پندرہ منٹ کا تہوار


تحریر : سلمیٰ جیلانی
              موسم گرم اور خشک ہو چلا تھا – وہ ایک مجذوبانہ خاموشی کے ساتھ جھیل کے اطراف دائرہ بنائے بیٹھے تھے ، میلوں پر پھیلی ہوئ جھیل جو اب گدلے پانی کے وسیع و عریض جوہڑ کی مانند دکھائی دیتی تھی ان کی موجودگی سے جیسے پھر سے جی اٹھی تھی ،ان کے سیاہ چمکیلے بدن دھوپ کی تمازت سے تپے ہوئے تانبے کے مجسموں میں ڈھل گئے تھے جن پر پسینے کی دھاریں ان کے زندہ ہونے کی گواہی دے رہی تھیں اور چہروں پر عجیب سی خوشی اور انتظار کے رنگ آ جا رہے تھے مگر یہ خاموشی کسی آنے والے طوفان کا پتا دے رہی تھی -وہ اپنے ہاتھوں میں بانس کی تیلیوں سے بنی جال نما ٹوکریاں اٹھائے کسی اہم لمحے کے منتظر معلوم ہوتے تھے
      انہی ان گنت گٹھیلے اور منحنی جسموں میں سے ایک … اناٹو بھی …..خیالوں کی دنیا میں کھویا ہوا تھا اس کی آنکھوں میں کچھ برس پہلے کا منظر گھوم رہا تھا جب اس کا پیار ا گاؤں بامبا گھنے سایہ دار درختوں سے گھرا ہوتا تھا –
          وہ سوچ رہا تھا …. جوہڑ دکھائی دینے والی اس جھیل پر کبھی نیک روحوں کا سایہ تھا جبھی تو ٹنوں مچھلیوں سے بھری رہتی تھی … اسے یاد آ رہا تھا کیسےوہ بابا کے ساتھ اس کے ہاتھ سے بنائی ہوئی لکڑی کی چھوٹی سی ڈونگا نما کشتی میں مچھلیاں پکڑنے جاتا تھا اور گھنٹوں ہلکورے لیتے گہرے سبز پانی میں اپنا عکس دیکھا کرتا تھا جو کشتی کی لہروں کے ساتھ بنتا اور مٹتا چلا جاتا تھا . بابا اس دوران جال ڈالتا اور چھوٹی بڑی ڈھیروں مچھلیوں کو سمیٹتا جاتا ، چھوٹی چھوٹی مچھلیاں واپس جھیل میں پھینک دیتا …….وہ پوچھتا کہ ایسا کیوں کرتا ہے تو با با کوئی جواب نہ دیتا بس مسکراتا رہتا ….کوئی جواب نہ پا کر وہ پھر پانی میں بنتے مٹتے عکس سے کھیلنے لگ جاتا .. اناٹو ہر جگہ با با کے پیچھے پیچھے سایے کی طرح منڈلاتا رہتا جب وہ بڑی مارکیٹ جاتے تب بھی ٹوکریوں سے مچھلیوں کو برف سے لگے بڑے ٹبوں میں انڈیلنا اسے عجیب سا سرور دیتا ….. اچھی خاصی مچھلیاں بیچنے کے بعد بھی اتنی بچ جاتی تھیں کہ وہ اگلے کئی دن جھیل پر نہ جاتے تب بھی یہ ذخیرہ کم نہ ہوتا ماں انہیں دھوپ میں سکھا کر مٹی کے مرتبانوں میں بھر لیتی ….. اور اکثر پڑوسیوں میں بانٹ آتی تھی …. جبھی سب کے گھروں میں بلائی جاتی تھی -.وہ گاؤں کی بہت خاص عورت تھی جس کا گھر مچھلی کی خوشبو سے مہکتا رہتا تھا جب کوئی بچہ پیدا ہوتا یا کوئی لڑکی بلوغت کو پہنچتی ماں اپنے ہاتھ سے بنائی چنبیلی کے پھولوں اور سوکھی مچھلیوں کی مالا اس کے گلے میں ڈالتی گویا خوش حال زندگی کا شگون مکمل ہی نہ ہوتا اگر اس میں ماں کی مچھلیاں شامل نہ ہوتیں –
