کشمیر فردوسِ بریں ۔۔۔ سفرنامہ: آغا سلمان باقر

شازیہ مفتی
تبصرہ: شازیہ مفتی
آج تک یہی سنتے آئے ہیں ” جنے لہور نہی ویکھیا او جمیا ای نئیں”
آدھی عمر گزار کر معلوم ہوا کہ بڑا بد نصیب ہے وہ انسان جس نے جیتے جی اڑنگ کیل کی وادی کا فطری اور لازوال حسن قدرت نہیں دیکھا ”
کوئی ہما شما یہ کہتا توقومی مزاج کے مطابق ہم ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے اڑاتے لیکن یہاں راوی ” آغا سلمان باقر ” اور دعویٰ کرنے والے حضرت ” وکی پیڈیا ” ہیں ہر دو کی رائے مستند ہے ۔۔۔۔
” آغا سلمان باقر ” مایہ ناز ادیب ، اعلیٰ پائے کے دانشور اور سفر نامہ نگار ہیں ۔ سات پشتوں سے روشنائ کا تعارف رکھنے والے ایسے خانوادہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کی کیمیا طبیعیات کو شرماتی ہے ۔ پر دادا ” آغا محمد باقر ” سولی پر لٹک گئے مگر موےء فرنگیوں کی بیعت نہ کی اور دادا علم کے آفتاب ، ادب کے شاہ سوار شمس العلماء ” مولوی محمد حسین آزاد ” ۔ نثر کے میدان کے شاہسوار ایسی نثر چلے کاٹنے پر بھی عام شام بندے کی دسترس سے دور رہے ۔ ان کی نظم ایسی کہ نئ اردو شاعری کا سنگل میل قرار پائے۔ 
اسی سلسلہء رُ شد کی لڑی ” آغا سلمان باقر ” ہیں جو ہیں تو لاہور کے روڑے لیکن جانے کیوں ان کا دل ” اڑنگ کیل ” میں جا اٹکا ۔ اور اس بے پناہ عشق کی بدولت ” کشمیر فردوس بریں ” ایسی کتاب ہماری قراءت کا سرمہ بنی جو کہنے کو سفر نامہ ہے لیکن شعلگی اور اشتیاق کا ایسا مرقع ہے کہ سطر سطر ایک نیا منظر ، ایک تازہ احساس قاری کی انگلی تھامے رہے اور آنکھ بہکاتا رہے ۔
فارسی چو نکہ اس خانوادے کی جیبی گھڑی رہی اس لیے ان کی نثر میں فارسی کا رچاو بکثرت نظر آتا ہے۔
کشمیر سے محبت آغاصاحب کے خون میں رچی بسی ہے سو جوں ہی حالات بہتر ہوےء( سرحدی اور سیاسی حالات ،کیونکہ ذاتی حالات کی ناگفتنی کو خاطر میں لانے والے بشر نہیں آپ ) . جناب نے ایک ماہر سیاحتی کمپنی کی شاندار خدمات سے استفادہ فرمایا اور سوئے کشمیر ہوئے اس کمپنی کی شاندار خد مات نے سفر کو پرلطف آرام دہ اور پرسکون بنایا ۔ آغاصاحب کا یہ تجربہ بھی قاری کےبہت سے خدشات دور کرنے کا باعث ہوگا جو کہ ان سفری کمپنیوں کے بارے میں تھے۔
ابتدائ عمر میں بیتے ہوےء واقعات ذہن ودل پر انمٹ نقوش چھوڑجاتے ہیں آغا صاحب بھی اپنے گھر آنے والے ایک ویگا بانڈز کے جوڑے کی دنیا بھر کی سیاحت سے متاثر ہوے ۔ اڑنگ کیل کا ذکر انہیں سے سنا جو ایک خواب بن گیا ۔ اور خواب جب آنکھوں میں بس جاتے ہیں تو ان کی چبھن کس اذیت سے دوچار رکھتی ہے یہ سبھی جانتے ہیں ۔ آغا صاحب کی خوش قسمتی دیکھےء کہ تقریباً چار دہائیوں بعد تعبیر پالی ۔ ورنہ آنکھوں میں ٹوٹی کرچیاں لیے زیست کردیتے ہیں لوگ ۔ ۔
خوش نصیبی مزید ساتھ رہی جو انہیں ہم سفر نہایت مخلص ملے ۔ چند روزہ سیاحتی سفر میں اور زندگی کے طویل ،پر پیچ اور دشوار گزار سفر میں بھی ۔
اگر ہم سفر خود غرض ، ناقدر شناس اور ہم مزاج نہ ملیں تو عمر کی رائیگانی میں کوئ شک نہی رہ جاتا
فرمانبردار بیٹے وجدان بھتیجے خرم آغا اور علی رضا کاظمی صاحب کا پرخلوص ساتھ آغاصاحب کا ہم ذات رہا جن کے چھوڑے ہوےء چٹکلے ہر دو طرح سے فضا کو رنگین اور سنگین بناتے رہے ۔
