کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۳)

از : نیلما ناھید درانی

جنوری کی بارش ، پولیس لائن اور چوری

تین دن بہت مشکل تھے۔ یونیفارم سلوانا،اپنے اچھے اچھے پسندیدہ کپڑے منتخب کر کے بیگ میں رکھنا اور چپکے چپکے آنسو بہانا۔ 4 مہینے کی بچی حنا سے دور جانے کا خیال ھی بہت تکلیف دہ تھا لیکن مجبوری یہ تھی کہ شوھر بےروزگار تھا اور گھر مجھے ھی چلانا تھا۔
تیسرے دن پولیس کی گاڑی لینے آ گئی۔ بیگ میں ضرورت کی اشیا اور کپڑے پیک کر چکی تھی۔ ڈرائیور نے بیگ گاڑئ میں رکھا ، میں نے حنا کو گلے لگا کرالوداعی پیار کیا اور اس کو امی کی گود میں پکڑا کر بس میں بیٹھ گئی ۔
تمام پولیس آفیسرز جنہوں نے ٹریننگ پرجانا تھا گاڑی میں موجود تھیں ، جن میں فرخندہ اقبال انسپکٹر اور پروین سب انسپکٹر بھی شامل تھیں ۔
یکایک گہرے بادل آئے اور تیز بارش شروع ھو گئی۔ موسلا دھار بارش سے ھر طرف جل تھل ھو گیا۔
پولیس لائن پہنچے تو معلوم ھوا کہ ایس پی ھیڈکوارٹرز کے دفتر میں ڈی آئی جی لاھور اسد علوی کی میٹنگ جاری ھے۔
ریزرو انسپکٹر نے کہا کہ خواتین انسپکٹرز نے بھی میٹنگ میں شامل ھونا ھےلہذا فرخندہ اقبال، نزھت سلطانہ مرزا اور میں میٹنگ روم میں چلے گئے۔
ان دنوں لاھور انتظامی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم تھا۔۔۔۔ سٹی اور کینٹ۔
ڈی آئی جی لاھور کے ماتحت چار ایس پی تھے۔ایس پی سٹی، ایس پی کینٹ ،ایس پی ھیڈ کواٹرز اور ایس پی ایڈمن ۔ان کے علاوہ ڈی ایس پی اور اے ایس پی صاحبان بھی وہاں موجود تھے۔
میٹنگ الیکشن اور اس کے بعد ھونے والی متوقع صورت حال کے بارے میں تھی۔ جس میں یہ طے پایا کہ خواتین آفیسرز کو سہالہ نہ بھیجا جائے اوران کی ٹریننگ پولیس لائنز میں ھی ھوتاکہ بوقت ضرورت ان سے ڈیوٹی بھی کروائی جا سکے۔
میرے لیے تو یہ خوشی کی ایک نوید تھی۔
میٹنگ کے بعد ھم اپنے اپنے گھر چلے آئے۔ ڈرائیور نے میرا بیگ گھر کے برآمدے میں رکھ دیا۔
دوسرے روز صبح سویرے ڈیوٹی پر جانے کے لیے بیگ کھولا تو عجیب منظر تھا۔۔۔میرے انتہائی قیمتی اور خوبصورت سوٹ چوری ھو چکے تھے۔ باقی اشیا کا بھی یہی عالم تھا۔ چور نے بارش اور رات کا فائدہ اٹھاتے ھوئے بیگ کے اندر ھاتھ ڈال کر اس طرح چیزیں نکالی تھیں کہ کسی سوٹ کی قمیض غائب تھی ، کسی کی شلوار اور دوپٹہ گم تھا۔ نئی خریدی ھوئی شالیں اور سویٹر بھی نہیں تھے۔
میں نہایت پریشانی کے عالم میں پولیس لائن پہنچی اور ریزرو انسپکٹر خان نواب خٹک کو صورتحال بتائی ۔ وہ مجھے لے کر ایس پی ھیڈ کوارٹرز سعادت اللہ خان کے پاس گئے۔
سعادت اللہ خان نے سب روداد سن کر کہا کہ “آپ نے اپنا بیگ لاک کیوں نہیں کیا تھا”۔
میں نے کہا۔۔”۔میرا خیال تھا کہ جو پولیس عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ھے ، ان کے درمیان میری چیزیں محفوظ رھیں گی۔۔۔”
اس پر انھوں نے کہا میں آپ کو 300 روہے دے سکتا ھوں۔ اس وقت ایس پی کو کلاس 3 سرٹیفیکیٹ کے ساتھ 300 روپے بطور انعام دینے کا اختیار حاصل تھا۔
لیکن میں نے لینے سے انکار کردیا کیونکہ میرا نقصان اس سے بہت زیادہ تھا۔ میری شادی کو تھوڑا عرصہ ھوا تھا اور ٹی وی اناونسمنٹ کے لیے بھی روزانہ نئے کپڑے پہننے ھوتے تھے۔۔ اور میرے سب پسندیدہ سوٹ چوری ھو چکے تھے۔ لیکن پھر بھی میں خوش تھی کہ میں لاھور میں تھی اور حنا سے زیادہ دور نہیں تھی۔۔۔
اگلے روز ھماری ٹریننگ شروع ھو گئی۔۔یہ ٹریننگ ھم دو انسپکٹرز اور دس سب انسپکٹرز کے لیے تھی۔۔ فرخندہ اقبال انسپکٹر اور پروین سب انسپکٹر کو اس سے استثنا حاصل تھا۔ دو روز بعد زاھدہ کوثر بھی نوکری چھوڑ کر چلی گئی۔۔ اس کا کہنا تھا کہ اس طرح کی پی ٹی، پریڈ سے ھماری نسوانیت ختم ھو جائے گی لیکن اس کی چھوٹی بہن شاھدہ کوثر ٹریننگ کرتی رھی۔
ھم صبح چار بجے پولیس لائن آتے۔ سب انسپکٹر مقیم الدین ھمیں پی ٹی کرواتے۔ اس کے بعد پریڈ ھوتی۔ پھر ناشتہ کرنے کا وقفہ ھوتا۔ ھم سب ملیشیا کے شلوار قمیض میں ملبوس ھوتے۔اسی حالت میں قلعہ گوجر سنگھ بازار میں جا کر دکانوں کے بنچوں پر بیٹھ کر دودھ دھی پوری حلوے کی دکانوں پر ناشتہ کرتے۔
9 بجے سکول میں قانون کی پڑھائی شروع ھوتی جو دو بجے تک جاری رھتی۔
پولیس لائن کے میس سے منگوا کر دال روٹی کھاتے۔4 بجے سے 5 بجے تک دوبارہ پریڈ ھوتی اور پانچ بجے گھروں کو روانہ ھوتے۔ پولیس کی ایک پک اپ خواتین آفیسرز کے پک اینڈ ڈراپ کے لیے مخصوص تھی۔ گھر پہنچتے ھی میں یونیفارم تبدیل کرکےساڑھی پہنتی اوراسی وقت پی ٹی وی کی گاڑی کا ھارن سنائی دیتا۔۔۔۔اور میں ٹی وی اسٹیشن لاھور سنٹر کی طرف روانہ ھوجاتی۔
(جاری ھے )

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post