مودی اورعمران جنرل اسمبلی میں : رحمان حفیظ


رحمان حفیظ
مودی اور عمران جنرل اسمبلی میں ۔۔۔ عمران خان بہتر لیڈر دکھائی دئیے
٭٭ باتیں زیادہ تو زیادہ تر وہی ہوئیں جو متوقع تھیں لیکن عمران خان کی باڈی لینگویج بہت موثر اور اعتماد کی مظہر تھی
٭٭ خان کا انگریزی میں زبانی تقریر کرنے کا فیصلہ ہی درست تھا ورنہ کوئی تقریر کو توجہ نہ دیتا۔
٭٭ مودی نے اپنی تقریر ہندی میں کی جوکہ عمران خان جیسی توجہ سے نہیں سنی گئی ۔ مودی نے پاکستا ن کا نام لئے بغیر اپنا تما م تر ارتکاز دہشت گردی پر رکھا ، کشمیر اور آرٹیکل 370 کو تو وہ پہلے ہی داخلی مسلہ قرار دے چکے تھے
٭٭ تاہم آج مودی کا اعتماد ویسا نہیں تھا جیسا ٹرمپ کے ساتھ دکھائی دیاتھا۔ انہوں نے الیکشن میں اپنی غیرمعمولی جیت اور بھارتی عوام کے لئے شاندار اقدامات کا بھی ذکر کیا جو زیادہ تر لوگوں کے لئے عدم دلچسپی کا باعث لگا۔
٭٭ دوسری جانب عمران نے بھارت کے حوالے سے بار بار نسل پرستی اور انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا جو کہ زیادہ بہتر اور موثر بیانیہ ثابت ہوا۔
٭٭ کشمیریوں کی جگہ یہودیوں کو فرض کرنے کی مثال نے بھی توجہ حاصل کی لیکن فیصلہ کن قوتیں in the longer run اسے ناپسند کریں گی۔
٭٭ جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں اور ایک آدھ دوسرے بین الاقوامی مسلے کے ذکر سے تقریر کو متوازن بنانے میں مدد ملی ، وہیں ” مسلمانوں” کے بہت زیادہ ذکر سے ماتھوں پر سلوٹیں بھی دکھائی دیں .
٭٭ بظاہر یہ طے تھا کہ عالمی طاقتوں کو صرف نسل پرستی اور انسانی حقوق کے حوالے سے مخاطب کیا جائے گا لیکن شاید ( یہ میرا ذاتی اندازہ ہے) کہ عمران خان جذباتی ہو کر بار بار مسلم امہ کے ساتھ دنیا کی اجتماعی نا انصافی کی بات کر جاتے تھے جس میں کئی پیچیدگیاں ہیں
٭٭ خاص طور پر حجا ب کے حوالے سے تقریر کے روایتی ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہوں گے لیکن انداز ایسا جارحانہ تھا کہ کوئی بھی شخص ایک لمحے کے لئے بھی عمران کی تقریر سے توجہ نہیں ہٹا سکاَ
٭٭ دنیا تو کشمیر ، فلسطین ، برما اور دیگر اسلامی ممالل کے حوالے سے بے حس اور بے رحم ہے ہی لیکن شاید جاگنے والے ضمیروں کے لئے اس تقریر سے بڑا تازیانہ ممکن نہ تھا
٭٭ بلاشبہ عمران خان کی کارکردگی شاندار رہی ۔
٭٭ ویل ڈن عمران خان

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post