کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(49)


نیلما ناہید درانی
دو بار وزیر اعظم ۔۔۔۔۔۔ دامادِ اعظم
   کل جناب کیپٹن صفدر۔۔۔ٹی وی پر فرما رہے تھے کہ وہ دو بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔۔۔۔۔اس بات پر کسی کو یقین ھو یا نہ ھو مگر مجھے یقین ہے ۔۔۔۔۔کہ وزیر اعظم کا گھر داماد بھی وزیر اعظم ھی ھوتا ہے۔۔۔۔۔
میں جاپان سے JICA..کے سیمینار سے واپس آئی۔۔۔تو اے آئی جی ٹریننگ تبدیل ھو چکے تھے۔۔۔ناصر خان درانی کی جگہ۔۔۔۔نئے اے آئی جی ٹریننگ جوئیہ صاحب تھے۔۔۔۔جوئیہ صاحب نرم خو آفیسر تھے۔۔۔بلا وجہ مداخلت نہیں کرتے تھے۔۔۔
ان دنوں ویمن پولیس ٹریننگ سکول میں لیڈی کانسٹیبلز کی کلاس شروع تھی۔۔۔جو تعداد میں 50 کے قریب تھیں۔۔۔یہ کانسٹیبلز نئی بھرتی ھوئی تھیں اور ان کی ابتدائی ٹریننگ ھو رھی تھی۔۔۔جو وہ بہت دلچسپی اور مستعدی سے کر رہی تھیں۔۔۔میں نے ان کے لیے تفریحی دورے کا انتظام بھی کیا۔۔۔اور ٹریننگ کے اختتام پر ان کو۔۔۔جلو پارک لے کر گئی۔۔۔
عید کے موقع پر سب ٹرینیز کو گنگا رام ھسپتال کے مریضوں کی بیمار پرسی کے لیے لے جایا گیا۔۔۔اور مریضوں کو تحائف دیے گئے۔۔۔ٹریننگ سکول میں۔۔۔نعت خوانی کا پروگرام کروایا۔۔۔ایک روز قوالی کا اھتمام بھی کیا گیا۔۔۔جس میں ایک نامور قوال کو دعوت دی گئی۔۔۔۔قوالی سننے کے لیے بہت سارے افسران کی بیگمات کو بھی مدعو کیا گیا۔۔۔
ساری ٹریننگ بخیر و خوبی جاری تھی کہ مجھے پروین نامی ایک کانسٹیبل کے بارے میں کچھ مشکوک قسم کی اطلاعات موصول ہوئیں۔۔۔تحقیق پر پتہ چلا کہ وہ گلبرگ میں کرایہ کے گھر میں رھتی ہے۔۔۔اور اس کو کچھ لوگ مختلف گاڑیوں پر چھوڑنے آتے ہیں۔۔۔
میں نے اس کو بلا کر باز پرس کی۔۔۔اس نے مختلف کہانیاں بیان کیں۔۔۔
میں نے اس کی معصوم صورت اور باتیں سن کر ۔۔۔۔سوچا لوگوں کو یونہی جاب کرنے والی لڑکیوں پر الزام لگانے کی عادت ھوتی ہے۔۔۔۔بہر حال اس کو وارنگ دی کہ۔۔۔سکول ٹریننگ کے دوران اس کا کوئی ملاقاتی نہ آئے۔۔۔اگلے روز مجھے ایک فون آیا۔۔۔۔۔
” میں کیپٹن صفدر وزیر اعظم بول رھا ہوں( شاید وزیر اعظم ھاوس سے بول رھا ہوں کہتے ھوئے انکی زبان پھسل گئی تھی )۔۔۔۔ آپ لیڈی کانسٹیبلز کو تنگ کرتی ہیں۔۔۔آپ کا تبادلہ بھی ھو سکتا ہے۔”
فون بند ہوگیا
آواز میں بڑی رعونت اور دھمکی تھی۔۔۔ جس کے بعد مجھے بہت ہنسی آئی۔۔۔میری زندگی میں بہت کم ایسے مواقع آئے ھیں جب میں کھل کر ھنسی ہوں۔۔۔۔لیکن اس دھمکی آمیز فون پر ۔۔۔۔۔اس لیے ھنسی آرہی تھی۔۔۔کہ میں کون سی ایسی پرائز پوسٹنگ پر تھی۔۔۔۔جس سے تبادلے کی مجھے دھمکی دی گئی تھی۔۔۔۔
میرے کچھ ماتحت اس دھمکی آمیز فون کے بعد بہت خوش تھے۔۔۔جن میں سب انسپکٹر وسیم درانی اور سہالہ سے آیا ھوا انسپکٹر شامل تھے۔۔۔ان کا خیال تھا کہ میرے تبادلے کے بعد انھیں اپنی من مانی کرنے کا موقع ملے گا۔۔۔۔۔مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔امتحانات قریب تھے۔۔۔۔وہ کلاس پاس آوٹ ہو کر چلی گئی۔۔۔۔
نئی کلاس سب انسپکٹرز کی تھی۔۔۔
اس دوران۔۔آسٹریلیا سے ایک خاتون پولیس کانسٹیبل پاکستان آئیں۔۔۔ان کا نام جین کارپ تھا۔۔۔ اے آئی جی ٹریننگ جوئیہ صاحب نے ان کو ویمن پولیس ٹریننگ سکول کا وزٹ کروایا۔۔۔۔۔وہ بہت ملنسار اور خوش مزاج خاتون تھیں۔۔۔۔انھوں نے جوڈو کراٹے کی ٹریننگ کو بہت سراہا۔۔۔۔جین کارپ کو آئی جی پنجاب کی طرف سے آواری ھوٹل میں عشائیہ بھی دیا گیا۔۔۔۔جین کارپ نے آسٹریلیا جا کر مجھے خط بھی لکھے اور پاکستان اور پاکستان خواتین پولیس کی بہت تعریف کی۔۔۔
