصہ اوّل (مرتب: سہیل عمر،نعمانہ عمر)مکتبہ الروایت، لاہورس ن، ص۲۷۷
۸۔ محمد عمر میمن ، آوارگی ،منتخب تراجم ،آج ،کراچی ،۱۹۸۷ء، ص ۲۱۹
۹۔ محمد اقبال حسین ندوی، عربی تنقید: عہد جاہلی سے دور انحطاط تک ، شعبہ ء عربی ، سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انگلش اینڈ فارن سٹڈیز، حیدرآباد، ۱۹۹۲ء ،ص۲۲۵
۱۰۔ مولانا عبدالرحمن ، مراۃ الشعر، حیدر آباد، ۱۹۲۶ء ص ۳
۱۱۔ ایضاً،ص ۲۳
۱۲۔ ایضاً،ص ۶
۱۳۔ سید عبداللہ ،اردو ادب کی ایک صدی ،عامر بک ڈپو، کلکتہ ، س ن ،ص ۶۰
۱۴۔ محمد عمر،’’ہندی اسلامی سماج ۔۔تہذیبی لین دین ‘‘، مشمولہ ہند اسلامی تہذیب کا ارتقا،(مرتبہ عماد الحسن آزادفاروقی ،مکتبہ جامعہ، دہلی،۱۹۸۵ء
۱۵۔ شمس الرحمن فاروقی ، جدیدیت ، کل اور آج ، نئی کتاب پبلشرز، دہلی،۲۰۰۷ء ص ۱۸
۱۶۔ جیلانی کامران، غالب کی تہذیبی شخصیت، خالد اکیڈمی، راولپنڈی ، ۱۹۷۲ء ،ص۱۳تا ۱۵
۱۷۔ ایضاً،ص ۲۴
۱۸۔ محمد حسن عسکری، وقت کی راگنی، قوسین ،لاہور، ۱۹۷۹ء،ص۱۰۸۔۱۰۹
۱۹۔ سر عبد القادر کے اصل الفاظ یہ تھے:
It is the only language which has the capacity of furnishing a national literature of the country, without possessing which no nation can make any progress worth the name, as literature plays no significant part in making a nation what it is.
[ سر عبد القادر،New School of Urdu Poetry،شیخ مبارک علی بک سیلر، لاہور،۱۹۳۲ء،(۱۸۹۸ء)،ص ۲
۲۰۔ ن ۔م ۔راشد، مقالات ن ۔م۔ راشد(مرتبہ شیما مجید)، الحمراپبلشنگ ،اسلام آباد،۲۰۰۲ء، ص۱۸
۲۱۔ مولانا حالی کی چند تحریروں میںبرطانوی استعمار کے معاشی و ثقافتی استحصال کی طرف اشارے موجود ہیں۔مثلاًایک انگریزی نظم کے اردو ترجمے ’’زمزمہ قیصری ‘‘ کے حواشی میں لکھتے ہیںکہ ’’انگریز مئورخوں اور شاعروں کو جب یہ منظور ہوتا کہ لوگوں کو اپنی رحم دلی اور انسانی ہمدردی پر فریفتہ اور مسلمانوں پر غضب ناک اور بر انگیختہ کریں تو وہ محمود غزنوی اور تیمور وغیرہ کی سختی اور تشدد کو خوب چھڑک چھڑک کر جلوہ گرکرتے ہیں۔۔۔جن حکمتوں اور تدبیروں سے آج کل دنیا کی دولت گھسیٹی جاتی ہے،ان پر برخلاف اگلے زمانے کی جابرانہ لوٹ کھسوٹ کے کچھ اعتراض نہیں ہوسکتا‘‘۔
[ الطاف حسین حالی، مقالات حالی، حصہ اوّل ،انجمن ترقی اردو، ہند، دہلی،۱۹۵۷ء ، ص ۵۳تا ۶۱]
۲۲۔ عبدالقادر سروری ، جدید اردو شاعری ، حیدرآباددکن، ۱۹۳۲ء،ص۷۲
۲۳۔ ایضاً،ص۷۳
۲۴۔ ساں بو،What is Classic،مشمولہ Literary and Philosophical Essays،جلد ۳۲، کوسمو انک، نیویارک ،۱۹۱۰ء،ص ۱۲۹
۲۵۔ ٹی ۔ایس۔ایلیٹ، ’’کلاسیک کیا ہے؟‘‘(ترجمہ جمیل جالبی )، مشمولہ کلاسیکیت و رومانویت(مرتبہ علی جاوید)، رائٹرس گلڈ، دہلی،۱۹۹۹ء، ص۳۵
۲۶۔ جے ایم کوٹزی، Stranger Shores،ونٹاژ،۲۰۰۱ء ،ص۷
۲۷۔ محمد ذاکر، کلاسیکی غزل، خود طبع،دہلی ،۲۰۰۳ء ،ص ۱۳
۲۸۔ عنوان چشتی،اردو میں کلاسیکی تنقید،مکتبہ جامعہ دہلی، ۲۰۱۲ء ، ص ۹۔۱۰
۲۹۔ شمس الرحمٰن فاروقی، شعر شور انگیز، جلد اول ، قومی کونسل براے فروغ اردو زبان،۱۹۹۰ء،ص ۱۷
۳۰۔ ساں بو،What is Classic،مشمولہ Literary and Philosophical Essays،محولابالء،ص ۱۳۵

You might also like
  1. mujahid says

    boht khoob

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post