غزل

غزل : زہرا شاہ

کیوں مجھ کو ڈھونڈتے ہیں الجھے ہوئے مناظر
حیرت زدہ سی شامیں ، سہمے ہوئے مناظر

بوندیں بلا رہی تھیں کھڑکی کو دے کے دستک
بارش کے بعد دیکھے نکھرے ہوئے مناظر

اتنی تھی تاب کس میں جلتے گھروں کو دیکھے
وہ آگ تھم گئی پر جھلسے ہوئے مناظر ؟

ایسی ہی رت میں تونے پیمان جھوٹے باندھے
ہائے وہ میرے دل سے اترے ہوئے مناظر

کچھ خول سپیوں کے ، ٹوٹے ہوئے گھروندے
ساحل کی ریت پر تھے بکھرے ہوئے مناظر

میلے کی ساری رونق میلے کے ساتھ اجڑی
اڑیل سے بچپنے کے روٹھے ہوئے مناظر

آنکھوں کے آئنوں میں محفوظ ہو گئے تھے
یادوں کی ریل سے کچھ کٹتے ہوئے مناظر

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں