’’بنتِ حوا ہوں میں‘‘ کے نام سے ایک خوب صورت شام : مسرت عباس ندرالوی


تحریر و تصاویر – مسرت عباس ندرالوی
دوبئی عائشہ شیخ عاشی نے پاکستان ایسوسی ایشن دوبئی اور نیاز مسلم لائیبریری کے تعاون سے حال ہی میں بزمِ صدف کی طرف سے نئی نسل ایوارڈ – 2019 حاصل کرنے والی نظم کی نمائیندہ شاعرہ محترمہ ڈاکٹر ثروت زہرہ کے اعزاز میں (بنتِ حوا ہوں میں ) کے عنوان کے تحت ایک خوبصورت شام کا انعقاد کیا. جس میں متحدہ عرب امارات میں موجود پاکستانی اور ہندوستانی ادبی ، سماجی اور سیاسی حلقوں سے معروف شخصیات نے بھرپور شرکت کی.
محفل کی صدارت جناب ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی صاحب نے کی اورمتحدہ عرب امارات کی دلداہ شخصیت اور اردو سے محبت رکھنے والے جناب محترم عزت مآب بو عبداللہ صاحب مہمانِ خصوصی تھے جو پروگرام میں نہ صرف آخر تک موجود رہے بلکہ تمام شعرا کو ان کے کلام پر داد و تحسین سے بھی نوازتے رہے. جناب بو عبداللہ صاحب نے صاحبِ شام محترمہ ڈاکٹر ثروت زہرہ صاحبہ کو پھولوں کا گلدستہ بھی ہیش کیا.
دیگر مہمانوں میں ہندوستان سے خصوصی طور پر تشریف لانے والے اور دوبئی میں کئی مشاعرے انعقاد کرنے والے جناب طارق فیضی صاحب ، پاکستان پیپلز پارٹی گلف کے صدر اور ہنس گلوبل کے چیرمین جناب میاں منیر ہنس صاحب ، بزمِ اردو دوبئی کے روحِ رواں جناب ریحان خان صاحب ، سندھی ادب کی معروف شخصیت جناب پیر محمد کیلاش صاحب ، معروف سماجی شخصیت محترمہ شہناز خانم صاحبہ ،ادبی حلقے کی جانی پہچانی شخصیت محترمہ ثمینہ صاحبہ اور نیاز مسلم لائیبری سے جناب ناصر اقبال صاحب نے پروگرام میں خصوصی طور پر تشریف کی اور آخر تک محفل میں موجود رہے.
محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرانِ پاک سے گیا جس کا شرف نوجوان شاعر حسین شاہ زاد نے حاصل کیا اور معروف نعت گو شاعر جناب مقصود احمد تبسم صاحب نے نعتِ رسولِ مقبول پیش کی.
پروگرام کو دو حصوں میں منعقد کیا گیا، پہلے حصے کی نظامت کے فرائض جناب شرافت علی شاہ صاحب نے انجام دیئے جس میں امجد اقبال امجد صاحب، ترنم ناز صاحبہ ، احیاالسلام بھوجپوری صاحب محترمہ ثمینہ صاحبہ اور ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی صاحب نے ڈاکٹر ثروت زہرہ کو بھرپور الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی ادبی خدمات اور ادبی سفر شعری اسلوب و لب و لہجہ پر مختصر مگر جامعہ گفتگو کی اور ان کو نئی نسل ایوارڈ پر مبارک باد دی.
دوسرے حصے کی نظامت عائشہ شیخ عاشی نے اپنے خوبصورت انداز میں کی جس میں امارات بھر سے مدعو شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور داد و تحسین سمیٹی.
شعرا میں سید مسعود نقوی، حنا عباس، مادھو نور،افشاں جبین ، ابرار عمر ، سمیعہ ناز ملک ، ترنم احمد، حسین شاہ زاد، نصرت حسین، مسکان سید، علی زیرک، رضا احمد رضا،عائشہ شیخ عاشی ، مسرت عباس، حفیظ عامر ، کنول ملک ، امجد اقبال امجد، شاداب الفت ، احیاالاسلام بھوجپوری، آصف رشید اسجد، مقصود احمد تبسم، ڈاکٹر ثروت زہرہ اور صدرِ محفل جناب ڈاکٹر صباحت عاصم واسظی صاحب شامل تھے.
