غزل : نوید صادق

قصر جلا  دیے گئے  ، تخت  گرا دیے گئے
اور جو مانتے نہ تھے، رہ سے ہٹا دیے گئے

عہد غلط نہ تھا مگر، عہد کے لوگ تھے غلط
اُلٹے قدم چلے سدا ، اُلٹے اُٹھا دیے گئے

ایک کی لَو حریف تھی، ایک کی ضَو حلیف تھی
ایک ہی شک میں سب کے سب، دیپ بجھا دیے گئے

تیرے لبوں پہ قفل تھا، میرے سخن پہ بندشیں
تیرے  مرے  شعور  کے رنگ  اُڑا  دیے  گئے

لوگ کہیں توکیا کہیں، لکھنا پڑے تو کیا لکھوں
رات  کی  رات میں کئی  پیڑ  گرا  دیے گئے

جانا پڑے تو جاوں کیا،رُکنا پڑے تو کیا رُکوں
کھیت اجاڑ کر مرے ، شہر بسا دیے گئے

You might also like
  1. younus khayyal says

    بہت عمدہ غزل ۔۔۔۔۔ واااااااااااااااہ
    تیرے لبوں پہ قفل تھا، میرے سخن پہ بندشیں
    تیرے  مرے  شعور  کے رنگ  اُڑا  دیے  گئے

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post