کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۲۵)


از : نیلما ناہید درانی
عالیہ منور کا باعزت بری ہونا۔۔۔۔اور نئے ڈی آئی جی کی آمد
اخبارات کو ایک سنسنی خیز موضوع ملا ہوا تھا۔۔۔وہ روزانہ عالیہ کی تصاویر کے ساتھ نت نئے انکشافات چھاپتے۔۔۔۔جس دن عدالت میں اس کی پیشی ہوتی۔۔۔وکیلوں کے جلوس کے ساتھ صحافیوں کا جلوس بھی عدالت کے باھر حاضر ہوتا۔۔۔۔
وکیل احسان شادی شدہ تھا۔۔۔اس کے بیوی بچے اور والد اس صورت حال سے بہت پریشان تھے۔۔ان کی بہت بدنامی ہو رھی تھی۔۔۔لہذا احسان کے والد نے مقدمہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے مرے ہوئے بیٹے کے مقدمہ کی پیروی نہیں کرناچاھتے۔۔۔۔واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہ تھا۔۔۔عالیہ منور کو باعزت بری کر دیا گیا۔۔۔۔
اس کے بعد اس نے گمنامی کی زندگی اختیار کر لی۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بے گناھی ثابت ہونے کے باوجود معاشرے نے اس کو بری نہیں کیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فضل محمود کے جانے کے بعد نئے ڈی آئی جی ٹریفک ابھی نہیں آئے تھے۔۔۔
انھوں نے کراچی سے آنا تھا۔۔۔۔سب کو ان کا انتظار تھا۔۔۔۔میرے ساتھ دوسرے ڈی ایس پی محبوب حسن مانیکا تھے۔۔۔جن کا تعلق پاکپتن سے تھا۔۔۔
ابھی چار روز ھی گزرے تھے کہ ڈی آئی جی کی کار گیراج میں آکر رکی۔۔۔اردلی نے بتایا۔۔۔نئے ڈی آئی جی آ گئے ہیں۔۔۔۔ہم اپنی اپنی سیٹ ہر سنبھل کر بیٹھ گئے۔۔۔
دل دھڑک رھا تھا۔۔عجیب ساخوف تھا کہ نجانے کیسے ھوں گے۔۔۔ان کے ساتھ کام کرنا آسان ہوگا یا مشکل۔۔۔ڈی آئی جی پہلے اپنے کمرے میں گئے اور پھرعملے سے ملنے کے لیے باھر نکلے۔۔۔۔سب سے پہلے میرا کمرہ تھا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ایک نہایت خوبرو نوجوان جو وجاھت و وقار کا پیکر تھا ۔۔۔سامنے کھڑا تھا۔۔۔
یہ اسد جہانگیر خان تھے۔۔۔۔مشہور کرکٹر ماجد جہانگیر خان کے بڑے بھائی۔۔۔۔اور مایہ ناز کرکٹر ڈاکٹر جہانگیر کے بیٹے۔۔۔۔ڈاکٹر جہانگیر کے بیٹ کی زد میں آکر ایک چڑیا مر گئی تھی۔۔۔جسے برطانیہ کے میوزیم میں رکھا گیا تھا۔۔۔
اسد جہانگیر خان۔۔۔عمران خان کے خالہ زاد بھائی تھے۔اور زمان پارک ہی میں رھتے تھے۔۔۔۔ان کی جسامت اور چال ڈھال بھی عمران خان جیسی تھی۔۔۔۔
میں نے اپنے دفتر کی میز پر شیشے کے نیچے عمران خان کی ایک تصویر رکھی ھوئی تھی۔۔۔جس میں انھوں نے شیر شاہ سوری کا روپ دھارا ھوا تھا۔۔۔۔مجھے ایسے لگا وہ تصویر شیشے سے نکل کر میرے سامنے آگئی ہے۔۔۔۔
اسد جہانگیر خان کے آنے سے دفتر کا ماحول بدل گیا تھا۔۔۔ایسے لگتا جیسے سب لوگ کسی پنجرے میں قید تھے اب انھیں آزادی مل گئی تھی۔۔۔۔
اسد جہانگیر خان نے آتے ہی دفتر کے لیے ھفتے میں دو چھٹیاں منظور کروا لیں۔۔۔۔
وہ وقت پر دفتر آتے۔۔۔دوپہر میں لنچ بریک میں اپنے گھر چلے جاتے۔۔۔اورشام کو دفتر ٹائم ختم ھوتے ھی چلے جاتے۔۔۔۔کسی کو زیادہ دیر رکنا نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔
میرا کام بڑھ گیا تھا۔۔۔وہ کلرکوں کی بجائے سارا کام مجھے بھیجتے۔۔۔انھوں نے کراچی سے لائے ہوئے گراف مجھے دیے کہ ان کے مطابق رپورٹس تیار کی جائیں۔۔۔۔اور ھر چیز کی پرسنٹیج نکالی جائے۔۔۔۔
میرے لیے یہ سب بہت مشکل تھا۔۔۔مجھے تو حساب کتاب کی کوئی سدھ بدھ نہیں تھی۔۔۔اب یہ پرسنٹیج والی نئی مصیبت آگئی تھی۔۔۔
میں اپنا سارا کام گھر لے جاتی اور اپنے ڈیڈی سے حل کرواتی۔۔۔۔ ڈیڈی نے مجھے کیلکولیٹر لے کر دیا۔۔۔اور پرسنٹیج نکالنے کا طریقہ سمجھایا۔۔گراف بنانے بھی میں نے اپنے ڈیڈی سے سیکھے۔۔۔
اب پنجاب میں ٹریفک حادثات کی شرح بہت بڑھ گئی تھی۔۔۔اموات اور زخمیوں کی تعداد بھی زیادہ ھو گئی تھی۔۔۔۔فضل محمود نے اصل صورت حال چھپا رکھی تھی۔۔۔۔لیکن نئے ڈی آئی جی کا اصرار تھا کہ سب کچھ سچ سچ بتایا جائے۔۔۔
ڈی آئی جی صاحب میری کارکردگی سے خوش تھے۔۔۔وہ بہت کم گو تھے۔کسی سےزیادہ بات نہیں کرتے تھے۔۔۔نہ ھی کسی کو اپنے دفتر میں بلاتے۔۔۔اگر کوئی کام کہنا ھوتا تو بلا کر کھڑے کھڑے ھی کہہ دیتے۔۔۔کبھی کسی کو بیٹھنے کا نہیں کہتے۔۔
ان کے اس روکھے پن کے باوجود سب ان سے خوش تھے۔۔۔۔
دفتر کے ماحول میں ایک عجیب سی خوشگوار تبدیلی آچکی تھی۔۔۔جسے سب محسوس کر رھے تھے۔۔۔
ڈی آئی جی اکثر چھٹی لے کر کراچی چلے جاتے۔۔۔اور سارا عملہ آرام سے رھتا۔۔۔ ڈی ایس پی محبوب حسن مانیکا بھی شریف النفس انسان تھے۔۔۔اس لیے دفتر کا ماحول بہت پرسکون تھا۔۔۔
اچانک ایک روز ڈی آئی جی نے مجھے بلایا۔۔۔”آپ نے اپنا تبادلہ کروا لیا ہے۔۔ “
ان کی یہ بات سن کر میں حیران ھوگئی۔۔۔۔”کب کہاں۔۔؟ مجھے تو کچھ معلوم نہیں ؟”
“آپکا تبادلہ لاہور ٹریفک میں ھوا ہے “
“لیکن میں تو نہیں جانا چاھتی “
مجھے ایسے لگا جیسے مجھے جنت سے نکال کر جہنم میں پھینکا جا رھا ہے۔۔۔
مجھے عالیہ منور اور خواجہ خالد فاروق کا واقعہ یاد آگیا۔۔۔
“سر میں نے نہیں جانا “
اچھا میں آئی جی صاحب سے بات کروں گا۔۔۔
میں اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔آنسو خود بخود آنکھوں میں آرہے تھے۔۔۔ایک پرسکون ماحول سے نکل کر پبلک ڈیلنگ میں جانا ہی میرے لیے عذاب سے کم نہیں تھا۔۔۔
دوسرے دن اسد جہانگیر نے بتایا۔۔۔کہ انھوں نے آئی جی پنجاب حافظ صباح الدین جامی صاحب سے بات کی ھے۔۔۔۔ان دنوں لاھور میں پہلی بار کسی خاتون کو اسسٹنٹ کمشنر لگایا گیا تھا۔۔۔۔لاھور کی پہلی اسسٹنٹ کمشنر راشدہ حیات تھیں۔۔۔
ان کو دیکھ کر آئی جی صاحب کی خواھش تھی کہ ہماری خاتون ڈی ایس پی ٹریفک لاہور میں کام کرے۔
جی کا جانا ٹھہر گیا تھا۔۔۔۔
اسد جہانگیر خان نے کہا جب تک نیا ڈی ایس پی رپورٹ نہیں کرتا۔۔۔آپ کام کرتی رہیں۔۔۔
میرے دن رو رو کر گزر رھے تھے۔۔۔جب آنسو بے قابو ھوتے میں باتھ روم میں چلی جاتی اور دیواروں سے لپٹ کر روتی۔۔۔
دس روز بعد نیا ڈی ایس پی آگیا۔۔۔۔یہ خواجہ نوروز تھا۔۔۔جو میرے پاس انسپکٹر تھا۔۔۔اب ترقی پا کر یہاں تعینات ہوا تھا۔۔۔
میں نے اپنی ڈیوٹی کا چارج چھوڑا۔۔۔اور سب کو خدا حافظ کہہ کر چلی آئی۔۔۔
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر مل چکا تھا۔۔۔
                                                                                                       (جاری ہے )
نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post