بے ستوں : عابد سیال ۔۔۔ تبصرہ : نوید صادق


نوید صادق
بے ستوں… عابد سیال کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ یہ ایک سو بیس صفحات پر مشتمل ایک مختصر شعری مجموعہ ہے۔لیکن اس اختصار کا تعلق محض مقدار سے ہے، ورنہ معیار میں تو یہ شعری مجموعہ بیسیوں شعری کتب پر بھاری ہے۔ میری معلومات کے مطابق وہ گذشتہ اٹھائیس برس سے شعر کہہ رہے ہیں۔ اپنے اشعار سے اتنا کڑا انتخاب… یہ حوصلہ عابد سیال کے نظریۂ شعر اور تخلیقی عمل کے مثبت پہلو کی توثیق کرتا ہے۔
شاعری میں تخلیقی وفور قدرے دو متضاد بلکہ متحارب رویّوں کا حامل سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک وفور وہ جو ’’کاتا اور لے دوڑی‘‘ کے مصداق ہے اور دوسرا وہ جو ایک ٹھہراؤ کے بعد تفکر اور فنی جمالیات کے ساتھ جنم لیتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں تضاد اس لیے ہے کہ فنی جمالیات اور غور و فکر کا مأدّہ محض موزونیتِ شعر کی بنا پر نہیں بلکہ مکمل مشاہدہ اور اندرونِ ذات میں رچ بس جانے والے تجربات کے ساتھ ظہور کرتا ہے۔یوں متحارب ہونے کا عمل بھی محض اس لیے ہے کہ دونوں کا اپنے تخلیقی رویّے کی بنا پر ایک مستقل ٹکرأو موجود ہے۔طبیعتوں کی تیزی اگرچہ طرّار ذہنوں کی علامت ہے مگر اس سے شعر کو کبھی تخلیقی ترفع نہیں مل سکا۔ایک اچھے شاعر کو فکری سطح پر اس کا ادراک بہت جلد ہو جاتا ہے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ عابد سیال کا یہ شعری مجموعہ اپنے متحارب رویّے کے مثبت عمل سے گزر کر انشراحِ مطالعہ کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور قاری کو جمالیات آمیز تخلیقی وفور کے ساتھ اپنا ہم سفر رکھتا ہے۔
ڈاکٹر ضیاء الحسن نے ’’بے ستوں‘‘ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ عابد سیال معنی سے زیادہ اسلوب سے سر و کار رکھتے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ انھیں ایسا کہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ میرے نزدیک تو عابد سیال کا بنیادی مسئلہ ہی معنویت کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ اور بات کہ عمومی شعری رویّے کے برعکس ان کے ہاں براہ ِراست گفتگو کا انداز مفقود ہے اور میں اسے اُن کے اعلیٰ شعری معیار کی دلیل سمجھتا ہوں۔ وہ استعاروں کنایوں میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی استعارات ان کا اسلوب وضع کرتے ہیں۔ لیکن انھوں نے بعید از حقیقت استعارات سے گریز برتا ہے۔ عمرِ خسارہ بخت، ہوائے یادِ خوشگوار، گلاب رنگ منڈیریں، ہوائے خمار و خواہش، ساعتِ شوخ، ترکِ حجابات، راست قدم ہجوم جیسی نئی، دل کش اور بامعنی تراکیب بھی ان کے ہاں موجود ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ان کی شاعری روایت سے قریب ہوتے ہوئے بھی اس میں پیش رووں اور ہم عصروں کی گونج سنائی نہیں دیتی۔ اور اس لطیف گریز کی بنیادی وجہ ان کی فنی و فکری ریاضت کے ساتھ ساتھ پیش رو اور ہم عصر شاعری پر گہری نظر اور فعال تنقیدی بصیرت ہے۔ وہ اس راز کو پا گئے ہیں کہ اپنی راہ کس طور نکالنا ہے۔
معاملاتِ محبت، وصال و فراق… لطیف استعاراتی و تمثالی انداز میں جہاں ہجومِ شعر میں ان کی انفرادیت پر دال ہیں، وہیں قاری پر مفاہیم کے متنوع روپ آشکار کرتے ہیں۔ اور کہیں کہیں تو یہ معاملات تخلیقی ترفع کے ساتھ اُن کی فنی و معنوی جمالیات کے خوش آہنگ سلیقے سے اُبھرتے نظر آتے ہیں۔رفتگاں کی باتیں، ان کے نہ ہوتے ہوئے بھی ان کی موجودگی کا قوی احساس… ان کے مضبوط تخیل کی دین ہے۔
زندگی کی تلخ حقیقتیں انھیں بے چین کرتی ہیں لیکن شکوہ و شکایت تک نوبت نہیں پہنچ پاتی کہ یہاں تو ان تلخیوں کا تجزیہ مقصود ہے، نوحہ نہیں… وہ بھی خاص اپنی نظر سے۔رایگانی اور لاحاصلی کی داستانیں، مغائرت، ان کہی کی کسک، اور خوشگوار لمحوں کا حیاتِ انسانی سے گریز بطورِ خاص ان کے موضوعات ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے:
میں اپنے دھیان میں گم تھا اور ایک ساعتِ شوخ
گزر گئی مری حالت پہ مسکراتی ہوئی
گھلنے لگے ہیں سانس میں نمکین ذائقے
جیسے کسی کی آنکھ کا پانی ہوا میں ہے
کھڑکیوں اور پردوں سے چھنتی ہوئی دودھیا چاندنی
اور پہلو میں ترکِ حجابات کے رنگ بکھرے ہوئے
بچھڑ کے حسنِ ازل سے مری سفالِ قدیم
تلاش کرتی ہے خود میں وہ خد و خالِ قدیم
پلٹ کے آئے ہوئے ہیں کئی گئے ہوئے لوگ
سجائے بیٹھاہوںاک محفلِ طرب تنہا
عمرِ خسارہ بخت کو ان کا حساب کون دے
باتیں جو بے ثمر رہیں، لمحے جو رایگاں گئے
آتی ہے اُڑ کے آنکھ میں لاحاصلی کی ریت
اب تک گئے دنوں کی گرانی ہوا میں ہے
جیسے کچھ بھی نہیں رہا باقی
اب کے ٹوٹی ہے میری آس کہ مَیں
یہ چائے خانے کی میزوں پہ قہقہوں کے شریک
دلوں میں جھانک کے دیکھو تو سب کے سب تنہا
کبھی تو پوچھ کسی ان کہی کے بارے میں
کہ دل میں خواہشِ اظہار پھر رہے نہ رہے
آ بلندی پہ آ کے دیکھ ذرا
آنکھ کی دسترس میں کیا کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post