مسجدِ قرطبہ ۔۔۔ توضیح و تنقیدی مطالعہ : ڈاکٹر فرمان فتح پوری

ڈاکٹرفرمان فتح پوری
ڈاکٹر فرمان فتح پوری
تعارف اور پس منظر
علامّہ اقبال اکتو بر ۱۹۳۲ء میں تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن روانہ ہوئے۔ کانفرنس سے فارغ ہونے کے بعد پیرس ہوتے ہوئے جنوری ۱۹۳۳ء میں ہسپانیہ پہنچے۔ ہسپانیہ کے وزیر تعلیم پروفیسر آسن کی درخواست پر انھوںنے میڈرڈ یونی ورسٹی میں … The Intetllectual World of Islam and Spainکے موضوع پر لکچر دیا۔ اس سفر کے دوران میں‘ انھیں ہسپانیہ کے کئی دوسرے شہروں (طلیطلہ‘ قرطبہ‘ غرناطہ اور اشبیلیہ)کی سیاحت کا موقع ملا۔ ہسپانیہ صدیوں تک مسلم تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے ۔ اس لیے اقبال کو اس خطے سے خصوصی تعلق خاطر تھا۔ نظم ’’ ہسپانیہ‘‘میںکہتے ہیں:
ہسپانیہ تو خون مسلماں کا امیں ہے
مانند حرمِ پاک ہے تو میری نظر میں
پوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیں
خاموش اذانیں ہیں تری باد سحر میں
ہسپانیہ کے ۲۵ روزہ سفر کے بارے میں شیخ محمد اکرم کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’میں اپنی سیاحت اندلس سے بے حد لذت گیر ہوا۔ وہاں دوسری نظموںکے علاوہ ایک نظم مسجد قرطبہ پر بھی لکھی۔ الحمرا کا تو مجھ پر کچھ زیادہ اثر نہ ہوا لیکن مسجد کی زیارت نے مجھے جذبات کی ایسی رفعت تک پہنچا دیا جو مجھے پہلے کبھی نصیب نہ ہوئی تھی‘‘۔ ( اقبال نامہ‘ دوم: ص ۳۲۱)
زیارتِ مسجد کا دل چسپ واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ اقبال مسجد میں پہنچے تو بے اختیار چاہا کہ مسجد میں تحیۃ المسجد کے نفل ادا کریں۔ عمارت کے نگران سے نفل ادا کرنے کی اجازت مانگی تو اس نے کہا:میں بڑے پادری سے پوچھ آؤں۔ اُدھر و ہ پوچھنے گیا، اِدھر علامّہ نے نیت باندھ لی اور اس کے واپس آنے سے پہلے ہی اداے نماز سے فارغ ہوگئے۔ (ذکرِ اقبال:ص ۱۸۵)بعض روایات کے مطابق اقبال نے مسجد میں اذان بھی کہی۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے:ڈاکٹر صدیق جاوید کا مضمون’’ اقبال مسجد قرطبہ میں‘‘۔ مشمولہ، اقبال، اقبال پر تحقیقی مقالے: ص ۱۱۵- ۱۴۴) بہرحال یہ نظم علامّہ کی زیارتِ مسجد قرطبہ( ۱۹۳۳ء ) کی یادگار ہے اور جیسا کہ خوداقبال نے وضاحت کی ہے : ’’ یہ ہسپانیہ کی سرزمین بالخصوص قرطبہ میں لکھی گئی‘‘۔ بالِ جبریل کی ایک اور نظم ’’ دعا‘‘ مسجد کے اندر لکھی گئی۔
قرطبہ اور مسجد قرطبہ
قرطبہ(Cordova)اسپین کے صوبہ اندلوزیا(اندلس) کا معروف شہر ہے۔ مسلمانوں کے دورِ حکومت میں صدر مقام رہا۔ آج بھی اس کے قدیم حصے میں واقع دروازوں ‘ تنگ اور پر پیچ گلیوں ‘ برجوں اور فصیل کے باقی ماندہ حصوں کی صورت میں قرطبہ کی عظمتِ رفتہ کے نشانات باقی ہیں۔ سونے اور چاندی کے پانی سے نقش نگاری کی صنعت آج بھی قرطبہ میں زندہ ہے۔
قرطبہ کی تاریخ کئی سال قبل مسیح پرانی ہے۔ قرطبہ سب سے پہلے ۷۱۱ء میں مسلمانوں کے زیر تسلط آیا۔ عبدالرحمن اول ( ۷۵۶- ۷۸۸ئ) نے قرطبہ کو اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنایا اور یہاں مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی۔ کسی زمانے میں یہاں سینٹ ونسٹ کا گرجا واقع تھا۔ مسلمانوں نے ۷۱۱ء میں اس کے ایک حصے کو مسجد بنا لیا تھا۔اب عبدالرحمن نے ایک لاکھ دینار کے عوض گرجے کا باقی حصہ خرید لیا اور یہاں مسجد تعمیر کی گئی۔
مسجد کا نقشہ عبدالرحمن الداخل (اول )نے خود ہی تیار کیا ۔ اور تعمیر میں پہلی اینٹ بھی بہ نفس نفیس خود ہی رکھی۔ وہ بلانا غہ تعمیر مسجد کی نگہداشت کرتا بلکہ ایک روایت کے مطابق وہ روزانہ کچھ وقت کے لیے خود بھی معماروں اور مزدوروں کے شانہ بشانہ کام کرتا تھا۔اس نے جگہ جگہ سے قیمتی پتھر اکٹھے کیے۔ سارا فرش سنگ مرمر کا بنوایا۔ چھت میں نقش و نگار بنوائے۔ دیواروں کو مزین کیا۔ستونوں کو آراستہ و پیراستہ کیا۔ لمبے چوڑے دروازے اور خوش نما اور خوش شکل محرابیں بنوائیں۔ صنّاع اور نقش بنانے والے دوردور سے منگوائے گئے اور انھیں ہدایت کی گئی کہ مسجد کی خوب صورتی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا جائے۔ اس کی تعمیر میں تقریباً ایک لاکھ دینار خرچ ہوئے۔ ہال کے صدر دروازے کے باہر ایک باغیچہ اور وضو کے لیے تالاب بھی بنایا گیا۔
عبدالرحمن اول کی وفات کے بعد اس کے لائق فرزند ہشام اول( ۷۸۸ئ- ۷۹۶ئ) نے مسجد قرطبہ کی تعمیر کاکام جاری رکھا۔وہ بھی اپنے والد کی طرح مزدوروں کے دوش بدوش تعمیر میں حصہ لیتا تھا۔ اس نے دوردور سے مختلف قسم کے پتھر اور مصالحے منگوائے۔ مجموعی طور پر اس نے ایک لاکھ ساٹھ ہزار دینار کی رقم مسجد کی تکمیل و زیبایش پر خرچ کی۔ عبدالرحمن دوم ( ۸۲۱ئ۔ ۸۵۲ئ) نے جنوب مشرق کی سمت مسجد کے رقبے میں توسیع کی۔ توسیع کے ساتھ ساتھ نقش و نگار کے ذریعے مسجد کے ظاہر ی حسن و زیبایش میں بھی اضافہ کیاگیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اندلس کے شاہان اموی مسجد قرطبہ کی توسیع‘ اس کی شان و شوکت‘ زیب و زینت اور خوب صورتی میں اضافے کو اپنا دینی فرض سمجھتے تھے۔ عبدالرحمن ناصر ( وفات: ۹۴۱ئ) کے زمانے میں اس مسجد کی دل کشی اور حسن کا یہ عالم تھا کہ لوگ دور دور سے اس کی زیارت کو آتے تھے۔
الحکم ثانی نے ۱۵ اکتوبر ۹۴۱ء کو تخت نشین ہوتے ہی مسجد میں فوری توسیع کا حکم دیا۔ چنانچہ جنوب مشرقی سمت ہی میں عبدالرحمن دوم کی توسیع میں مزید اضافہ کیا گیا۔ یہ توسیع بھی قبلہ رخ تھی۔ مرکزی محراب بھی از سر نو بنائی گئی۔ یہی محراب آج کل زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ اس محراب کے ا وپر ایک چھوٹا سا گنبد بھی تعمیر کیا گیا۔
الحکم ثانی کی توسیع‘ فن تعمیر کے نقطۂ نظر اور ظاہری حسن و جمال کے لحاظ سے بھی‘ مسجد کی سابقہ توسیعات پر فوقیت رکھتی ہے۔ اس توسیع پر ہال میں بنائے گئے محرابوں کے سہاروں کے لیے نیلے اور سرخ رنگ کے پتھراستعمال کیے گئے تھے۔
آخری توسیع ۹۸۷ء اور ۹۹۰ء کے درمیان محمد بن ابی عامر ( المعروف :المنصور )کے عہد اقتدار میں ہوئی ہے۔ اس موقع پر جنوب مشرق کی سمت اضافے کی گنجایش نہیں تھی کیوں کہ دریا قریب تھا‘ اس لیے المنصور نے مسجد کی شمال مشرقی دیوار یں گرا کر نماز ہال کے رقبے میں اضافہ کیا۔ مسجد پہلے مستطیل شکل میں تھی‘ اب وہ مربع شکل اختیار کر گئی۔ صحن میں واقع باغیچے کے رقبے میں بھی توسیع ہو گئی۔ اس باغیچے میں وضو کے لیے حوض بنائے گئے تھے۔ پہاڑوں سے گرنے والی نہروں کے ذریعے ان میں پانی جمع ہوتا تھا۔
