نعت

نعت : مقصودعلی شاہ

درود  پڑھ کر اُجال  لیں گے  جواب  سارے
اِس ایک تدبیر سے جُڑے ہیں حساب سارے

بس ایک شاخِ گلِ ثنا کی طلب تھی مہکی
صبا نے دامن میں بھر دیے ہیں گُلاب سارے

گئے زمانوں کی اوٹ سے دل دہل رہے تھے
ترے کرم سے ہی ٹل گئے ہیں عذاب سارے

یقیں نے شب کے جلو میں بخشی ہے ایسی طلعت
طلب کی آنکھوں میں جاگ اُٹھے ہیں خواب سارے

ہم اپنا انعام جانتے ہیں، سو مطمئن ہیں
بنامِ مدحت سمیٹ لیں گے ثواب سارے

جہاں پہ تیرے نقوشِ پائے کرم ہیں رخشاں
خمیدہ دل ہیں وہیں پہ عالی جناب سارے

رہیں گے اب تا ابد مسلّم کہ تُو نے بخشے
یہ خَلق کو حُسنِ خُلق کے جو نصاب سارے

ترے ہی اسمِ جمال پرور کی بخششوں سے
سحَر بہ داماں ہوئے ہیں طلعت مآب سارے

اُنہی کی نعتِ کرم سے مقصود منعکس ہیں
کتابِ ہستی میں درج جتنے ہیں باب، سارے

younus khayyal

About Author

1 Comment

  1. younus khayyal

    فروری 28, 2021

    درود  پڑھ کر اُجال  لیں گے  جواب  سارے
    اِس ایک تدبیر سے جُڑے ہیں حساب سارے
    واااااااااااااااااہ ۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ سبحان اللہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نعت

نعت ۔۔۔ شاعر:افضل گوہرراو

  • ستمبر 25, 2019
افضل گوہرراو لہو کا ذائقہ جب تک پسینے میں نہیں آتا میں پیدل چل کے مکےّ سے مدینے میں نہیں
خیال نامہ نعت

نعت:حفیظ تائب

  • ستمبر 27, 2019
حفیظ تائب خوش خصال وخوش خیال و خوش خبر،خیرالبشرﷺ​ خوش نژاد و خوش نہاد  و خوش نظر، خیرالبشرﷺ​ ​ دل