محبت جاودانی ھے : فریدہ غلام محمد

گرمی کی دوپہریں بہت طویل ھوتی ہیں ۔۔۔۔۔مگر میرے صبح،دوپہراور شام سب ایک سے ھوتے تھے ۔صبح زیادہ حسین ۔”جانتی ہیں بی جان کیوں؟ بی جان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔اس میں مجھے ناشتے کے دوران بابا سے باتیں کرنے کا موقع ملتا تھا ۔پتہ ھے وہ کتنے ڈیشنگ تھے ،کپاس کا رنگ دیکھا نا آپ نے اس پر ذرا چاند کی روشنی ڈالیں تو جس طرح وہ لاٹیں مارتی ھے ،جگمگاتی ھے بالکل ایسے۔اور آنکھیں کانچ جیسی سب سے پہلے ہلکا براؤن رنگ پھر ہلکا سبز اور آخری لائن ہلکی نیلی ۔۔۔۔بی جان ذرا سوچیں کتنی پیاری ھوں گی وہ آنکھیں”

اس نے آنسو روکنے کی کوشش کی۔
“ادھر آؤ پگلی یہ تو تم اپنی آنکھوں کا بتا رہی ھو ”
” ھو سکتا ھے میری آنکھیں ان کے جیسی ھو گئی ھوں ۔اور دراز قد تھے ،میں نے ان کے منہ سے کبھی کوئی بری بات نہیں سنی ،دنیا نے میرے بابا کو بڑی تکلیفیں دیں مگر بابا بہادر تھے بی جان بہت دلیر ،شیر ببر ۔۔۔ وہ کبھی نہیں ڈرے وہ دنیا سے نہیں ڈرے وہ کہتے تھے جو اللہ سے ڈرتا ھے نا اسے کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے”
بی جان آپ لکھ تو نہیں رہیں خود تو کہا تھا آپ لکھ رہی ہیں جھوٹ بولا نا” آپ نے مجھ سےوہ خفا سی ھو گئ
“تیری باتیں بھی اتنی حساس کر دیتی ھے جی چاہتا ھے سنتے جاؤ ”

وہ مسکرائیں
جھوٹ سے یاد آیا ،میں چھوٹی سی تھی جب بابا نے مجھے بتایا جو جھوٹ بولتا ھے اس کی آنکھوں میں لکھا نظر آ جاتا ھے ایک بار میں نے لڑائی میں بہن کی کتاب پھاڑ دی اب بابا کی عدالت میں پیش ھوئی۔

“ہانی تم نے یہ کتاب پھاڑی ھے کیا؟‘‘

میں نے آنکھیں سختی سے بند کر لیں اور اعتماد سے کہا ۔’’نہیں بابا ،ذرا آنکھیں کھولو ۔شاید وہ مسکرا رہے تھے میں نے آنکھیں کھول دیں ۔۔۔۔۔۔۔جی بابا”
اب میرا سر شرمندگی سے جھک گیا تھا۔
پھر کبھی جھوٹ ہی نہیں بولا ۔
“میرے بابا مجھ سے جدا ھو گئے بی جان اور میں زندہ رہی , بڑی تھی نا ۔۔۔۔۔۔حادثے کی جگہ پر جب میری ماں میرے گلے لگیں تو رو کر بولیں “ہانی تیرے بابا چلے گئے”میرے پاؤں میں جوتے نہیں تھے اور دوپٹہ شاید پھٹ گیا تھا “بہادر لوگ مجھے بہت پسند ہیں ہانی بابا کی سرگوشی بس ہوش تو نہیں تھا مگر میں ماں کا بیٹا بن گئی کبھی نہیں روئ ۔۔۔۔۔مگر میرے دوست صرف بابا تھے بس ،ہر شام بےساختہ نظریں دروازے پر ،ابھی بابا آئیں گے ۔ابھی رونق بحال ھو جائے گی مگر وہ تھک گئے تھے شاید خاموش راستے پر چل دیے۔ ہاں میں خواب میں دیکھتی تھی تو کہتے تھے رونا نہیں مجھے بڑی تکلیف ھوتی ھے بی جان میں نے رونا چھوڑ دیا اور یہ الگ بات ھے وچھوڑا خود روتا ھے ،میں نہیں روتی”

وہ چپ ھو گئی۔

“یہ تو وہ مرد ھے جو تمہارا باپ ھے جس سے تم کو بے حد محبت تھی ،تمہاری بات بابا سے شروع ھو کر ان ہی پر ختم نہیں ھوتی مجھے یہ بھی جاننا ھے ہانی ”

“اوکے چائے لے آؤں پھر سکون سے باقی باتیں کرتے ہیں”وہ چائے بنانے چلی گئی۔
آج کل اکیلی تھی تو میری طرف چلی آئی اس کے شوہر اور بچے دادی جان کے گھر گئے ھوئے تھے ۔۔۔بہت سلجھی ھوئی خاتون تھی مگر بابا کی بات کرتے ھوئے مجھے لگا جیسے دس سال کی بچی مجھ سے بات کر رہی ھے میں نے اسکی کہی کتنی باتیں لکھ بھی لیں جب وہ چائے ،سموسے ،بسکٹ لے کر آ گئی ۔
“کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں”چائے کا سپ لیتے ھوئے وہ بولی ۔۔۔ارے جہاں تک دل کرے ۔
“پہلے میں بتاؤں گی جب میں نے تم کو دیکھا تب تم ایک نوخیز کلی تھی،کیا اٹھان تھی تمہاری،آنکھوں میں عجب سی چمک تھی جو دیکھنے والے کو خیرہ کر دے،تم نے سیاہ سوٹ پر نارنجی دوپٹہ اوڑھا ھوا تھا ،تم نے سلام کیا تو جیسے فضا گنگنا اٹھی۔کیا لانبے بال جیسے گھٹائیں امڈ کر آ رہی ھوں ،تم عام نہیں تھیں”

“ہاں بی جان وہ دن ہر لڑکی پر ہی آتے ھوں گے تب انسان سپنے میں بھی مسکراتا ھے ،تب پہلی بار میں نے اس کو دیکھا “اس نے نظریں جھکا لیں ،”کس کو؟”محمد احمد کو،وہ کون تھا،میری اماں کی خاص سہیلی کا بیٹا ۔۔۔
اس کو دیکھ کر ایک بار دل دھڑکا تھا وگرنہ میں تو اپنی چھوٹی سی دنیا میں جی رہی تھی،میں نے اپنی دنیا کے باہر تالا لگا رکھا تھا کسی کو آنے دیتی نہ خود باہر جاتی مگر وہ عام سے خد و خال رکھنے والا انسان مجھے بھا گیا تھا۔۔”

پھر” پھر بس پیار ھو گیا اس سے ،تب جب پیار کی الف بے کا بھی پتہ نہیں ھوتا ،مجھے یاد ھے ہم کبھی الگ سے نہیں ملے تب پیار بڑا معصوم ھوا کرتا تھا بی جان جسم کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ بس ایک معصوم سی نظر ڈالی ،گال سرخ ھوئے ،مسکراہٹ ہونٹوں میں ہی دبا لی مگر ایک سکون تھا جو دل میں اتر جاتا ،ہاں ایک بار اس نے دو فقرے لکھ کر گلابی لفافے میں بھیجے تھے اس میں لکھا تھا۔

“میری پیاری
تم سوہنی ھو ،سانس پاک ھے تمہاری۔
پتہ نہیں چپکے چپکے میرے دل میں پیار کی بتیاں جلا ڈالیں ۔ان کی چمک لیتا ھوں اور جیتا ھوں ۔تم وہ آگ ھو جس میں کوئی بھی بھسم ھونا چاہے ۔کبھی کبھی لگتا ھے کہ دھیمی راکھ کا وہ جادو ھے جس سے بچنا ناممکن ۔۔تم تو مجھ دیوانے کو راکھ سے بھی جلا سکتی ھو ۔محمد احمد”
پھر؟ پھر کچھ نہیں وہ عمر ایسی ھی ھوتی ھے مگر اس کی ضد ،احتجاج اور بھوک ہڑتال کچھ بھی نہیں کر سکی ۔وہ رسموں پر قربان ھو گیا شاید اس کی زندگی سے زیادہ قیمتی وہ فرسودہ رسومات تھیں جن کے ہاتھ بک گیا ”
وہ چپ ھو گئی ۔۔۔۔۔۔۔آپ میرا سر پہلے گود میں رکھیں پھر باقی بات بتاتی ھوں ۔۔۔۔ آؤ میری جان ۔۔میں نے اپنی گود میں سر رکھ لیا ۔
“پھر میری محبت کو اس کی بےوفائی نے ڈس لیا اس نے گھر آنا چھوڑا۔۔۔میری روح کرلانے لگی میں زندہ لاش بن گئ ۔بابا کی جدائی کم حادثہ تھی کہ یہ سانحہ ھو گیا ۔میں نے اپنی محبت کو کفن پہنایا اور دل کے قبرستان میں دفنا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ہجر میرا مقدر تھا تب پتہ چلا مرنا بہت آساں ھے ایک بار مرنا پڑتا ھے مگر زندگی کتنی بار مارتی ھے بی جان یہ تب پتہ چلا جب احمد چلا گیا۔
میری شادی پر تو آپ آ نہیں سکیں مگر میں اسامہ کے ساتھ بہت خوش ھوں لیکن ایک دن میں نماز سے فارغ ھوئی تو دروازہ بجا ۔گھر میں کوئی بھی نہیں تھا،اسامہ دو دن کے لئے اسلام آباد گئے ھوئے تھے اور احمد حسن میرا اکلوتا بیٹا بورڈنگ میں تھا ۔۔۔ہاں ایک بات بھول گئ میں ۔اس روز میرا دل بلاوجہ بیٹھا جا رہا تھا ۔کئی بار اسامہ کو فون کیا سب ٹھیک تھا پتہ نہیں روح مضمحل تھی۔دروازہ کھولا تو سامنے احمد کے والد کھڑے تھے میں ساکت ھو گئی”
“تم میرے ساتھ چل سکتی ھو؟”وہ سوال تھا،التجا تھی،میں سمجھ نہیں سکی۔‘‘
میں شاید بیس سال پہلے والی ہانی بن گئی تھی ،چادر اوڑھی اور گاڑی میں بیٹھ گئی ۔تمام راستہ خاموشی اپنا سوگ مناتی رہی ۔تب ہسپتال کے سامنے جا کر گاڑی رکی تو میں نے ان کو دیکھا

“میں مجبور تھا وہ بہت سیریس ھے اس نے مجھ سے ایک ہی التجا کی کہ میں تمہیں لے آؤں ،کون باپ مرتے ھوئے بیٹے کی التجا رد کر سکتا ھے ”

ان کی آواز میں جیسے آنسو گھل گئے تھے مگر میرا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا ،میں تیزی سے ان کے ساتھ چل رہی تھی ۔۔۔۔میں مجبور تھی بیس سال بعد محبت کی قبر وقت نے کھود ڈالی تھی ۔وہاں میری محبت بڑے سلیقے سے پڑی تھی اسے گہن نہیں لگا تھا ۔ہجر کا کفن بےداغ تھا ۔۔کمرے کے سامنے میرے سارے مجرم کھڑے تھے مگر میں سیدھا اندر چلی گئی ۔۔۔۔۔۔احمد، میری محبت دم توڑ رہی تھی ،میں کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔احمد کی آنکھوں سے آنسو نکلے اور بہہ گئے۔میری سماعتوں نے سنا ،وہ مجھے قریب بلا رہا تھا ۔۔۔۔۔ میں اس کے بیڈ کے قریب گئی تو اس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا ۔
“میں ہمیشہ تمہارا ہی تھا ،میری مجبوری میری بےوفائی بن گئی ،مجھ کو معاف کر دو ہانی اس کی آنکھوں میں جلتے بجھتے دیے میری جان لے رہے تھے ۔زندہ تھا تو سوچتی تھی اچھا ھے تو سہی ،بابا کی طرح یہ بھی چلا جائے گا ۔۔۔۔۔میری سسکی نکلی ۔۔۔۔ہانی معاف کر دو ۔۔۔۔۔ ‘‘
،”میرے پیارے میں خفا نہیں تھی تم سے ۔پھر بھی تمہاری تسلی کے لئے کہہ دیتی ھوں معاف کیا”میں نے دیکھا اسکی نگاہوں میں ممنونیت تھی اس کے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی ۔
میں چلائی” احمد،احمد۔ میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے الگ کیا ،اس کی آنکھیں تو بند تھیں مجھے ایک بار بےسکون کرکے چہرے پر بےانتہا سکون لئے وہ چلا گیا تھا بی جان۔ میں نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے ،یہ میرا حق تھا یا نہیں مگر میری محبت اسکی حقدار تھی ۔
“میرے چلانے کی آواز پر سب بھاگے۔میں نے صرف انکل کو دیکھا اور اتنا کہا اب اپنی بیٹی کے شوہر کو بھی مار دیجیے تاکہ بدلہ پورا ھو جائے ”

میں رکی نہیں نجانے کیسے گھر پہنچی۔ بڑے دن لگے خود کو سنبھالنے میں ،پتہ ھے بابا اور احمد کے بچھڑنے کے بعد میں اللہ صاحب سے جڑنے لگی ۔۔۔آہستہ آہستہ درس قرآن دینے لگی دنیاداری کے جھجھنٹ سے آزاد ھو گئی۔
اسامہ میں اور میرا بیٹا خوش ہیں مگر وہ محبتیں جو مجھ سے روٹھ گئی تھیں ان کو بھلانے کے لئے میں نے رب سے محبت کر لی۔ بی جان رب سے بچھڑنے کا اندیشہ نہیں ھے ،رب وعدوں کا سچا ھے وہ ہم سے اعمال صالح چاہتا ھے اور پھر اپنے فضل کے خزانے کھول دیتا ھے “تو ان دونوں کی جدائی نے تم کو رب سے ملا دیا؟” ہاں ”

“جانتی ھو تم واقعی سوہنی ھو اور اب سوہنے سے پریت لگائے بیٹھی ھو “بس بی جان وہ مسکرائی ۔۔۔۔۔ ہاں بس لیکن ایک مشورہ ھے ”
وہ مسکرائیں “کیا بی جان”
“کبھی کبھی دنیا کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لینا چاہیے وگرنہ مجذوبیت ہمسائیگی میں ہی ھے”میں اور بی جان دونوں ہنس پڑے

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post