دل دریچوں میں وہی لوگ بسا کرتے ہیں
جن کی وحشت سے زمانے بھی ڈرا کرتے ہیں
جس گلی میں وہ صنم میرے رہا کرتے ہیں
اس گلی میں سبھی عزت سے جیا کرتے ہیں
تیرے اس شہر کے معلوم نہ تھے طور ہمیں
غرض ہو جس کو وہ قدموں میں گرا کرتے ہیں
شہر ِ تنہائیوں کی بستی کے باسی اکثر
آئنہ دیکھ خودی سے کیوں لڑا کرتے ہیں
حسنِ یوسف کی کلی چھپ جا زمانے سے تو
پتھروں کو بھی یہاں لوگ خدا کرتے ہیں
جن کی منزل ہو نگاہوں میں ہو چہرے پہ خوشی
قافلے میں وہ ذرا آگے چلا کرتے ہیں