ہے تو یہیں کہیں :  ثمینہ سید


ثمینہ سید
عجیب سے دن ہیں نہ پہلے والے دنوں جیسے نہ آنے والے دنوں جیسے مخمصے، الجھنیں اور غلط فہمیاں رافع کچھ کہتا مجھے کچھ اور سمجھ آتی۔ یہ سب کب سے شروع ہوا تھا میں روز اندازہ کرتی مگر کوئی بھی سرا اب تک میرے ہاتھ نہیں آ سکا تھا۔ حالانکہ ہم دونوں ایک دوسرے سے بے حد مانوس تھے۔ ’’مانوس‘‘ کا لفظ بھی انہی دنوں میری سمجھ میں آیا ہے مجھے ایک دم ادراک ہونے لگا ہے کہ میرا اور رافع کا ہر رشتہ مانوسیت تھی بے انتہا لگاؤ اور برسوں کا ساتھ۔ ہم دونو ں ایک دوسرے کی ہر عادت ہر ضرورت سے واقف تھے بغیر کچھ کہے سنے سب جان لیتے تھے۔ اور یہ جاننا اب بھی جاری ہے۔ پانچ سال سے رافع اور میں ایک بھرپور زندگی گزار رہے تھے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا۔ ہر ضرورت پوری کرنا۔ خاندان بھر میں آئیڈیل میاں بیوی اور خاندان بھر کے ساتھ پرجوش تعلقات چھ ماہ پہلے تک ہم دونوں صرف ایک دوسرے کو سنتے تھے۔ اس کے باوجود کہ ہم ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے تھے۔ مگر یہ راز تو اب کھلا۔۔۔۔ کہ ہم ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے۔۔ جب رافع کی آنکھوں میں ایک جیتا جاگتا عکس لہرانے لگا۔ وہ سوتے جاگتے بے چین رہنے لگا۔ فون پہ کسی سے بات کرتے اس کا روم روم مہکنے لگتا اس کا سانولا رنگ سرخ ہونے لگا تو میں چونکی۔
’’کس کا فون تھا‘‘
’’کیوں؟‘‘ وہ حیرت زدہ سا مجھے دیکھنے لگا تو میں شناسائی اور آگہی کے تمامترمراحل طے کر آئی وہ سنبھلا اور مسکرایا ’’زبیر کا فون تھا۔ کام سے متعلق، تمہیں کیا ہوا؟‘‘ ’’نہیں۔ ہوا تو کچھ نہیں‘‘
میں اتنا کہہ کر منظر سے ہٹ گئی اور جو میں نے جان لیا تھا اسے ہضم کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ اور رافع اپنے جھوٹ کو سنبھالنے میں لگا رہا۔
میں اکثر سوچتی تھی رافع کچھ خاص خوبصورت اور وجیہہ شخص نہیں ہے بس بہت نیک سادہ مزاج اور ذہین ہے۔ اس کی عادات اچھی ہیں۔ کام بہت محنت سے کرتا ہے اور زندگی میں آگے بڑھنے کا جذبہ مجھے بہت ہی متاثر کرتا ہے مجھے لگتا تھا میں اس کی بیوی ہوں اس لیے اس سے پیار کرتی ہوں ورنہ اتنے عام سے مرد سے کوئی بھی لڑکی پیار نہیں کر سکتی پھر کچھ مہینوں سے یہ کون تھی؟؟ جس نے رافع کو محبت سے بھر دیا؟
’’میں سوچ رہا تھا۔ سارے قمیض شلوار پرانے ہو رہے ہیں موسم بدلنے والا ہے۔ تم کچھ سوٹ نکال کر کسی کو دے دو تاکہ نئے کپڑوں کی جگہ بن سکے۔‘‘ رافع الماری میں جھانک کر بولا تو مجھے اچنبھا سا ہوا۔ میری ہنسی چھوٹ گئی۔
’’کیا میں نے کچھ عجیب بات کی ہے؟‘‘ وہ حیران ہوا اور الماری بند کر کے میرے قریب آ گیا۔ کافی سناٹا تھا کمرے کی فضا میں میرے اندر اور رافع کی آنکھوں میں بھی۔
