بانوکی ڈائری


 از: صائمہ نسیم بانو
روابط میں بھرم رکھنا ہو تو لبوں پر مروت کی بخیا گری واجب ہے۔ دریدہ دہنی جہاں وقتی ابال کو معدوم کرتی ہے وہیں لاشعور کی کسی تہہ میں ایک ٹیس کی مانند اپنا مسکن بنا لیا کرتی ہے۔
یہ اچھا ہے کہ آواز بلند کی جائے لیکن اس سے بھی کہیں بہترین عمل یہ ہے کہ خوف دل کی فصیلوں میں مقید رکھا جائے کہ یہی خوف جب آنکھ اور دل سے نکلتا ہے تو بیباکی حاکم ہو جایا کرتی ہے۔ آپ کی ذات پر اٹھائے جانی والی پہلی آواز یا پہلا پتھر ہی خوف کی اسیری سے نجات دلاتا ہے۔
دلوں میں ایک خفیف سا احترام یا مان ڈولتا رہے تو فضاوُں میں امن کی مہکار رقصاں ہوا کرتی ہے، ہم اپنے پڑوسی کے گھر میں دیا سلائی سلگا کر نہیں پھینکا کرتے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری بقا کی ضمانت ان کی پاسبانی پر ٹکی ہے۔ ایک محروم شخص سے زیادہ نقصان دہ شاید ہی کوئی ہو گا۔ ایک دوجے کو اپنی اپنی خوشیوں کی چھوٹی چھوٹی جاگیروں میں راج کرنے دیجیے، محرومیاں نہ تقسیم کیجے ہاں اگر کچھ بانٹنا ہی ہے تو خوشیوں کو برابری کے کلیے پر بانٹ لیجے اس طرح ذہنی سرمایہ دارانہ کیفیت کی موت ہو گی اور سماج میں خوشیوں کی برابری کا چلن ہو گا کہ ہماری روحوں کا حق ہے وہ کیف و سرور سے معطر رہیں۔ کسی کے واسطے تکلیف و درد کے پہاڑ توڑ کر اپنی کامیابیوں کا آسمان نہ چھوئیں۔ خود کو راست باز سمجھنا قابلِ فخر ہے لیکن اسی زعم میں دوجوں کی تحقیر کیے چلے جانے کا عمل ملامت کا حق دار ہے۔ ہر شے کا حق ہوا کرتا ہے اور حق کا حق تو یہ ہے کہ اسے حق سے ادا کیا جائے۔ ہماری نیتوں کا حسن ہمارے اعمال اور رویوں کی جہت سے نکھرتا ہے۔ دوجوں کو آرام، تسکین، بے فکری، طمانیت اور چین سے جینے دیا جائے تو ہمیں اپنے لیے بھی آسودگی، اطمینان، راحت اور قرار میسر رہتے ہیں۔
کئی بار ہم ناپسندیدہ حالات و واقعات، ناگوار و خلاف طبع گفتگو یا ہرزہ سرائی کو برداشت کیے چلے جاتے ہیں اور ایک سوال ہمارے دل و دماغ میں ہلچل مچائے رکھتا ہے کہ آخر ہم درگزر کیوں کرتے ہیں، ایسے میں ہم چپ کیوں رہتے ہیں جبکہ قلب کا تو یہ حال ہے کہ اپنے نام کے موافق سازِ مضطر پہ سر دھن بیٹھے تو سنبھالے نہیں سنبھلتا.
‏وَلَمَنۡ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوۡرِ
الشورٰی:۴۳
اور بیشک جس نے صبر کیا اور معاف کیا
تو یہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔
‏حدیث نبوی(ﷺ) موسی(ع) نے عرض کیا
اللہ تیرے نزدیک مکرم کون ہے؟
ارشاد ہوا “من اذا قدرَ، غفرَ-”
وہ جو قدرت کے باوجود معاف کر دے-
‏حقوق العبادمیں تجاوز و تقصیر محض توبہ سے برابر سرابر نہ ہو گی بلکہ خطا کار حقدار سے معافی مانگے گا- معافی جبر و مروت نہیں بلکہ اذن و رضا ہے- ‏‎جہاں جبر، جراُ ت کا استعارہ ہو اور منطق پہ اقتناع کو فوقیت دی جائے۔ معروف کے بجائے شاذ پہ اصول مرتب ہوں وہاں کا اللہ ہی حافظ ہے-
‏عذرخواہ کو معاف کر دینا نہ صرف اسکے لحاظ و حیا بلکہ ہمارے ظرف و بھرم کا بھی پردہ ہے۔ تنبیہہ کا تواتر اسے نڈر و بے خوف بنا دیتا ہے، ایسی بے باک انا سےخطرناک کچھ نہیں- ‏معاملات میں تغافل(درگزر) نری حکمت ہے۔ ظلم و تقصیر پر چشم پوشی ہی سفاک کا پردہ اور دلگیر کی ڈھال ہے-
#بانو

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post