مسجد کامینار پہلی بار ہشام نے بنوایا تھا۔ عبدالرحمن ثانی کے دور میں صحن میں اضافے کی وجہ سے اسے گرا کر موجودہ چار منزلہ مینار تعمیر کیا گیا جو ۴۰ میٹر بلند اور چو گوشا ہے۔ یہ اپنے دور میں فن تعمیر کا ایک ایسا شاہ کار نمونہ تھا کہ مراکش کی بعض مساجد کے مینار اس کی نقل میں بنائے گے اور اشبیلیہ کا جیرالڈا بھی اسی طرز پر تعمیر کیا گیا۔ اب اس مینار میں مسیحیوں نے متعدد تبدیلیاں کی ہیں اور اس میں گھنٹیاں لٹکا کر ‘ اسے ’’ گرجا گھر مینار‘‘ (Cathedrea Tower) بنا لیا ہے۔
اصل مسجد میں ستونوں کی تعداد بارہ سو سے زائد تھی۔ تین چار سو کلیسا کی نذر ہو گئے‘ اب آٹھ سو سے کچھ زائد باقی ہیںمگر ان کا حسن و جمال اب بھی‘ دیکھنے والوں کو لبھاتا ہے۔ ان پر جس زاویے سے جدھر سے نظر دوڑائیں، ایک تناسب اور موزونیت کا احساس ہوتا ہے۔ قطار اندر قطار ستونوں اور محراب بر محراب کے سلسلے کو دیکھ کر بے اختیار علامّہ اقبال کا مصرع ذہن میں گونجتا ہے:
شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیل
عیسائی تسلط کے بعد مسجد قرطبہ کے محرابوں اور دیواروں پر لکھی ہوئی آیات کو پلاسٹر سے چھپا دیا گیاتھا۔ یہ صورت حال کئی سو سال تک برقرار رہی۔ یہاں تک کہ یورپ میں نشأت ثانیہ کے دور کا آغاز ہوا ۔ جدید علوم کی روشنی پھیلی اور مذہبی تعصّب میں کمی ہوئی تو مسجد قرطبہ کو عیسائی راہبوںسے لے کر محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کیا گیا۔ انھوں نے پلاسٹر اتارا تو قرآنی آیات کے نقوش اسی آن بان اور حسن و جمال کے ساتھ دوبارہ نظر آنے لگے۔ چھتوں پر لکڑی کا کام بھی بدستور موجود ہے۔ یہی چیز ہے جسے اقبال نے ’’ رنگِ ثباتِ دوام ‘‘ کہا ہے۔
فکری جائزہ
’’ مسجد قرطبہ‘‘ کے مباحث کو مندرجہ ذیل عنوانات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ کائنات کاتکوینی نظام ۲۔ نظریۂ فن
۳۔ نظریۂ عشق ۴۔ مسجد قرطبہ کا جلال و جمال
۵۔ مرد مومن ۶۔ مسلم ہسپانیہ کی عظمت و شکوہ
۷۔ اندلس میں احیاے اسلام
٭کائنات کا تکوینی نظام:
’’ مسجد قرطبہ‘‘ میں شاعر نے سب سے پہلے زمانے کی اصل حقیقت اور کائنات میں برپا ہونے والے انقلابات کی ماہیت پر روشنی ڈالی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس نے تمہیداً کائنات کے تکوینی نظام کو واضح کیا ہے۔ یہ سلسلۂ خیال پہلے بند میں منظم شکل میں مربوط اشعار کے ذریعے بیان ہوا ہے جسے ترتیب وار یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
۱۔ اللہ تعالیٰ نے روز و شب کا سلسلہ ایک خاص ارادے کے تحت اور ایک خاص مقصد کے خاطر تخلیق کیا ہے۔ کائنات میں واقع ہونے والے تغیرات و حادثات کا اس تخلیق سے گہرا تعلق ہے۔ پیدایش‘ موت اور ہر نوعیت کی دیگر تبدیلیاں اس خدائی نظام کا حصہ اور اس کے جاری رہنے کا لازمی تقاضا ہیں۔
۲۔ سلسلۂ روز و شب یعنی خدائی نظام کے جاری رہنے سے ہمیں ذات باری تعالیٰ کی صفات کا عرفان ہوتا ہے۔ کائنات کی رنگارنگ کیفیتیں اور نوع بہ نوع تبدیلیاں در حقیقت ذریعہ ہیں اس کو پہچاننے کا ۔ اسماے الہٰی ننانوے ہیں‘ مثلاً: علیم‘ خبیر‘ خالق‘ قادر‘ حی ‘ قیوم‘ سمیع وغیر ہ اور یہی اس کی صفات ہیں۔
۳۔ خدا کی یہ کائنات‘ وسعت کے لحاظ سے بے حدو حساب اور لامتناہی ہے۔ اسی طرح اس کے اندر واقع ہونے والی تبدیلیاں اور انقلابات بھی لا محدود ہیں ۔یہ صورتِ حال کائنات کے غیر مختتم امکانات کو ظاہر کر تی ہے۔ یعنی انسان اپنے باطن میں پوشیدہ صلاحیتوں سے کام لے کر اور کائنات کے وسائل کے ذریعے‘ اصلاح ذات سے لے کر تسخیر کائنات تک کا کارنامہ انجام دے سکتا ہے اور یہ ’’ ساز ازل‘‘ ( تخلیق کائنات) کی تکمیل ہوگی۔
۴۔فرد یاقوم کو یہ فریضہ انجام دیتے ہوئے خیال رکھنا ہوگا کہ زمانہ ایسا صیرفیِ کائنات ہے جو کھری اور کھوٹی چیز کو پر کھ کر الگ الگ کر دیتا ہے۔ یہاں صرف کھرے سکوں کا چلن ہے۔ زمانہ صرف اس فرد اور قوم کو بقا کی ضمانت دیتا ہے جو ہمیشہ اپنے اعمال و افعال کا جائزہ لیتی رہتی ہے:
کرتی ہے جو ہر زماں‘ اپنے عمل کا حساب
۵۔ اگر اس معاملے میں ذرا بھی کوتاہی کی جائے تو زمانہ ایسا بے لاگ منصف ہے جو کسی سے رو رعایت نہیں کرتا۔ زمانے کے ہاتھوں ہر شے ہلاک اور فنا ہو جانے والی ہے اور یہ خدا کا تکوینی نظام ہے۔ اس مفہوم کو شاعر نے پہلے بند کے آخری شعر میں بہ تمام و کمال بڑی خوب صورتی سے بیان کیا ہے۔
٭نظریۂ فن:
’’ اول وآخر فنا‘‘ کہہ کر شاعر نے قدرت کے تکوینی نظام کا جو قاعدہ کلیہ بیان کیا تھا‘ دوسرے بند کے پہلے شعر کے ذریعے اس میں ایک استثنائی صورت پیدا کی ہے کہ صرف وہ چیز فنا کی دست برد سے بچ سکتی ہے جس کی تخلیق میں کسی ’’ مردِ خدا‘‘ کا ہاتھ ہو۔ تیسرے بند کے دو اشعار ( نمبر ۲‘۳) اور نظم کا سب سے آخری شعر ‘ اسی سلسلۂ خیال کی کڑیاں ہیں۔ جس میں اقبال نے درحقیقت اپنے نظریۂ فن کی اہم ترین خصوصیت بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ فن مصوری کا ہو یا سنگ تراشی‘ تعمیر ‘ موسیقی ‘ نغمہ اور شاعری کا ‘ محنت پیہم اور لگن کے بغیر اس میں پختگی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ اسے بقاحاصل ہو سکتی ہے ۔ کسی بھی فنی نقش میں ’’رنگِ ثباتِ دوام‘‘ پیدا کرنے کے لیے بقول میرؔ:’’بڑی خوش سلیقگی سے جگر خوں‘‘ کرنا پڑ تا ہے۔ اقبال نے دوسرے مقامات پر بھی فنی تکمیل کے لیے خون جگر کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا ہے:
بے محنتِ پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا
روشن شررِ تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد
٭نظریۂ عشق:
کسی نقش میں رنگ ثبات دوام کے لیے اقبال نے شرط یہ عائد کی تھی کہ اس کی تکمیل کسی مردِ خدا کے ہاتھوں انجام پائی ہو۔ اقبال کے ہاں مردخدا اور کیفیت ِ عشق لازم وملزوم ہیں‘ اسی لیے انھوں نے کہا:
مردِ خدا کا عمل ‘ عشق سے صاحب فروغ
اور یہاں سے سلسلۂ خیال کا رخ عشق کی طرف مڑ جاتا ہے۔ دوسر ے بند کے اختتام تک عشق کی اصلیت و حقیقت ‘ اس کی مختلف کیفیتوں ‘ اس کی قو ّت‘ عظمت اور شان و شوکت کا بیان ہوا ہے۔
’’مسجد قرطبہ ‘‘ میں اقبال نے ایک نئی جہت سے عشق کے تصو ّر کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا نظریۂ عشق یہاں انتہائی کامل (saturated)صورت میں نظر آتا ہے۔ اس کے اہم پہلو یہ ہیں:
۱۔ ’’ مسجد قرطبہ‘‘ کے حوالے سے نظریۂ عشق کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ زمانے اور سلسلۂ روزو شب سے سلسلۂ خیال ملایا جائے تو ہم یوں کہیں گے کہ زمانہ، کائنات کی ہر شے کو فنا کر دینے والا ہے مگر عشق کو استثنا حاصل ہے۔ پہلے بند میں اقبال نے کہا تھا: ع
ایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ رات
اور:
اول و آخر فنا ‘ باطن و ظاہر فنا
مگر عشق کے پاس زمانے کی رو( جو فنا کا دوسرا نام ہے) کے زہر کا تریاق موجود ہے۔ اس لحاظ سے وہ سب سے بڑی حقیقت ہونے کے ساتھ ساتھ کائنات کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے۔
الف۔ عشق کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے… جیسے :خدا کا کلام
ب۔ عشق غیر فانی ہے… جیسے :دم جبرئیل
ج۔ عشق کائنات کی مقدس ترین چیز ہے… جیسے: خدا کا رسولؐ
د۔ عشق کائنات کی سب سے پاکیزہ شے ہے… جیسے :دل مصطفی
ہ ۔ عشق ہی کائنات میں مقتدر اور حکمران ہے… جیسے: فقیہِ حرم اور امیرِ جنود
و علیٰ ہٰذا القیاس۔
۳۔ حیات و کائنات کی بقا کا انحصار عشق پر ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چیز متذکرہ بالا خصوصیات کی حامل ہوگی‘ وہی کائنات کا مرکز و محور ہوگی۔ اسی سے زندگی کے نغمے پھوٹیں گے اور نور ونار حیات بھی اسی کے مرہون منّت ہوں گے۔ یہ عشق کی انتہائی اعلیٰ اور کامل ترین صورت ہے۔ یوں سمجھئے کہ عشق بجلی کی اس رو(Current)کی مانند ہے جس سے کائنات کا پوراکارخانہ چل رہا ہے۔ اگر عشق کی رو منقطع ہو جائے تو پوری کائنات یک بہ یک گہری تاریکی میں ڈوب جائے اور پورا کارخانہ رک جائے۔ اس سے عشق کی حقیقی قو ّت اور طاقت کا انداز لگایا جا سکتا ہے۔
٭مسجد قرطبہ کا جلال و جمال:
عشق کی قو ّت و اہمیت واضح کرنے کے بعد‘ کلام کا رخ نظم کے اصلی موضوع مسجد قرطبہ کی طر ف مڑ جاتا ہے ۔ مسجد قرطبہ کا، جذبۂ عشق سے بہت قریبی تعلق ہے بلکہ مسجد قرطبہ کی بنا ہی پر عشق پر استوار ہے:
اے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجود
یہاں ضمنی طور پر تین باتیں مذکور ہوئی ہیں:
ا۔ نظریۂ فن جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔
ب۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے او ر عظمت آدم کا اعتراف اور
ج۔ شاعر کاذوق و شوق
مؤخر الذکر دونوںپہلو عشق کی مختلف کیفیات ہیں ۔ ان کا سبب عشق ہے۔ تیسرے بند کے آخری پانچ شعر دراصل دوسرے بند کا تکملہ ہیں۔
چوتھے بند میں سلسلۂ خیال پھر مسجد قرطبہ کے وجود سے مربوط ہو جاتا ہے۔ تین اشعار میں اقبال نے مسجد کے جلال و جمال ‘ عظمت و شکوہ ‘ ظاہری حسن و زیبایش اور رعنائی کی طرف نہایت بلیغ انداز میں اشارہ کیا ہے۔ مسجد کے جلال و جمال کے بارے میں عابد علی عابد لکھتے ہیں:
’’ مسجد قرطبہ کی تعمیر میں جو فنی اور جمالیاتی نفاست ملحوظ رکھی گئی ہے ‘ اس کی تعریف میں مشرق و مغرب کے نقاد دفتر کے دفتر لکھ چکے ہیں… رات کے وقت مسجد قرطبہ میں دو ہزار فانوس جگمگ جگمگ کرتے تھے۔ ان فانوسوں کی کیفیت یہ تھی کہ دو بتیاں ایک دوسرے کے اوپر جلتی تھیں۔ ان کے پردوں پر طرح طرح کے نقش و نگار بنے ہوتے تھے جن سے چھن چھن کر روشنی نکلتی تھی۔ جن زنجیروں سے فانوس لٹکے رہتے تھے‘ ان میں کنول کے پھول یا کھجور کے پتے یا انار بنے ہوتے تھے۔ان پر آیاتِ قرآنی کنندہ ہوتی تھیں… چمڑے کے منقش پردے [جن پر] سنہرا روپہلا کام ہوتا تھا… مسجد کی دیواروں پر بھی لٹکادیے جاتے تھے۔ دیواروں کی پچی کاری کے ساتھ ان پردوں کی زیبایش مل کر دوہزار فانوس کی روشنی میں رات کو دل پر کیا اثر پیدا کرتی ہوگی‘ اس کا اندازہ خود ہی کر لیجیے۔ (ماہِ نو، اقبال نمبر: اپریل۱۹۷۰ء ‘ ص ۱۰۸)
مسجد کے نادر الوجود ہونے کا اعتراف متعدد مسیحی مصنّفین ‘ دانش وروںاور فن کاروں نے کیا ہے مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ سولھویں اور سترھویں صدی عیسوی میں مسجد کے عین وسط میں ایک گرجا تعمیر کرکے مسجد کی حیثیت کو مسخ کر دیا گیا ۔ یہ گرجا بلاشبہہ بہت شان دار ہے۔ اس کے نقش و نگار ‘ بت اور تاریخی مناظر ‘ معماروں ‘ نقاشوں اور مصوروں کی مہارت اور فن کاری کا اچھا نمونہ ہیں۔ اس کی تعمیر و تزئین اور آرایش اور مصوری میں یورپ کے بہت سے ممالک کے نامور فن کاروں نے حصہ لیا اور سالہا سال بلکہ نسل در نسل محنت و جگر کاوی میں مشغول رہے ۔ یہ گرجا ۲۴۴ سال میں مکمل ہوا ۔چنانچہ اب یہ پوری عمارت عیسائیوں کے خیال میں‘ بنیادی طور پر کلیسا ہے ‘ نہ کہ مسجد۔ اس عمارت کا سرکاری نام ’’ قرطبہ کا مسجد گرجا‘‘(La Mezquita Catedral de Cordoba)ہے۔ مگریہ گرجا مسجد کے اندر مسجد کو توڑ کر کیسے اور کیوں بنایا گیا؟ اس کا پس منظر دل چسپ ہونے کے ساتھ عبرت انگیز بھی ہے۔
مسیحی حکمران شاہ فرنانڈو سوم کی افواج ۲۹ جون ۱۲۳۶ء کو قرطبہ پر قابض ہوئیں تو شہری اپنا سب کچھ چھوڑ چھا ڑ ‘ جان بچا کر بھاگ نکلے۔ فتح کے فوراً بعد‘ مسجد کے منارِ بلند پر صلیب چڑ ھادی گئی۔ ایک ہفتے کے بعد بشپ نے مسجد کو باضابطہ طور پر گرجے میں تبدیل کر دیا اور یہاں باقاعدگی کے ساتھ عبادت ہونے لگی۔ بعد کے زمانے میں مسجد کے اندر چھوٹے موٹے معبد بنائے جاتے رہے۔ سولھویں صد ی میں بشپ الانسومانرک نے مسجد کو کیتھیڈرل بنانے کا حکم دیا۔ چنانچہ مسجد کے وسطی حصے کی توڑ پھوڑ شروع کر دی گئی۔ یہ ایسی نامعقول حرکت تھی کہ خود مسیحی حلقوں کی طرف سے اس کی مخالفت ہوئی ‘ لیکن بشپ نے اس کی پروا نہیں کی۔ یہ کام میونسپل کونسل کی اجازت کے بغیر شروع کیا گیا تھا‘ اس لیے کونسل نے قرطبہ کے مجسٹریٹ کی تائید سے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا: مسجد کے کسی حصے کی تخریب یا اسے گرانے کی سزا موت ہوگی۔ لیکن پادری ’’ اوپر‘‘ جا کر بادشاہ ( چارلس پنجم)سے اجازت نامہ لے آئے۔( پادریوں نے یہی کہا ہوگا کہ ہم موروں کی چھوڑی ہوئی ایک مسجد میں گرجابنانا چاہتے ہیں‘ مگر ٹاؤن کونسل ہمیں روک رہی ہے) یہ ایک مذہبی معاملہ تھا ۔ بادشاہ نے موقع دیکھے بغیر اجازت دے دی، توڑ پھوڑ اور انہدام پھر جاری ہوگیا۔
تقریباً ایک سال بعد بادشاہ اشبیلیہ جاتے ہوئے قرطبہ سے گزرا تو اسے زندگی میں پہلی بار مسجد دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ( بعض روایات کے مطابق وہ گرجا دیکھنے یا اس کا افتتاح کرنے آیا تھا۔) اسے یہ سب کچھ دیکھ کر شدید صدمہ ہوا اور غصہ بھی آیا۔ اس نے مسجد ڈھانے والوں کے وحشیانہ پن کی مذمت کی اورکہا:’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ مسجد ایسی نادر الوجودچیز ہے تو میں اس میں کسی تبدیلی کی ہرگز اجازت نہ دیتا۔‘‘پھر اس نے براہِ راست پادریوں کو مخاطب کیا:
You have destroyed something irreplacable with a church, one can find everything.
(تم نے ایک ایسی [ نادر الوجود] شے برباد کر ڈالی ہے‘ جس کا بدل ممکن نہیں ۔ اس کی جگہ گرجا تعمیر کیا ہے ۔ ایسے گرجے تو ہر جگہ مل جاتے ہیں۔
ایک اور کتاب میں یہ الفاظ ملتے ہیں:You have undone what is unique in the world.(تم نے ایک منفرد اور بے مثال شے توڑ پھوڑ دی ہے)۔
ڈاکٹر یوسف حسین خاں کے بقول:’’ مسجد قرطبہ ایک جلیل القدر قوم کی جفاکشی ‘ جاں بازی ‘ مہم جوئی‘ او ر بلند خیالی کی زندہ تصویر ہے ‘‘ ۔ ( روح اقبال:ص ۱۰۷)
یہ ذکر تو آچکا ہے کہ علامّہ نے شیخ محمد اکرام کے نام ایک خط میں لکھا :’’ مسجد کی زیارت نے مجھے جذبات کی ایک ایسی رفعت تک پہنچا دیا، جو مجھے پہلے کبھی نصیب نہ ہوئی تھی‘‘۔ ایک اور موقع پر کسی نے علامّہ اقبال سے پوچھا کہ مسجد کو دیکھ کر آپ پر کیا اثر ہوا تھا؟ آپ نے کہا:It is a commentary on the Quran, written in stones.،یہ قرآن پاک کی ایسی تفسیر ہے جو پتھروں کے ذریعے لکھی گئی ہے۔ ( مقالات یوسف سلیم چشتی:ص ۳۶)
علامّہ اقبال ایک پختہ فکر شاعر اور فلسفی تھے اوراس وقت ان کی عمر ۵۶ سال تھی۔ توقع نہیں کی جا سکتی کہ اس عمر میں وہ جذبات کی رو میں بہ گئے ہوں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسجد کا جلال و جمال ہی اس قدر متاثر کرنے والا اور مرعوب کن تھا کہ اس نے اقبال کے جذبات میں ہل چل مچا دی۔ مسجد دیکھ کر واپس آئے تو قرطبہ ہی سے غلام رسول مہر کو لکھا: ’’ مرنے سے پہلے قرطبہ ضرور دیکھو‘‘۔ (گفتار اقبال:ص ۱۶۵)۔ اسی طرح بیٹے جاوید اقبال کے نام خط میں لکھتے ہیں :’’ میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ میں اس مسجد کے دیکھنے کے لیے زندہ رہا۔ یہ مسجد ‘ دنیا کی تمام مساجد سے بہتر ہے۔ خدا کرے تم جوان ہو کر اس عمارت کے انوار سے اپنی آنکھیں روشن کرو‘‘۔ ( گفتارِ اقبال: ص ۱۶۵)
خوش قسمتی سے راقم الحروف کو نومبر ۱۹۹۱ء میں مسجد قرطبہ کی زیارت کا موقع ملا۔اب یہ سرکاری محکمۂ آثارِ قدیمہ کی تحویل میں ہے۔ مسجد کے بیشتر دروازے مستقلاً بند رہتے تھے۔ ہم ۴۰۰ پسی تے ( تقریباً ایک سوروپے ) کا ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوئے۔ میں نے زیارتِ مسجد کی جو رودادِ قلم بند کی تھی ‘ اس کا ایک حصہ ذیل میں درج کرتا ہوں:
’’ چند ہی قدم آگے بڑ ھے تو ستونوں اور محرابوں کا ایک جنگل اچانک سامنے آگیا۔ ایک ایسا سلسلہ جو دور تک چلا گیا تھا،جیسے لامتناہی ہو۔ یہ ایک ٹھٹکا دینے والا منظر تھا۔
میر ے قدم رک گئے۔ یہ منظر مرعوب و مبہوت کر دینے والا تھا اور اس نے مجھے پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ مسجدکے جلال وشکوہ سے ہیبت اور رعب کا احساس ہو رہا تھا۔ اس میں خوف کا عنصر نہ تھا‘بلکہ یہ اس تعجب پر مبنی تھا جو کسی نئی ‘ انتہائی انوکھی ‘ منفرد ‘ نادر و نایاب اور یگانہ و بے مثال شے کو دیکھ کر انسان پر طاری ہو تا ہے اور انسان سوچتا ہے کہ کیا روے زمین پر اور اس کائنات میں یہ کچھ بھی موجود ہے۔
چند لمحوں کے بعد ہم آگے بڑھے۔ ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اگرچہ یہاں مسجد کی روایتی روشن فضا ناپید تھی اور نیم روشن ‘ نیم تاریک ماحول میں ایک الجھن اورایک گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی تاہم قطار اندر قطار ستونوں اور ان کے اوپر سلسلہ در سلسلہ محرابوں کا دل کش نظارہ دامن دل کھینچ رہا تھا۔ اولین تاثر میں جلال و شکوہ غالب تھا ‘ اب آہستہ آہستہ جمال و زیبائی کا کرشمہ ظاہر ہونے لگا تھا۔ ذہن بے اختیار اقبال کے اشعار کی طرف منتقل ہو گیا:
تیرا جلال و جمال ‘ مردِ خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل و جمیل ‘ تو بھی جلیل و جمیل
تیری بنا پایدار‘ تیرے ستوں بے شمار
شام کے صحرا میں ہو ‘ جیسے ہجوم نخیل
اس قدر کامل مشابہت!… مسجد اور اس کے بنانے والوں کے ساتھ ساتھ اقبال کی شاعری اور فن کی عظمت کا احساس تاز ہ ہو گیا۔
ستونوں کے درمیان سے آگے بڑ ھتے ہوئے‘ معلوم ہو رہا تھا جیسے ہم کھجوروں کے کسی مسقف باغ میں گھوم رہے ہیں۔ ہمارا رخ‘ الحکم ثانی کے توسیع کردہ حصے میں واقع محراب کی طرف تھا۔ سر گھماکر دائیں دیکھتے‘ کبھی بائیں ‘ کبھی اونچی محرابی چھتوں پر نظر ڈالتے ۔ بعض حصوں کی چھتیں منقش لکڑی کی تھیں۔ خنکی اور ایک ناگوار باس کا احساس بدستور دامن گیر رہا۔ ستونوں کے اوپر چھت تک محراب در محراب کا سلسلہ ‘ صنّاعی اور فن تعمیر کا ایک انوکھا مظاہر ہ تھا۔ ستون انتہائی ٹھوس اور قیمتی پتھر کے تھے اور مسجد کے مختلف حصوں میں ان کی رنگت جدا جدا تھی۔ محرابوں کے نمونے بھی مختلف تھے۔ وسط میں پہنچے تو کلیساے کبیر نے راستہ روکا۔ خیر‘ ہم اس سے پہلو بچاتے ہوئے آگے بڑھے۔ پھر وہی باغ نخیل کا منظر… ستون قطار اندر قطار اورستونوں کے اوپر محراب بر محراب… مسجد کی اصل اور مرکزی محراب بھی نظر آنے لگی۔مگر ابھی وہ کچھ فاصلے پر تھی۔ ماحول کے سحر نے پھر ہمارے قدم روک لیے۔ ایک حصے کو دیکھتے ‘ کبھی دوسرے حصے کی طرف نظر دوڑاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر حصے کی منقش چھت پر بھی نظر ڈالتے ۔ بعض گنبدوں کے اندر بنی ہوئی محرابوں اور ان کے اطراف میں نقاشی و خطاطی اور پچی کاری کا کام اس باریک بینی و مہارت سے کیا گیا تھا کہ ایک ناظر کے لیے مبہوت ہوئے بغیر چارہ نہ تھا‘‘۔ (پوشیدہ تری خاک میں ‘ ص ۶۰۔۶۱ )
٭ نظریۂ مرد مومن:
مسجد قرطبہ اور مرد مومن میں جلال و جمال کی صفات مشترک ہیں ۔ چنانچہ اقبال کا سلسلۂ خیال مسجد سے مرد مومن کی طرف مڑ جاتا ہے۔ یہاں اقبال نے پہلے تو قرونِ اولیٰ کے ان مسلمانوں کا تذکرہ کیا ہے۔جو اقبال کے مثالی مرد مومن کا نمونہ تھے۔ ان مسلمانوں نے اپنی اولوالعزمی ‘ شجاعت اور بلند کرداری کی بدولت ایک دنیا کو مسخر کرکے مظلوم انسانیت کو امن و محبت اور خوش حالی کا پیغام دیاتھا۔ ان مسلمانوں نے اندلس میں علوم و فنون کو حیرت انگیز انداز میں ترقی عطا کی اور تمدن کی کایا پلٹ دی، حتیٰ کہ یورپ مختلف علوم و فنون میں مسلمانوں سے اکتساب کرنے لگا۔
اور پھر اقبال اپنے مثالی مردِ مومن یا مردِ کامل کی صفات کی طرف متوجّہ ہوتے ہیں۔ پانچواں بند تمام تر اقبال کے نظریۂ مرد مومن کی وضاحت پر مشتمل ہے۔ ’’ تجھ پر ہوا آشکار‘‘ کہہ کر اقبال نے سلسلۂ کلام میں بندۂ مومن کے تصو ّر کو مسجد قرطبہ سے از سرِ نو مربوط کر دیا ہے۔ اس طرح ’’ مسجد قرطبہ‘‘ میں مردِ مومن کے بیان کے دو حصے ہیں:
۱۔ پہلے حصے میں( جو پانچویں بند کے پہلے دو شعروں اور چھٹے بند کے صرف دوسرے شعر پر مشتمل ہے) بندۂ مومن کی عظمت کا اعتراف مسجد قرطبہ کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ مسجد کی بلندی ‘ وسعت‘ خوب صورتی ‘ روشنی‘ اور رعنائی ہی سے مومن کے جلال و جمال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ گویا اس کی شخصیت ‘ مسجد کی صورت میں منعکس ہے۔
دوسرے حصے میں (پانچویں بند کا بقیہ حصہ) مرد مومن کی بعض صفات اور اس کے کردار کے ایسے پہلوؤں کا ذکرکیا گیا ہے ، جن کا تذکرہ قرآن و حدیث اور اسلامی تاریخ میں ملتا ہے۔ اقبال ؒ کا تصو ّر مرد مومن ایک خالصتاً اسلامی نظریہ ہے‘ جس کی اساس قرآن و حدیث ہے اور یہ کہ نیٹشے کا مافوق الفطرت انسان یا الجیلی کا مرد ِکامل اقبال کے مردِ مومن سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔
٭مسلم ہسپانیہ کی عظمت و شکوہ:
مرد مومن اور مسجد قرطبہ ‘ عظمت و رفعت میں ایک دوسرے سے کم نہیں ‘ اس لیے چھٹے بند کے پہلے دو شعروں میں اقبال نے ایک طرف’’ کعبۂ ارباب فن‘ سطوتِ دینِ مبیں‘‘ کہہ کر مسجد کی عظمت کو خراج تحسین پیش کیا اور دوسری طرف قلبِ مسلمان کو اس کی نظیر بنا کر مرد مومن کو جلال و جمال میں مسجد کے برابر درجہ عطا کیا ہے۔ لیکن نظم کے اس حصے میں شاعر کا سلسلۂ خیال اندلس کی حرم مرتبت زمین کی طرف مڑ گیا ہے۔ اقبالؔ نے چھٹے بند میں مسلم ہسپانیہ کی عظمت وشکوہ کا ذکر کیا ہے۔ یہ حصہ دراصل اقبال کے اس مصرع:
مانند حرم پاک ہے تو میری نظر میں
کی تشریح ہے اور اس کا بیان تین پہلوؤں سے ہوا ہے۔
سب سے پہلے ’’ حرم مرتبت اندلس‘‘ کے باسیوں اور عربی شہ سواروں اور ’’ مردان حق‘‘ کا ذکر ہوا ہے۔ جو ’’ حامل خلق عظیم ‘‘ اور ’’صاحب صدق و یقیں ‘‘ تھے۔ اندلس کی سرزمیں پر قدم رکھنے والا مسلمانوں کا سب سے پہلا گروہ عربی النسل لوگوں پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ اپنے اخلاق و کردار اور ذاتی اوصاف کے اعتبار سے صحیح معنوں میں مسلمانوں کی نمایندگی کرتے تھے۔ مسلمانوں کے سپہ سالار طارق ابن زیاد نے ساحل اندلس پر اترتے ہی کشتیوں کو جلا دیا۔ یہ اولین اقدام ہی اس قدر حیران کن اور بظاہر ’’ احمقانہ ‘‘ تھا کہ صاحبان صدق ویقین کے سوا کوئی اور ایسا اقدام نہیں اٹھا سکتا تھا اور کسی دوسر ے گروہ کو جسے صدق و یقین کا عرفان حاصل نہ ہو‘ ایسے اقدام کی کو ئی توجیہ سمجھ بھی نہیں آسکتی۔ نظم’’ طارق کی دعا‘‘ میں اقبال نے ان ’’پراسرار بندوں‘‘ کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی ہے جو ذوق و شوق سے متصف تھے۔
پھر جولوگ ان غازیوں کے وارث بنے ‘ وہ حکمرانی کو اپنے لیے شاہی نہیں ‘ فقر سمجھتے تھے۔ سپین کے مسلم حکمرانوں سے بہت سی قابلِ اعتراض حرکات بھی سر زد ہوئیں ‘ لیکن بحیثیت مجموعی ان کا کردار اپنے دشمنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ باعظمت اور بلند تھا۔ خصوصاً مسجد قرطبہ کی تعمیر میں حصہ لینے والے حکمرانوں کے کردار میں ہمیں ’’ خلق ِ عظیم ‘‘ کی بڑی روشن مثالیں ملتی ہیں۔ مسجد قرطبہ کی بنیاد عبدالرحمن الداخل نے رکھی۔ وہ جلاوطنی میں بے سروسامانی کے عالم میں وطن سے نکلا اور خانہ بدوش کی حیثیت سے صحراؤں اور بیابانوں کی خاک چھانتا پھرا۔ اس کے لیے اپنی جان بچانا مشکل ہو رہا تھا ‘ خطرات اور مشکلات چاروں طرف سے یورش کر رہے تھے۔ مگر اس نے پے در پے آزمایشوں کے باوجود کبھی حوصلہ نہ ہارا۔ آخرکار ایک عظیم الشان ملک کا حکمران بنا:
صبح غربت میں اور چمکا
ٹوٹا ہوا شام کا ستارا
دشمن بھی اس کی دلیری و شجاعت‘ اولوالعزمی‘ عقل و فہم اور حکمت و تدبر کے معترف تھے۔ مؤرخین لکھتے ہیں : ایک بارخلیفہ المنصور کے دربار میں ذکر چھڑا کہ کون شخص ’’صقرِ قریش‘‘ (قریش کا شاہین) خطاب کا مستحق ہے۔ خلیفہ کو امید تھی کہ لوگ اس کا نام لیں گے‘مگر درباریوں نے کہا: انصاف کی نظرسے دیکھا جائے تو اس کا مستحق عبدالرحمن الدّاخل (اول) ہے۔
مسجد قرطبہ کی تعمیر و توسیع میں عبدالرحمن کے بیٹے ہشام کا بھی اہم حصہ ہے۔ وہ ایک عدل پرور‘ سخی اور سادگی پسند حکمران تھا۔ پرتکلف اور ریشمی لباس سے اسے نفرت تھی۔ جاہ وحشمت اور نام و نمود سے کوسوں دور بھاگتا تھا۔ حاجت مندوں کی حاجت روائی اور فریادیوں کی داد رسی کو مقدم جانتا تھا۔ ایک بار اپنے محل میں اضافے کی خاطر وہ زمین کا ایک ٹکڑا خریدنا چاہتا تھا۔ زمین کے مالک سے گفتگو کے دوران پتا چلا کہ ان کا ہمسایہ بھی اسی مکان کے خریدنے کی نیت رکھتا ہے مگر بادشاہ کی وجہ سے خاموش ہے۔ ہشام نے مکان کی خریداری کا ارادہ ترک کر دیا۔ اس کے دور میں ظلم و ستم کا خاتمہ ہو گیا۔ اور ہر طرف خوش حالی اور بے فکری کا دور دورہ ہو گیا۔ مؤرخ علامّہ مقری کا خیال ہے کہ ہشام اپنی عادات و اطوار کے لحاظ سے کسی طرح بھی عمر بن عبدالعزیز سے کم نہ تھا۔ نجی زندگی میں بھی متقی‘ عبادت گزار اور شریعت اسلامی کا سختی سے پابند تھا۔
مسجد میں آخری توسیع اور تکمیل ابن ابی عامر المنصور کے ہاتھوں انجام پائی۔ یہ وہ شخص تھا جس کے جامع کمالات ہونے پر مؤرخ متفق ہیں۔ اس نے اپنے ۲۶سالہ دورِ وزارت میں کم و بیش ۵۶ لڑائیاں لڑیں اور کبھی شکست نہیں کھائی۔ دشمن عیسائی اس کانام سن کر ہی کانپنے لگتے تھے۔ علما ،شاعروں اور ادیبوں کا بے حد قدر دان تھا۔ اس کی فیاضی اور عدل و انصاف کی بے شمار داستانیں مشہور ہیں۔ رات کو گشت کے ذریعے عوام کے حالات معلوم کرتا اور ان کی دادرسی کرتا ۔ اس نے بہت سی نئی عمارتیں‘ پل اور مساجد تعمیر کرائیں۔ جہاد کرتے ہوئے ہمیشہ اس نے شہادت کی آرزو کی مگر پوری نہ ہو سکی۔ اس کی مو ت ایک عظیم المرتبت ‘ باحوصلہ اور جری شخصیت کی موت تھی۔
یہ ان ’’ عربی شہ سواروں ‘‘ میں سے چند ایک کا ذکر ہے جوطارق کے صحرا نشینوں کے وارث اور اقبال کے صاحبان صد ق و صفا تھے اور ان کے کردار میں ’’ خلق ِ عظیم‘‘ کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔نظم ’’ ہسپانیہ‘‘ میں بھی اقبال نے انھی کے بارے میں کہا :
روشن تھیں ستاروں کی طرح ان کی سنانیں
خیمے تھے کبھی جن کے ترے کوہ و کمر میں
یہ لوگ مسلم ہسپانیہ کی عظمت کے امین اور اس کے زندہ نشانات تھے۔
۲۔ پھریہی لوگ تھے جنھوں نے مشرق و مغرب خصوصاً یورپ کو علم و فضل سے روشناس کرایا اور تمدنی آداب سکھائے ۔ ہسپانیہ کا مسلم دورِ حکومت‘ حکمت و روشنی کا ایک ایسا مینا ر تھا جس سے یورپ نے اپنی تاریکیوں کو منور کیا۔ یورپ پر اندلسی مسلمانوں کے احسانات سے تاریخیں بھری پڑ ی ہیں۔یورپ نے کانٹے ‘ چھری ‘نیپکن اور چمچوں کے استعمال سے لے کر طب ‘ جراحی‘ ریاضی ‘ تاریخ اور جغرافیے جیسے علوم و فنون تک ہسپانیہ کے مسلمانوں سے ہی سیکھے۔ مؤرخ لیبان مسلمانوں کے اعلیٰ طبیب اور جراح ہونے کا معترف ہے۔ اندلس کے معروف سرجن ابوالقاسم نے فن جراحی پر ایک یادگار کتاب لکھی تھی۔ یورپ کے عیسائی ‘ اسپین کی مسلم درس گاہوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے وظیفوں پر آیا کرتے تھے۔ مؤرخ ڈوزی کا بیان ہے کہ حکم کے زمانے میں اندلس میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو لکھ پڑ ھ نہ سکتا ہو جبکہ یورپ میں ایک خاص طبقے کے چند لوگوں کے سوا عام آدمی ان پڑ ھ تھے۔ قرطبہ یونی ورسٹی علوم و فنون کے مختلف شعبوں اور تعلیم کے بلند معیار کے سبب دنیا بھر میں مشہور تھی۔
موجودہ انگریزی ہندسوں‘ چینی اور شیشے کے ظروف ‘ انگریزی بالوں ‘ٹیڑھی مانگ‘ سنگار اور بعض خوشبویات تک کے لیے یورپ ہسپانیہ کامرہون منت ہے۔ شہروں کی صفائی ‘ پانی کی بہم رسانی کے لیے موزوں انتظام ‘ مکانات کی کشادگی اور ہوا کی ضرورت‘ سڑکو ں کی چوڑائی اور روشن دانوں کی اہمیت‘ غرض مدنی احساس(Civic Sense) کا سر چشمہ اور منبع بھی اندلسی مسلمان ہیں۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ شمالی سپین کی عیسائی ریاستیںاگرکوئی مسلم علاقہ فتح کر لیتیں تو وہاں کے عیسائی باشندے ان کے حق میں بد دعا کرتے تھے اور یہ آس لگا کر بیٹھ جاتے تھے کہ کب خدا ان ظالموں کے ہاتھ سے نجات دے کر پھر مسلمانوں کو حکمران بناتا ہے جن کے زیرسایہ ان کی آزادی‘ جان و مال‘ عزت و آبرو اور ان کی خانقاہیں اور گرجے محفوظ تھے۔ان سے معمو لی سا ٹیکس لیا جاتا تھا او ر وہ سکھ چین کی زندگی بسر کرتے تھے۔۱۹۳۲ء میں پیرس میں اقبال کی ملاقات فرانس کے عالم میسی نون سے ہوئی ۔ وہ شخص مسلمانوں کے زمانۂ اسپین پر تحقیق کر رہا تھا۔ اس نے دوران ملاقات میں، اقبال کے سامنے اعتراف کیا کہ یورپ پر مسلمانوں کے عظیم احسانات ہیں۔ انھوں نے تہذیبی اعتبارسے یورپ کوبیدار کیا اور تعلیم و معاشرت کے بہت سے شعبوں میں مغرب کی ترقی کے لیے نئے نئے مواقع عطا کیے۔