’’اچھا ہٹیں میں دیکھتی ہوں۔۔۔ پرانے سوٹ‘‘ میں نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر ہٹانا چاہا تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’کچھ دیر بعد جانا۔ رکو ذرا‘‘ رافع کی سرگوشی مجھے بہت جھوٹی لگی۔ میرا تو جیسے دم گھٹنے لگا۔
’’آپ مجھ سے جھوٹی محبت کیوں جتانے لگے ہیں؟‘‘ مجھ سے رہا نہیں گیا تو پوچھ بیٹھی وہ ہٹ گیا۔
’’تم ایسا کیسے سوچ سکتی ہو میرے بارے میں؟‘‘
’’رافع یہ تو سوال پر سوال ہے جواب کون دے گا؟‘‘
میری آنکھیں بھر آئیں۔ وہ منہ موڑ کر کچھ پل رکا رہا
’’تم جانتی ہو میں جھوٹ نہیں بولتا۔ اس طرح کا رویہ ہماری زندگی کو مشکل بنا دے گا۔‘‘
’’تو آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟‘‘
میں سراپا سوال بنی کھڑی رہی وہ جن نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا ان میں ذرا بھی محبت نہیں تھی وہ تو جھوٹ موٹ بھی نہ کہہ پا رہا تھا کہ ہاں محبت کرتا ہوں تم سے۔ چھن سے سے کچھ ٹوٹ گیا۔ دیر تک کرچیاں ادھر ادھر بکھرنے کی آواز آتی رہی۔ رافع کے قدموں تلے کرچیاں مزید کرچیوں میں بٹتی رہیں اور وہ چلا گیا۔
رافع کی بھانجی کی شادی تھی ایبٹ آباد میں سارے گھر والوں سمیت رافع کو بھی جانا پڑا۔ وہ ہمیشہ ایسی شادیاں بہت انجوائے کرتا تھا۔ خاندان کے لوگوں سے ملاقات ہوتی تو سب اس کی ذہانت اور لاہور جیسے شہر میں اتنا اچھا بزنس جما لینے، گھر بنا لینے کی تعریفیں کرتے اس بار وہ بڑی گاڑی میں گھر والوں کو لے کر آیا تھا سب خوب مدح سرائیاں کر رہے تھے مگر رافع کو لگنے لگا اس کے کان خراب ہو گئے ہیں۔ کچھ بھی صاف سنائی نہیں دیتا نہ کسی تعریف پہ دھیان جا رہا تھا عجیب طرح کی بے چینی اس کے وجود کو گھیرے ہوئے تھی۔ وہ بے چینی سے بار بار فون کو دیکھتا اور میں اسے۔
شادی پہ آ کے مجھے بھی خوب مزا آتا تھا۔ بندہ گھر بار کی فکروں، ساس سسر کی خدمتوں اور شوہر کی ناز برداریوں سے بچ کر دو چار دن مہمان ہونے کا مزا لے لیتا ہے لیکن اس بار۔۔۔
’’مجھ سے بات کریں‘‘ رافع کے فون پہ یہ میسج میں نے کھول کر پڑھا اور ڈیلیٹ کر دیا۔ وہ ایک لمحے کے لیے اٹھ کر گیا تھا۔ بس جب میں نے میسج پڑھا اور مٹایا۔
’’میں ذرا باہر مردوں میں بیٹھوں۔ یہ میرا موبائل دینا۔‘‘ رافع نے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھایا مجھے لگا میری شہ رگ میں سرسراہٹ سی ہوئی ہو جیسے کسی نے تیز ناخن گاڑ دیا ہو۔
’’لیں۔ آپ بھول کیسے گئے حیرت ہے مجھے تو‘‘ موبائل رافع کو تھماتے ہوئے میں نے کہا تو وہ لے کر چلا گیا۔ اب اکثر اسی طرح کے فقرے ہمارے درمیان چلتے رہتے تھے۔
