وجودِ زن موجود ۔۔۔انشائیہ : فیصل اکرم

فیصل اکرم
میں عورتوں کی ڈرائیونگ کے ھرگز خلاف نہیں ہوں مگر ایکسیڈنٹ ہونے پہلے بریک کی جگہ چیخ مارنا کہاں کا انصاف ہے ؟ ٹیڑھی ہڈی سے بنی اس مخلوق کے ہر کام کو سیدھا کہنا ہی عقلمندی اور اپنے ذاتی استخوانی وجود کی بقاء ہے . مشرقی عورتیں اپنے مجاذی خدا کی درازئ عمر کیلئے ہر وقت ہاتھ اٹھائے رکھتی ہیں مگر دورانِ دعا ” ہر مشکل کے خاتمے ” والے حصے میں بخیلی سے کام لیتی ہیں اور اپنی بقاء کی خاطر دعا میں کھوٹ ڈال دیتی ہیں . کیونکہ “ہر مشکل” میں کہیں کہیں ان کو اپنا چہرہ بھی نظر آرھا ہوتا ھے . ہر عورت چڑیل , ڈائن اور منحوس ہوتی ہے . یقین نہیں آتا تو کسی پری چہرہ پر اپنی منکوحہ چڑیل چہرہ کی رائے لے لیجٰے .
ہمارے مشرقی معاشرے میں عمومی طور پر دوقسم کی عورتیں پائی جاتیں ہیں . اَوّل جھگڑالو عورت , دوئم انتہاء کی جھگڑالو عورت . میری بیوی انتہائی نرم مزاج , شائستہ گفتار , خوش اخلاق وغیرہ وغیرہ ہے کیونکہ دورانِ رنجش برتن اور گملے کا استعمال حسنِ اشتعال نہ بن سکا . لیکن کمال اِس خاک در خاک بندہء ناپاک کا بھی جس نے موقعہ فراھم کرنے سے پہلے ہتھیار ڈالنا مناسب جانا .
میری بیوی مجھے چاھتی ہے کیونکہ جہاں پیار ھوتا ھہے وہاں ہی جنگ ہوتی ہے . تو یوں کہنا مناسب ہے کہ ہر روز پیار ہوتا ہے .
میں ایک کامیاب شادی شدہ مرد ہوں لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک عصر کی ریاضت اور اصول پسندی کارفرما رہی .
میں نے آج تک کبھی کچن کے گندے برتن نہیں دھوئے مگر کپڑوں کے معاملے میں کبھی جنبش بھر کوتاھی سامنے نہیں آنے دی .
میں نے آج تک کبھی کھانا نہیں پکایا مگر اپنی زوجہ ماجدہ کو ناشتہ دینا فرضِ اولین جانا .
میں نے آج تک اپنی ملکہ کو شاپنگ نہیں کروائی مگر رَتی بھر روکا نہیں .
بیوی کو خوبصورت کہنا , حسن کی تعریف میں زمین آسماں ایک کردینا ہی اپنے چہرے پر نشانات اور جلدی ابھار میں کمی کا باعث بنتا ہے . بیوی سے محبت اور وجودِ زن سے نفرت کا امتزاج کی وجودِ مرد کے دوام کا باعث ہے .
ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ہوں تو پسندیدگی کے باوجود رابعہ انعم , ٹونکل کھنہ یا بپاشا باسو میں کیڑے نکالئے تاکہ پاداش میں ھمیشہ ٹی وی سکرین پر ایسے چہروں کو دیکھنے کی حَسین سزا میسر رہے اور ٹی وی ریمورٹ کی فکر سے نجات حاصل ہو جائے . کلیہ مزید آزمانے سے فوائد میں اضافہ ناگزیر ہے .
سمارٹ موبائل فون میں ڈیلیٹ پر عبور حاصل کرنا پل صراط کو عبور کرنے کے مترادف جانئے . وگرنہ آپ حدودِ زیست عبور کرسکتے ہیں . “جان ہے تو جہان ھے” سے پہلے “ڈیلیٹ ہے تو سانس ہے ” کی تسبیح مجرب اور دوام بخش ثابت ہو گی .
مرد کی ایک سے زیادہ شادیوں کی اسلامی مجبوریوں پر شدید نفرت کا اظہار کرنا آپ کی کم از کم ایک شادی کو کامیاب بنانے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتا ہے .

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post