کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(51)


نیلما ناہید درانی
شکر ونڈو نی میرا پیا گھر آیا۔۔۔۔۔۔لال نی
قربان حسین قوال کی آواز میں یہ قوالی گویا زمین سے آسمان تک پہنچ رھی تھی۔۔۔۔ہم سب بچے جو بے فکری سے چھپن چھپائی کھیلتے ہوئے سڑک پر نصب ٹینٹوں کے گرد بھاگ رھے تھے ، ایک دم رک گئے۔۔۔
اور مارکیٹ کی چھت پر بیٹھی خواتین میں اپنی اپنی ماوں کے پاس جا بیٹھے۔۔۔۔رات کا آدھا پہر تھا۔۔۔۔فضا میں وجد طاری تھا۔۔ بوڑھے، جوان ،بچے سب جھوم رہے تھے۔۔۔ تالیوں اور ڈھولک کی آواز کے ساتھ۔۔۔۔قربان حسین قوال کی آواز میں تیزی آ گئی تھی۔۔۔۔
گھڑیالی دیوو نکال نی۔۔۔ میرا پیا گھر آیا۔۔۔۔۔لال نی
عید میلاد النبی کے موقع پر۔۔۔۔برانڈرتھ روڈ کے درمیان ۔۔۔سٹیج بنا کرشب قوالی کا اھتمام کیا گیا تھا۔۔۔۔
یہ میری زندگی کی پہلی قوالی تھی جو میں نے سنی۔۔۔۔اور اسی دن سے قوالی۔۔۔۔ موسیقی میں میری پسندیدہ ترین صنف بن گئی۔۔۔۔۔جبکہ امی نے یہ بھی بتایا تھا۔۔۔۔کہ نسبت روڈ پر میرے دادا مولانا آغا نعمت اللہ جان درانی۔۔۔۔کے گھر کے ساتھ والا گھر۔۔۔۔قوال آغا بشیر کا گھر تھا۔۔۔۔وہ اپنے گھر میں قوالی کی ریہرسل کرتے تو میں ان کی آواز پر بھی جھوما کرتی تھی۔۔۔۔۔
میری پھوپھی نادرہ کی شادی فیصل آباد میں ہوئی تو ان کے ولیمہ پر محفل قوالی کا اھتمام کیا گیا۔۔۔۔جو مبارک علی فتح علی قوال نے گائیں۔۔۔۔وہ نصرت فتح علی خان کے والد اور چچا تھے۔۔۔۔۔اس وقت ایک تہذیب تھی۔۔۔جس میں قوالی کو ایک اہم حیثیت حاصل تھی۔۔۔۔
آغا بشیر قوال، غلام فرید صابرئ قوال، عزیز میاں قوال۔۔۔اپنے اپنے رنگ اور انداز کے بے مثال فنکار۔۔۔۔نعت، منقبت اور حمدیہ کلام پیش کرتے ھوئے خود بھی وجد وسرور میں کھو جاتے۔۔۔۔
قوالی جو امیر خسرو کی ایجاد ھے۔۔۔۔جہاں اولیا کرام نے اپنے انسان دوست رویوں سے بر صغیر میں بسنے والے غیر مسلموں کو دائرہ اسلام میں داخل ھونے کی ترغیب دی۔۔۔وھاں قوالی نے بھجن کا متبادل بن کر ان کو عشق الہی کے اسرار و رموز سے آشنا کیا۔۔۔۔
مولانا رومی کا ایک شعر
ھر لحظہ بہ شکل آن بت عیار برآمد
دل برد و نہان شد
ھر دم بہ لباس دگر آن یار برآمد
گہ پیر و جوان شد
خانہ فرھنگ ایران میں۔۔۔محفل قوالی کا انعقاد ہوا۔۔۔ غضنفر کاظمی کا فون آیا۔۔۔ڈائرکٹر جنرل خانہ فرھنگ کی طرف سے دعوت تھی۔۔۔خانہ فرھنگ کے خوبصورت لان میں۔۔۔اعجاز حسین صدیق قوال۔۔۔۔امیر خسرو کا کلام پیش کر رھے تھے
نمی دانم چہ منزل بود۔۔۔شب جائے کہ من بودم۔۔۔
بہ ھر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم
خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو
محمد شمع محفل بود، شب جائے کی من بودم
کچھ دن بعد ۔۔۔۔غضنفر کاظمی نے اپنے بیٹے کے ولیمہ پر مدعو کیا۔۔۔۔قذافی سٹیڈیم کے دیوان خاص میں۔۔۔اعجاز حسین صدیق قوال ۔۔۔کے ساتھ شام قوالی کا اھتمام بھی تھا۔۔۔۔ھم لان کے درمیان آگ کے الاو کے قریب بیٹھ گئے۔۔۔۔
