بنتِ حوا : ثمینہ سید


 سرد ہوا کے بدمست جھونکے گلی کوچے ویران کئے ہلا شیری سے دندناتے پھر رہے تھے۔لوگ اپنے گھروں میں انگیٹھیوں اور آتشدانوں کے آگے بھی چادریں لپیٹے ٹھٹھر رہے تھے۔لیکن ایک کھڑکی کھلی تھی۔اس میں سنگی مجسمے جیسی عورت موسم کی شدتوں سے انجان چپ چاپ کھڑی تھی۔یہ چپ سالہا سال سے اس کے اندر جا گزیں تھی لیکن آج توموت جیسی خاموشی تھی ۔ابھی ابھی کچھ پل پہلے ہی ان کی لاڈلی پیاری بیٹی چلا رہی تھی۔
“ممی مجھے بتائیں آپ نے پاپاکو چھوڑا تھا یا وہ خود گئے تھے میں جاننا چاہتی ہوں حقیقت کیا ہے؟آپ تو بہت بہادر ہیں پھر یہ سوال کیوں اٹک جاتا ہے کیوں آپ اس کا جواب نہیں دے پاتیں۔شزا تمہارے پاپا ہماری زندگی میں شامل نہیں ہیں اور نہ ہی میں ان کے مظالم یاد کرنا چاہتی ہوں۔تمہیں کچھ کچھ یاد تو ہو گا ہم کتنے خوش تھے کس قدر محبت کرتے تھے ایک دوسرے سے لیکن اس شخص نے مجھے دھوکا دیا میرا مان توڑا۔اسی لئے مجھے مرد ذات سے نفرت ہو گئی ہے۔میں چاہتی ہوں تم اس سارے معاملے کو نہ چھیڑو “صباحت نے محبت سے بیٹی کے ہاتھ پکڑنا چاہے لیکن شزا اٹھ کھڑی ہوئی
“مما مجھے جواب چاہئے۔بہت ضروری ہے ابھی جاتی ہوں لیکن آپ سوچ کے رکھیں کہ میں سچ جاننا چاہتی ہوں۔”
سچ تو یہی تھا کہ “حوا:کے نام سے ایک بہت بڑی این جی او چلانے والی مسز صباحت مردوں سے نفرت کرتی تھیں۔اس لئے کہ انہوں نے اپنے شوہر علی نواز سے بے پناہ محبت کی تھی،اس لئے کہ محبت ان کے لئے تلخ تجربہ تھی۔محبت نے ان کی رگوں میں زہر بھرا تھا وہ اب محبت کے خلاف لاؤ لشکر تیار کر رہی تھیں ان کے ساتھ مردوں کی بے وفائی اور بے اعتنائی کی ڈسی ہوئی کتنی ہی عورتیں شامل ہو گئیں تھیں شزا ان کے ساتھ اس مشن میں شامل تھی صباحت خانم کی سرگرم کارکن بہت دلیر بیٹی کمزور کیو ں ہو رہی تھی کچھ دنوں سے اس کے تیور بدلے ہوئے سے تھے۔وہ خفا خفا اور الجھی ہوئی سی تھی۔صباحت حسب عادت اس کے ناز نخرے کرتیں تو وہ جھنجھلا جاتی اور آج اس نے دل کی بات پوچھ ہی لی۔صباحت کو لگ رہا تھا یوم حساب آ گیا ہے۔کمرے میں ادھر ادھر ٹہلتے وہ ماضی کی کتنی ہی تصویریں سیدھی کرتی رہیں انکو جھاڑ پونچھ کے صاف دیکھنے کی خواہش مچلنے لگی۔
صباحت اور علی نواز خالہ زاد تھے دونوں بچپن سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے بلکہ یہ کہا جائے کہ ایک دوسرے کے سوا زندگی کو کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔پڑھائی سے فارغ ہوئے تو دونوں گھرانوں میں شادیانے بجنے لگے بہت ہی دھوم دھام سے صباحت علی نواز بن کر وہ خالہ کے گھر آ گئی۔گھر میں خالہ خالو علی نواز کی دو بہنیں تھیں۔صباحت کو علی نواز کی ہر نسبت سے محبت تھی۔ گزرتے وقت کے ساتھ ان کی محبت مضبوط ہو رہی تھی شزا کی صورت مزید خوشی آنگن میں اتر آئی سب صحیح تھا ۔صباحت سب سے خوش تھی علی نواز کی بہنوں کی شادیاں ہو گئیں تو کام کا بوجھ بڑھ گیا ،شزا کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ صباحت پہ بوڑھے ساس سسر کی ذمہ داری بھی پڑتی چلی گئی وہ ہر ذمہ داری اٹھا رہی تھی جب خالہ نے اس کا دھیان اس بات کی طرف دلایا کہ وہ اپنا بھی خیال کرے
