رویوں پر ہی سب کچھ منحصر ہے : یوسف خالد

تمام مذاہب انسانی معاشروں میں باہمی احترام اور امن کے فروغ کا پیغام دیتے ہیں مگرمبلغین نے اس بنیادی مقصد سے صرفِ نظر کیا ہے اور فروعی اختلافات کو ہوا دی ہے – پوری دنیا میں مذہبی منافرت جنون کی صورت اختیار کر چکی ہے- نسلِ انسانی کی بقا مذہب کے بنیادی تصور امن اور بھائی چارے میں ہے -دینِ اسلام اس حوالے سے پوری دنیا میں امن کے لیے نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے – یہ وہ ضابطہ حیات ہے جس کی بنیاد احترام انسانیت پر ہے- جسے پوری نسل انسانی کی بھلائی اورفلاح مقصود ہے –
آج کی دنیا میں مکرو فریب ،جھوٹ اور استحصال کی جو روش جڑ پکڑ چکی ہے ،یہ سب مذاہب کی حقیقی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے –
عصرِ حاضر میں مسلمان ممالک نے دینِ اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا حتیٰ کہ اس نعمت سے خود بھی فیض یاب نہیں ہوئے – ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تعلیمات کو عام کیا جائے جو ایک بہتر انسانی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے دینِ اسلام میں موجود ہیں –
مسلم معاشروں میں مؤثر ترین آواز علماء کرام کی ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ یہ آواز باہمی محبت پیدا کرنے ، جہالت کودور کرنے اور علوم کی طرف انسانوں کو مائل کرنے میں ناکام رہی ہے – ہمارے مذہبی مراکز سے بحث و تکرارکو تو فروغ ملا ہے مگرفہم و فراست اور علوم کی کوئی تحریک شروع نہیں ہو سکی – کسی مسجد سے یہ آواز سننے کو نہیں ملتی کہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں انہیں زندگی کا شعور دیں ، آزادانہ سوچنے سمجھنے کی تربیت دیں –
یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ علماء کرام دین اسلام کی اصل صورت دنیا کے سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں – علماء کا زیادہ وقت عقیدے کے مباحث ،عبادات اور اسلام کی برتری ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور بعض دیگر جدید علوم کو کم تر ثابت کرنے پہ خرچ ہو رہا ہے – حالانکہ سچائی کو تشہیر کی ضرورت نہیں ہوتی وہ ہمارے رویوں سے دوسرے انسانوں تک بہتر انداز میں پہنچ سکتی ہے –
ہم میں سے کسی مسلمان کو یہ ہمت نہیں کہ وہ کسی مذہبی محفل میں کوئی اختلافی بات یا علمی سوال اٹھا سکے – اور اگر غلطی سے کوئی بات کر بھی دے تو کفر کا فتویٰ تیار ہوتا ہے – حد تو یہ ہے کہ سرِ بازار اگر کسی شخص کے متعلق کوئی لوگوں سے یہ کہہ دے کہ اس نے برگزیدہ ہستیوں یا اللہ کے رسول کے خلاف بات کی ہے – تو بغیر تحقیق کیےہرشخص اسی وقت اس شخص کو سزا دینے اور اس کی جان لینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے – اور اسے کارِ ثواب سمجھتا ہے-
یہ ایک طرف تو برگزیدہ ہستیوں سے محبت کی علامت ہے تو دوسری طرف ایک غیر ذمہ دارانہ فعل بھی ہے – جس میں جذباتیت زیادہ اور فہم کم ہے -ہم انسانوں کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے سے زیادہ دائرہ اسلام سے خارج کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں – اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دینی تعلیمات سے حکمت اور دانش حاصل نہیں کرتے صرف ثواب کی جمع تفریق میں مصروف رہتے ہیں-
مذکورہ بالا صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے میں یہ کہنے میں خود کو حق بجانب سمجھتا ہوں کہ ہم اسلام کی خدمت کر رہے ہیں نہ انسانیت کی – خدشہ یہ ہے کہ اگر ہم نے مذہبی مغالطوں اور تنگ نظری کو مزید فروغ دیا تو نئی نسل مذہب سے بیزار ہو سکتی ہے – ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، اپنے رویوں میں بہتری پیدا کرنی چاہیے اور دین اسلام کی عظیم نعمت سے حقیقی معنوں میں راہنمائی حاصل کرنی چاہیے -ہر سچائی دین کا حصہ ہے –
تنگ نظری،محدود سوچ اور ناقص فہم دین کی حکمتیں نہیں سمجھ سکتا – اقبال رح نے فرمایا تھا کہ
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
یوسف خالد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post