سلیم آغا قزلباش کی پہلی برسی : نجمہ منصور


نجمہ منصور
آج سلیم آغا قزلباش کی پہلی برسی ہے ابھی ابھی وزیر کوٹ سے واپس لوٹی ہوں دل درد سے بھرا ہوا ہے اور آنکھیں بار بار بھیگ رہی ہیں تین قبریں آنکھوں کے سامنے ہیں صفیہ آغا، وزیر آغا اوز سلیم آغا قزلباش اللہ انہیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین وقار النساء عرف مینا جی آج میرے گلے لگ کر روئی تو یوں لگا جیسے سلیم آغا ابھی رخصت ہوا ہے سلیم آغا کے لئے لکھی میری نظم بے لفظ کہانی کا آخری وارث میرے ذہن میں گردش کرنے لگی آپ بھی پڑھیں
سلیم آغا قزلباش بے لفظ کہانی کا آخری وارث /نجمہ منصور
سلیم!
تم نظم کی جس کھڑکی میں بیٹھے ہو
وہاں سے سارا منظر صاف نظر آتا ہے
لفظوں کی رنگ برنگی تتلیوں کے ساتھ
تم بچپن سے ہی کھیلتے آئے ہو
اپنے بابا کی انگلی تھام کر
جو تمہیں کہتے
انہیں چھونا مت
ورنہ ان کے رنگ
“اور سارے نقش اور بیل بوٹے”
تمہاری انگلیوں کی پوروں پر
بے لفظ کہانیاں لکھ دیں گے
سلیم !ؔ
جان لو کہ تم
اس بے لفظ کہانی کے آخری وارث ہو
لیکن کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی
بلکہ کہانی کے اندر سے ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے
کئی اسرار اپنے اندر سمیٹے ہوئے
لفظ
کبھی نظم، کبھی افسانہ، تو کبھی انشائیہ
کی صورت
تمہارے اندر ہمکتے ہیں
سلیم!
اپنے بابا کے لفظوں کی اقلیم
“اوراق” کے گرد پوش کو چھو کر
اس کے اندر کی
انوکھی کتھا کو تم ہی پڑھ سکتے ہو
ان لفظوں کی گرہ کوصرف تم ہی کھول سکتے ہو
لیکن نہ جانے کیوں
تم
لفظوں کا دوشالہ اوڑھ کر
چپ چاپ پڑے ہو
اُٹھو،
آؤ کہ
زندگی کے “اوراق” کب سے تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔۔
یہ نظم میں نے سلیم آغا قزلباش کی وفات سے کچھ دن پہلے لکھی تھی جب سلیم آغا بہت بیمار تھے ایک ماہ پہلے تک ہفتہ میں ایک بار ہماری بات ضرور ہوتی تھی وہ اپنی بیماری کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کرتے آگہی بھی بہت بڑا عذاب ہے اور وہ اس عذاب سے گزر رہا تھا آخری بار جب ہماری بات ہوئی تو آواز میں بہت نقاہت تھی میں نے پوچھا کہ آپ کے پاس اسوقت کون ہےتو فون مینا جی کو دے دیا اس دن سے دوسرے تیسرے دن مینا جی سے بات ہوتی رہی بس اسی درد اور بے بسی کی کیفیت میں یہ نظم لکھی۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post