” آقا آقا “۔۔۔ایک مضطرب صوفی کی آواز : یونس خیال


یونس خیال
پروفیسرمحمدعباس مرزا شعری دنیامیں عرصہ سے اپنی الگ پہچان بناٸے بیٹھے ہیں ۔ بالخصوص پنجابی اوراردو زبان میں بیتوں پرمشتمل ان کے چھ مجموعےپاکستان اوربھارت کے ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوٸے۔اردو غزل کامجموعہ ”آو دیکھیں“ کے نام سے شاٸع ہوا۔
شاعری میں فنی وفکری پختگی کے عروج پران کے ہاں ”آقا آقا “ کی شاندار تکرارنے ہمیں ان کی شخصیت کے اس خوب صورت پہلوسے روشناس کروایاہےجو ” بڑے کرم کے فیصلے اوربڑے نصیب کی بات “ کے بغیرممکن نہیں ہوتا۔
نعت کی جانب جو آیا اب نیاعباس ہے
بیت لکھنے میں اگرچہ وہ بڑا مشہورہے
”آقا آقا “ کے شاعر کے ہاں ایک صوفی کاسااضطراب دکھاٸی دیتاہے جس کاانگ انگ سرکارکی محبت میں بھیگاہواہے۔طیبہ اورطیبہ والےکی طلب اس مجموعے کے ورق ورق پرسمٹتی ،پھیلتی دکھاٸی دیتی ہے۔
میرا اپنا ساون بھادوں طیبہ میں
باہرسے میں سوکھا،اندر بھیگاہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکون نام کاسکہ بھی ڈھل رہاہے وہاں
مری مرادہے طیبہ ،سو چل رہا ہوں میں
ایسامحسوس ہوتاہے کہ جیسےہماراشاعرنعت کہتے ہوٸے سرکارکی محبت کی ایک مخصوص فضامیں موجودہو۔یہی اس کااعزازہے اوراسے اس بات کاادراک خود بھی ہے۔
نعت نبی کی کہتاہوں ،خوش رہتاہوں
لوگو ! تم نٕے کیا مجھ کو پہچانا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارشیں ہیں اور ان کی انتہا پر نور ہے
ہم فقیروں کوتونعتِ مصطفی ہی طورہے
پروفیسرعباس مرزاکواس بات پرفخرہے کہ ان کانام سرکارپرنعت کہنے والوں کی فہرست میں شامل ہے۔سرشاری کی اس کیفیت کااظہار انھوں نے کھل کرکیاہے۔
میں نعت کے دامن پہ نٸے پھول کھلاوں
یہ کام مجھے آپ نے تفویض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے آنکھ!تیرے تعاقب میں یہ جوپانی ہے
مزاج داں ہوں میں یہ نعت کی نشانی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعت کہنے کے لیے مجھ کوتھاجن کاانتظار
اشک وہ اپنے ہی اندر گر رہے ہیں بار بار
اور آخر میں یہ شاندار شعر دیکھیں اور اس کی کیفیت کومحسوس کریں۔معلوم ہوتاہے کہ سرکار کے دربارمیں حاضری میں اس بارتاخیر ہوگٸی ہے اورہماراشاعربے قرار۔۔۔۔۔ کمال،کمال،کمال۔ اور پھر ایک تاریخی حوالے کے ساتھ۔
لیناصافہ ،یہ ذراعباس کی گردن میں ڈال
تین سالوں سے یہ طیبہ پاک سے مفرورہے
پروفیسرعباس مزرااس وقت گردن میں صافہ ڈالے اس فضامیں خود موجودہیں ۔ان سے التماس ہے کہ وہ سرکارکے دربارمیں ہماری حاضری کی درخواست بھی پہنچادیں تا کہ ہمارے لیے بھی کسی صافے کابندوبست ہوسکے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post