چراہ گاہ : خاورچودھری

 

پہرے میں سختی آتی جارہی تھی۔ لوگ گھروں میں یوں دبکے بیٹھے تھے، جیسے باہر کی دُنیا سے آشنا ہی نہ ہوں۔ ہُو کا ایساعالم تھا، جس طرح قیامت خیزآندھیوں اور سیلابوں سے پھیل جانے والی تباہی کے بعد ہوتا ہے۔ گھریلو زندگی کچھ اس سے زیادہ مختلف نہ تھی۔ کوئی نہیں بتاسکتا تھا، کہ گھروں کے اندر کیا ہورہا ہے۔ لوگ ٹیلی ویژن دیکھتے ہوں گے؛ کتابیں پڑھتے ہوں گے؛ سوشل میڈیا ایکٹویٹی میں مشغول ہوں گے؛ کھیلوں میں دلچسپی لیتے ہوں گے یا پھر من پسندکھانا بنانے اور کھانے میں وقت بِتاتے ہوں گے۔ یہ بھی نہیں کہاجاسکتا تھا،کہ یہ سب کچھ کرتے ہوں گے یا پھرخوف سے دُبکے خاموش، اپنے بستروں میں موت کے منتظر ہوں گے یا پھر بلاکے ٹلنے کے لیے دعائیں کررہے ہوں گے۔ظاہر یہی تھا ،کہ لوگ باہر سے کنارہ کش تھے اوراس کنارہ کشی سے کئی وسوسے، واہمے اور تفکرات پیدا ہوتے تھے۔کبھی کبھار کوئی گاڑی گزرتی تھی تو زندگی کا احساس ہوجاتاتھا؛ورنہ ایک قابلِ رحم سکوت کی سلطنت قائم تھی۔البتہ بازار کے اوقات میں چہل پہل رہتی، جو زندگی کاایک رُخ ضرور ظاہرکرجاتی ۔
یہ باتیں کسی حدتک قیاس ہیں اورایک حدتک یقین بھی ان میں شامل ہے۔ کیوں کہ میں نے انھی دنوں میں کئی غیر ملکی ادیبوں کے ناول، شاعری، افسانے اور ڈرامے پڑھے تھے۔ میری بیوی کا بیشتروقت یا تو کھانا بناتے گزرتاتھا یا پھرڈائجسٹوں کے مقبول سلسلے پڑھنے میں۔ بچوں کے شوق مختلف تھے۔ بعض اوقات وہ لڈو کھیلتے یاپھر تاش میں سرکھپاتے۔ اچانک اُنھیں مرغوب کھانوں کا شوق چراتا تو ماں کو لے کر باورچی خانے میں گھس جاتے؛پھر اگلے ہی لمحے کوئی موبائل فون پرکارٹون دیکھ رہا ہوتا؛ کوئی فیس بک کھولے اپنااسٹیٹس اَپ ڈیٹ کرتا؛ کوئی ٹیلی ویژن پر ڈراما چلابیٹھتا اور کوئی اپنے دوست سے لمبی کال ملا رکھتا۔ البتہ نمازوں کے اوقات میں میرے کہنے پر سبھی نمازبھی پڑھ لیتے تھے۔ خود میں بھی ان دنوں پہلے کی نسبت مذہب کا زیادہ پابند ہوگیا تھا۔ تلاوت میں باقاعدگی آگئی تھی ۔ بعض اوقات میرے بچے قرآن مجید کی تلاوت کے لیے اس پاکیزہ کتاب کا انتظار بھی کرتے تھے؛ کیوں کہ گھر میں صرف تین نسخے تھے اورسچ یہ ہے کہ اس سے پہلے تواکٹھے کم ہی پڑھے جاتے تھے۔اگر ہرگھر کی ایسی ہی کہانی ہو تواندازہ کیاجاسکتا ہے، وبا کے ان دنوں میں گھروں میں کیا ہوتاتھا۔
میں ہفتے عشرے کے لیے کھانے پینے کی اشیا لے آیا کرتاتھا اور پھر ٹیلی ویژن پر دیکھی اور سنی گئی احتیاطی تدابیر اپنانے کے بعدگھر میں داخل ہوتا۔میں نے محسوس کیاکہ میرے محتاط طرزِ عمل کے باوجود ایسے موقعوں پر میرے بچے، یہاں تک کہ میری بیوی بھی مجھ سے فاصلے پر رہتی۔ بعض اوقات یہ سب مجھے معیوب لگتا اوردُکھ بھی ہوتا تھا ۔ میں سوچتا:
’’ ان لوگوں کے لیے میں جان خطرے میں ڈال کر باہرجاتا ہوں اورانھی کو مجھ سے کراہت ہوتی ہے۔ احسان فراموشی کی اس سے زیادہ مثال کیا ہوسکتی ہے؟‘‘
اگلے ہی لمحے مجھے یاد آجاتا کہ اس احتیاط کی ہدایت تو میں نے خودانھیں دے رکھی تھی۔پھر یہ ضروری بھی تھا۔ اگرہم باہمی طور پر محتاط طرززندگی اختیار نہ کرتے تومعاملات بگڑنے کا بہ ہرحال اندیشہ رہتا۔یقینا کسی ایک کی بے احتیاطی سب کو مشکل میں ڈال سکتی تھی۔
مارکیٹ کے لیے اوقاتِ کار طے تھے؛ خلاف ورزی کرنے والوں کوبھاری جرمانہ کیا جاتا اور بعضوں کو جسمانی سزا بھی دی جاتی تھی؛ جس کی کئی مثالیں وائرل ہوجانے والی ویڈیوز کی صورت میں سامنے آچکی تھیں۔ تاجروں نے عارضی طور پرہی سہی لیکن لوبھ کا چولا اُتار رکھا تھا۔
یہ اُس روز کی بات ہے، جب صبح سے ہی ہلکی بارش ہورہی تھی۔ میرے بچے باربار ماں سے میٹھا کھانے کا تقاضا کررہے تھے اوراتفاق سے اس کے لیے ضروری چیزیں ختم ہوچکی تھیں ۔ ابھی مارکیٹ کھلنے کا وقت نہ تھا۔ بچوں کی اپنی نفسیات ہوتی ہے؛ وہ یہ نہیں جانتے کہ مشکلوں میں اور عدمِ دستیابی کے وقت ،زندگی کا ڈھنگ بدل جایا کرتا ہے۔ اُنھیں اس بات کا بھی احساس نہیں ہوتا کہ اُن کے والدین کس طرح اُن کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ان کی ماں باربار کہتی:
’’ تمھارے باباآج جارہے ہیں، شام تک صبر کرلو۔‘‘
مگر صبرتوبچوں کی کتاب میں لکھا ہی نہ تھا۔ اُن کے بلاوجہ شور اورہنگامے کے باعث میں مارکیٹ کے لیے وقت سے کچھ دیر پہلے ہی گھر سے نکل آیا۔
مارکیٹ ہمارے گھر سے پانچ منٹ کی ڈرائیو پر ہے ۔چوں کہ اکثر لوگوں نے مقررہ وقت کے اندر ہی خریداری کرنی ہوتی تھی؛ اس لیے ہجوم بھی سوا ہوتا اور لوگ بھی عام حالت کی نسبت زیادہ پُرجوش دکھائی دیتے۔ ہرایک کی خواہش ہوتی ،کہ وہ جلد سے جلد اپنی مطلوبہ اشیا خریدے اوردوڑ جائے۔بازار میں ہم مشربوں ، ہم محفلوں ، ہم مکتبوں اور ساتھ کام کرنے والوں کو، حتیٰ کہ اعزہ کو بھی جس قدرنظرانداز کیاجاسکتا تھا یا امکانی حد تک جاناآسان ہوتا،ایسا کر لیا جاتا۔ یہ عمومی روش تھی۔ا گر میں یہ کہوں کہ میں ایسا نہیں کرتا تھا تویہ قابلِ یقین نہیں ہوگا۔میں تو ایک بار اُس سے بھی آنکھ بچا گیاتھا؛ جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے میں نے اپنی نوعمری کے کئی سال خرچ دیے تھے۔ جس سے عہدوپیماں ہوئے تھے ؛ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھیں ؛ایک قالب میں ڈھلنے کا تہیہ کیاتھا۔اُس کی ماںنہیں مانی تھی؛ورنہ وہ میرے بچوں کی ماں ہوتی۔شادی نہ ہونا الگ بات ہے لیکن ہم بعد میں بھی اگر ملتے تھے تو ملائمت اورگزشتہ زندگی کے خوش گوار احساس کے ساتھ۔اور کبھی دل گرفتہ ہو کربھی۔
اُس وقت وہ اکیلی تھی اور میرے پاس ماضی کویاد کرنے اوراچھے دنوں کو محسوس کرنے کا بہت اچھا موقع بھی تھا۔ ایسے عالم میں لوگ زیادہ تراپنی زندگیوں میں محو ہوتے ہیں لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔اگرچہ بعد میںمیرا دل مجھے ملامت کرتارہا اور بہت دیرتک میں اس خودغرضی پر سوچتا بھی رہا لیکن وبا کے خوف نے مجھے احتیاط پر مجبورکیا تھا۔ایسے مواقعے کم کم ملا کرتے ہیں اور میرے دل کو اس نقصان کا صدمہ بھی بہت تھا۔بچوں کی ضد کی طرح دل کی کتاب میں بھی صبر نہیں لکھا ہوتا۔ چناںچہ میری نظریں بار باراُس کی جانب اُٹھ رہی تھیں۔ امکان یہ ہے کہ اُس نے بھی مجھے پہچان لیاتھا اور غالباً وہ بھی وبا کے خوف سے خود کو بازرکھنے پر مجبور ہوئی ہوگی ۔ جس احساسِ ندامت نے مجھے جھنجھوڑا تھا؛اُسے بھی شایداتنا ہی جھٹکا لگا ہوگا لیکن وقت کب پلٹتا ہے؟
