غزل : نوید صادق

اُس نے کہنا تھا جو وہ کہا ہی نہیں
اور مَیں ہوں کہ مَیں نے سنا ہی نہیں

دوستوں کی شکایات اپنی جگہ
اُس گلی میں کہیں کوئی تھا ہی نہیں

شہر کی رونقیں ماند پڑتی گئیں
گھر، محلے ۔۔۔ کہیں کچھ بچا ہی نہیں

آج بھی گھر سے دفتر، وہی سلسلہ
میرے معمول میں کچھ نیا ہی نہیں

کھانستے، کش لگاتے، اُٹھے چل دیے
ان بزرگوں کو ہم سے گلہ ہی نہیں

کیسی پژمردگی، کیسی شرمندگی
گھر کی ترتیب میں آئنہ ہی نہیں

روز جینا بھی کیا واقعہ ہے کوئی!
اور مرنا کوئی سانحہ ہی  نہیں!

یہ تماشا، تماشائی سب ٹھیک ہیں
میرا کردار آگے بڑھا ہی نہیں

بادشہ کی سنو، بادشہ ٹھیک ہے
میرے حق میں کسی کی گواہی نہیں

ایک عالم اِدھر سے اُدھر ہو گیا
لوگ حیران ہیں، یہ تباہی نہیں

عشق کرنے کی کوشش میں دن کٹ گئے
وہ بچھڑ کر دوبارہ ملا ہی نہیں

اب نوید ایک ایسی کہانی سنو
جس کہانی میں کوئی جیا ہی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post