Browsing Category

نظم

ریہرسل : سعید اشعر

راستے پر گرد کے میلے بادل چھائے ہیں ندیا کے پانی میں کالی مٹی کی آمیزش ہے پربت کی چوٹی پر "ہجر کا موسم"…

عنکبوت : سعید اشعر

کہتے ہیں جب مکڑی کے بچے ہو جاتے ہیں وہ اپنے جیون ساتھی کو مار کے جالے سے باہر پھینکتی ہے "سب سے بودا (کمزور)…

دعا : سعیداشعر

مولا! اب دکھ میرے بس سے باہر ہے دم گھٹتا ہے انکھوں کا پانی بے وقعت ہے میرے فریادی لفظوں کو شاید سیدھا رستہ…

تیری کمی : فیض محمد صاحب

مر گیا ہے کوٸی آنسوٶں کو دیکھا آٸینے میں جب خیال آیا وہ میں ہوں میں کافی دیر پھر سوچتا رہا پھر میں کہاں ہوں…

شکایت : یوسف خالد

اسے مجھ سے شکایت ہے کہ میں حد سے زیاد حسن کی تعریف کرتا ہوں مجھے کوئی بتائے میں کسی بھیدوں بھرے، خوش رنگ، خوشبو…

"نظم” : فیض محمد صاحب

سنو تمہیں اک نظم سنانی ہے کہ جس کا حرف حرف میں نے اپنی دھڑکنوں سے چُنا ہے سُنو تمہیں اپنی آنکھیں دکھانی ہیں…