لیکن …. پھر جانے کیا ہوا ….. سورج دیوتا ناراض ہو گیا ….. اس نے نرم دھوپ کی کرنیں اپنے پاس ہی روک لیں اور ان کی جگہ آگ برسانے لگا ….وہ دن آج بھی اسی کی یادوں میں خوف کے سائے بکھیر دیتا جب گرمی کی ایسی لہر اٹھی کہ گاؤں والے چیخ اٹھے دن رات میں تبدیل ہو گیا , وہ سب ماں کے پلو میں جا چھپے تبھی سیاہ آندھی بارش کو یوں اڑا لے گئی کہ سات برس تک بادل پانی کا ایک قطرہ برسائے بغیر بامبا کی فضاؤں سے دور تیرتے چلے جاتے اور موسم خشک سے خشک تر ہوتا گیا ……
……… پانی کے تالاب کیا سوکھے بابا کی کشتی بھی جھیل کے کنارے لگے لگے مٹی اور ریت سے اٹ گئی ، چھوٹی پہاڑی کی چراہ گاہ اب کالے پتھروں کا ڈھیر معلوم ہوتی تھی ……. انہوں نے پہلے اپنی گائے بیچی پھر بکریاں بھی بک گئیں ، وہ جب صبح سو کر اٹھا تھا تو اس کی بھوری بکری بھی غائب تھی…… بابا سے پوچھنا ہی بے کار تھا وہ کبھی کسی بات کا جواب ہی کب دیتا تھا … لیکن اس دن وہ بھی مسکرانے کے بجائے چپکے چپکے رو رہا تھا … اس وقت یہ باتیں اناٹو کے ننھے دماغ میں نہیں سماتی تھیں لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ کیسے ذہن کی پرتوں میں کسی فلم کی طرح سما چکی تھیں …….
اب ماں کو گاؤں میں کوئی پوچھتا نہ تھا وہ بھی دوسری عورتوں کے ساتھ گھنٹوں بالٹیاں اٹھائے لائن میں کھڑی پانی کی اس ٹنکی کا انتظار کرتی جو ہفتے میں صرف ایک دن ہی آتی تھی …. اس کا زیادہ وقت ادھر ادھر کی باتوں اور تکرار میں گزرتا . اناٹو اسے دیکھ کر سوچا کرتا …. وہ بات بات پر ہنسنے والی میری اماں کہاں جا چھپی اب تو اس کی جگہ بکھرے بالوں اور اجاڑ حلیے والی لڑاکا عورت رہ گئی تھی جو ہمیشہ اسے مایوس ہی کرتی –
گھر ہی نہیں جنگل بھی سر سبز ہرے درختوں کی جگہ جھاڑ جھنکاڑ سے بھر گئے تھے، تیتر وں اور فاختاؤں نے کہیں دور بسیرا کر لیا ……… اب کسی چڑیا کی چہکار ہی سنائی نہیں دیتی …. اناٹو ان کی آواز بھی بھول گیا … وہ سوچ رہا تھا اس کے تین سا ل کے بیٹے کو تو معلوم ہی نہیں تیتر کیا ہوتا ہے …..
