آئیے سوچتے ہیں : پروفیسریوسف خالد

کسی بھی انسان کی کارکردگی کا دارومدار اس کی نیت اور اہلیت پر ہوتا ہے – نیت ایک ارادہ ہے جس کا تعلق ہمارے ایمان سے ہے – اچھی بری نیت کا مرکزہ ہمارا دل ہوتا ہے – گویا ہم کسی کام کو انجام دینے کے لیے پہلے ارادہ کرتے ہیں اور بعد میں اس ارادے اور نیت کے تحت کام کو انجام دیتے ہیں – اچھی نیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے پورے خلوص سے یہ ارادہ کیا ہے کہ ہم اس کام کو پوری دیانت داری سے اس کے تمام تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے انجام دیں گے – جب کہ بری نیت سے مراد یہ ہے کہ ہم اس کام کو خلوص دل سے نہیں بلکہ کسی ذاتی مفاد کسی دباؤ یا لالچ کے تحت انجام دینا چاہتے ہیں – ممکن ہے ہم کام کو انجام تک پہنچا بھی لیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہم اسے پوری طرح بہ حسن وخوبی انجام دے پائیں – کہیں نہ کہیں ہمارا ذاتی مفاد اور بد نیتی کام کے معیار کو کم کرنے میں دخل اندازی کی مرتکب ضرور ہوئی ہو گی –
دیکھا جائے تو نیت کے صرف دو حوالے ہیں ایک اچھی نیت دوسری بری نیت – درمیان میں کچھ نہیں – گویا کسی بھی کام کو انجام دینے کے لیے یا ہم اچھی نیت سے کام کر رہے ہوتے ہیں یا بری نیت سے، اسی طرح بحیثیت انسان ہم اپنے مستقل طرزِ عمل کے حوالے سے اچھی نیت کے مالک ہیں یا بری نیت کے – اس کے علاوہ نیت کے اور کوئی مدارج نہیں –
اب بات کرتے ہیں اہلیت کی اس کا تعلق انسانی دماغ سے ہے ،مہارتوں سے ہے علم و تجربے سے ہے – کسی کام کو انجام دینے کے لیے مطلوب صلاحیت اور ہنر سے ہے- ایک اہل شخص اپنے کام کو اچھے طریقے سے انجام دے سکتا ہے جب کہ نا اہل شخص اکثر ناکام رہتا ہے- اہلیت کم زیادہ یا بہت زیادہ ہو سکتی ہے، اس کی حدود کا تعین نہیں کیا جا سکتا – مزید یہ کہ اہلیت کی تخصیص ضروری ہے یعنی مختلف کاموں کے لیے مختلف نوع کی اہلیت درکار ہوتی ہے – گویا نیت کے بر عکس اہلیت کے کئی مدارج ہیں – اہلیت کے لیے علم حاصل کرنا پڑتا ہے مخصوص مہارتیں سیکھنا پڑتی ہیں اور یہ تجربے اور غلطیوں سے سیکھ کر ترقی کرتی ہے –
جب کہ نیت ایسے کسی جھنجھٹ میں نہیں پڑتی بس ارادہ کر لیا اور نیت ہو گئی – پھر یہ ارادہ اور نیت ہماری راہنمائی کرتی ہے-
اب سوال یہ ہے ایسے افراد جن کی انتظامی یا کوئی فیصلہ سازی کا کردار ادا کرنے کی ذمہ داری ہو ان کا اچھی نیت کا حامل ہونا اہم ہے یا اہل ہونا-
عمومآ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اہلیت بہت ضروری ہوتی ہے – اگر اس سوچ کے تحت اہل افراد کو ذمہ داری سونپ دی جائے اور ان کی نیت کے حوالے سے کوئی سوچ بچار نہ ہو تو کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی بد نیتی سے فائدے کی بجائے نقصان پہنچانے کا باعث بن جائیں – کچھ ایسی ہی صورتِ حال اس کے بر عکس بھی ہو سکتی ہے کہ اچھی نیت کا حامل شخص نا اہلی کے باعث نقصان پہنچانے کا باعث بن جائے –
اس ساری صورتِ حال کو مدِ نظر رکھیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہترین کارکردگی کے لیے فرد کا اہل ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی نیت کا حامل ہونا بھی ضروری ہے –
لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے –
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرآئیڈیل صورت حال میسر نہ ہو تو ہمارا انتخاب اہل افراد ہونے چاہیں یا اچھی نیت کے حامل؟
کیا نیت کا متبادل کچھ ہے؟
کیا اہلیت کا متبادل کچھ ہے؟
کیا اہلیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
کیا باہمی مشاورت سے اہلیت کی کمی کا تدارک ہو سکتا ہے؟
کیا اہلیت مستعار لی جا سکتی ہے؟
اور سب سے آخر میں یہ سوال کہ کیا کسی کام کی انجام دہی کے حوالے سے فرد کا قابلِ بھروسہ ہونا ضروری ہے؟
کیا قابلِ بھروسہ ہونا نیت سے متعلق ہے یا اہلیت سے؟
ان مذکورہ بالا سوالات کی روشنی میں اگر ہم اپنے ریاستی ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو شاید ہم اپنی ناکامیوں کی وجوہات اور اسباب تلاش کر سکیں –
اب ایک آخری اور بڑا سوال یہ ہے کہ ریاستی نظم و نسق چلانے کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے والے ادارے فرد کی شخصیت سازی اس کی نیت اور دیگر انسانی اوصاف کی پرورش کے حوالے سے کیا کسی مربوط نصابی، ہم نصابی یا تربیتی پروگرام کو ضروری سمجھتے ہیں اور کیا اس کی کمی محسوس کرتے ہیں؟
ہم سب جو اپنے ریاستی نظام پہ انگلیاں اٹھاتے ہیں ہمیں سنجیدگی سے ان سوالات پر غور کرنا چاہیے –
آئیے سوچتے ہیں !

You might also like
Loading...