کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(10 +)


از: نیلما ناہید درانی
ذوالفقار علی بھٹو ۔۔۔ ہائی کورٹ اور میجر ضیاالحسن
ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار عام آدمی کو سوچنا سکھایا تھا۔۔۔ خوشحالی کے خواب دکھائے تھے۔۔روٹی کپڑا مکان ۔۔۔۔کا نعرہ ایسا خواب تھا۔۔۔کہ محرومیت کی ماری عوام ان کی گرویدہ ہوگئی تھی۔۔۔ان کو پوجنے لگی تھی۔۔۔۔انھوں نے پہلی بار عوام کی زبان میں بات کی۔۔۔انگریزی لباس میں ملبوس لیڈروں کی جگہ عوامی لباس پہنا۔۔۔اور شلوار قمیض کو عزت دلائی۔۔
اس سے پہلے پانچ ستارہ ھوٹلوں میں شلوار قمیض پہننے والوں کا داخلہ منع تھا۔۔۔
لیکن پھر انھی کے دور میں عوام دو حصوں میں بٹ گئے۔۔۔۔جیالے اور عام آدمی۔۔۔
جیالوں کے کام ھونے لگے اور عام آدمی پہلے سے زیادہ محروم ہوگیا۔ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار کی
سیڑھی چڑھنے کے لیے ۔۔۔قدرت اللہ شہاب کا سہارا لیا تھا۔۔۔۔قدرت اللہ شہاب نے ان کا تعارف صدر پاکستان ایوب خان سے کروایا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زھانت سے صدر ایوب خان کی قربت حاصل کر لی۔۔۔۔ ان کو ڈیڈی کہنا شروع کیا تو ایوب خان نے ان پر اعتبار کر کے ان کو وزارت دے دی۔۔
1965 کی جنگ کے بعدتاشقند میں بھارت کے صدر شاستری اور صدر ایوب کی ملاقات ھوئی اور ان کے درمیان ھونے والے معاھدہ کو اعلان تاشقند کہا گیا۔۔۔۔زوالفقار علی بھٹو۔۔۔صدر ایوب کے ساتھ تھے۔۔۔۔
بھٹو نے اعلان تاشقند کو بنیاد بنا کر ایوب خان کے خلاف تحریک چلائئ۔۔۔وزارت دے استعفی دے کر ٹرین مارچ کیا اور یہ احتجاج اتنا بڑھا کہ ایوب خان کو صدارت سے استعفی دینا پڑا۔۔۔اور اقتدار جنرل یحیی خان کو منتقل ھو گیا۔۔۔۔
ذوالفقار علی بھٹو نے بیٹا بن کر ایوب خان کو دھوکا دیا تھا۔۔کہتے ھیں دھوکا ضرور پلٹ کر آتا ہے۔۔۔۔
دوسرے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج پر جب حالات قابو سے باھر ھوگئے۔۔۔۔تو ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاالحق نے گرفتار کر کے۔۔ملک میں مارشل لا لگا دیا۔۔۔۔
ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاالحق پر مہربانی کرکے انھیں آوٹ آف ٹرن ترقی دی تھی۔۔۔
ذوالفقار علی بھٹو میں عام انسانوں والی ساری خوبیاں اور خامیاں موجود تھیں۔۔۔۔وہ شراب پیتے تھے۔۔۔جس کا انھوں نے اعتراف کیا تھا۔۔۔لاھور قزافی اسٹیڈیم میں تقریر کے دوران انھوں نے بہن کی گالی بھی دی تھی۔۔۔۔اور احساس ھونے پر کہا تھا اس کو کاٹ دیا جائے۔۔۔
اب ذوالفقار علی بھٹو جیل میں تھے۔۔اور ان پر اس قتل کا مقدمہ تھا جو انھوں نے خود نہیں کیا تھا۔۔۔۔بلکہ وہ قتل ان کے حکم پر کیا گیا تھا۔۔۔۔میری تین چار مرتبہ لاھور ھائی کورٹ سیکیورٹی ڈیوٹی لگی۔۔۔جس دن ان کی پیشی ھوتی تھی۔۔۔
ایس پی میجر ضیا الحسن ان کو جیل سے ھائی کورٹ لے کر آتے۔۔۔
میجر ضیاالحسن۔۔۔۔ بھٹو کی طرح بلند قامت اور وجیہہ تھے۔۔۔بھٹو صاحب دیدہ زیب سوٹ میں ملبوس ھوتے۔۔۔وہ بہت خوش زوق و خوش لباس تھے۔۔۔۔
وہ بہت اعتماد سے گاڑی سے باھر آتے۔۔۔پولیس والوں اور اپنے جیالوں کو دیکھ کر ھاتھ ہلاتے ۔ اور ھائی کورٹ کی عمارت میں داخل ہو جاتے۔۔۔
ان کے چہرے کے تاثرات سے لگتا کہ انھیں اس مقدمہ سے کوئی پریشانی نہیں۔۔۔اور وہ باعزت بری ہو جانے کے لیے پر امید ھیں۔۔۔۔ انھوں نے کبھی کوئی سوٹ دوبارہ نہیں پہنا تھا۔۔۔۔۔
لیکن جب یہ پیشیاں طویل ھوتی گئیں۔۔۔اور انھیں اپنے بچنے کی کوئی امید نہ رھی ۔۔۔۔۔تو وہ سر جھکا کر گاڑی سے باھر آتے۔۔۔۔میجر ضیا الحسن ان کے ساتھ ھوتے ۔۔۔۔۔ لیکن بھٹو صاحب سر جھکائے ادھر ادھر دیکھے بغیر ھائی کورٹ کی عمارت میں داخل ہو جاتے۔۔۔۔پیشی کے بعد میجر ضیاالحسن بھٹو صاحب کو دوبارہ جیل لے جا کر جیل حکام کے حوالے کرتے۔۔۔۔اور ایس ایس پی آفس آکر۔۔۔۔ایس پی ایڈمن بی آئی ٹرنر کو ساری کاروائی کی رپورٹ دیتے۔۔۔۔
ان دنوں بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ گلبرگ لاھور کی ایک کوٹھی میں نظر بند تھیں۔۔۔اس کوٹھی کے چاروں طرف پولیس کا پہرہ تھا۔۔۔۔ساتھ والی کوٹھی والوں نے ڈیوٹی کرنے والی خواتین پولیس کو رھنے کی جگہ دے رکھی تھی۔۔۔۔
سب انسپکٹر زینب ڈیوٹی چیک کرنے جاتیں۔۔۔۔ان کا کہنا تھا۔۔۔۔کہ بے نظیر بھٹو جو بہت نوعمر تھیں۔۔۔سرخ رنگ کی لپ اسٹک لگاتی تھیں۔۔۔جو ان کی سرخ و سفید رنگت پر بہت جچتی تھی۔ اور وہ پر امید تھیں کہ ان کے والد جلد رھا ہو جائیں گے ۔۔۔۔وہ اکثر پولیس والوں کو ڈانتی بھی رہتیں ۔۔۔انھوں نے کئی بار کوٹھی کی دیوار پھلانگنے کی کوشش کی مگر ناکام رہیں۔۔۔۔
آخر کار بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ نصرت اصفہانی بھٹو کو سہالہ ریسٹ ھاوس اور پھر اڈیالہ جیل بھیج دیاگیا۔۔۔۔
ذوالفقار علی بھٹو کو بھی لاھور سے راولپنڈی جیل منتقل کر دیا گیا
                                                                                                  (جاری ہے)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post