’’میں کسی لمحے کی گرفت میں آ گیا ہوں۔ شاید یہ وہ احساس ہے جیسے محبت کہتے ہیں۔ جو آپ کے خون میں شامل ہو جاتی ہے اور خون کی گردش اس کے حساب سے کم اور زیادہ ہوتی ہے۔ بس ایک ہی دھن ایک ہی احساس سارے بدن کو۔ بلکہ پور پور کو غلام بنا لیتا ہے۔
ساری چیزیں ٹھیک تو تھیں پھر یہ محبت۔۔۔ یہ کہاں سے آ گئی۔میں نے ایک جگہ پڑھا تھا محبت بنجر ویران زمین پر اچانک پھوٹ پڑتی ہے اور کسی خود رو پودے کی طرح اگتی پھلتی پھولتی چلی جاتی ہے۔
تو کیا اب تک میرے دھیان کی زمینیں بنجر تھیں؟؟؟
کتنے سوال سر اٹھائے چہرے پہنے میرے اردگرد ہیں اور مجھے ذرا بھی پرواہ نہیں۔ پرواہ ہے تو بس اپنے مصروف ترین معمولات میں سے اس کے لیے وقت نکالنے کی، اسے دیکھنے اور ڈھیر ساری باتیں کرنے کی۔یہ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات کرنے کی عادت کب تھی مجھے ؟؟ مگر اب ہے۔ اب باتیں اتنی زیادہ ہو جاتی ہیں کہ وقت کم پڑ جاتا ہے روز ہی ملاقات ادھوری رہ جاتی ہے۔
یہ رافع کی ڈائری میں لکھا ہے جس نے مجھے یعنی مسز عمارہ رافع کو آسمان سے زمین پر پٹخ دیا ہے اور میں بہت بری حالت میں بے انتہا تہی دامنی میں زمین پر بیٹھی ہوں۔ ایک دم میرا سارا وجود بے مول ہو گیا ہے اور مجھے اپنے پورے بدن پر چیونٹیاں رینگتی محسوس ہو رہی ہیں ۔مجھے ایک پل میں رافع مظلوم اور بے قصور لگنے لگا۔ اور تو اور میں نے ذرا غور کیا تو وہ مجھے کسی قدر عظیم بھی لگا۔ جس نے اپنی شدید محبت پر مجھے میرے گھر اور میرے بیٹے کو قربان نہیں کیا۔ بلکہ ہمارے ساتھ ہے۔ شاید اس نیطے کر لیا ہے کہ اس کا خالی کھوکھلا وجود محافظ بن کر ہمارے ساتھ رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔*
’’مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ کمرے میں اندھیرا ہے اور بے حد تنہائی بھی‘‘
رافع کے موبائل پر یہ الفاظ چمک رہے ہیں۔ میں نے ڈیلیٹ کر دیا اور موبائل کو جوں کا توں رہنے دیا۔ خالی۔۔۔۔۔۔ جیسے میرا گھر چل رہا تھا۔ خالی اور بے مزہ
۔۔۔۔۔۔*
’’یار آج کل تو ہر ڈرامہ ہر فلم حتیٰ کہ ہر کارٹون فلم بھی اس موضوع پر بن رہی ہے۔ ایک بیوی ایک وہ‘‘ایک زبردست قہقہہ خواتین کلب کے در و دیوار میں گونجا۔ تو مجھے نظریں چرانا پڑیں۔
’’مجرم تو رافع ہے اور مجرم میں بن بیٹھی ہوں اپنی نظر میں۔ گھر والوں کی نظر میں اور خود رافع کی نظر میں۔ میں نے ہر وقت کے طنز سے گھر کا ماحول خراب کر رکھا ہے۔
’’میرے خیال میں تو آپ کا شوہر ایسی کسی سرگرمی میں ملوث ہو تو اس کا پیچھا کریں اور شوہر کی اور اس کی ’’وہ‘‘ کی خوب دھنائی کریں کہ دونوں کی عقل ٹھکانے آ جائے۔‘‘ مسز اسد انتہائی غضب ناک انداز میں کہہ رہی تھیں۔ ’’اور اگر آپ ایسا نہ کر سکتے ہوں تو؟‘‘ میں نے کمزور سے لہجے میں پوچھا۔
’’تو۔۔۔ تو۔۔۔؟؟؟‘‘ وہ ساری سوچنے لگیں۔
’’تو شوہر کو اس سے شادی کی اجازت دے دو‘‘ ثمرہ نے کہا۔