ہسپانیہ پر مسلمانوں کے دورِحکومت کے تہذیبی و تمدنی اثرات اس قدر دور رس‘ ہمہ پہلو اور گہرے تھے کہ صدیوں بعد آج بھی ‘ جب عیسائیوں نے کسی ایک مسلمان کو بھی زندہ نہیں چھوڑا‘ قتل کر دیایا پھر عیسائی بنا لیا اور مسلمانوں کے آثار و نشانات کو منہدم کر دیا‘ اسپین میں مسلم تمدن کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ علامّہ اقبال ؒ کے نزدیک اسپین کے موجودہ باشندوں کی خوش دلی‘سادگی ‘ اور گر م جوشی نسلی اثرات کا نتیجہ ہے۔ اسپین اور اس کے باشندوں میں اقبال کو بعض ایسی خصوصیات نظر آئیں جن کا تعلق حجاز و یمن سے ہے اور جنھیں دیکھ کر بے اختیار سپین کا مسلم دورِحکومت یادآجاتا ہے۔
٭اندلس میں احیاے اسلامی ‘ اہمیت و امکانات:
تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے کسی بھی مسلمان کے لیے اپنے دل کو ہسپانیہ میں احیاے اسلامی کی تمنا سے بچانا بہت مشکل ہے۔ خصوصاً اقبال جیسے درد مند مسلمان کے لیے جب وہ مسجد قرطبہ کے ایوانوں میں گھوم رہا ہو اور دریاے وادی الکبیر اپنی موجوں میں صدیوں پرانی ماضی کی پر شکوہ داستانیں سمیٹے، نگاہوں کے سامنے بہ رہا ہو ‘ شاعر کے گوشۂ دل میں احیاے اسلامی کے جذبات کا جنم لینا کچھ عجب نہیں۔ اسی کیفیت کے تحت شاعر کا یہ سلسلۂ خیال اندلس میں احیاے اسلامی کی طرف مڑ جاتا ہے ۔ یورپ کے متعدد انقلا بات کی تاریخ اقبال کے ذہن میں تازہ ہے‘ وہ اس پس منظر کے ساتھ ہسپانیہ میں احیاے اسلامی کے امکانات پر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ یہ سلسلۂ خیال نظم کے آخری دو بندوں میں جاری ہے۔
سلسلۂ خیال کے اس مرحلے پر خطاب کا رخ مسجد قرطبہ ( جو نظم کا اصل اور مرکزی موضوع ہے) کی طرف ہے۔ پہلے دو شعر شدید فکر و اضطراب اور بے مثال حسرت بھری تمنا کا مرقع ہیں۔ ہسپانیہ کی صدیوں سے بے اذان فضاکا ذکر کرتے ہوئے شاعر کا جگر کٹ رہا ہے‘ دل الم سے کباب ہے‘ احیاے اسلامی کی تمناایک سوال کا روپ دھار لیتی ہے:
کون سی وادی میں ہے؟ کون سی منزل میں ہے؟
عشقِ بلاخیز کا قافلۂ سخت جاں
اس شعر سے احیاے اسلامی کے لیے شاعر کی بے چینی ‘ فکر مندی اور اس کا اضطراب ٹپکا پڑ تا ہے۔ساتھ ہی وہ تجدید و احیا کے امکانات کا اندازہ لگا رہا ہے اور ان امکانات پر غور کرتے ہوئے یورپ کے مختلف انقلابات اس کی نگاہوں کے سامنے ہیں۔
علامّہ اقبال سمجھتے ہیں کہ اگر جرمنی میں پادری مارٹن لوتھر کی اصلاح مذہب کی تحریک(Reformation) کا میاب ہو سکتی ہے ۱؎ ‘ انقلاب فرانس (۱۴ جولائی ۱۷۸۹ئ) فرانسیسیوں کی کایاپلٹ سکتا ہے اور اٹلی کو مسولینی کی قیادت ۲؎ میں عظمت و برتری حاصل ہو سکتی ہے تو پھر ملت اسلامیہ کی نشأت ثانیہ بھی ممکن ہے۔ اس کے بعد وہ تجدید و احیا کے امکانات کی عملی صورت بھی بتاتے ہیں۔ یہ عملی صورت اقبال کے طویل غور و فکر کا نتیجہ ہے۔
تقریب یہ ہے کہ اقبال دریاے وادی الکبیر کے کنار ے کھڑے ہیں‘ احیاے اسلامی کی فکر میں ڈوبے ہوئے ہیں‘ غروب آفتا ب کا وقت قریب ہے‘ کوئی دیہاتی لڑ کی گیت گاتی چلی جار ہی ہے۔ اس کا گیت پر تاثیر اور آوازپرسوز ہے:
سادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیت
کشتیِ دل کے لیے سیل ہے عہد شباب
یہاں اس شعر کی حیثیت‘ ایک طرح کے جملۂ معترضہ کی ہے۔ ضمناً یہاں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ مذکورہ بالا اور ماقبل شعر پڑ ھتے ہوئے ذہن میںولیم ورڈزورتھ کی نظم Solitary Reaper تازہ ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کی عظمت و شوکت‘ ان کا عبرت ناک زوال‘ یورپ پرمسلمانوں کے احسانات اور یورپ کی احسان فراموشیاں۔ ان سب چیزوں کی یاد اقبال کے قلب و ذہن کو جذبات کا محشرستان بنائے ہوئے ہے۔ بہر حال وہ مسلمانوں کے روشن مستقبل سے مایوس نہیں … دریاے وادی الکبیر کے کنارے کھڑے ہو کر ‘ و ہ ہسپانیہ میں ایک بار پھر احیاے اسلامی کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ مگر ان کے خیال میں خواب کی تعبیر اسی وقت سامنے آسکتی ہے جب مسلمان زمانے کے میزان میں اپنے اعمال کاحساب کریں اور کشمکش ِ حیات میں اپنے آپ کو اپنے مطلوبہ مرتبے و مقام کا اہل ثابت کریں۔مولوی شمس تبریز خاں لکھتے ہیں:’’اقبال کا اس نظم میں سب سے بڑا فنی کمال یہ ہے کہ موضوع اگرچہ یاس انگیز و حسرت خیز اور یکسر قنوطی تھا لیکن اقبال نے اسے پورے طور پر رجائی انداز سے ٹچ(Touch)کیا ہے اور ان کا طرز استدلال(approach)مکمل طور سے خوش آیند و بشارت آمیز ہے‘‘۔ ( نقوش اقبال: ص ۱۸۳)
نظم کے آخری تین اشعار ان خیالات کی بازگشت ہیں جو نظم کے سب سے پہلے بند میں بیان ہوئے ہیں ۔ یہ نظم کے موضوعات و مطالب کا حاصل ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی فکر اقبال کا غالباً اہم ترین نکتہ بھی…کہ:
حیات جاوداں اندر ستیز است
مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا یہی راز تھا ‘ مسجد قرطبہ کے جلال و جمال کی بنیاد بھی یہی ہے اور مسلم نشأت ثانیہ کے امکانات بھی اسی میں پوشیدہ ہیں۔
فنی تجزیہ
’’ مسجد قرطبہ‘‘ ترکیب بند ہیئت کے آٹھ بندو ں پر مشتمل ہے۔ بحر کانام منسرح مثمن مطوی موقوف مکسوف ہے۔ اس کا وزن اور ارکان یہ ہیں:
مُفْتَعِلُنْ فَاعِلُنْ مُفْتَعِلُنْ فَاعِلَاتٌ
دوسری طویل نظموں کے برعکس’’مسجد قرطبہ‘‘ کی انفرادیت یہ ہے کہ اقبال نے اس نظم میں حسن ظاہر ی اور پابندیِ روش کی خاطر ہر بند کے اشعار کی تعداد برابر ( سات سات ) رکھی ہے۔
نظم کا موضوع جس قدر عظیم اور رفیع الشان ہے ‘ اس کا فنی پیرایہ بھی اُسی قدر حسین و جمیل ہے۔’’ مسجد قرطبہ‘‘ کا تقدس ‘ اس کی رفعت و پاکیزگی اور جلال و جمال‘ اقبال کی اس نظم کی صورت میں مجسم ہو کر ہمارے سامنے آگیا ہے۔ اسے پڑ ھ کر قاری کے دل و دماغ پر مسجد قرطبہ کی شوکت و سطوت کا ایک نقش قائم ہوتا ہے۔ اور یہ نظم ایک ایسا معجزۂ فن معلوم ہوتی ہے جس کی تکمیل اقبال نے اپنے خون جگر کے ذریعے کی ہے۔
٭ایجاز و بلاغت
’’ مسجد قرطبہ‘‘ ۱۹۳۳ء میں لکھی گئی۔ یہ دور، اقبال کے فکر و فن کی پختگی کا دور ہے، چنانچہ نظم اقبال کے فن کا ایک عظیم الشان شاہ کار ہے۔ پوری نظم اور نظم کا ہر بند اور ہر بند کا ایک ایک شعر ‘ ہر ہر مصرع اور ایک ایک ترکیب ایجاز و بلاغت اور جامعیّت کا حیرت انگیز نمونہ ہے۔ اس نظم میں اقبال نے بہت سے اہم نظریات پر اظہارِ خیال کیا ہے‘ مثلاً: نظریۂ عشق‘ نظریۂ فن ‘ مرد کامل وغیرہ، مگر کمال فن یہ ہے کہ بڑے اختصار کے ساتھ گنے چنے الفاظ کے ذریعے متعلقہ موضوع کو اس کی پوری جزئیات و تفصیلات سمیت بیان کر دیا گیا ہے۔ کائنات کے ازلی و ابدی حقائق ‘دنیا کی تاریخی صداقتوں اور زندگی کے نفسیاتی مسائل کو اس بلیغ انداز میں بیان کیا ہے کہ کہیں پیچیدگی اور الجھن کا احساس نہیں ہوتا۔ چند مثالیں:
عشق دمِ جبرئیل‘ عشق دلِ مصطفی
عشق خدا کا رسول‘ عشق خدا کا کلام
_______
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
_______
ظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں
_______
تیرا جلال و جمال ‘ مرد خدا کی دلیل
_______
دیکھ چکا المنی شورشِ اصلاحِ دیں
_______
اسی طرح کعبۂ ارباب فن ‘ حاملِ خلقِ عظیم‘ عصمتِ پیر کنشت‘ نقطۂ پرکارِ حق‘ اور قافلۂ سخت جاں جیسی ترکیبوں میں ایک جہانِ معنی پوشیدہ ہے۔
٭تنوع:
