میسر ۔۔۔ (شعری مجموعہ)

شاعر: اخلاق احمداعوان

تبصرہ : خورشید ربانی


اخلاق احمد اعوان،نئی نسل کا نمائندہ شاعر ہے۔اس نے اپنے شعری سفر میں جوکامیابیاں سمیٹی ہیں،وہ بہت کم نوجوانوں کے حصہ میں آتی ہیں۔اس کا اولین شعری مجموعہ نامور شاعر امجد اسلام امجد،سرور سودائی،سعود عثمانی اور شہاب صفدر کی توصیفی آرا اور مثال پبلیشر کے روایتی حسنِ طباعت کے ساتھ ”میسر“ کے نام سے حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے۔معنوی اور صوری خوبیوں سے مزین یہ مجموعہ یقینا اہل ِ علم وادب کی توجہ حاصل کرے گا۔ مضامین کی رنگارنگی اور مصرعوں کی کرافٹنگ نے اسے اپنی نسل میں امتیازی مقام پر فائز کردیا ہے۔اخلاق احمد اعوان نے جب بزمِ شعر میں قدم رکھا تھا،تو میرے دل میں اس کے لیے جو فوری تاثر قائم ہوا،وہ بقول یاس یگانہ یہ تھا کہ
کلامِ یاس سے دنیا میں پھر اک آگ لگی
یہ کون حضرتِ آتش کا ہم زباں نکلا
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اخلاق احمد نے میرے اس تاثر کو درست ثابت کیا اور سنجیدہ حلقوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔مضامین کی تازگی جب تشبیہ و استعارہ،علامت و کنایہ،روزمرہ و محاورہ،زبان اور بیان کی خوبصورتی کے ساتھ شعر بنتی ہے تو دلوں کو تسخیر کرتی چلی جاتی ہے،اخلاق احمد کی شاعری ایسی ہی خوبیوں سے مالا مال ہے۔اُس کا لب ولہجہ اپنے معاصر ین میں رنگِ یگانہ کے باعث ممتاز بھی ہے اور دل نواز بھی۔شعری سفر کا پہلا پڑاؤ ہی اُس کے شاندار مستقبل کی گواہی دے رہا ہے،میں اس کی کامیابی کے لیے دعا گوہوں۔کتاب سے چند اشعار قارئین کی نذر
یہ تعلق نہیں بھرم ہی تو ہے
کیوں کسے آزمایئے صاحب
رات اک پھول نے کہا مجھ سے
کوئی خوشبو جگائیے صاحب
آپ کا ہاتھ میرے شانے پر
کیا گزرتی رہی زمانے پر
مرے کمرے میں رکھی ایک تصویر
کسی کو یاد کرکے رو رہی ہے
مرے سکوں میں خلل آرہا ہے سنگ تراش
تُو اس چٹان کے پیکر سے مت نکال مجھے
وہ ایک موم کی چڑیا شجر سے کہتی ہے
میں آسمان کو چھو لوں گر آفتاب نہ ہو
کون گزرا تھا کہکشاؤں سے
آج تک راستہ منور ہے
اُس طرف دیکھتے ہیں کم کم لوگ
آئنہ آدمی کے اندر ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post