اب میں سوچ سکتا ہوں، اکثر لوگ اپنوں سے ، اپنی محبوباؤں سے اور اعزہ سے اسی طرح منھ پھیر کر یا نظریں چرا کرگزرجاتے ہوں گے۔میں ہڈبیتی پر یقین رکھتا ہوں اور یہ بات کہنے میں حق بجانب ہوں۔ اگر اُس وقت مارکیٹ میں افراتفری نہ پھیل گئی ہوتی تو میری نظریں اُس کے تعاقب میں ضرور ہوتیں۔
میں جس سپراسٹور سے چیزیں خریدتا ہوں یہ’’ کیش اینڈ کیری ‘‘ اور’’ میٹرو‘‘ طرز کا ایک بڑا اسٹور ہے۔ اس میں دالیں، چاول، سبزیاں، مسالے، گوشت، دودھ،صابن اور شیمپوجیسی روزمرہ کے استعمال کی ہزاروں چیزوں سمیت سائیکلیں، فریج، موبائل فون، گھڑیاں، پرفیوم، پوشاک و پیزار اور بچوں کے کھلونوں کے علاوہ متعدد اقسام کی پُرتعیش اورقابلِ ضرورت اشیا ہوتی ہیں۔ ایک طرح سے یہ اسٹور مکمل بازار ہے؛ جہاں سے انسان ضرورت کی ہرچیز خرید سکتا ہے۔
سپراسٹور کا دروازہ کھلنے کی دیر تھی، کہ ایک بے قابو ہجوم اندر داخل ہوگیا۔عورتوں، بچوں، جوانوں اور بوڑھوں پرمشتمل ایک خوف ناک ہجوم۔ یہ طے کرنامشکل تھا، کہ یہ لوگ کس محلے یا گاؤں سے آئے ۔ لوکسٹس(Locustuss) کی طرح ہر چیز پرپل پڑے۔ چند ہی لمحوں میں امریکی سنڈی کی طرح سارے اسٹور کو اُجاڑدیا۔ اسٹور کے مالکان پہلے تو روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ اسٹور کے چوکیداروں نے بھی جتن کیے لیکن پھر سب ایک طرف ہٹ کر اور منھ دوسری طرف کر کے کھڑے ہو گئے۔
جس کے ہاتھ میں جو چیز سمارہی تھی؛اُٹھا رہاتھا ۔ اس چھیناجھپٹی میں وہ لوگ بھی شامل ہو چکے تھے ،جو عموماً ایسا نہ کرتے ہوں گے۔ باہر سے بھی جو گزرتا تھا، وہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کررہاتھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا ،جیسے یہ لوگ زمانوں سے بھوکے ہوں اور انھیںبہت مشکلوں کے بعد یہاں تک رسائی ملی ہو۔ مالِ غنیمت سمجھ کر ہرچیز اُٹھا لینا چاہتے تھے۔اس اختصاص کی بھی ضرورت نہ رہی تھی، کہ کس کے پاس کس چیز کی کمی ہے یاکس کی حاجت کس چیز سے پوری ہوتی ہے۔بس لوٹ کھسوٹ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ فورسز کے لوگ موجود تھے لیکن وہ محض تماشائیوں کی طرح ہر منظر کودیکھ رہے تھے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل فونوں پراس وحشیانہ عمل کی ویڈیو بنانے میں مصروف تھے۔یہ اندازہ ہورہاتھا، کہ تھوڑی ہی دیر میں یہ بھوک اورافلاس کا مارا ہوا جوج ماجوج کا جتھاا سٹور کی اینٹیں بھی اکھاڑ کھائے گا مگراس کی نوبت نہ آئی۔
جانوروں کا ریوڑ منتشر ہواتوچراہ گاہ اپنی ویرانی پر ماتم کناں تھی۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post