موضوع اور لب و لہجہ ‘ دونوں اعتبار سے ’’ مسجد قرطبہ‘‘ میں تنوع پایا جاتا ہے۔ بظاہر نظم کا موضوع قرطبہ کی عالی شان جامع مسجد ہے مگر جیسا کہ اس سے پہلے بیان ہوا‘ نظم میں اقبال نے بہت سے نظریات و موضوعات پر اظہارِ خیال کیا ہے‘ مثلاً :
الف: نظریات زمان و مکاں‘ عشق ‘ فن اور مرد کامل
ب: مسجد قرطبہ کی عظمت و رفعت اور حسن و پاکیزگی
ج: یورپ کے بعض فکر ی اور سیاسی انقلابات
د: مسلم ہسپانیہ کی عظمت اور یورپ پر مسلم تمدن کے اثرات
ر: احیاے ملت اسلامیہ کے امکانات
شاعر نے ضمنی طور پر بعض چھوٹے اور نسبتاً غیر اہم موضوعات پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ نظم کا لب و لہجہ بھی متنوع ہے۔ نظم کے پہلے بند کا لہجہ فلسفیانہ ہے۔ وہ حصے جن میں شاعر نے مسجد قرطبہ کی عظمت‘ مسلمانوں کی شوکت رفتہ اور اسپین کے مسلم حکمرانوں کا ذکر کیا ہے‘ تأسّف ‘ دردمندی اور سوزو گداز سے لبریز ہیں۔ جہاں مرد مومن کی صفات اور عشق کی تخلیقی قوّت کا بیان ہو اہے‘ وہاں شاعر نے ایک مفکر کا حکیمانہ لہجہ اختیار کیا ہے۔ آخری بند کے اس حصے میں ‘ جہاں شاعر مستقبل کا خواب دیکھ رہا ہے ‘ اس کا لہجہ قدرے پرجوش اور پیغمبرانہ ہے۔
٭فارسیّت:
’’مسجد قرطبہ‘‘ ۱۹۳۳ء کی یادگار ہے۔ ایک سال پہلے جاوید نامہ منظر عام پر آئی تھی۔ اس سے پہلے ۱۹۲۷ء میں زبورعجم شائع ہوئی تھی۔ گویا یہ وہ دور تھا جب اقبال اپنے افکار و خیالات کا اظہار زیادہ تر فارسی میں کر رہے تھے‘ اسی لیے’’ مسجد قرطبہ‘‘ پر فارسی کا اثر نمایاں ہے۔ اسی زمانے کی نظم ’’ دعا‘‘ (ہے یہی میر ی نماز …)میں بھی فارسیت نمایاں ہے۔
اس سے بھی یہی انداز ہ ہوتا ہے۔ ’’ مسجد قرطبہ‘‘ کے بعض حصے مکمل فارسی میں ہیں‘ مثلاً:
سلسلۂ روز و شب تارِ حریرِ دو رنگ
_______
سلسلۂ روز و شب ‘ صیرفیِ کائنات
کعبۂ اربابِ فن ‘ سطوتِ دینِ مبیں
_______
ساقیِ اربابِ ذوق ‘ فارسِ میدانِ شوق
_______
خوش دل و گرم اختلاط ‘ سادہ و روشن جبیں
_______
خاکی و نوری نہاد ‘ بندۂ مولا صفات
_______
او ربہت سے ایسے مصرعے بھی ہیں جن میں حرف‘ یا امدادی فعل یا ایک آدھ لفظ کے سوا پورا مصرع فارسی میں ہے‘ مثلاً:
سلسلۂ روز و شب ‘ سازِ اول کی فغاں
_______
تیرا منارِ بلند‘ جلوہ گہِ جبرئیل
_______
عشقِ بلاخیز کا قافلۂ سخت جاں
_______
ملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیر
_______
روحِ امم کی حیات‘ کشمکشِ انقلاب
_______
٭عربی اثرات:
نظم کے اسلوب پر فارسی اثر کے باوجود’’ مسجد قرطبہ‘‘ کی فضا پر عربی شعر وادب کے اثرات غالب ہیں۔ ہسپانیہ کی فضا اور ماحول ایک لحاظ سے عربی تھا اس لیے نظم کا مزاج بھی عربی ہے۔ نظم کے بند‘ غزل کی صورت میں چلتے ہیں مگر ردیف موجود نہیں ۔ یہ خصوصیت عربی شاعری کی ہے۔ مسجد کے ستون دیکھ کر اقبال کو صحراے شام کے ’’ ہجومِ نخیل‘‘ یاد آتے ہیں۔ اس کے بلند مینار ’’ جلوہ گہِ جبریل ‘‘ معلوم ہوتے ہیں۔ انھیں اندلس کی ہواؤں میں آج بھی ’’ بوے یمن ‘‘ محسوس ہوتی ہے اور اس کی نواؤں میں اب بھی ’’ رنگِ حجاز جھلکتاہے۔ ’’کاس الکرام ‘‘ کی ترکیب ایک عرب شاعر کے اس شعر سے ماخوذ ہے:
شَرِبْنَا وَ اَہْرَقْنَا عَلَی الْاَرْضِ جُرَعَۃً
وَ لِلْاَرْضِ مِنْ کَأْسِ الْکِرَامِ نَصِیْب
اسی طرح ’’تیرا جلال و جمال‘ مرد خدا کی دلیل‘‘ کا مفہوم اندلس کے ایک حکمران عبدالرحمن الناصر کے ایک شعر میں ملتا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ’’ کسی عمارت کا عالی شان ہونا اشارہ کرتا ہے اس امر کی جانب کہ اس کا بنانے والا عالی شان ہے‘‘۔
٭غنائیت:
’’مسجد قرطبہ ‘‘میں بعض اشعار اور مصرعوں میں مختلف تراکیب ‘ الفاظ و حروف کی تکرار اور قوافی کے استعمال سے صوتی نغمگی اور خوش آہنگی پیدا ہو گئی ہے‘ مثلاً:’’اول و آخر فنا‘ باطن و ظاہر فنا‘‘میں ’’فنا ‘‘کی تکرار… آخر اور ظاہر کے قافیے اوران میں ’’ ر‘‘ کی آواز سے یا:
عشق کے مضراب سے نغمۂ تارِ حیات
عشق سے نورِ حیات‘ عشق سے نارِ حیات
شعرمیں لفظ’’ حیات‘‘ کی تکرار اور ’’ ر‘‘ کا صوتی آہنگ یا ’’رنگ ہو یا خشت و سنگ ‘ چنگ ہو یا حرف و صوت‘‘میں ’’گ‘‘ کا اور’’تار حریر دو رنگ‘‘ میں ’’ ر‘‘ کا صوتی آہنگ۔اسی طرح: ’’اس کے زمانے عجیب‘ اس کے فسانے عجیب‘‘ میں زمانے ‘ اور فسانے کے قافیے اور باقی الفاظ کی تکرار۔ اس ضمن میں جگن ناتھ آزاد لکھتے ہیں: ’’ اس نظم کا ہر بند غیر مردّف اشعار پر مشتمل ہے اور ٹیپ کا ہر شعر مردّف ہے۔ یہ محض اتفاق کی بات ہے یا التزام ہے جو شاعر کے نغمہ آشنا احساس نے برقرار رکھا ہے‘‘۔
٭دیگر محسنات نظم:
الف: تشبیہات و استعارات:
پروفیسر عابد علی عابد نے شمس العلما مولانا عبدالرحمن کے حوالے سے لکھا ہے کہ تشبیہ اور استعارہ اگر توضیح مطلب کا فریضہ ادا کرے تو کمالِ صنعت گری ہے۔ اقبال کے کلام میں اکثر و بیشتر تشبیہات و استعارات کے استعمال کا مقصد، محض آرایش کلام نہیں بلکہ توضیحِ معانی ہے۔ اقبال نے عشق کو دمِ جبرئیل‘ دلِ مصطفی ‘ خدا کا رسول ‘ خدا کا کلام ‘ فقیہ حرم اور امیر جنود قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ استعارات صنعت گری کے عمدہ نمونے ہی نہیں بلکہ عشق کی اصلیت و حقیقت کو بھی بخوبی الم نشرح کرتے ہیں۔ ان استعارات کے ذریعے عشق کی ایسی وضاحت ہوتی ہے جو شاید کسی طویل تقریر یامضمون سے بھی نہ ہو سکے۔
دوسرا قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ نظم کے پہلے بند میں اقبال نے سلسلۂ روزو شب کے لیے چند استعارے استعمال کیے ہیں‘ مثلاً: و ہ نقش گر حادثات ہے‘ صیرفیِ کائنات ہے‘ سازِ ازل کی فغاں ہے ، تارِحریر دورنگ ہے‘ زمانے کی رو ہے‘ وغیرہ۔ زمانہ ایک غیر مادّی اور تصوّراتی چیز ہے‘ مگر اقبال ان استعارت کے ذریعے زمانے کو ہمارے محسوساست و مشاہدات کے دائرے میں لے آئے ہیں۔ پروفیسر عابد علی عابد نے اسی پہلو کے بارے میں لکھا ہے: ’’جب وہ [اقبال] دقیق تعقلات‘ باریک تصو ّرات اور لطیف افکار و اسرار کی توضیح کرنا چاہتے ہیں تو ایسی ایسی خوب صورت تشبیہیں اور استعارے استعمال کرتے ہیں کہ ان دیکھی چیزیں، دیکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔‘‘ (شعرِاقبال:ص ۵۳۴)
مثلاً:’’عرشِ معلّٰی سے کم، سینۂ آدم نہیں‘‘بھی اسی طرح کی ایک عمدہ مثال ہے۔
ب: صنائع بدائع:
’’ مسجد قرطبہ ‘‘ میں صنعتیں اتنی خوبی اور خوب صورتی سے استعمال ہوئی ہیں کہ ان کا وجودبالکل فطری معلوم ہوتا ہے اور نظم میں کسی بناوٹ یا تصنع کا شائبہ بھی محسوس نہیں ہوتا۔ چندمثالیں:
ا: صنعت تلمیح:
دیکھ چکا المنی ، شورشِ اصلاحِ دیں
_______
چشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلاب
_______
حاملِ ’’خلقِ عظیم‘‘ صاحبِ صدق و یقیں
_______
ہاتھ ہے اللہ کا‘ بندۂ مومن کا ہاتھ
_______
ظلمتِ یورپ میں تھی جن کی خرد ‘ راہ بیں
_______
۲۔ صنعت ترافق:( جس مصرع کو چاہیں ‘ پہلے پڑ ھیں اور معنی میں کوئی فرق نہ آئے۔)
بوے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے
رنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہے
عشق کے مضراب سے ہے نغمۂ تارِ حیات
عشق سے نورِحیات‘ عشق سے نارِ حیات
۳۔صنعتِ تجنیسِ لاحق: ( دو متجانس الفاظ میں ایک ایسے حرف کا مختلف ہونا جو قریب المخرج ہو۔)
نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم‘ پاک دل و پاک باز
۴۔ صنعت ردّ العجز علی الحشو:
آنی و فانی ‘ تمام معجزہ ہاے ہنر
کارِ جہاں بے ثبات‘ کارِ جہاں بے ثبات
۵: صنعت طباق ایجابی: ( دو ایسے الفاظ کا استعمال جو معنی کے اعتبارسے ایک دوسر ے کی ضد ہوں) :
اوّل و آخر فنا ‘ باطن و ظاہر فنا!