اس کا دل اداس ہو گیا اور گھٹنوں میں منہ دیے خوشی کے اس مختصر لمحے کا انتظار کرنے لگا جو بڑے پروہیت کے فیصلے کے مطابق سال میں صرف پندرہ منٹ کے لئے ہی مختص کیا گیا تھا ، وہ لمحہ جو انہیں یاد دلانے والا تھا کبھی وہ زرخیز پانیوں کے مالک تھے ….. وہ اس یاد کو زندہ رکھنا چاہتے تھے کہ امید ابھی باقی ہے
ہر سال کی طرح آج بھی وہ تین اطراف سے جھیل کی جانب بڑھ رھے تھے ، ان کے لبوں پر دعائیں تھیں جو اس خاص موقع پر ہی گائی جاتی تھیں – جھیل کے گھٹنوں تک رہ جانے والے پانی میں گڑی تین لکڑی کی چھڑیاں اس بات کا اعلان تھیں کہ وہ بگل بجتے ہی مقدس تہوار میں شریک ہو جائیں گے –
ہر عمر کے مرد اور لڑکے بالے وہاں موجود تھے مگر کوئی لڑکی یا خاتون اپنے مخصوص دنوں کی بدولت پاک نہیں تھی سو گھروں تک محدود تھیں ، گویا یہ پاک مردوں کا تہوار تھا جو پتلے کپڑے کے جانگیوں میں ملبوس اپنے کندھوں پر چمڑے کے تھیلے اور ہاتوں میں بانس کی ہلکی جالی نما ٹوکریاں اٹھائے ایک دوسرے سے قریب تر ہوتے جا رہے تھے یہاں تک کہ ان کے کھوے ایک دوسرے کو رگڑنے لگے جھیل کے چاروں جانب سیاہ چاکلیٹی جسم اتنی تعداد میں جمع ہو چکے تھے کہ نقطوں کی صورت اختیار کر گئے تھے، اب انہیں بگل کا انتظار تھا-
      یکایک پروہیت کے ساتھی نے کسی جانور کے خالی سینگ کو منہ میں دبایا ، سنکھ کی آواز گونجی اور وہ سب اچھلتے کودتے جھیل میں اتر پڑے – ان کے دوڑتے قدموں کے پیچھے ریت اور مٹی کے بگولے اٹھ رھے تھے چاروں طرف اڑتی دھول نے عجیب وحشت ناک سماں پیدا کر دیا تھا …. ایسی ہڑ بونگ مچی کہ کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا –
اب جھیل میں مچھلیاں کم اور انسان زیادہ تھے ، ان کے ہاتھ تیزی سے پانی میں مچھلیاں تلاش کر رہے تھے کوئی تڑپتی ہوئی مچھلی ہاتھ میں آتی تو بجلی کی سی تیزی سے ٹوکریوں کو پانی میں ڈالتے اور ہاتھ آنے والی مچھلیوں کو منہ سے پکڑتے جاتے کسی نے تو کئی کئی مچھلیاں منہ میں دبائی ہوئی تھیں انکے دانت لگنے سے چہروں پر مچھلی کے خون کے چھینٹوں اور جسموں پر جھیل کی کائی اور کیچڑ نے انہیں ہیبت ناک بنا دیا تھا – اس وقت وہ ازلی آزاد مخلوق دکھائی دے رھے تھے جنہوں نے ابھی تہذیب کو اوڑھنا نہ سیکھا ہو …. اگرچہ جھیل سے کچھ ہی دور پولی ٹیکنک کالج کا گیٹ موجود تھا لیکن انہیں دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ کبھی اسکول کالج بھی گئے ہوں گے ….. پانی سے بری طرح بھاگنے والے بامبا کے باسی جو سال بھر جھیل سے کسی آسیب کی طرح دور رہتے تھے آج اس خوف کو کنارے پر ہی چھوڑ آئے تھے خود اناٹو آج ہی موٹر سائکلوں کی ریس جیت کر آیا تھا جو اس نے بیمبو کی لکڑی میں کل پرزے جوڑ کر بنائی تھی….. یہ بھول چکا تھا کہ وہ پورے ایک سال بعد جھیل میں اترا تھا…. اسے خود سے زیادہ ماریا کی فکر تھی –
          دبلی پتلی سلونی سی ماریا اس کی بچپن کی چاہت جو اس کے ساتھ ہی گلیوں میں پہلے سائیکل اور پھر موٹر سائیکل چلاتے بڑی ہوئی تھی ….. اب اس کے تین سالہ بیٹے زالو کی ماں تھی وہ اناٹو سے کہیں زیادہ پھرتیلی اور ہوشیار تھی مگر اسے اناٹو کی نفاست پسندی کی وجہ سے اپنی سہلیوں کے طعنے سننا پڑتے …… وہ تو لڑکی ہے بالکل ….. ہا ہا ہا ..تم نے دیکھا تھا نا کیسے پچھلے سال صرف چار مچھلیاں تھیں اس کے تھیلے میں ……رومو اس کی سہیلی زور زور سے ہنس رہی تھی … تمہیں معلوم ہے …. سانبا بتا رہا تھا ا سے یہ سب بہت گندہ لگتا ہے … ہا ہا ہا …. بڑا نخریلا ہے تمہارا آدمی….. ماریا”
اس رات … اناٹو ریس جیتنے کی خوشی ماریا کے ساتھ منانے کو اس کے قریب آیا تو ماریا نے پرے دھکیل دیا …. تجھے پتا ہے میں کتنا تیز بھاگتی ہوں … کالی پہاڑی کے گھومتے راستوں پرمہارت سے موٹر سائیکل چلانی تو نے مجھ سے ہی سیکھی تھی … کیا بھول گیا تو ….. ….. مگر اس منحوس تہوار نے … 
ہاں یاد ہے سب …. تو بہت چالاک ہے بیمبو کی سائکل سب سے پہلے گاؤں میں تونے ہی بنائی …..مگ بڑی نمکین بھی تو ہے ….. ناٹو نے اسے بات پوری نہ کرنے دی اور اسے اپنی باہوں میں بھر نا چاہا ….. لیکن وہ مچل کر اس کی گرفت سے نکل گئی اناٹو اس کے پیچھے لپکا پر وہ پارہ صفت تو جیسے جلتا ہوا انگارہ بنی ہوی تھی …. اناٹو دل میں ڈر رہا تھا کہیں اس کے منہ سے کچھ ایسا ویسا نہ نکل جائے جس سے وہ معتوب ٹھہرا دیے جائیں –
———
      ماریا کا خیال آتے ہی اس نے لپک کر اپنے منہ میں کئی مچھلیاں دبوچ لیں ان کے خون کے چھینٹوں نے اس کا چہرہ رنگین کر دیا مگر اسے کوئی گھن نہیں محسوس ہوئی پھر کسی مینڈک کی طرح گدلے پانی میں ڈبکیاں لگانے لگا . اس کا چہرہ کیچڑ اور خون میں لتھڑا ہوا تھا ….. آج اس نے اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ دینا تھا ….مگر … مچھلیاں تڑپ کر اس کے ہاتھ سے پھسل جاتیں …
        دفعتا ً سنکھ کی آواز فضا میں گونجی ، پندرہ منٹ پورے ہو چکے تھے – اناٹو نے اپنے تھیلے میں جھانکا ….. اس نے بے صبری سے اسے ٹٹولا …. اندھیرے میں کچھ نظر نہ آیا …. اس کا چہرہ مایوسی سے اور بھی سیاہ پڑ گیا …. اس نے سانبا اور دوسرے ساتھیوں کی طرف دیکھا … جو تڑپتی مچھلیوں سے بھرے تھیلوں کو کندھوں پر ٹکائے ، کیچڑ میں لتھڑے ، سکون اور خوشی کے ملے جلے احساس کے ساتھ واپس گاؤں کی طرف لوٹ رہے تھے ….. تبھی ایک مچھلی تڑپ کر اس کے ہاتھ سے پھسلنے لگی .. وہ سوچ رہا تھا اس بار بھی بس ایک ہی مچھلی …. پھرکچھ سوچ کر مسکرا دیا…… نبارا کی موٹر سائیکل اس نے ہی بنانی تھی اور اس کا تھیلا بھرا ہوا تھا .

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post