’’وہ اور شوہر لڑ لڑ کر اکتا جائیں گے ایک دوسرے سے اور پھر شوہر پورا واپس آ جائے گا۔۔۔‘‘ سب کا قہقہہ میرے دماغ کی نسیں پھاڑنے لگا۔
’’اور اگر واپس نہ آیا تو؟‘‘ میں نے انتہائی سہمے ہوئے انداز سے پوچھا۔ تو سب میرے اردگرد آ بیٹھیں۔
’’یہ شوہر لوگ اتنے برے ہوتے نہیں جتنا ہم انہیں سمجھ لیتے ہیں۔ مجھے تو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ شوہر حضرات دوسری عورت سے صرف محبت کرتے ہیں۔ وہ محبت جو ان کے وجود میں زائد پڑی ہوتی ہے اور وقت گزارتے ہیں یا کسی کہانی میں وہ سمجھتے ہیں وہ ثواب کما رہے ہیں ایک لاوارث عورت کو محبت اور وقت دے کر۔ میرے خیال میں تو پیسہ بھی نہیں دیتے اور اگر کچھ لوگ کسی قدر لگاتے بھی ہیں تو وہ ان کے خاندان سے فالتو اور غیر ضروری ہوگا مطلب ۔۔۔زائد۔‘‘ سلمیٰ نے سمجھداری کی حد کر دی۔ سب ہنسے جا رہی تھیں سلمیٰ کے ’’زائد‘‘ کو سب نے بہت انجوائے کیا۔ اور میں ایک فیصلہ کر کے اٹھ آئی۔ میں چلتے پھرتے سوچ رہی تھی سلمیٰ سچ تو کہتی ہے۔
’’اس‘‘ کا وقت بے وقت میسج یا فون نہیں آتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ رافع نے اسے روکا ہوگا۔۔۔ میری وجہ سے۔۔۔ تیز ہوا چل رہی تھی۔ آندھی کا شور اور زور کھڑکیاں دروازے بجا رہا تھا۔
رافع کو تیز بخار تھا ایسے لگ رہا تھا اس کا جسم اور دماغ دونوں جل رہے ہیں۔ میں برف کی پیٹیاں رکھ رہی تھی پھر بھی رافع بے سدھ ہوتا جا رہا تھا۔ اسی لمحے موبائل پہ میسج چمکا تو میں نے ہاتھ بڑھا کر موبائل تکیے کے نیچے رکھ دیا۔ مگر بے چینی سے میرا پٹیاں کرتا ہاتھ رک گیا۔ میں نے میسج کھولا۔
’’آپ نے مجھے باندھ رکھا ہے۔ یہ عجیب محبت ہے میں مررہی ہوں یا آپ۔ ہم ایک دوسرے کا پتا بھی نہیں کر سکتے۔ رافع۔۔۔ یہ ظلم کی حد ہے۔ آپ بیمار ہیں اور میں بے خبر۔۔۔‘‘
دوسرا میسج آ گیا۔
’’رافع آپ نے محبت کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ تب آپ کو ان سارے حالات کا اندازہ نہیں تھا؟ ایک طرف دیکھوں تو آپ کی بے انتہا محبت ہے۔ توجہ، خلوص، ہر وقت مجھ پر نظر۔ مجھے خود میں پوری طرح الجھا لیا ہے اور دوسری طرف میں کچھ بھی نہیں۔ کچھ ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ آپ کے نزدیک آپ کے گھر کا سکون اہم ہے۔‘‘
وہ رو رہی تھی شاید رو تو میں بھی رہی تھی۔ میرا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ احساس کوئی بھی نہیں تھا۔ سب گڈمڈ تھا سب کچھ۔’’میں اب بہتر ہوں تم فکر نہ کرو تمہارے ہر سوال کا جواب جلد دیتا ہوں۔ میں بھی تم سے دور نہیں رہ سکتا۔‘‘تمہیں اپنا لوں گا اکیلے نہیں رہنے دوں گا‘‘
میں نے لکھا۔۔۔ اور۔۔۔ ہچکیوں سے رونے لگی۔
