کُچھ کھٹی میٹھی یادیں (۳۵)


از: نیلما ناہید درانی
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔۔۔۔
زندگی میں کئی ایسے موڑ آتے ہیں ۔۔۔جہاں جناب منیر نیازی کا یہ شعر یاد آتا ہے۔۔۔۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
ایس پی ھیڈکوارٹرز چوھدری اسلم ٹرانسفر ہوگئے۔۔ان کی جگہ مشتاق سکھیرا ایس پی ھیڈ کوارٹر بن کے آئے۔۔۔
آتے ہی انھوں نے غازی کمپنی کی مرمت اور تعمیر و آرایش کے دولاکھ کے جعلی بل بنواکر دستخط کروانے کے لیے مجھے بھیجے۔۔۔ان کا کیشیر وہ بل میرے پاس لے کرآیا۔۔تو میں نے اس سے کہا۔۔۔۔جب سے میں یہاں ھوں۔۔۔یہاں کسی قسم کی تعمیر یا آرائش نہیں ھوئی۔۔۔میں جعلی بلوں پر دستِخط نہیں کر سکتی۔۔۔
مجھے احساس تھا کہ میرے انکار سے مشتاق سکھیرا ضرور میرے خلاف کوئی سازش کریں گے۔۔۔۔لہذا میں ایس ایس پی لاھور طارق مسعود کھوسہ کے پاس گئی اور انھیں صورت حال سے آگاہ کیا۔۔۔۔
طارق مسعود کھوسہ بظاھر تو با اخلاق لگے۔۔۔۔مگر کچھ دن بعد مجھے ڈی آئئ جی لاہور رانا مقبول نے بلایا۔۔۔۔۔
انھوں نے مجھے کہا کہ۔۔۔ایس ایس پی لاھور طارق کھوسہ نے میرے خلاف لکھ کر انھیں بھیجا ہے۔۔۔
کیونکہ ایس پی ھیڈ کوارٹرز مشتاق سکھیرا نے ان سے میری شکایت کی تھی۔۔۔رانا مقبول نے وہ لیٹر مجھے دکھایا۔۔۔جس کو دیکھ کر مجھے حیرت ھوئی۔۔۔کیونکہ طارق مسعود کھوسہ کے بارے میں میرے دل میں بہت احترام تھا۔۔۔اور میں انھیں بہترین افسر سمجھتی تھی۔۔۔۔
ابھی چند دن ہی گذرے تھے۔کہ مجھے ڈی آئئ جی ھیڈکوارٹرز اختر حیات صاحب نے بلایا۔۔۔۔اور کہا کہ آپ کے ایس پی نے انھیں کہا ھے کہ میں لیڈی ڈی ایس پی کے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔۔۔۔آپ اپنی پسند کی جگہ بتائیں جہاں آپ کو ٹرانسفر کیا جائے۔۔۔۔میں نے۔۔۔ٹریفک ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے لیے رضامندی ظاھر کی۔دوسرے روز مجھے پوسٹنگ آرڈر مل گئے۔
ٹریفک ٹریننگ انسٹیٹیوٹ۔۔۔۔قربان لائن میں۔۔۔۔غازی کمپنی سے متصل تھا۔۔۔۔یہاں ایس پی شمیم خان پرنسپل تھے۔۔۔جن کا گھر ملتان میں تھا۔۔۔
شمیم خان بہت شریف النفس انسان تھے۔۔ان کی چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔۔۔وہ سب خواتین کو باجی کہہ کر پکارتے۔۔۔اور نہایت عزت و احترام دیتے۔۔۔
میں وائس پرنسپل۔۔۔۔یا ڈپٹی کمانڈنٹ تھی۔۔۔میرے علاوہ چند ٹریفک انسٹرکٹر اور ایک سب انسپکٹر۔۔۔سیف اللہ نیازی تھا۔۔۔۔جو چیف انسٹرکٹر۔۔۔ایم ٹی او۔۔۔۔ لائن آفیسر۔۔ سب کے فرائض بخوبی نبھاہتا تھا۔۔۔
ایس پی صاحب نے مجھے ایک گاڑی بھی دے دی۔۔۔مگر بجٹ کم ھونے کی وجہ سے اس کا ڈیزل اور مرمت مجھے خود کروانی پڑتی۔۔۔۔