نقشِ کہن ہو کہ نو ‘ منزلِ آخر فنا!
ج: محاکات:
’’مسجد قرطبہ‘‘ کے بعض اشعار محاکات کی بہت عمدہ مثال ہیں، مثلاً:
تیری بنا پایدار ‘ تیرے ستوں بے شمار
شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجومِ نخیل
_______
اس کی زمیں بے حدود‘ اس کا افق بے ثغور
اس کے سمندر کی موج‘ دجلہ و دینوب و نیل
_______
نرم دمِ گفتگو ‘ گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو ‘ پاک دل و پاک باز
_______
وادیِ کہسار میں غرقِ شفق ہے سحاب
لعلِ بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب
٭مجموعی قدرو قیمت:
جگن ناتھ آزاد نے اپنے ایک مضمون میں اقبال کی شاعری پر بحث کرتے ہوئے ان کی شاعری کے ذکر کو غزل کے بجاے نظم پر ختم کیا ہے اور اس ضمن میں ’’ مسجد قرطبہ‘‘ کے حوالے سے اقبال کے بے مثل اسلوب بیان اور نظم کی شعریت اور حسن و جمال کی بھرپور داد دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ یہ نظم صرف اقبال ہی کا شاہ کار نہیں بلکہ ساری اردو شاعری کا شاہ کار ہے۔ اردو شاعری میں اس نظم کے سوا کچھ بھی نہ ہوتا تو بھی ہماری شاعری دنیا کی صف اول کی شاعری میں ایک ممتاز مقام حاصل کر سکتی تھی۔ ’’ مسجد قرطبہ‘‘ شعریت‘ رومانیت‘ حقیقت پسندی‘ رمزیت ‘ اور ایمائیت کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے کہ ہماری ساری اردو شاعری روزِ اوّل سے آج تک اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
’’مجھے اپنی زندگی میں ۲۸۲۹۲۰ مربع فٹ کے رقبے میں بنی ہوئی اس عظیم الشان مسجد کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا اور تصو ّرمیں اس مسجد کے جلال و جمال کا اندازہ کرنا آسان بھی نہیں ہے… اگر مجھے کبھی ہسپانیہ کی اس مسجد کو دیکھنے کا موقع ملے ۳؎ تو شاید میںاس وقت بھی یہ فیصلہ نہ کر سکوں کہ ہسپانیہ کی مسجد قرطبہ زیادہ جلیل و جمیل ہے یا بالِ جبریل کی ’’مسجد قرطبہ۔‘‘ (نگار پاکستان‘ اقبال نمبر۱۹۶۲ئ: ص ۱۷۔۱۸)
اقبال کی اس بے مثال فنی تخلیق کی داد‘ اردو کے بیشتر نام ور نقادوں نے دی ہے‘ مثلاً: مولانا صلاح الدین احمد لکھتے ہیں:’’شاعر نے یہ نغمے غرناطہ کی عطر بیز فضاؤں اور وادی الکبیر کی کیف انگیز ہواؤں میں خود ڈوب کر لکھے ہیں۔’’ مسجد قرطبہ‘‘ اقبال کی پختہ تر شاعر ی میں ایک امتیازی مقام رکھتی ہے اور اس کے بعض مقامات یقیناً دنیا کی عظیم ترین شاعری شمار کیے جا سکتے ہیں ‘‘۔ ( تصوّراتِ اقبال: ص ۳۲۳)
ممتاز نقاد اور دانش ورسلیم احمد لکھتے ہیں:’’ اقبال کی مسجد قرطبہ ایک ہندی کی طرف سے عرب مسلمانوں کے لیے عقیدت اور محبت کے ان جذبات کی تخلیق ہے جو ہندی مسلمانوں کے دل کو عربوں کے لیے ہمیشہ آغوش عاشق کی طرح کشادہ رکھتے ہیں… [اسے ] ابدیت کی تاریخ میں ایک معجزۂ فن کا اضافہ ‘‘قرار دیا جا سکتا ہے۔ ( اقبال ایک شاعر: ص۱۰۰‘ ۱۰۵)
مولوی شمس تبریز خان رقم طراز ہیں :اس نظم کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے آفاق اور دائرہ ٔ تخیل بہت ہمہ گیر اور محیط اور اس کا Canvasبہت وسیع اور اس کے پس منظر کا تاریخی شعور بہت طویل و عریض ہے اور تقریباً فتح اندلس سے لے کر زمانۂ حال تک کے تاریخی حوادث و انقلاب اور فکر و فلسفے کے اہم تحریکات کا ذکر آگیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اقبالؔکا نظریۂ حیات و کائنات‘ ان کا فلسفۂ خودی ‘ مرد مومن کا تخیل ‘ ایمان و عشق کے بارے میں واضح تصو ّرات ‘ ان کا فلسفۂ تاریخ ‘ ان کا نظریۂ شعر و ادب‘ فنون لطیفہ کے بارے میں ان کا طرز عمل ‘ زندگی کے تخلیقی و تحریکی عناصر اور ان کے علاوہ بہت سے واضح نظریات اس نظم میں آگئے ہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسجد قرطبہ کے آئینے میں، ہم اقبال کی ہشت پہلو شخصیت کے خدو خال دیکھ سکتے ہیں اور ان سے مل سکتے ہیں‘‘۔ (نقوش اقبال: ص ۱۸۳- ۱۸۴)
حواشی
۱۔ ۱۶ ویں صدی میں کلیسا ایک ایسا ادارہ بن چکا تھا جو مذہب کے نام پر ہر طرح کی جائز و ناجائز کارروائیاں کرنے کا عادی تھا۔ کلیسا عقل کا دشمن تھا اور کسی شخص کو اجازت نہیں تھی کہ وہ پوپ کی کسی بات پر اعتراض کر سکے۔ حتیٰ کہ پوپ نے نجات کے ایسے پروانے جاری کیے جو قیمتاً فروخت کیے جاتے تھے اور جن کے متعلق پوپ کا اعلان تھا کہ انھیں خریدنے والا جنتی ہوگا۔ یہ ایک طرح کی برہمنیت تھی جس کے خلاف سب سے پہلے جرمنی کے ایک عالم اور پادری ڈاکٹر مارٹن لوتھر نے علم احتجاج بلندکیا۔ عوام کے دلوں میں پاپائیت کے خلاف پہلے ہی نفرت موجود تھی‘ چنانچہ لوتھر کی تحریک بہت مقبول ہوئی اور پوپ کے مخالفین کا ایک مستقل فرقہ بن گیا جو پروٹسٹنٹ کہلانے لگے۔ عیسائی دنیا میں ان کی اکثریت ہے ۔پوپ کے پیروکار کیتھولک کہلاتے ہیں۔
۲۔ مسولینی ۱۸۸۳ء میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ بڑے ہو کر اس نے اٹلی کی ترقی و عروج کے لیے ۱۹۱۹ء میں ایک تحریک چلائی جسے فاشزم کا نام دیا گیا ۔ فاشسٹ قومی مفاد کے لیے ہر قسم کی فوجی کارروائیوں ‘تشدّداور قو ّت کے استعمال پر یقین رکھتے تھے۔ مسولینی پہلے اٹلی کا وزیر اعظم بنا پھر آمر مطلق۔اس کی تحریک کے بہت سے منفی پہلو بھی تھے مگر اقبال فاشزم کی انقلابی روح سے متاثر تھے‘ جس کا اظہار انھوں نے بال جبریل کی نظم ’’مسولینی‘‘ میں کیا ہے۔ ۱۹۰۵ء میں یورپ جاتے ہوئے انھوں نے اٹلی کی انقلابی تحریک کو خراج عقیدت پیش کیا:
ہرے رہو وطنِ مازنی کے میدانو!
جہاز پر سے تمھیں سلام کرتے ہیں
مسولینی نے دوسر ی جنگِ عظیم میں ہٹلر کا ساتھ دیا مگر شکست کھا کر ۱۹۴۵ء میں خود کشی کرلی۔
۳۔ پروفیسر جگن ناتھ آزاد کو بعد ازاں ’’مسجد قرطبہ‘‘ اوراندلس میں مسلم دورِ حکمرانی کے دوسرے آثار دیکھنے کا متعدد بار موقع ملا۔
( بحوالہ: اقبال کی طویل نظمیں توضیح و تنقیدی مطالعہ)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post