بخیہ اُدھیڑ ۔۔۔ کالم : سعیداشعر

سعید اشعر
 سعید اشعرؔ
آئینہ
لمبا چوڑا فلسفہ بیان کرنے کے بجائے اس وقت میں یہاں چھوٹے چھوٹے چند نئے اور پرانے ایسے واقعات پیش کرتا ہوں جن سے ملتے جلتے واقعات کے آپ خود بھی شاہد ہیں۔
میں ککوتری ہائی سکول میں سائنس تیچر تھا۔ ضلعی سطح ہر والی بال کا ٹورنمنٹ شروع ہو گیا۔ ہمارے سکول کی ٹیم کے لیے شیروان کے سکول کو سنٹر بنایا گیا۔ اپنی ٹیم کے ساتھ میں بھی شیروان چلا گیا۔ میرا مقصد صرف وہ علاقہ دیکھنا تھا۔ کچھ دوسرے علاقوں کی ٹیمیں بھی وہاں پہنچ چکی تھیں۔ پہلے دن کا کھانا شیروان ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے اپنے ذمہ لے لیا۔ سکول کے ایک برآمدے میں دسترخوان بچھا دیا گیا جس کے دونوں اطراف ٹیموں کے ساتھ آیا ہوا عملہ بیٹھ گیا۔ ایک میزبان ٹیچر نے سب کے لیے الگ الگ پلیٹ میں سالن ڈالا۔ میرے سامنے بھی ایک پلیٹ رکھ دی گئی۔ مرغی کا شوربے والا سالن تھا۔ پلیٹ میں دو عدد بوٹیاں تھی۔ ایک بڑی اور ایک چھوٹی۔ اتنے میں بن بلائے کچھ اور مہمان آ گئے۔ سکولوں میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں کھانے کے وقت ایسے لوگوں کا آنا اجھنبے کی بات نہیں۔ ان کا تعلق عام طور پر اساتذہ کے حقوق کے لیے بنائی ہوئی تنظیموں سے ہوتا ہے۔ کھانا اتنا ہی تھا جو تقسیم ہو چکا تھا۔ اس لیے ہر پلیٹ کے ساتھ ایک اور فرد بٹھا دیا گیا۔ میں بڑی بے دلی سے کھانا کھانے لگا۔ ابھی میں نے دو تین نوالے ہی لیے ہوں گے کہ مجھے احساس ہو گیا کہ کچھ مختلف ہو رہا ہے۔ پتہ چلا میرے ساتھ جو شخص بیٹھا ہوا تھا وہ اپنے سامنے پڑی ہوئی کمزور بوٹی کو اس طرح دھکا مار رہا تھا کہ میرے سامنے پڑی ہوئی بڑی بوٹی گھوم کر اس کی طرف جا رہی تھی۔ کھانے میں میری دلچسپی پیدا ہو گئی۔ اگلے دو تین دھکوں کے نتیجے میں بوٹی اس کے سامنے پہنچ چکی تھی۔ اور کمزور بوٹی میرے سامنے۔
“آپ بوٹی لیں نا”
اس نے نوالہ چباتے ہوئے مجھے کہا۔
“پلیز آپ لیں”
میں نے گیند واپس اس کے کورٹ میں پھینک دی۔ میں مکمل طور پر اس کی چال سمجھ چکا تھا۔ اصولی طور پر میں پلیٹ کا حقیقی مالک تھا۔ اس لیے تھوڑا بہادر بن گیا۔ میں نے دو ہی دھکوں میں بڑی بوٹی اپنے سامنے کر لی۔
“آپ بوٹی لیں نا”
اس نے ہمت نہیں ہاری۔ مطلوبہ بوٹی گھما کر اپنے سامنے لے گیا۔ سو سنہار کی اور ایک لوہار کی کے مصداق ایک بار پھر میں مقبوضہ بوٹی چھڑانے میں کامیاب ہو گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی میں دسترخوان سے اٹھ گیا۔
“آپ بوٹی نہیں لیں گے”
میں نے حیرت میں ڈوبی ہوئی اس کی آواز سنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کی تقریب تھی۔ ہم دسترخوان پر بیٹھے تھے۔ میرے سامنے ایک ڈگری کالج کے پرنسپل بیٹھے تھے۔ ان کا علمی و ادبی حلقوں میں بڑا احترام تھا۔ بارہا انھوں نے شہر میں ہونے والی ادبی تقریبات کی صدارت بھی فرمائی تھی۔ مشرقی علوم پر خاص طور پر ان کی گہری نظر تھی۔ میں مؤدب ہو کر ان کے سامنے بیٹھا تھا۔ انتظامیہ نے سب کے آگے کھانا رکھنا شروع کر دیا۔ سالن کا ڈونگا جب آیا تو میں نے انتہائی احترام کے ساتھ پرنسپل صاحب سے کہا۔
“پلیز آپ لیں”