پروگرام کے آخر میں میزبان عائشہ شیخ عاشی اور جناب ناصر اقبال صاحب نے سب کا شکریہ ادا کیا اور تمام شرکا نے بھی میزبان اور صاحب شام کو خوبصورت محفل کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی.
آخر میں شرکا نے ریفریشمنٹ کے ساتھ ساتھ تمام شعرا کے ساتھ تصاویر بھی لیں اور غیر رسمی گفتگو سے لطف اندوز ہوتے رہے.
محفل کی تصویری جھلکیاں اور شعرا کا چیدہ چیدہ کلام پیشِ خدمت ہے
1- سید مسعود نقوی
جب سے میں نے خرید لی ہے گھڑی
وقت کی مجھ پہ حکمرانی ہے
2- افشاں جبین
میری ہجرت میں جو کہانی ہے
ہر کسی کو نہیں سنانی ہے
3- حنا عباس
سچ کی خاطر بتا تُو لڑا ہے کبھی
حق پہ رہ کر قدم بھر چلا ہے کبھی
4- مادھو نور
میں ادا کرتا ہوں ہر ناقد کا مرے شکریہ
صاف رکھتا ہے مرا کردار جو تنقید سے
5- سمیعہ ناز ملک
مذھب سے مفر کیوں کرممکن ہے کسی کا بھی
واجب ہے مگر پہلے ہر آدمی انساں ہو
6- مسکان سید
کہ جیسے جسم کو اچھی غذا ضروری ہے
اسی طرح ہمیں ذکرِ خدا ضروری ہے
7- ابرار عمر
سحر کے بعد جلائے گئے چراغ ہیں ہم
ہمیں ہوا سے نہیں روشنی سے خطرہ ہے
8- نصرت حسین
وہی خلوص وہی سادگی وہی احساس
مجھے تو لگتی ہے ہر ماں ہی اپنی ماں جیسی
9- ترنم احمد ناز
میرا وجود کیا ہے
ایک بیٹی بن کے رہنا
کبھی بن گئی میں بہنا
پھر ہو گئی کسی کی پہن کے جوڑا گہنا
میرا وجود کیا ہے
10- حسین شاہ زاد
اب تو ہر گھر کے مکیں شام کو مل بیٹھتے ہیں
شہر کے روز بگڑتے ہوئے حالات پہ واہ
11- علی زیرک
کچھ کھلونے خریدنے تھے مجھے
جا فقیرا تجھے خدا پوچھے
12- حفیظ عامر
قیس کے بعد نیا کوئی فسانہ نہیں آیا
اس کا مطلب ابھی میرا زمانہ نہیں آیا
13- رضا احمد رضا
رستہ بھی خاک ہے میرا منزل بھی خاک ہے
دونوں کے درمیان میں حاحل بھی خاک ہے
14- عائشہ شیخ عاشی
تجھے جو دیکھا تو یاد آیا
زمانہ کتنا بدل چکا ہے
15- مسرت عباس ندرالوی
ہر روز تو ڈالی نہیں جاتی ہیں دھمالیں
ہر روز تو ہم وجد میں آیا نہیں کرتے
16- کنول ملک
میں چاہتی ہوں کہ یہ دن کبھی غروب نہ ہو
سو میں نے وعدہِ فردا نہیں کیا تم سے
17- امجد اقبال امجد
زندگی میں امنگ چاہتا ہوں
جینا میں تیرے سنگ چاہتا ہوں
18- احیا بھوجپوری
جب مصیبت کبھی خود پہ احیا پڑی
فلسفہ سب دھرا کا دھرا رہ گیا
19- شاداب الفت
غیر ممکن ہے تمھارا جو دیوانہ ہووے
اور محشر میں پریشان اٹھایا جائے
20- آصف رشید اسجد
اب یہاں بیٹھا ہوا ہوں میں اداسی اوڑھ کر
بیٹیوں کو چھوڑ کر گھر پر نکل آیا ہوں میں
21- ڈاکٹر ثروت زہرہ
بنتِ حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
22- مقصود احمد تبسم
جگانے کی اُن میں کب تھی جرات بس اپنے کافوری ہونٹ رکھ کر
ادب سے روح الامین چومے میرے نبی ﷺ کے حسین تلوے
23- ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
ہیں اک مکان میں کنبے الگ الگ آباد
اب ایک گھر میں نہیں ایک خاندان کے لوگ



You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post