سوچتا ہوں کیا لکھوں میں  : یوسف خالد

سوچتا ہوں کیا لکھوں میں
اپنے دل کی دھڑکنوں کا زیرو بم،
دم بدم بنتی بگڑتی صورتوں سے منسلک
آدھے ادھورے رابطوں ، بے کیف لمحوں،
مضمحل احساس کی درماندگی،
ٹوٹے ہوئے وعدوں کی کوئی داستاں
یا ذات سے باہر
بہر سو مستقل پھیلے ہوئے خدشات
اور خدشات کی زد میں
گھری مخلوق کی بے تابیاں ، محرومیاں،
دہشت زدہ ماحول میں پلتی ہوئی نسلوں کا پیہم اضطراب
یا پرندوں کی حسیں چہکار،
کھلتے موسموں کے رنگ ،
خوشبوئیں،
خزاں نا آشنا سر سبز بیلوں سے مزیّن
صحن کی دیوار سے لپٹے ہوئے اچھے دنوں کے خواب،
آنکھوں کے منور آئینوں میں عکس ہوتی خواہشیں
اور خواہشوں کی اوٹ سے
دزدیدہ جذبوں کی عیاں ہوتی ہوئی
مہکارکا احوال لکھوں
یا ہمیشہ کے لیے سب کچھ بھلا کر
خامشی کو اوڑھ لوں
عزلت نشیں ہو کر
مسلسل سوچنے کے کرب سے آزاد ہو جاؤں
میں کیوں نہ لفظ کے اسرار سے بے گانہ ہو جاؤں

You might also like
  1. AroojButt says

    نظم ہے یا جان لیوا ساعتیں ہیں ۔۔۔ہر شعر حسن و رعنائی کا پروردہ ہے ۔۔۔شاعر کے فن شاعری کا تو کوئ مقابل نہیں لیکن میں شاعر کی عزلت نشینی کی قائل نہیں ۔۔۔۔خدا محترم یوسف خالد کے فن تحریر سے دلوں میں محبت کے سمندر کو جگہ دے اور ان کا فن جو ان کی محبت ہے کو عظمتیں عطا فرمائے آمین

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post