وہ نصرت فتح علی کی گائی ھوئی قوالیاں گا رھے تھے۔۔۔۔ اور پھر انھوں نے یہ قوالی شروع کی۔۔۔۔
گھڑیالی دیوو نکال نی میرا پیا گھر آیا۔۔۔لال نی
میں ایکبار پھر اپنے بچپن کی سہانی یادوں میں کھو گئی۔۔۔
برانڈرتھ روڈ۔۔۔۔پر عظیم سٹریٹ میں ھمارا گھر تھا۔۔۔یہ گلی احمدیہ مارکیٹ کے سامنے تھی۔۔۔۔احمدیہ مارکیٹ۔۔۔وہ تاریخی جگہ تھی۔۔۔جہاں۔۔۔احمدی فرقے کے بانی مرزا غلام احمد نے وفات پائی تھی۔۔۔۔
اس مارکیٹ سے ملحقہ رام گلی میں مسز بیگ کا سکول تھا۔۔۔پہلے ھمیں اس سکول میں داخل کروایا گیا۔۔۔۔جن دنوں احمدی کنونشن ھوتا۔۔۔۔ھمیں سکول سے چھٹیاں مل جاتیں۔۔۔ اور دوسرے شہروں سے آنے والے مہمانوں کو اس سکول میں ٹھہرایا جاتا۔۔۔۔
مسز بیگ کے سکول میں پہلا پیریڈ قرآن خوانی کا ھوتا۔۔۔اور آخری پیریڈ میں مسٹر بیگ انگریزی نظمیں یاد کروایا کرتے۔۔۔۔
لیکن مجھے یہ سکول پسند نہ تھا۔۔۔۔جس پر میرے دادا جان نے مجھے۔۔۔اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی گراونڈ سے متصل جونیر ماڈل سکول میں داخل کروا دیا۔۔۔۔جہاں میں۔۔۔ سکول بینڈ میں شامل ھو گئی۔۔۔۔
پنجاب یونیورسٹی ھاسٹل میں۔۔۔ریاض حسین خان۔۔۔لڑکیوں کو موسیقی کی تعلیم دینے آنے لگے۔۔۔۔تو شاھینہ کرمانی اور میں نے ان سے ھارمونیم بجانے کی تربیت حاصل کرنی شروع کی۔۔۔۔ابھی چند ھفتے ھی گزرے تھے۔۔۔۔کہ جماعت اسلامی کے طالب علم لیڈروں نے گرلز ھاسٹل پر ھلہ بول دیا۔۔۔۔اور گرلز ھاسٹل میں موسیقی کی تعلیم کو غیر اسلامی قرار دیکر۔۔۔۔ھاسٹل وارڈن کو دھمکیاں دیں۔۔۔۔۔جس پر وہ کلاس ختم کر دی گئی
اعجاز حسین صدیق قوال کو پروگرام کے اختتام پر میں نے۔۔۔۔ویمن پولیس ٹریننگ سکول آنے کی دعوت دی۔۔۔۔
اور ایک روز محفل قوالی کا پروگرام رکھا۔۔۔جس میں قربان لائنز میں رھائش پزیر افسرز کی بیگمات کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔۔۔
بعد ازاں۔۔۔۔اعجاز حسین صدیق قوال نے میرا کلام قوالی کی صورت میں گا کر ریکارڈ کروایا
جس گھڑی ان سے بات ھوتی ہے
رقص میں کائنات ھوتی ہے
ان کے آنے سے دن نکلتا ہے
ان کے جانے سے رات ھوتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمال یار کو دیکھوں کمال یار سے پہلے
میں خوشبو کی طرح مہکوں خیال یار سے پہلے
اس کیسٹ کا نام” رقص کائنات ” رکھا گیا۔۔۔۔
جبکہ اس سے پہلے حامد علی خان میری غزلوں کا کیسٹ ای ایم ای سے ریکارڈ کروا چکے تھے۔۔۔۔اس کیسٹ کا نام ” انتظار” تھا۔۔۔
اس میں میری دس غزلیں اور گیت شامل تھے۔۔۔۔لیکن ایک غزل کو مقبولیت حاصل ھوئی۔۔۔
اداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے
سفید لمحوں میں رنگ بھرنا کوئی تو سیکھے
کوئی پیمبر، کوئی امام زماں ھی آئے
اسیر زھنوں میں سوچ بھرنا کوئی تو سیکھے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post