ایس پی صاحب نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ روزانہ آفس آنے کی ضرورت نہیں۔۔۔میں پھر بھی ایک چکر لگا لیتی۔۔۔ایس پی صاحب چائے پلاتے۔۔کچھ اچھی اچھی نصیحتیں کرتے ۔۔اور اتنے میں ان کا اردلی کہتا۔۔۔میڈم آپ کا ڈرائیور آ گیا ہے۔۔۔میں اپنے گھر چلی آتی۔۔۔ ہر سالگرمی کی چھٹیوں میں۔۔۔۔میں دو ھفتے کی چھٹی لے کر۔اپنے بچوں کے ساتھ۔۔۔گلگت، ھنزا، ناران، کاغان، شوگران، سیف الملوک، وادی کیلاش کی سیر کو چلی جاتی۔۔
بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں۔۔۔رانا شوکت محمود نے خواتین پولیس کی بہتری کے لیے۔۔۔۔کرائم برانچ پنجاب میں ایک میٹنگ بلائی۔۔۔۔اس میٹنگ میں انھوں نے تجاویز مانگیں۔۔۔جو میں پہلے ہی لکھ کر لے گئی تھی۔۔۔۔
1۔۔میں اور فرخندہ ڈی ایس پی بن چکے تھے۔۔۔۔لیکن ھمارے ساتھ بھرتی ھونے والی۔۔۔سب انسپکٹرز کی ابھی تک ترقی نہیں ھوئی تھی۔۔۔
میں نے لکھا تھا کہ ان سب کو ترقی دے کر انسپکٹر بنایا جائے۔۔۔اور خواتین پولیس کی اگلے رینک میں ترقی کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔۔
2۔۔سہالہ ٹریننگ سنٹر بہت دور ہے اسلیے۔۔۔خواتین کے لیے تین ٹریننگ سنٹر بنائے جائیں۔۔۔ایک ملتان۔۔ایک راولپنڈی اور ایک لاھور میں ہو۔۔۔تاکہ خواتین اپنے شہر میں رہ کر ٹریننگ حاصل کر سکیں اور انھیں گھروں سے دور نا جانا پڑے۔۔۔
3۔۔خواتین پولیس کے لیے کوئی ھاسٹل نہیں ہے۔۔۔اسی طرح بڑے شہروں میں ان کی رھائش کے لیے تین لیڈیز ھاسٹل بھی بنائے جائیں۔۔۔
رانا شوکت محمود کو میری تجاویز بہت پسند آئیں اور انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ انھیں وزیر اعظم تک پہنچائیں گے۔۔۔
موٹر ٹرانسپورٹ سے ایک لیٹر آیا۔۔۔کہ ایس پی ایم ٹی نے پبلک کے لیے ایک ڈرائیونگ ٹریننگ کا کورس شروع کیا ہے۔۔۔اس کے لیے ٹریفک قوانین پڑھانے کے لیے۔۔۔ایک انسٹرکٹر کی ضرورت ہے۔۔۔
ایس پی شمیم خان نے مجھے وہاں جانے کا کہا۔۔۔
میں فیروز پور روڈ پر واقع موٹر ٹرانسپورٹ کے دفتر پہنچی۔۔۔۔یہاں ناصر خان درانی ایس پی ایم ٹی تھے۔۔۔۔ناصر خان درانی میں یہ خوبی ھے کہ وہ جس شعبہ میں رہے۔۔ وہاں کچھ نیا ضرور کیا۔۔
اب پبلک کے لیے ڈرائیونگ ٹریننگ ایک اچھا اقدام تھا۔۔۔۔جس کی فیس بھی بہت کم تھی۔۔۔ یہ پندرہ روزہ ٹریننگ حاصل کرنے والوں کو نہ صرف ٹریفک قوانین سے آگاہی ھوتئ۔۔۔بلکہ ان کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کا حصول بھی آسان ہو جاتا۔۔۔
مجھے ھفتہ میں چار پیریڈ پڑھانے ھوتے۔۔۔ پڑھانے کے بعد میں ایس پی آفس میں جاتی۔۔۔ جہاں کافی ملتی۔۔۔
خوبصورت درختوں کے حصار میں یہ ایک پرسکون جگہ تھی۔۔۔
کافی کی خوشبو ، درختوں کی مہک اور ۔پرندوں کی چہکار ۔۔۔۔۔نے کئی نظموں کو جنم دیا۔۔۔
                                                                                         (جاری ہے)
نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post