انھوں نے پھرتی کے ساتھ سالن کا ڈونگا اپنے قریب کیا۔ اور چمچ کی مدد سے اس کے اندر جتنا گوشت تھا اپنی پلیٹ میں ڈال لیا۔ میرے لیے یہ صورتِ حال ناقابلِ یقین تھی۔ خیر، میں نے بھی اپنے سامنے تھوڑا سا شوربہ ڈال لیا۔ جب تک ہم دسترخوان پر رہے پرنسپل صاحب میرے لیے اجنبی بنے رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایبٹ آباد پوسٹ گریجویٹ کالج کی صد سالہ تقریبات تھیں۔ اس سلسلے میں ایک مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔ ہم جو مہمان شعرا تھے ان کے لیے بورڈنگ میں رات کے کھانے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ رات گئے جوں ہی مشاعرہ ختم ہوا مہمانوں کو کہا گیا کہ وہ بورڈنگ میں تشریف لے جائیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو عجیب ہی منظر دیکھا۔ کھانے پر مقامی معززین اور کالج کا تدریسی عملہ مکمل طور پر قابض ہو چکا تھا۔ انھوں نے پلیٹوں کا تکلف بھی نہیں کیا تھا۔ آٹھ آٹھ اور دس دس لوگ ایک ہی پرات پر زور آزمائی کر رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے دہی اور کھیر کے کونڈے سنبھال رکھے تھے۔ اور وہ دوسرے لوگوں سے بارٹر سسٹم کے تحت کھانا حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ کچھ حضرات کی کفیں شوربے سے تر بہ تر تھیں اور کئی معززین کے دامن داغ دار ہو چکے تھے۔
ہم نے تھوڑی دیر تک یہ تماشا دیکھا۔ پھر بورڈنگ سے باہر آ گئے۔ اس دن تقریباً تمام مہمان شعرا بھوکے ہی اپنے گھروں کو واپس لوٹے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضع نڑتوپہ میں ہری پور کے معروف سیاسی رہنما عبدالصبور قریشی کے ہاں ایک شادی کی تقریب تھی۔ ولیمے کے دن ضلع بھر کی تقریباً تمام مذہبی، سیاسی، سماجی اور کاروباری اہم شخصیات وہاں موجود تھیں۔ دور دراز کے علاقوں سے بھی کافی مہمان آئے ہوئے تھے۔ ایک وسیع میدان میں بڑے بڑے شامیانے لگائے گئے تھے۔ مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے لگائے گئے شامیانے ان شامیانوں سے ذرا فاصلے پر لگائے گئے تھے جن میں کھانے کا انتظام تھا۔ سب کچھ متوازن انداز میں ہو رہا تھا۔ میں اور اس وقت مسلم لیگ کا ضلعی صدر سیٹھ خالد ایک شامیانے کے باہر گپوں میں مصروف تھے۔ دو بجے کا وقت ہوگا۔ انتظامیہ نے کھانا کھلنے کا اعلان کیا۔ پھر کیا تھا۔ شامیانے میں بیٹھے مقامی لوگوں نے کھانے کی طرف دوڑ لگا دی۔ ساتھ ساتھ وہ شور بھی مچا رہے تھے۔ دور سے دیکھنے والا یہی سمجھتا کہ کسی لشکر نے کہیں یلغار کر دی ہے۔ میں اور سیٹھ خالد ان کے نیچے آنے سے بال بال بچے۔ ہر طرف دھول ایسے اڑ رہی تھی جیسے یہاں ہاتھیوں کی لڑائی ہوئی ہو۔ اس زمانے میں کیمرے والے موبائل ہوتے تو بڑے دلچسپ لمحات محفوظ ہو جاتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے مناظر تو اکثر ٹی وی پر دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں کہ کہیں اگر کسی سیاسی تقریب میں کھانے کا بندوبست ہو تو سب لوگ ایک ہی وقت میں اس پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر زیادہ تر کھانا مٹی کی نذر ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ کھانے کے لیے دوسروں کے ساتھ دھینگا مشتی اور ہاتھا پائی سے بھی باز نہیں آتے۔
آئیے آخر میں ہم سب باری باری آئینہ دیکھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post