’’تم نے ایسا کیوں کیا… کیوں آخر۔۔۔؟ میں نے تمہارا یا تمہارے گھر کا کیا نقصان کیا تھا اتنا عرصہ گزر گیا۔ کچھ بھی غلط ہوا بتاؤ مجھے؟رافع اجڑے بکھرے وجود کے ساتھ سراپا سوال بنا میرے سامنے کھڑا تھا۔وہ رو رہا تھا۔ اور میں بے حد حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’کتنی بار تمہیں روکا تھا کہ میرا موبائل نہ دیکھا کرو۔ مجھ پہ نظر رکھو گی تو مجھے کھو بیٹھو گی سب کچھ ختم ہو جائے گامگر تم۔۔۔ تم نے سب کچھ اپنے طریقے سے ختم کر دیا تم تو تقدیریں لکھنے لگی ہو۔‘’تم اتنی ظالم اور سفاک عورت ہو مجھے اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ تم کسی کی جان کیسے لے سکتی ہو؟ کیسے بھلا؟؟؟۔۔۔‘‘
میری حیران آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
’’میں نے سچ مچ فیصلہ کر لیا تھا کہ آپ اسے اپنا لیں بس آپ سے کہنے کی ہمت نہیں تھی تو اس سے کہہ دیا آپ دونوں ایک ہی تو تھے پھر؟
’’وہ بہت خوش تھی کہ وہ سب میں نے کہا ہے۔‘‘ رافع سر ینہوڑائے ڈھے سا گیا۔
’’تو آپ کہہ دیتے۔۔۔‘‘ میرا دل لرز رہا تھا ڈرتے ڈرتے پوچھا
’’اسے کیا ہوا؟‘‘
’’مر گئی وہ۔۔۔ دفنا کے آ رہا ہوں‘‘ وہ رونے لگا اور میں بھی رونے لگی۔۔۔ میں کیوں رو رہی تھی۔ میں نے ایسا نہیں چاہا تھا۔ مگر اس میں تو میرا فائدہ تھا۔ پھر۔۔۔ پھر میں کیوں رو رہی تھی؟؟؟؟۔
’’اس کا مان، بھرم سب ٹوٹ گیا۔ جب میں نے کہا
’’میں ایسا کیسے کہہ سکتا ہوں؟ میری بیوی۔۔۔ میرا بچہ ہے میں تم سے شادی کیسے کر سکتا ہوں؟تو وہ ٹوٹ گئی بالکل بکھر گئی….میں سمیٹ نہیں سکا اسے.”
’’تو آپ اس کے ساتھ کیا کر رہے تھے؟ آپ یہ نہیں کر سکتے۔ وہ نہیں کر سکتے۔ تو کر کیا رہے تھے؟آپ تو مر رہے تھے اس کے لئے.یا وہ سارے خالی لفظ تھے.یوس پرستی تھی؟
’’یہ قتل آپ نے کیا ہے۔ میں نے نہیں۔‘‘میں پوری قوت سے چلائی
’’تم بہت گھٹیا عورت ہو تم نے اسے مار دیا۔‘‘رافع رونے لگا
’’آپ اپنا چہرہ دیکھئے ذرا آئینے میں آپ نے اسے ۔مجھے، خود کو اور ہمارے رشتے کو ،سب کو قتل کر دیا‘‘
’’تم مجھ پر یہ الزام ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی‘‘
رافع پھر دھاڑا۔’’تم نے اسے خوش فہمی دی‘‘
’’تو آپ مان دے لیتے.اہنا لیتے اسے ‘‘
’’قاتل ہو تم یہ میں کبھی نہیں بھول سکتا‘‘رافع نے مجھے گھورتے ہوئے آنکھیں پونچھیں۔میں نے دروازے کی طرف دیکھا کہ کہیں ہمارا بیٹا یہ ساری گفتگو نا سن لے۔وہ کیا سوچے گا میرے بارے میں ؟یا پھر اپنے باپ کو قصوروار ٹھہرائے گا؟
یہ دن ٹھہر گئے ہیں۔ اب روز یہی کچھ ہوتا ہے ہمارے گھر میں۔ وہ نہیں ہے لیکن ہر کہیں وہ موجود ہے وہ یہیں یے ہمارے درمیان ….
پھرتی ہے اک شناساسی خوشبو یہیں کہیں
لگتا ہے جیسے آج بھی ہے تو یہیں کہیں

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post