کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۱۳)


از:نیلما ناہید درانی
دادا اور دلدادہ۔۔۔۔ کے دادا ۔۔۔۔۔۔ آفتاب احمد
پی ٹی وی لاھور سنٹر سے ۔۔۔محمد نثار حسین کا ایک لانگ پلے نشر ہوا۔۔۔جسے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔۔اس ڈرامے کا خیال ایک روایتی تاریخی داستان سے لیا گیا۔۔۔۔
شہنشاہ ھند ظہیر الدین بابر کا بیٹا ھمایوں بہت بیمار تھا۔۔۔سب طبیب مایوس ھو چکے تھے۔۔۔مگر ایک باپ کی محبت ہار ماننے کو تیار نہ تھی۔۔۔جب طبیبوں نے جواب دے دیا ۔۔تو ظہیر الدین بابر نے اپنے بیٹے ھمایوں کے بستر کے گرد سات چکر لگا کر خدا کے حضور صدقہ کے طور پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔۔۔۔اس روز سے ھمایوں کی صحت بہتر ھونے لگی۔۔۔اور بابر بستر مرگ پر پڑ گیا۔۔۔اور چند دن بعد رحلت فرما گیا۔۔۔اس کا بیٹا ھمایوں مکمل طور پر صحت یاب ۃوگیا۔۔۔
دادا اور دلدادہ میں یہی کہانی۔۔۔دادا اور پوتا کی شکل میں فلمائی گئی۔۔۔دادا نے اپنے بیمار پوتے کے بستر کے چکر لگائے اور مر گیا۔۔۔
اتفاق سے یہ ڈرامہ آفتاب احمد کا آخری ڈرامہ ثابت ہوا۔۔ اور کچھ دن بعد وہ وفات پا گئے۔۔۔۔
پی ٹی وی کے پروڈیوسر طارق احمد ۔۔۔آفتاب احمد کے بیٹے تھے۔۔۔اور آج کل طارق احمد کی بیٹی زنیرہ طارق پی ٹی وی لاھور سنٹر پر پروڈیوسر ہیں
آفتا ب احمد کی وفات پر میں نے ایک نظم لکھی۔۔۔۔جسے محمد نثار حسین نے کتابت کروا کر ایک پوسٹر کی صورت میں۔۔۔پی ٹی وی کے اندرونی شیشے والے دروازے پر لگوا دیا۔۔۔
خالق کائنات کے نام
ہنستے، مسکراتے،سوچتے،بولتے
لوگ چپ سادھ کر
ایک دم سرد و ساکت کیوں ہو جاتے ہیں
اس گھڑی ایک جھوٹ
آکے۔۔۔سب کی زبانوں پہ رک جاتا ہے
صبر کر۔۔۔صبر کر۔۔۔صبر کر
لوگ اس کو خدا کی رضا کہتے ہیں
اور شاید یہ قانون فطرت ہے کہ
جو شے بنائی ھے مٹ جائے گی
گر یہی تیری مرضی ھے دستور ہے
ایک دم سے مٹادے یہ ساری خدائی
توڑ دے اپنے۔۔۔۔ خود ساختہ سب کھلونے
کہ اب صبر کی ھم میں طاقت نہیں ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجاب یونیورسٹئ شعبہ صحافت میں تین طالبات ایسی تھیں جو بیوہ تھیں اور ان کے دو ،دو بچے بھی تھے۔۔۔
منور شفیق۔۔۔۔بہت خوبصورت اور خوش مزاج تھیں۔۔۔ان کے شوھر 1964 میں قاھرہ میں گرنے والے پی آئی اے کے جہاز کے پائلٹ تھے۔۔۔وہ ہم سے ایک سال سینئر تھیں۔۔۔ان کو پی ٹی وی پر نیوز پروڈیوسر کی جاب مل گئی۔۔۔اور کچھ دن بعد انھوں نے نیوز ریڈر حسن جلیل سے شادی کر لی۔۔۔۔
نسرین نذیر کے دو بیٹے ایچیسن کالج لاھور میں پڑھتے تھے۔۔۔وہ نیو کیمپس ھاسٹل میں رھتی تھیں۔۔۔وہ ریڈیو پاکستان لاھور میں پروڈیوسر بن گئیں اور ان کی شادی رضاکاظمی سے ہوئی جو ریڈیو پاکستان لاھور سے اسٹیشن ڈائرکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔۔۔
میں کبھی کبھی ایم آر ڈی تحریک کی نظر بند خواتین کے گھروں میں ڈیوٹی چیک کر نے جاتی۔۔۔
رانا شوکت محمود اور ان کی بیگم ناصرہ شوکت پولیس ملازمین کا بہت خیال رکھتے تھے۔۔۔خاص طور پر خواتین آفیسرز کو انھوں نے اپنے گھر کا ایک اندرونی کمرہ دے رکھا تھا۔۔۔
شام کی چائے ناصرہ شوکت ان کے ساتھ مل کر پیتیں۔۔۔کبھی کبھی اپنے ھاتھ سے کیک بنا کر بھی ان کے لیے لاتیں۔۔۔
باہر سے آنے والوں کو مرد پولیس اہل کاروں نے چیک کر کے ان کے ناموں کا اندراج کرنا ھوتا تھا۔۔۔۔
راو رشید کی بیگم نسرین راو رشید کا رویہ بھی خواتین پولیس کے ساتھ بہت دوستانہ تھا۔۔۔وہ اکثر ان سے پوچھ کر ان کی پسند کا کھانا تیار کرواتیں۔۔۔۔اس گھر میں ان کے بچوں کی انگریز اتالیق بھی رھتی تھی۔۔۔۔جو ذوالفقار علی بھٹو کے بچوں بے نظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاھنواز بھٹو اور صنم بھٹو کی اتالیق رہ چکی تھیں۔۔۔
اعتزاز احسن کے گھر میں خواتین پولیس آفیسرز کے ساتھ بہت توھین آمیز رویہ رکھا جا رھا تھا۔۔۔فرناز ملک کو انھوں نے سرونٹ کوارٹر میں جگہ دی تھی۔۔۔۔اس کو اپنے کھانے پینے کا بھی خود ہی بندوبست کرنا ھوتا تھا۔۔۔ زمان پارک کی اس آبادی میں دور تک کوئی بازار بھی نہیں تھا۔۔۔
نورین پرویز صالح ھسپتال سے گھر شفٹ ھوئی تو اس کو بھی گھر میں نظربند کر دیا گیا۔۔۔ ماڈل ٹاون میں واقع وسیع گھر کے لان میں ایک طرف ایک خوبصورت عمارت بنائی گئی تھی۔۔۔۔یہ نورین کا پورشن تھا۔۔۔نسیم قادر کو وھاں ڈیوٹی پر بھیجا گیا۔۔۔۔
نورین بہت پر کشش شخصیت کی مالک تھی۔۔۔تیکھے نقوش اور قدوقامت سے مشہور فلمی ھیروئن ریکھا سے مشابہت رکھتی تھی۔۔۔لیکن اس سے زیادہ خوبصورت اور دلکش تھی۔۔۔۔گفتگو ایسی کہ سننے والا سرشار ھو جائے ۔۔۔اس کی شخصیت میں ایک پر اسرار سحر تھا۔۔۔جو ملنے والے کو اپنے حصار میں لے لیتا۔۔۔ اور وہ سوچتا رہ جاتا۔۔۔بقول شاعر
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھوں کہ تم سے بات کروں

                                                                                                       (جاری ہے)
نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post