احساس۔۔۔ کالم: یوسف خالد


یوسف خالد
کوئی ریاست ہو،معاشرہ ہو یا کوئی گھر ہو اگر مسائل کو روزانہ کی بنیاد پر حل کرنے کی سوچ نہ اپنائی جائے تو مسائل اکٹھے ہو جاتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ مسائل کا انبار دیکھ کر انسانوں کے رویے میں مایوسی، بیزاری اور ایک خاص طرح کی بے حسی اور تنگ نظری پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے-یہ کیفیت انفرادی سطح پر بیمار ذہنیت کی بنیاد رکھتی ہے-جو بعد ازاں اجتماعی کردار کا روپ دھار لیتی ہے–
ایسی صورت حال سے گزرنے والے معاشرے اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں-افراد کی سوچ اپنی ذات کے تحفظ تک محدود ہو جاتی ہے—باہمی اعتماد اور خیر خواہی دم توڑنے لگتی ہے-چھینا جھپٹی شروع ہوتی ہے تو جنگل کا قانون جڑ پکڑنے لگتا ہے-ایک شدید عدم تحفظ کی زد میں آیا ہوا معاشرہ لوٹ مار ،چوری،ڈاکےاور سینہ زوری کو اپنا شعار بنا لیتا ہے–توڑ پھوڑ خارجی اور داخلی دونوں سطحوں پر نمایاں ہونے لگتی ہے–
سب سے خطرناک پہلو ایسی صورت حال میں یہ ہوتا ہے کہ سوچنے سمجھنے اور تہذیبی و تمدنی شعور رکھنے والے لوگ گوشہ نشین ہو جاتے ہیں-سب کچھ ان لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے جو صرف اور صرف اپنی ذات کو اہمیت دیتے ہیں-ان کے نزدیک کسی نظریے کسی نظام کسی تہزیب کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی–جنگل پھیلنے لگتا ہے-وحشت اور استحصالی مزاج سب کچھ زیر و زبر کر دیتا ہے–
کیا ہم ایسی صورت حال سے تو نہیں گزر رہے؟
ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں سے بعض انتہائی اہمیت کے حامل مسائل کو بڑی بے دردی سے نظر انداز کیے رکھا – ہم یہ جان ہی نہیں پائے کہ ہماری بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں میں اس آبادی کا ارتکاز آنے والے دنوں میں کیسے کیسے مسائل جنم دے گا – ایک وقت تھا جب جنرل ایوب نے آبادی کے کنٹرول کے لیے ایک محکمہ بنایا تھا لیکن بد قسمتی سے اس محکمہ کی کارکردگی کو مسلسل دیکھنے اور اس میں ضروری تبدیلیاں کرنے کا کوئی خاظر خواہ نظام وضح نہیں کیا گیا تھا آبادی ابتدا میں غیر محسوس انداز میں بڑھتی رہی مگر جب کچھ سالوں کی غفلت کے باعث آبادی کا پھیلاؤ کسی قدر محسوس ہونے لگا تو اس وقت بھی اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ نہیں لگایا گیا – بڑھتی ہوئی آبادی نے صحت کے نظام اور تعلیمی نظام پر کاری ضرب لگائی، ہسپتالوں اور سکولوں کی تعمیر اور سہولیات ناکافی ہوتی گئیں – حکمرانوں نے صحت اور تعلیم کو ترجیح دی اور نہ بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے انتظامات کیے – سوچا جائے تو ان دو بڑے مسائل نے ان گنت مسائل پیدا کر دیے اور ریاست بے خبر رہی -جہالت، غربت ،بے روزگاری، صحت کے مسائل اور شہروں میں سہولیات کی کمی نے زندگی اجیرن بنا دی – آج ہمارا کوئی شہر ایسا نہیں جو دباؤ میں نہ ہو – سیورج کے مسائل،پینے کے پانی کے مسائل، تعلیم کی فراہمی کے مسائل ،ٹریفک کے مسائل ،صحت کے مسائل ، جرائم میں اضافہ — غرضیکہ پورا ملک مسائل کا گڑھ بن چکا ہے – سیاسی، معاشی، عدالتی اور فکری مسائل ان کے علاوہ ہیں – جن کا ذکر کرنا بھی بہت تکلیف دہ ہے –
کوئی بھی حکومت ہو ان مسائل کو دیکھ کر اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس مسئلے کو پہلے حل کرنے کی کوشش کرے اور کسے مؤخر کرے – مسائل ہی مسائل میں جکڑا ہوا معاشرہ جس فکری اور ذہنی کرب میں مبتلا ہے اس کا اندازہ لوگوں کے رویوں سے کیا جا سکتا ہے – ہر شخص اپنی ذات میں مقید ہے اور خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش میں ہر جائز نا جائز ذرائع استعمال کر کے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے میں لگا ہے – اس صورتِ حال نے پورے معاشرے کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے – ملکی ترقی اور بہتر معاشرے کی تشکیل کا کوئی تصور لوگوں کے پاس نہیں – حکومتیں بھی وقتی حل پر اکتفا کرتی ہیں – اور مسائل کا سامنا کرنے کو تیار نہیں – اس پہ مزید ستم یہ ہے کہ ہر حکومت سیاسی عدم استحکام کے باعث اگر چاہے بھی تو بہت سے کام نہیں کر سکتی –
اس صورتِ حال میں لازم ہے کہ ملک کا باشعور طبقہ اپنی قومی ذمہ داری سمجھ کرحکومت کی راہنمائی کرے – افرادِ معاشرہ کی ذہن سازی کے لیے اپنی خدمات پیش کرے – اور تعلیمی ادارے بچوں کے ذہنوں میں بہتر زندگی کا کوئی تصورپیدا کریں – تواتر سے تعلیمی اداروں ،کالجز یونیورسٹیز اور سکولوں میں خصوصی سیشنز رکھے جائیں اور طلبا کی ذہنی الجھنوں کو دور کیا جائے –
حکومت کو چاہیے کہ وہ مستقل بنیادوں پر اہلِ دانش کومعاشرے کی بہتری کے لیے تجاویزاور سفارشات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپ کر بہتری کی طرف آگے بڑھیں – ہم مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے – ہمیں ہر کام جنگی بنیادوں پر کرنا ہو گا – مسائل کا درست ادراک اور قابل عمل و نتیجہ خیز اقدامات کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے –
یہ چند سظریں صرف احساس کی بیداری کے لیے – تفصیل سے دانستہ گریز کیا ہے تا کہ احباب اسے آسانی سے پڑھ لیں
یوسف خالد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post