غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

میرے آنسو وہ پونچھتا ہی نہیں
دل کے در کو وہ کھولتا ہی نہیں

عشق نے دی ہے روز قربانی
یہ تو کٹنے سے چوکتا ہی نہیں

آگ سے میں نے دوستی کرلی
اور دریا کہ روکتا ہی نہیں

میرے ضدی کی ضد مجھے مارے
میں جو روٹھوں تو پوچھتا ہی نہیں

جب سے پتھر ہوا یہ دل غم سے
اپنے بارے میں سوجھتا ہی نہیں

دل پہ بارش ہوئی جو الفت کی
میرا نفرت سے واسطہ ہی نہیں

وصل کی رات ،داستاں دکھ کی
کیا سناؤں کہ حوصلہ ہی نہیں

 

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں