خاکی تھیلا : حامد یزدانی 

اس وقت ٹورانٹو سے کچھ دور واقع قصبہ واٹر ڈاؤن میں ہوا بند تھی اور جولائی کا نارنجی سورج غروب ہونے والا تھا جب وہ شخص ایک خاکی تھیلا اپنے پہلو میں دبائے کیفے کے رنگین شیشے جڑے چوبی دروازے کے دائیں طرف، سرخ اینٹوں کی دیوار کے ساتھ، فٹ پاتھ پر ، جسے یہاں سائڈ واک کہتے ہیں، اس سفید بورڈ کو دیکھ کر چلتے چلتے بے ساختہ یا بے اختیار یا کہہ لیجیے کہ یک دم رک گیا تھا جس پر کیفے کھل جانے کا اعلان درج تھا:
وی آر اوپن۔
’ آخر کار کیفے کھل ہی گیا‘ ۔ اپنے پہلو میں دبائے خاکی تھیلے کی طرف بامعنی انداز میں دیکھتے ہوئے اس شخص نے سوچا۔
آپ پوچھیں گے کہ کیا واقعی اس نے یہ سوچا تھا اور اس نے سوچتے ہوئے کیا تھیلے ہی کی طرف دیکھا تھا؟ میں کہوں گا کہ ہاں مجھے پتہ ہے اس نے یہی سوچا تھا۔ اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس نے رکنے کے حوالے سے بے ساختہ، بے اختیار اور یک دم والی بات بھی سوچی تھی۔ وہ بھی زبان، گرامر اور صحت املا وغیرہ کا رسیا جو تھا۔ نہیں، نہیں اس نے مجھے بتایا نہیں۔ بس میں جانتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے۔ جب اس نے کبھی بتایا ہی نہیں تو مجھے کیسے معلوم ہے؟
کیا میں نے کبھی اس سے پوچھا تھا؟ نہیں، ایسا موقع ہی کبھی نہیں آیا تھا۔ آتا یا آئے بھی کیسے! میں نے کبھی بھی اپنے کسی کردار سے اس کے بارے میں پوچھا ہی نہیں۔ وہ کیوں؟ وہ اس لیے کہ مجھے کبھی اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ جتنا مجھے اپنے کرداروں کے بارے میں جاننا ہوتا ہے اتنا مجھے معلوم ہوتا ہے تو پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیسے معلوم ہوتا ہے جب وہ بتاتے نہیں؟ جاننا بتانے سے مشروط ہے کیا؟ تو اور کیسے جان سکتے ہیں ہم دوسروں کے بارے میں؟
بھئی کئی ذرائع ہو سکتے ہیں جاننے کے۔ دوسرے لوگ اور۔ اور ان کی اپنی وضع قطع، چال ڈھال، بول چال، پہناوا اور ان کا طرز عمل، رویہ، رد عمل اور بہت کچھ ہوتا ہے۔ اگر آپ واقعی دیکھنے کا ہنر جانتے ہوں تو بہت کچھ جان سکتے ہیں ورنہ برس ہا برس انتہائی قریب رہنے والوں کے بارے میں بھی دراصل آپ کو قطعی کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ اور سوچیں تو جاننے اور معلوم ہونے میں بھی فرق ہے۔ جی۔ جاننا اور چیز ہے اور معلوم کرنا یا ہونا اور شے ہے۔
یہ چیز اور شے بھی بس وضاحت کے لیے کہنا پڑ رہا ہے مطلب یہ کہ دونوں مختلف ہیں۔ نہیں، نہیں محض زبان کے ہندی اور عربی گھرانوں سے تعلق ہی کی بات نہیں۔ لفظ کی صورت اور سیرت، اس کے استعمال اور اس کی تاثیر اور دوسرے الفاظ سے اس کا برتاؤ، اس کا سبھاؤ۔ بہت کچھ ہوتا ہے اس میں۔ ہاں بالکل، الفاظ کی ہستی ہوتی ہے، شخصیت ہوتی ہے تو لازم ہے کہ ان کی نفسیات بھی ہوگی اور ان کے نفسیاتی مسائل بھی اور الجھنیں بھی ہوں گی۔
ان کا بھی کوئی ڈاکٹر خالد سہیل ہو گا۔ ہاں، ہاں وہ سائیکالوجسٹ نہیں سائیکاٹرسٹ ہیں، جانتا ہوں۔ تحلیل نفسی وغیرہ تو کرتے ہی ہوں گے۔ وہ کیا کرتے ہیں کیا نہیں، یہ میں ان سے پوچھ کیوں نہیں لیتا؟ ضرورت نہیں ہے۔ ضروری ہوا تو پوچھ لوں گا۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ نفسیات شخصیت کے بند دروازے کھولنے میں مدد ضرور کرتی ہے۔
اب وہ شخص کیفے کے دروازے کے دائیں کواڑ پر پلاسٹک ٹیپ کی مدد سے چپکے کاغذی اوقات نامے کا جائزہ لے رہا تھا۔
پیر سے جمعہ: دس سے تین بجے تک
ہفتہ اور اتوار: دس سے پانچ تک
اور پھر وہ سر کو ہلکی سے جنبش دیتے ہوئے بائیں والے یعنی کھلے کواڑ سے کیفے کے اندر داخل ہو گیا تھا۔ دروازہ عبور کرتے ہی دائیں طرف لکڑی کی چھوٹی سی بھوری میز پر ہاتھ کو جراثیم سے پاک کرنے والے محلول کی بوتل اور کچھ کتھئی رنگ کے کاغذی رومال پڑے تھے۔ بوتل سے نکلے سفیدی مائل محلول کے چند چپچپے قطرے بھی میز کی سطح پر گرے ہوئے تھے۔ بائیں طرف ہال میں کچھ کچھ فاصلے پر میز کرسیاں سجی ہوئی تھیں۔ چار چار کرسیوں میں گھری ہر میز پر ایک ننھا سا گلدان، سفید نمک اور کالی مرچ کی چھوٹی چھوٹی شیشیاں اور دو مینیو کارڈز رکھے تھے۔ میز کرسی کے سلسلے سے کچھ آگے دائیں طرف سفید سے رنگ کا صوفہ۔
نیا اور چمک دار فرنیچر! وہ وہیں کھڑا رہ گیا۔ کچھ حیران حیران سا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا کپڑے کے بنے زرد ماسک سے منہ ڈھانپے کا ؤنٹر کے پیچھے کپ ترتیب دیتی ہوئی لڑکی اس سے مخاطب ہو گئی تھی:
” ہیلو۔ ہائے، خوش آمدید! میں آپ کے لیے کیا کر سکتی ہوں؟“
انگریزی جملے کا لہجہ لڑکی کے آبائی وطن کی چغلی کھا رہا تھا۔
پولینڈ سے؟ چیک ری پبلک سے؟ شاید یوکرین سے! ہے بہرحال مشرقی یورپ سے ”۔ اس نے سوچا۔
اب شاید آپ ہنس رہے ہوں کہ وہ بھی میری طرح دوسروں کے بارے میں اندازے ہی لگاتا ہے۔ پوچھ کر ٹھیک ٹھیک جان لینے کے بجائے! تو میں کہوں گا:دوسروں کے آبائی وطن کے بارے میں پوچھنا کینیڈا میں معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ خود مجھ سے کوئی پوچھے کہ آپ کہاں سے ہیں تو مجھے قطعی اچھا نہیں لگتا۔ مجھے لگتا ہے کہ یا تو ایسا میرے جنوب ایشیائی نقوش کی وجہ سے پوچھا جا رہا ہے یا پھر میرا انگریزی کا تلفظ ابھی تک شمالی امریکا کے لہجے سے ہم آہنگ نہیں ہوا۔
تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ بھئی، بیس برس ہو گئے ہوں جہاں، ایک پوری نسل بوڑھی اور دوسری جوان ہو کر تیسری نسل کی پرورش کر رہی ہو وہاں اگر اب بھی استفسار کیا جائے کہ کہاں سے ہیں تو افسوس نہ ہو گا کیا! ؟ بھئی، کینیڈین ہوں، یہاں کا شہری ہوں اور اگر شہر کا پوچھنا چاہتے ہیں تو ہیملٹن سے ہوں۔ کافی نہیں کیا! مگر نہیں صاحب، تسلی نہیں ہوتی سوال کرنے والے کی۔ کہے گا کہ وہ تو ٹھیک ہے مگر بنیادی طور پر کہاں سے ہیں۔
بتائیے کہاں سے ہے انسان بنیادی طور پر ، کون نہیں جانتا! لیکن دراصل انھیں تو یہ جاننا ہے کہ میں پاکستان سے ہوں یا ہندوستان سے تاکہ ان معلومات کی روشنی میں مجھ سے مناسب سلوک روا رکھ سکے۔ میں تو باقاعدہ چڑ جاتا ہوں جب کام کی بات چھوڑ کر اصل وطن کے بارے میں تفتیش شروع ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے پوچھنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے سوال کا کیا جواب ہے مگر وہ مجھ سے جاننا چاہتا ہے۔ جانے کیوں! یہ بھی یقیناً کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے یہاں۔ کچھ یا شاید بہت سے لوگوں کا ۔ جیسے اس لڑکی کا پہلا جملہ سنتے ہی خاکی تھیلے والا شخص اس کے آبائی وطن اور اس کی مادری زبان کے بارے میں سوچنا شروع ہو گیا تھا۔ کیا وہاں کام کرنے والے افراد کے بارے میں جاننے کے لیے کوئی کیفے میں جاتا ہے! سوچئے۔ بھئی، جس کام گئے ہیں وہ کیجیے اور اپنی راہ لیجیے۔
لڑکی کاؤنٹر کے پیچھے سے ابھی تک اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی پیشہ ورانہ نیم مسکان کی جھلک اس کی آنکھوں میں ماند نہ پڑی تھی۔ اس نے سوچا ہو گا کہ وہ شخص آرڈر دینے کے لیے کچھ غور کر رہا ہے۔
آپ اب یہی سوچ رہے ہیں نا ضروری ہے کیا کہ لڑکی نے ایسا ہی سوچا ہو؟ ہو سکتا ہے وہ یہ سوچ رہی ہو کہ اندر داخل ہوتے ہی اس شخص نے جراثیم کش محلول سے ہاتھ کیوں صاف نہیں کیے؟ یا شاید یہ کہ اس نے کپڑے کے بجائے ڈسپوزیبل ماسک کیوں پہنا ہوا ہے؟ یا یہ کہ آدھے بازوؤں والی دھاری دار سفید اور نیلی شرٹ سے باہر جھولتے اس کے بازو اتنے دبلے کیوں ہیں؟ کوئی یہ کیسے سوچ سکتا ہے کہ وہ لڑکی کیا سوچ رہی ہے؟ جب تک کہ وہ خود نہ بتائے اور وہ خود کیوں بتائے گی کسی کو جب تک کہ کوئی اس سے پوچھے گا نہیں۔
جواب تو سوال کے ساتھ مشروط ہوتا ہے ناں؟ اور اس شخص نے کا ؤنٹر والی لڑکی کے سوچنے کے بارے میں کیا سوچا یہ کوئی تیسرا کیسے جان سکتا ہے؟ تو میری بات سنئے، میں جان سکتا ہوں۔ کیونکہ میں دوسرا یا تیسرا نہیں بلکہ پہلا ہوں۔ یہ میری کہانی ہے، کہا ناں یہ میرے کردار ہیں۔ میں ان کے بارے میں کافی کچھ جانتا ہوں۔ دراصل یہ میں ہی جانتا ہوں کہ وہ کیا جانتے ہیں۔ تو اس میں کیا عجیب ہے۔
”کچھ عجیب سا لگ رہا ہے آج یہ کیفے“ ۔ اتنے میں وہ شخص بڑبڑایا تھا۔ پھر کا ؤنٹر کے پیچھے کھڑی لڑکی کی طرف دیکھتے اور فرنیچر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا: ”وہ، وہ فرنیچر کیا ہوا جو یہاں ہوتا تھا؟“
”اس جان لیوا وبا کی وجہ سے کیفے بند ہوا تو خوش قسمتی سے ہمیں رینوویشن کا موقع ملا گیا۔ دیکھئے، سب کچھ نیا کر دیا ہے۔ دیواروں کے رنگ و روغن سے لے کر چھت، فرش اور میز کرسی تک سب کچھ بالکل نیا اور دل کش۔ نہیں کیا؟ لیکن معذرت کہ ابھی آپ یہاں اندر بیٹھ نہیں سکیں گے۔ فی الحال ٹیک آؤٹ کی سہولت ہی ملے گی۔ ہو سکتا ہے اگلے ہفتے سے آپ یہاں بیٹھ کر بھی اپنے من پسند مشروب سے لطف اندوز ہو سکیں۔ ہمارے شہر میں ابھی حکومت نے کرونا وائرس کے حوالے سے احتیاط کا دوسرا مرحلہ ختم نہیں کیا۔ شاید اگلے ہفتے تک۔“
”یہ، یہ ادھر دور کلائلنر چیئرز ہوتی تھیں، ادھر کھڑکی کے پاس۔ اور ان چئیرز کے اوپر دیوار پر پت جھڑ والی پینٹنگ جو ذرا سی ٹیڑھی لگی ہوئی تھی، وہ۔“ ؟ وہ کھڑکی کی طرف مڑ کر اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”جی میں نے کہا نا، وہ سارا پرانا فرنیچر ہم نے پھنکوا دیا ہے کوڑے میں اور اس کی جگہ یہ نیا، بالکل نیا۔ :“ لڑکی خوش ہو کر بتا رہی تھی۔
خوش ہو کر ؟ اس کپڑے کے ماسک میں چھپے ہونٹ دیکھے بغیر اس کی خوشی کے بارے میں! بالکل پتہ چل سکتا ہے جناب۔ خوشی کا تعلق ہونٹوں سے نہیں لہجے سے لگایا جاتا ہے۔ لہجے سے؟ تو کیسی تھی اس کی خوشی؟ پولش یا چیک یا پھر یوکرینیئن؟ ایسا ہی لہجہ تھا نا اس کی انگریزی کا ! وہ زبان کے لہجے کی بات تھی یہ تو احساس کی بات ہے۔ خوشی تو احساس ہے۔ ٹھیک ہے احساس ہے مگر اظہار کے بغیر احساس کا ادراک بھی کیسے ہو سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے۔
انسان محسوس کرنے والا ہو تو ہو سکتا ہے۔ اور پھر مجھ سے کچھ چھپا نہیں۔ یہ ماسک مجھ سے کچھ چھپا نہیں سکتا، نہ خوشی، نہ غم۔ مجھ پر تو سب کھلا ہے۔ یہ سارا ماحول، یہ سب کردار۔ سب مجھ پر عیاں ہیں۔ میں؟ میرا کیا! میں تو ۔ میں تو بنانے والا ہوں، تخلیق کار ہوں اس سب کا ۔ میرا کیا! کیا مطلب؟ یہ سب تو وہی کچھ سوچتے اور کرتے ہیں جو میں چاہتا ہوں اور کیا چاہیے مجھے! میں! میں کیا سوچتا ہوں! ؟ یہ کیسی سوچ ہے بھلا!
میں کیا سوچتا ہوں! ؟ بات تو سب ان کرداروں کی ہے، اس ماحول کی ہے جو میرا بنایا ہوا ہے۔ شکر ہے میں کینیڈا میں ہوں۔ پاکستان میں ہوتا تو کوئی ڈاکٹر سہیل احمد خان میرے پیچھے بھی اپنی کسی طالبہ کو لگا دیتے کہ پتہ لگاؤ یہ لکھاری کیا سوچتا ہے اور اس پر ایم فل کا تھیسز لکھو۔ اوہو، ایم فل کا تھیسز! گویا دریافت کیے جانے کی، اہم سمجھے جانے کی خواہش بھی کہیں اندر بند ہے! انسان ارے انسان! کیا کچھ بند ہے تیرے خاکی تھیلے میں! ؟
”پورے پچاسی دن بند رہا ہے یہ کیفے! میں آتے جاتے کھڑکیوں میں سے جھانک کر دیکھتا رہا ہوں۔ یہی سمجھتا رہا کہ کچھ صفائی وغیرہ چل رہی ہے مگر ، مگر یہ تو صفایا ہی ہو گیا۔ سب کچھ ہی۔“ وہ بڑبڑاتا جا رہا تھا۔
”یہ ضروری تھا۔ بہت عرصے سے سوچ رہے تھے۔ موقع نہیں مل رہا تھا۔ بالآخر وبا نے یہ رکا ہوا کام کروا دیا۔ ہے نا عجیب بات!“ لڑکی چہکی تھی۔
”وہ ادھر آخری دیوار کے ساتھ کالے رنگ کا گھسا پٹا سبز رنگ کا صوفہ ہوتا تھا، کشادہ، آرام دہ سا۔ اور اس کے ساتھ پلاسٹک کا بھورا کتا بیٹھا ہوتا تھا۔ وہ۔ نابینا افراد کے مددگار کتوں کی بھلائی کے لیے چندے والا کتا جس کے سر میں بچوں کے گلے کی طرح پیسے ڈالنے کی جھری سی بنی ہوئی تھی۔ میری بیٹی اکثر اس میں لونی، ٹونی یا کوارٹر کا سکہ ڈالتی تھی۔ ڈائیم، نکل یا سینٹ، میرا مطلب ہے پینی اس نے کبھی نہیں ڈالی تھی۔ اب تو خیر پینی کا سکہ ہی متروک ہو چکا ہے۔
وہ اب چلتا نہیں مگر پھر بھی میں نے سنبھال رکھا ہے ایک سکہ اپنے بٹوے میں۔ مجھے یاد ہے میرے بچپن کے سبھی سکے ایک ایک کر کے متروک ہو گئے تھے۔ بس ایک دن بتا دیا جاتا تھا کہ فلاں سکے کا استعمال بند کر دیا گیا ہے اور بس۔ یہ بہت پہلے کی بات ہے اور کہیں اور کی مگر پینی یا سینٹ کا سکہ تو یہاں چلتا رہا ہے ابھی کچھ سال پہلے تک۔ اور، اور وہ بچوں کے کھلونوں کا رنگ دار صندوق۔ ادھر، ادھر کونے میں۔ سب پھنکوا دیا!
میرا یہاں گزرا سارا وقت بھی کوڑے میں پھینک دیا، مجھ سے پوچھا تک نہیں۔ کتنا بے وقعت ہے سب کچھ ان لوگوں کے لیے! اپنائیت اور یادیں کچھ اہمیت بھی رکھتی ہیں یا نہیں! چھوٹا تھا تب ایک دن بس مجھے بتا دیا گیا کہ گھر تبدیل کیا جا رہا ہے۔ چھوٹے سے بڑے گھر میں جا رہے ہیں۔ مگر ان پرانے کمروں کے سیمنٹ کے ٹھنڈے فرش پر لیٹا بچپن، صحن میں امرود کے پیڑ پر بیٹھی چڑیاں، برآمدے کی دیوار پر لگی سبز کائی، رات کو چھت کے شہتیر سے لٹک کر ڈرانے والی چھپکلی، الماری کے دروازوں پر پنسل سے بنایا عید کی صبح کا منظر، وہ غبارے اور کھلونے اٹھائے بچے، سڑک کے پار ایک گنبد اور دو مینار والی مسجد، مٹھائی کی دکانیں، آسمانی جھولے اور پھر دھائیں، دھائیں جنگ، فوجی، ٹینک، پرچم۔
وہ سب مناظر، وہ سب لمحات۔ نئے بڑے گھر میں کیسے جائیں گے سب میرے ساتھ؟ لیکن کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا۔ ہمیشہ سے یہی ہو رہا میرے ساتھ۔ بس ایک دن بتا دیا جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا ہی نہیں مجھ سے۔ کیا کوئی جانتا بھی ہے کہ میں ہوں۔ پتہ نہیں۔ اب وہ سارے لفظ جو یہاں بیٹھ کر سوچے اور جو مناظر ان کرسیوں پر بیٹھ کر دیکھے تھے اب انھیں کہاں ڈھونڈوں! ان کرسیوں میزوں پر میرا اتنا کچھ تھا، میرا لمس تھا ان پر ۔ وہ کیا ہوا؟ کوئی یہ بتائے گا؟ عجیب ہے۔ ہاں، عجیب تو ہے۔ اور یہ روشنی اتنی زیادہ ہے اب یہاں، اتنی تیز۔ آنکھوں کو الجھن ہو رہی ہے۔ کیا اچھا باقی ہے اب یہاں۔“
”سب کچھ اچھا ہے ہمارے یہاں۔ کیا پسند کریں گے آپ؟ رین فارسٹ سے درآمدہ ڈارک روسٹ کافی یا گرین ٹی لاٹے؟ پمکن سپائس فلیور آج کی خصوصی پیش کش ہے اور ہمارے ہاں کے ایپل فرٹرز تو آپ کو معلوم ہی ہو گا پورے علاقے میں مشہور ہیں۔ بالکل تازہ بناتے ہیں ہم۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے۔“
”سامنے، ہاں وہ سامنے دیوار پر جو ایمسٹرڈم کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر تھی کائزرز کراخت نہر کے پل پر آگے پیچھے کھڑے سائیکلوں والی۔ وہ بھی۔“
”جناب، آپ جانتے ہی ہیں بہت پرانی تھی وہ اور پھر۔“ لڑکی نے بڑے صبر سے وضاحت کرنا چاہی۔
”جانتا ہوں، میں آتا رہا ہوں یہاں جب یہ کیفے۔ کیفے ہوتا تھا۔ رسٹک سا، پرانے فرنیچر کی خوشبو والا، کچھ کچھ جھولتے میزوں والا اور وہ پلاسٹک کا بھورا مدد گار کتا۔ میں سب جانتا ہوں۔ مجھ سے کچھ چھپا نہیں۔ لیکن اب یہ۔ وہ نہیں۔“
”کون، کیا نہیں؟ کیا کہنا چاہتے ہیں آپ؟ میں کچھ سمجھی نہیں۔ اس رینوویشن کی بات کر رہے ہیں آپ یا؟“
وہ لڑکی کی پوری بات سنے بغیر خاکی تھیلا سنبھالے خود کلامی سی کرتا ہوا باہر کی طرف بڑھنے لگا۔
رنگین شیشے جڑے دروازے کا بایاں کواڑ ابھی تک کھلا تھا۔ اسے عبور کر کے اس نے قدم سائڈ واک پر رکھا اور ایک نظر چوک کے باقی تین کونوں پر ڈالی، رائل بنک، ڈچ مین بار اینڈ گرل، کنسائنمنٹ سٹور۔ تینوں کونے جوں کے توں تھے، بظاہر۔
باہر سے تو یہ کونا بھی نہ بدلا تھا۔ کیفے کا دروازہ ویسے کا ویسا ہی تھا۔ مگر اندر کی تبدیلی۔ وہ تو اندر جاکر ہی معلوم کی جا سکتی ہے۔ ان بند دروازوں کے اندر کیا کچھ بدلا ہے۔ کون جانے! اور مجھ میں مزید جاننے کی ہمت نہیں۔ کیا مجھے معلوم ہے کہ اس خاکی تھیلے میں کیا بند ہے! ؟ اس نے سوچا۔
لیکن مجھے تو معلوم ہے اور شاید کچھ کچھ آپ کو بھی۔
سائڈ واک پر کھڑے کھڑے اس نے سر کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور سرخ اینٹوں کی دیوار کے ساتھ ”وی آر اوپن“ کے سفید بورڈ کو نظر انداز کرتے ہوئے دائیں طرف مڑ گیا۔
سیاہ کوڑا دان کے پہلو میں ایستادہ رنگا رنگ پھولوں کی معلق ٹوکری اٹھائے وکٹورین دور کے لیمپ پوسٹ نے دیکھا کہ ایک خاکی تھیلا کشاں کشاں بڑھ رہا تھا ولیج تھیٹر سے دور نک وک بک شاپ کی طرف۔ کسی کو بغل میں دبائے۔ لیکن کسے! ؟
میں نہیں جانتا۔ اور مجھے جاننا بھی نہیں کیونکہ مجھے ضرورت نہیں یہ جاننے کی۔
میرے خیال میں تو آپ کے لیے بھی اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ اس وقت ٹورانٹو سے کچھ دور واقع قصبہ واٹر ڈاؤن میں ہوا بند تھی اور جولائی کا نارنجی سورج غروب ہونے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post