حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کرمانی کی پیش گوئیاں


 از:  ڈاکٹرمعین نظامی
(بشکریہ جناب ناصرمحموداعوان)
                حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کرمانی( 1330 تا 1431ء) ایک عظیم صوفی اور قابل قدر شاعر تھے. ان کا خوب صورت اور وسیع مقبرہ ایران کے صوبہ کرمان کے نواح میں ماہان نامی قصبے میں ہے جہاں راقم کو حاضری اور فیض یابی کا شرف حاصل ہوا ہے.
برِصغیر میں شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئیاں بہت مشہور و مقبول ہیں اور جنوبی ایشیا میں کئی اہم افراد مختلف مقاصد کے حصول کے لیے ان پر مضامین لکھ چکے ہیں اور شدّ و مدّ سے ان کے مطالب پر معرکہ آرا تقاریر کر چکے ہیں.
حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کا فارسی دیوان، قدیم اور مستند قلمی نسخے پیش نظر رکھ کر کئی محققین نے مرتّب و مدوّن کر کے شائع کیا ہے جس میں چند مقامات پر ایسے اشعار ضرور موجود ہیں جو پیش گوئیوں کے زمرے میں آتے ہیں. ان اشعار کی تعداد زیادہ نہیں ہے. کچھ اشعار ایسے ہیں جن میں عمومی مذہبی و معاشرتی حالات کی خرابی اور اخلاق و کردار کی نا گفتہ بِہ صورت کا بیان ملتا ہے، جنھیں قربِ قیامت کی عام نشانیاں کہا جاتا ہے اور ایسے موضوعات دیگر متعدد شاعروں مثلاً حکیم سنائی غزنوی اور حکیم ناصر خسرو وغیرہ بلکہ ان کے پیش رووں کے کلام میں بھی ملتے ہیں. قربِ قیامت کے آثار و علائم کا بیان تو ہزاروں سال سے ابراہیمی اور غیر ابراہیمی مذاہب میں ہوتا آیا ہے اور اس موضوع پر بہت زیادہ منظوم اور منثور ذخیرہء تخلیق موجود ہے.
برِصغیر میں بالکل غیر تحقیقی انداز میں چھپنے والے شاہ نعمت اللہ ولی کے دیوان میں پیش گوئیوں پر مبنی اشعار کی تعداد خاصی زیادہ ہے. ہمارے ہاں ان سے منسوب پیش گوئیاں الگ بھی شائع ہوئی ہیں جن کی مختلف اشاعتوں میں اشعار کی تعداد کم و بیش ملتی ہے. بعض کتابچوں میں ہزار سے زائد اشعار بھی پائے جاتے ہیں. ان میں ہر شعبہء زندگی سے متعلق حیرت انگیز پیش گوئیاں موجود ہیں۔ چوں کہ ان میں سے بہت سی پیش گوئیاں درست ہو چکی ہیں، اس لیے اب گویا باقی ماندہ بھی یقیناً درست ثابت ہوں گی. برصغیر میں شائع ہونے والے ان کتابچوں کی کچھ غیر تحقیقی اشاعتیں افغانستان اور ایران میں بھی ہوئی ہیں جن میں محض تاجرانہ مفادات کو دخل ہے. بعض فاضل حضرات نے ان پیش گوئیوں کی مفصّل شرحیں بھی لکھی ہیں. اکا دکا کتابچے اور کچھ متفرق مضامین اس جعل سازی کے رد میں بھی لکھے گئے لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کی طرح ان کی شنوائی اور پذیرائی نہ ہو سکی.
اس کلام کو کامل اعتماد کے ساتھ وضعی، الحاقی، منسوب اور ناقابلِ اعتنا قرار دے دینا چاہیے. اس سلسلے میں مندرجہ ذیل حقائق اور شواہد پیش نظر رکھنا ضروری ہیں :
١- دیوانِ شاہ نعمت اللہ ولی کے قدیم ترین قلمی نسخوں میں یہ اشعار موجود نہیں ہیں. ان اشعار کے پرانے نسخے اگر ملتے بھی ہیں تو بہت بعد کے زمانے کے ہیں اور ان میں سے ایک بھی حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کے وطن ایران میں کتابت نہیں ہوا.
٢- دیوان کی معتبر اور مستند اشاعتوں میں یہ اشعار شامل نہیں ہیں اور نہ کسی ذمہ دار مرتّب نے، ایک آدھ سرسری سے جملے کے علاوہ، ان پیش گوئیوں پر کلام کیا ہے.
٣- فارسی کے کسی اہم ایرانی، افغانی، پاکستانی یا کسی دوسرے ملک کے محقّق نے موجودہ دور میں رائج ان پیش گوئیوں کو حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کا کلام نہیں مانا اور ان پر کچھ نہیں لکھا. اگر یہ کلام درست ہوتا تو بہت بڑا موضوعِ تحقیق ہوتا اور اس پر بڑی سنجیدگی اور ذمہ داری سے تحقیقی مضامین اور کتابیں لکھی جاتیں۔
٤- حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کے سلسلہء طریقت ” نعمت اللہی” کے معتبر افراد نے بھی کبھی ان اشعار کو اپنے بانیِ سلسلہ سے منسوب نہیں کیا. اس سلسلے کے اہم مشائخ اور محققین ایران، امریکا اور یورپ میں مقیم ہیں اور اپنے سلسلے، اس کے بانی اور دیگر مشائخ کے بارے میں معیاری کتابیں شائع کرتے رہتے ہیں. اگر یہ کلام درست ہوتا تو مذکورہ افراد اس کی طرف یقیناً متوجّہ ہوتے اور فخریّہ انداز میں اس پر دادِ تحقیق دیتے.
٥- یہ کلام زبان و بیان کی خامیوں اور اسلوب کی نا رسائیوں سے بھرا ہوا ہے، جا بجا تلفّظ کی تکلیف دہ غلطیاں ہیں جن کی کسی اہل زبان اور تیسرے درجے کے شاعر سے بھی توقع نہیں کی جا سکتی. استعمال کیے گئے بہت سے الفاظ کی تاریخ زیادہ قدیم نہیں ہے اور متعدّد الفاظ ایسے بھی ہیں جو کبھی ایرانی فارسی میں رائج نہیں رہے اور کبھی کسی ایرانی شاعر نے استعمال نہیں کیے. ایسے غیر معیاری کلام کو حضرت شاہ نعمت اللہ ولی جیسے عظیم عارف و شاعر سے منسوب کرنا بہت بڑی جسارت ہے اور ان کے روحانی اور ادبی مرتبے کو گھٹانے کے مترادف ہے.
٦- یہ اشعار مختلف علاقوں اور مختلف ادوار میں مختلف توہّم پرست، ضعیف العقیدہ یا کاروباری ذہنیت رکھنے والے ہوشیار افراد نے گھڑے ہیں، اسی لیے نہ ان کا زبان و بیان کا معیار ایک سا ہے اور نہ ہی اسلوب. اسی بنا پر بعض لوگوں نے دبے لفظوں میں انھیں کئی مقامی نعمت اللہوں کی طرف نسبت دینے کی نیم دلانہ کوششیں بھی کی ہیں، کسی نے نعمت اللہ کشمیری کہا، کسی نے نعمت اللہ بنگالی و علی ھذا القیاس. یہ تمام نام بھی مجہول الاحوال ہیں اور یقیناً کچھ مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے گھڑے گئے ہیں.
(معین نظامی صاحب)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post