ایک روز مجھے انٹی نارکوٹکس کے پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا۔۔۔وھاں ایک امریکی خاتون سے ملاقات ھوئی۔۔۔۔جو پاکستان میں امریکہ کے ایک ادارے کے لیے اسلام آباد میں تعینات تھی۔۔۔
جب ان سے تعارف ہوا۔۔۔تو وہ ویمن پولیس ٹریننگ سکول کے بارے میں سن کر بہت حیران ھوئیں۔۔۔اور خوش بھی۔۔۔۔انھوں نے دیکھنے کی خواھش ظاھر کی۔۔۔۔تو میں نے ان کو دعوت دے دی۔ اگلے روز وہ میرے دفتر پہنچ گئیں۔۔۔
میں نے ان کو کلاس روم میں لے جا کر سکول اور ٹریننگ کے بارے میں بریفنگ دی۔۔۔۔وہ سیاہ فام امریکی حسینہ اتنی متاثر ھوئی۔۔۔کہ اگلے ھی روز مجھے امریکن سنٹر لاھور سے۔۔۔فون آیا۔۔۔۔طاھرہ حبیب بول رہی تھیں۔۔۔۔انھوں نے کہا امریکن قونصل جنرل ۔۔۔۔۔مجھ سے ملنا چاھتی ھیں۔۔۔اور سکول آنا چاھتی ہیں۔۔۔۔
دوسرے روز کا وزٹ طے ہوا۔۔۔۔مس جوننز قربان لائنز پہنچ گیئں۔۔۔لیکن میں نہ پہنچ سکی۔۔۔۔اس روز لاھور میں اتنی زیادہ بارش ھوئی کہ۔۔۔۔آدھا لاھور پانی میں ڈوب گیا۔۔۔۔گھر سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔۔بارش کا پانی گھروں کے اندر داخل ھوچکا تھا۔۔۔۔اور کمروں کا فرنیچر تک ڈوب چکا تھا۔۔۔۔
ان سے امریکن سنٹر میں ملاقات کا وقت طے ہوا۔۔۔۔کچھ دن بعد میں اپنی بیٹی کے ھمراہ ان سے ملنے گئی۔۔۔۔طاھرہ حبیب ھمیں ان کے کمرے میں لے گئیں۔۔۔۔۔اور باتوں کے دوران انھوں نے اپنے اسسٹنٹ کو کہا ھمارے بارے میں معلومات نوٹ کرے جس میں ھمارے کھانے اور پسند نا پسند کے بارے میں بھی تھا۔۔۔۔۔مگر جب انھوں نے پوچھا کہ آپ امریکہ جانا چاھیں گی۔۔۔۔تو میں نے انکار کر دیا۔۔۔۔جس پر وہ بہت حیران ھوئیں۔۔۔۔شاید ان کی پاکستان پوسٹنگ کے دوران ۔۔۔۔میں واحد پاکستانی تھی جس کو امریکہ جانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔۔۔اس کے باوجود انھوں نے دوبارہ ویمن پولیس ٹریننگ سکول دیکھنے کی خواھش ظاھر کی۔۔۔۔
ہم نے ان کے ساتھ وقت مقرر کیا۔۔۔۔سب وزیٹر لکچررز کو بھی بلایا۔۔۔۔ ڈائرکٹر ریسرچ شفیق صاحب کو بلایا۔۔۔جنہوں نے ان کو سکول کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔۔۔۔مس جونز نے ھماری کاوشوں کو بہت سراہا۔۔۔۔
1996 میں قائم ھونے والا۔۔۔۔ویمن پولیس ٹریننگ سکول۔۔۔۔تھوڑے ھی عرصے میں۔۔۔۔عالمی شہرت حاصل کر چکا تھا۔۔۔۔جس میں۔۔۔جاپان۔ آسٹریلیا اور امریکی شخصیات کے دورے ھو چکے تھے۔۔۔۔
اے آئی جی ٹریننگ جوئیہ صاحب بھی تبدیل ھو گئے۔۔۔۔ امجد جاوید سلیمی۔۔۔۔نئے اے آئی جی ٹریننگ تعینات ہوئے۔۔۔۔۔
انھوں نے چارج سنبھالنے کے کچھ دن بعد ہی مجھےسوزوکی پھوٹھوھار جیپ بھیجی۔۔۔اور بتایا۔۔۔کہ یہ جیپ پرنسپل ویمن پولیس ٹریننگ کے لیے خریدی گئی تھی۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔سابقہ اے آئی جی ٹریننگ کے گھر ہر تھی۔۔۔۔جو انھوں نے واپس منگوا کر مجھے بھیجی ہے۔۔۔۔
انھی دنوں مجھے خانہ فرھنگ ایران کےڈائرکٹر جنرل محمد علی بے تقصیر نے بلا کر امام خمینی کی برسی میں ایران بھیجنے کی دعوت دی۔۔۔۔اور مجھے اپنے بچوں امی اور بھائی کے ساتھ جانے کی اجازت تھی۔۔۔اس لیے قبول کر لی۔۔۔۔اور اک نئے سفر کا آغاز ہوا۔۔۔
(جاری ہے )

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post