“بیٹی مرد کو ہمیشہ تروتازہ عورت محبت کے قابل لگتی ہے۔خود پہ توجہ دو کچھ لباس کا ہاتھ پاؤں کا خٰیال رکھا کرو۔”صباحت بےفکری سے ہنستے ہوئے بولی”اماں جی علی مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں انہیں میں ہر حال میں اچھی لگتی ہوں۔”لیکن یہ صباحت کی خوش فہمی تھی صباحت کے پاس سارا وقت علی کے کپڑے جوتے گھر بار اور رشتے سنبھالنے کے لئے تھا ایسے میں علی کو کوئی اور ہاتھ سنبھال چکے تھے۔صباحت پر یہ راز شاید کبھی بھی نہ کھلتا اگر اسےعلی کے بریف کیس سے انگوتھی کی ڈبیہ نہ ملتی جسے دھڑکتے دل اور مسکراتے لبوں سے کھولتے ہوئے صباحت بڑبڑا رہی تھی”اماں بھی بے وجہ وہم کرتی ہیں میری بات نہیں مانتی کہ علی مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ابھی دکھاتی ہوں انہیں”خالی ڈبیہ منہ چڑا رہی تھی وہ ذرا سہمی علی کے معمولات پہ غور کیا تو بہت سی کوتاہیاں کھلنے لگیں وہ تو پچھلے سال ڈیڑھ سال سے مصروف تھا پھر مصروفیت بڑھتی گئی وہ راتیں بھی باہر رہنے لگا پھر۔شہر سے باہر کاروباری دوروں پہ جانے لگا۔اور آج تو وہ ایک مہینے بعد لوٹا تھا۔تبھی تو صباحت کو لگا وہ اس کے لئے انگوٹھی لایا ہے۔جدائی کا ازالہ کرنے کے لئے۔اس نے کچھ بھی سمیٹا نہیں۔علی نے اسے حیرت سے دیکھا اور آگے بڑھ کے کندھا ہلایا۔”کیا ہوا تمہیں؟
“علی یہ۔۔۔یہ انگوٹھی”اس نے ہاتھ میں پکڑی خالی ڈبیہ آگے کی۔تو علی سناٹۓ میں آ گیا کچھ پل دبے پاؤں گزر گئے پھر وہ آگے بڑھا اپنی چیزیں سمیٹ کر بریف کیس میں ڈالتے ہوئے بولا”جس کی تھی اسے دے دی۔تم گھر سنبھالو۔ساس سسر کی خدمت کرو یہ ایک بچی جو پیدا کر کے تم نے کمال کر دیا ہے اسے سنبھالو”
صباحت کانپ رہی تھی آنسو بھی گالوں پہ پھسلنے لگے”علی یہ سب تمہارے رشتے ہیں جنہیں میں نے سنبھالا تم زیادتی کر رہے ہو صرف الزام دے رہے ہو اپنے دفاع کے لئے تم نے یہ لنگڑے لولے بہانے گھڑے ہیں”
“جو بھی ہے۔۔تم کب مانو گی اپنی غلطی۔میں نے کب کہا تھا میرے رشتے ایسے سنبھالو کہ مجھے بھول جاؤ۔”صباحت سکتے میں تھی یونہی بیٹھی رہی علی کمرے کا دروازہ دھاڑ سے مارتا باہر چلا گیا۔مقدر میں لکھی رات کو صباحت نے چادر کی طرح لپیٹا اور شزا کو لئے گھر سے نکل آئی۔بھائی بھابھیوں کے روئیے دیکھے زمانے کے ستم سہے،خالہ اور خالو بارہا لینے آئے لیکن جس پہ مان تھا وہ نہیں آیا اور پھر سنا وہ اس کی جگہ دوسری عورت کو گھر میں لے آیا۔صباحت کے اندر علی نواز کی قبر بن گئی وقت نے پلٹے کھائے وہ آیا بھی مجبوریوں کے رونے روئے،اولاد نہ ہونے کا غم بتایا امی ابا کی موت پہ لینے آیا لیکن صباحت تو گونگی بہری ہو چکی تھی۔ وہ تو بس اپنی این جی او بنا کرصرف اس کے سیمینارز میں بے لاگ بولتی مرد کے خلاف ۔۔اسے لگتا وہ اپنی شزا کو ایک مضبوط عورت بنا چکی ہے جسے کبھی بھی مرد کے سہارے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