آغاصاحب فر ماتے ہیں ” یہ سفر نامہ بے وفاوں کے لیےہرگز نہیں , یہ ان وفاداروں کے لیے ہے جو خوبصورتیوں کو یاد رکھتے ہیں اور اپنے ذہن کے نہاں خانوں میں ہمیشہ سجا کر رکھتے ہیں ”
بجا فرمایا آغاصاحب نے بے وفائ تو اتنا بڑا جرم ہے جس کی سزا قتل عمد کی سزا سے کم نہی ہونی چاہیے۔
یہ سفر نامہ ایک خاص فکری اور نظری بلوغت رکھنے والوں کے لیےء ہے ورنہ الفاظ کی سطحی معنویت میں کھوجانے اور لمحاتی لذتیں کشید کرنے والے کبھی بھی حقیقی گہرائیوں تک نہیں پہنچ پاتے ۔
کیاہی دل نواز منظر نامہ تحریر کیا ہے لگتا ہے آنکھیں وہ سب فلم کی طرح دیکھ رہی ہیں خوشبو ئیں مشام جان کو معطر کررہی ہیں اور موسم کے لمس ہاتھ پکڑے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ,
سرخ مٹی ،کاسنی پہاڑ ،اور رنگ برنگی تتلیاں ۔ آسمان کا نیلا تمبو جس میں لحظہ لحظہ نکھار آتا جارہا ہے ۔ خوبصورت راستے ،حسین منظر ، بے چین ہم سفر ناسازیء صحت ہمت کی فروانی اور آغاصاحب کی جوان مردی ۔ پھر صاحبو دیومالائ داستانوں کے کرداروں سے ملاقات ۔ طلوع سحر سے قبل آنے والی حسینہ دلربا یقیناً کوئ آسمانی مخلوق ہی رہیں ہونگی ( آغاجی کا واسطہ پڑتا رہتا ہے ایسی ہستیوں سے بلکہ معلوم پڑتا ہے کہ وہ خود تلاشتی ہیں جناب کو )۔
ہاں تو بی بی یقیناً پری رہی ہونگی اگر چڑیل ،ڈائن یا پچھل پیری ہوتیں تو جنوں تمام کردیتیں ہمارے آغاصاحب کا تمباکو کے اضافی ذائقہ والا خون یوں بھی بہت مرغوب آتا ہے ان مخلوقات کو ۔ ہاں تو بی بی جس آبی لباس میں وہاں چہل قدمی فرماتی آغاصاحب کی اجازت سے غسل سے لطف اندوز ہوکر روانہ ہوئیں شاردا کی ٹھٹھرتی صبح میں کوئ نازک اندام حسینہ تو وہیں نمونیہ کا شکار ہوجاتی ۔ پھر وہ قصہ خوان بزرگ درخت کے صدیوں پرانے رہائشی آغاصاحب کے متلاشی ۔
شاردا دیوی جی اور ناردا دیوی جی کے درشن بھی خوش نصیب آغاصاحب کے حصے آے ہم ایسے کم نظر تو وادئ نیلم کی مہینوں کوہ پیمائ کرکے بھی محروم ہی رہے یونیورسٹی میں نماز تک پڑھ ڈالی شاید غصہ میں آکر ہی دیوی جی درشن دے جائیں مگر واےء حسرتا ۔
کشمیر کی پراسراریت ، لافانی حسن اور دیومالائ داستانوں کا ایک تسلسل سے بیان ہے اس سفر نامہ میں کشمیر کی وجہء تسمیہ ،طینو کاش جن صاحب ، بے پناہ حسن وجمال کی مالک میرن پری ۔ زعفران کے پھولوں کا مہکتا تحفہ بس پڑھتے جائیے اس طلسم ہزار داستان کو ۔
آغاصاحب کشاں کشاں چلتے ،آب حیات کے قدحے لنڈھاتے ، قدم قدم ، لفظ لفظ ، منظر منظر قاری کو لیےء جاتے ہیں کوہالہ سے مظفر آباد ، کیرن سے شاردا ، کیل کناری سے کیل اور پھر کبھی نہ بھلائ جانے والی بے شمار بے تحاشا حسن سے مالا مال
” اڑنگ کیل ” بس ثابت قدمی شرط ہے ۔
اڑنگ کیل کے دلکش نظارے ، پھول ،پتے گھاس، ہوائیں برفیں اور انسان کی بے ثباتی ۔ جنت عرضی جہاں جاکر وہیں کا ہوکر رہ جانے کو دل چاہے ۔
کشمیر کے رسوم ورواج ، مزے مزے کے پکوان ، لوگوں کےمزاجوں کا اتارچڑھاوایک علم کا بہتا جھرنا جو سفر نامہ کم ہےایک ادب پارہ زیادہ ہے ۔
کشمیر کی محبت ہم سب کے خون میں رچی بسی ہے یہ منہ زبانی نہی جو پاکستانی ہے وہ کشمیری ہے اوراس کے ذہن ودل میں کبھی دھیمے اور کبھی بلند سروں میں یہ نغمہ گونجتا رہتا ہے ” مرے وطن تری جنت میں آئیں گےاک دن ”
چلیے پھر چلتے ہیں آغاصاحب کی نظر سے کشمیر فردوس بریں کی سیاحت کو ۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post