غزل

شاعر: ڈاکٹر معین نظامی

لکھوا کے لائے ہم بھی دُرِّ ثمینِ دل پر
اچھا سا نام اس کا اپنے نگینِ دل پر

مژگانِ یار نے بھی کیا خطِّ نسخ کھینچا
چند و چگونِ دل پر، چون و چنینِ دل پر

ہونٹوں پہ دھڑکنوں کے یَا فردُ یَا صمد ہے
کندہ ہے یَا غنیُّ لوحِ جبینِ دل پر

معلومِ دنیوی سے کچھ اور تو نہیں ہے
اک فرش سا بچھا ہے عرشِ برینِ دل پر

بیعت جو کرتے پایا عشّاقِ خوش نظر کو
ہم نے بھی ہاتھ رکھا دستِ یمینِ دل پر

طوفانِ ظنّ و شک میں ہچکولے کھاتے کھاتے
آخر یہ کشتی اتری کوہِ یقینِ دل پر

ہم رسّیاں تڑا کر بھاگے حقیقتوں سے
خوابوں میں خیمہ زن ہیں یعنی زمینِ دل پر

مدّت سے دونوں خوش ہیں واعظ بھی اور ہم بھی
وہ اپنے دینِ دل پر، ہم اپنے دینِ دل پر

جن صاحبوں پہ ہم نے کوئی اثر نہ دیکھا
آخر سلام بھیجا ان سامعینِ دل پر

آتش فشاں کے منہ میں رہتا ہے کس مزے سے
رہتی ہے ہم کو حیرت اپنے مکینِ دل پر

ہاتھوں سے اپنے اس کو دستارِ فیض باندھی
کی میر نے عنایت کل جانشینِ دل پر

معین نظامی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post