شزا کے من میں محبت نمو پانے لگی اپنی پوری خودسر فطرت کے ساتھ محبت نے اس کے اندر پنجے گاڑ لئے۔وہ اپنے دل کی دھڑکنوں کے نرالے سر تال آنکھیں بند کر کے سننے لگی۔حیران بھی تھی کوئی اتنا اچھا کیسے لگ سکتا ہے؟کہ چند ہی دن میں مما کی تعمیر کردہ دیوار میں دراڑیں پڑ گئیں اسے محسوس ہونے لگا کہ اس کی مما غلط ہیں ان کے نظریات غلط ہیں وہ سراسر منفی رویہ عورتوں میں ابھار رہی ہیں جو کہ گھروں کے گھر اجاڑ رہا ہے۔
“کیسی ہو؟کانفرنس سے واپس آ کے مجھ سے بات نہیں کی میں دنوں انتظار کرتا رہا”جبران نے جب بہت بے تکلفی اور صاف گوئی سے کہا تو وہ اسے روک نہیں سکی اب روز وہ صبح و شام بولتا اور شزا پوری توجہ سے سنتی ۔۔سنتی کیسے نہ پوری توجہ اسی ایک شخص پہ مرکوز ہو گئی تھی۔نفرت محبت کے آگے دم توڑنے لگی تو وہ مما سے سوال کر بیٹھی ہر بات کا جواب پا کر بھی وہ مطمئن نہیں تھی۔”مما پاپا معافی مانگنے آئے تھے ناں معاف کر دہتیں۔وہ شرمندہ تھے بہت سے نقصانات اٹھا کر اپنی سزا پوری کر آئے تھے۔۔اور مما جانی پھر وہ عورت بھی مر گئی آپکا گھر خالی ہو گیا تھا وہاں دھوکا بے وفائی جانبر نہ ہو سکی تھی۔آپ اللہ پہ چھوڑ دیتیں یہ حساب کتاب”
صباحت بیگم بہت تڑپی بہت روئیں اسے اپنے قبضے میں رکھنے کی سر توڑ کوشش کرتے کرتے دل شکست دے گیا۔صباحت آئی سی یو میں تھیں جبران ہر لمحہ شزا کے ساتھ۔۔بھاگ دوڑ کرتا راتوں کو جاگتا۔اس کا خیال کرتا یہ شخص شزا کو بہت ہی عزیز ہو گیا تھا۔لیکن اس نے مما کی آنکھ کھلتے ہی کہا۔”میں جبران سے شادی کرنا چاہتی تھی نہیں کروں گی لیکن میری ایک شرط ہے۔”
صباحت نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو وہ بولی”پاپا کو معاف کر دو”صباحت کی خاموش آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔جبران شکست خوردہ سا اٹھا اور جانے لگا اسی پل صباحت نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ساری نفرت آنکھوں سے بہہ رہی تھی صباحت نے اپنی نازک سی بیٹی کا ہاتھ جبران کے ہاتھ میں دے دیا۔وہ دونوں بھی رو رہے تھے۔
“جبران تم مما کا خیال رکھو۔مجھے کچھ ضروری کام نپٹانے ہیں جنہیں نپٹانا ہمارے رشتے سے بھی زیادہ ضروری ہے”
دونوں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو آسودگی سے مسکراتی ہوئی بولی”اپنی این جی او کا مقصد بدلنا ہے۔عورتوں کو بتانا ہے۔کہ
بنت حوا کو کب سکوں ہے اپنے آدم کے بغیر

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post