نظم

تمھارے جانے سے یاد آیا : بشارت تنشیط

تمھارے جانے سے یاد آیا
کہ تم ملے تھے
ہماری دھرتی پہ جب خزاں نے تھا جال ڈالا
تم آگئے تھے امید بن کر
یقیں دلانے، ہمیں بتانے
کہ اس نگر میں بہار منظر دکھائی دے گا
یہ کلفتیں سب تمام ہوں گی
تمھارے آنگن مہک اٹھیں گے
ہمیں بتانے تم آگئے تھے
مرے مسیحا یہ کیا ہوا ہے
کہ پتی پتی ہے پھر پریشاں
خزاں کے پہرے لگے ہوئے ہیں
عجیب منظر ہے بے بسی کا
پڑی ہوئی ہے سبھی کو اپنی
نہیں ہے ہمدم کوئی کسی کا
ہم آج پھر راہ دیکھتے ہیں
تلاشتے ہیں
کہ روشنی کا سفیر پھر سے ہماری نگری میں آن پہنچے
ہمیں بتانے کہ
بےبسی کا یہ دور آخر تمام ہوگا
محبتوں کا قیام ہوگا
مرے مسیحا میں جانتا ہوں، میں خواب میں ہوں
مرے مسیحا میں جانتا ہوں سراب میں ہوں
کہ تم تو فردوس جاچکے ہو
ہماری نگری بھلا چکے ہو
میں جانتا ہوں کہ تم ملے تھے
ہماری دھرتی پہ جب خزاں نے تھا جال ڈالا
تمھاری صورت کو پھر یہ آنکھیں تلاشتی ہیں
نہیں ملوگے؟
نہیں کہوگے؟
یہ کلفتیں سب تمام ہوں گی؟؟؟

(اس نظم میں ڈاکٹر عبدالقادر سومرو کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جو کورونا وائرس کے مریضوں کی جان بچاتے ہوئے جاں بحق ہوئے۔۔۔)

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی