بڑی عید : فریدہ غلام محمد

آج اسے نیند نہیں آ رہی تھی ۔ہر کروٹ پر بےچینی بڑھتی جا رہی تھی،مضطرب ھو کر وہ اٹھ بیٹھی اس نے ساتھ والی چارپائی پر اپنے دس سال کے بیٹے کو دیکھا ۔اس کا لاڈلا سویا ھوا تھا ۔

برامدے میں ایک زرد رنگ کا بلب جل رہا تھا ۔اس برآمدے سے گزرو تو بس یہی ایک کمرہ تھا جس کے ایک کونے پر اس کی سلائی مشین ،استری اور کپڑے پڑے تھے ۔خاص خاص موقعوں پر زیادہ کپڑے ھوتے تھے۔مصروفیت کے باوجود وہ خوش رہتی اسے کافی روپے مل جاتے ۔بیٹی جوان ھو گئی تھی اس کے لئے جمع کرنا بھی ضروری تھا ۔جن دنوں کام ماٹھا ھوتا تو کپڑے دھو کر استری کر دیتی ۔

کرتی بھی کیا شوہر نشہ کرتا تھا ۔ایک دن ہمسائے کے گھر چوری کی نیت سے گیا اور پکڑا گیا ۔وہ حوالات میں سڑ رہا تھا ساری ذمہ داری اس پر آ پڑی تھی ۔اس وقت سب سے اہم مسلہ یہ تھا اس کا چھوٹا بیٹا دلاور جسے وہ پیار سے گڈو کہتی تھی اسے ہر حال میں بڑی عید کا گوشت کھانا تھا ۔اپنی تو طاقت نہیں تھی کہ قربانی کے لئے کچھ بھی کرتی مگر جن کے کپڑے سیتی تھی ان میں سے چند گھروں میں کہہ آئ تھی کہ اس کا حصہ ضرور رکھیں ۔گڈو کی ہر بات کلیجہ چیر جاتی تھی۔

“۔اماں جی بھلا سال نہیں ھو گیا ہم نے گوشت نہیں کھایا ۔آپ کو پتہ ھے عید پر لوگ کتنا مزہ کرتے ہیں اماں جی ہم بھی گوشت کھائیں گے نا “؟ اس کی آنکھوں میں گوشت کے نام پر روشنی سی آ جاتی تھی ۔

کاش ہم گہری نیند سو جائیں اور عید گزر جائے ۔کاش میرے بچے یہ سوال کرنا بھول جائیں سارا دن کپڑے سیتی ھو کیا ہمارے لئے بھی کوئ نیا سوٹ بن سکتا ھے ہر بار دو دو سال پرانے کپڑوں میں جوڑ لگا کر بڑا کر کے پہنا دیتی ھو۔کاش مگر کاش کیا؟صبح عید تھی اس نے جیسے تیسے گڈو کو ایک نیا لباس بنادیا تھا وہ بہت خوش تھا
وہ بچہ تھا ماں کی مجبوریاں نہیں جانتا تھا البتہ خوش بخت اس کی مجبوری جانتی تھی ۔
وہ کتنی ہی دیر جاگتی رہی آخر نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا ۔
صبح کی نماز کے بعد اس نے باہر کا جھاڑو لگایا ۔جھاڑ پونچھ کی ۔اس کے بعد دونوں کو اٹھایا
“خوشی تو ذرا آٹا گوند لے۔میں منٹ میں چودھرائن کے گھر سے لسی لے آؤں اور گڈو تو تیار ھو جا شاباش میں تجھے مسجد چھوڑ آؤں‘‘

“اچھا اماں جی” ۔دونوں نے قدرے خوشی سے کہا آج عید تھی ۔۔۔ اور وہ بھی بڑی عید۔

نماز پڑھ کر آیا تو آج اس نے خوشی خوشی لسی سے روٹی کھا لی ۔
“اماں جی میں باہر کھیلوں گا جب سالن بن جائے تو بلا لیجئے گا ۔”
“اچھا اچھا تو خیر سے جا”
ایک بج گیاتھا۔ کسی نے دروازہ نہیں کھٹکھٹایا تو وہ بے چین ھو گئی ۔کیا کرئے خود چلی جائے ساتھ کے کئی ہمسائیوں نے آج قربانی کی ھو گی ۔کیا غریب تاجی کو بھول گئے ھوں گے اب خود جا کر دیکھتی ھوں۔ خوشی اوہ خوشی پتر کنڈی لگا لے میں ابھی آتی ھوں۔
چادر اوڑھتی وہ باہر نکل آئی اس نے پہلے چودھرائن کا دروازہ کھٹکھٹایا۔کافی دیر بعد دروازہ کھلا

“۔کیا بات ھے تو بھی گوشت مانگنے آئ ھو گی ہم نے یہاں دکان نہیں کھول رکھی بانٹ رہے ہیں تجھے بھی دیں گے یہیں بیٹھ جا ”
کرخت آواز میں یہ فضل دین تھا ۔آج کوئی انوکھی بات تو نہیں ھوئی تھی ابھی صبح لسی لے کر آئ تھی ۔
“اچھا اچھا میں آگے پتہ کر لوں بس میرا حصہ رکھ دینا “یہ کہہ کر وہ رکی نہیں اس کے بعد کئی گھروں میں گئی کسی نے کہا ہم نے ٹھیکہ تو نہیں اٹھایا ھوا ۔کسی نے کہا کیا اپنا گوشت تجھے کھلا دیں کسی نے کہا آج گوشت نہیں کھائے گی تو مر تو نہیں جائے گی۔

آنسو بن بولے ہی آنکھوں سے نکل رہے تھے” یااللہ میری مدد فرما ”
اس نے بےبسی سے آسمان کی طرف دیکھا ۔رک بی بی یہ لے تو بیٹھی نہیں پھر بھی تیرے لئے حصہ رکھ چھوڑا تھا ۔فضل دین نے ایک شاپر اسے پکڑایا ۔اس نے وہ شاپر جھپٹ لیا اور تیز تیز قدموں سے گھر کی طرف چل پڑی۔
خوشی اور اس نے مصالحہ بھونا ۔شاپر سے گوشت نکالا تو بس ایک بار دل بیٹھا ۔۔چار پانچ چھیچھڑوں میں شاید تین یا چار بوٹیاں تھیں۔

خوشی کا رنگ اڑ گیا “بس تو چڑھا دے ہمارا گڈو کھا لے گا اس کو کچھ بھی نہیں بتانا ۔”

تاجی نے بیٹی کو پیار کیا
“اماں یہ کیسے مسلمان ہیں جو دوسرے مسلمان کا دکھ نہیں سمجھتے ہمارا دین کتنا مختلف ھے ان مسلمانوں سے ۔ہم بھی تو انسان ہیں کیا غریب کی عید نہیں ھوتی ،کیا غریب کا دل نہیں ھوتا “وہ رو رہی تھی

گڈو آیا تو سالن پر ٹوٹ پڑا” ارے اتنے مزے کا اماں ایک بوٹی اور دے نا ۔‘‘ اس نے پلیٹ آگے کی۔
تاجی نے خوشی کو دیکھا جیسے اجازت مانگ رہی ھو ایک ہی بوٹی تھی جو اماں جی نے اس کے لئے رکھی تھی

خوشی نے نظریں جھکا لیں ۔وہ آخری بوٹی بھی گڈو کو دے کر ماں بیٹی بڑی عید پر ہانڈی سے لگے مصالحے سے کھانا کھا رہی تھیں
دونوں کے آنسو ساتھ ساتھ بہہ رہے تھے ۔گڈو پیٹ بھر کر سونے چلا گیا ۔اس نے بڑی عید کا گوشت کھا کر اپنی عید منا لی تھی ۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post