کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۴۳)


از: نیلما ناہید درانی
ویمن ہولیس ٹریننگ سکول۔۔۔۔۔اشرف مارتھ کا آخری وزٹ
لاھور میں خواتین پولیس کے لیے پہلا ٹریننگ سکول بن چکا تھا۔۔۔۔لاھور کی خواتین سب انسپکٹرز اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کی کلاس شروع ھو چکی تھی۔۔۔۔
ناصر خان درانی اے آئئ جی ٹریننگ تھے۔۔ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ بہت اچھے انتظامی افسر ہیں اور جو کام شروع کریں اس کی خود نگرانی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ سکول کے ھر کام کی بھی خود نگرانی کرتے تھے۔۔۔
چند لا انسٹرکٹرز کے علاوہ کچھ ماھرین کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھیں۔۔۔ایک ریٹائرڈ ایس پی۔۔۔۔روزنامچہ اور ایف آئی آر سکھانے کے لیے آتے۔۔۔ جسے پولیس پریکٹیکل ورک کہا جاتا۔۔۔۔ فرانزک سائنس کے ایک ماہر سب انسپکٹر فنگر پرنٹس اور مختلف قسم کی شہادتیں اکھٹی کرنا سکھاتے۔۔۔۔۔جوڈو کراٹے کی کلاس کے لیے شبانہ سب انسپکٹر کی خدمات حاصل کی گئیں۔
ناصر خان درانی ۔۔۔۔ گھر سے نکل کر پہلے ویمن پولیس ٹریننگ سکول آتے۔۔۔۔ سب کاموں کا جائزہ لیتے۔۔۔ اور پھر اپنے دفتر روانہ ھوتے۔۔۔۔
میں صبح سویرے جب آفس پہنچتی وہ سکول کے برآمدے میں کھڑے ہوتے اور پھر ان کے سوالات شروع ہوجاتے۔۔۔۔ان کو ہر کام میں پرفیکشن کی عادت تھی اور میں سدا کی لاپرواہ ۔۔۔۔ میرے لیے ہر وقت کی پوچھ گچھ ایک اذیت سے کم نہیں تھی۔۔۔۔
میرے گھر کا ماحول بھی ایسا تھا۔۔۔ جیسے میں ہر وقت کسی کٹہرے میں کھڑی ہوں۔۔۔۔
میرے ماتحت اے آئی جی صاحب کو میرے خلاف بھڑکاتے رھتے اور ہر اچھے کام کا خود کریڈٹ لینے کی
کوشش کرتے۔۔۔۔۔
میں ویمن پولیس ٹریننگ سکول کی پرنسپل تھی۔۔۔۔ میرے پاس جو آفیسرز ٹریننگ کے لیے آئی تھیں۔۔۔ وہ سب میری دوست تھیں۔۔۔۔ھم نے پولیس لائن میں بہت سا وقت ساتھ گزارا تھا۔۔۔۔ قلعہ گوجر سنگھ کے بازار میں۔۔۔۔دکانوں کے بنچوں پر بیٹھ کر۔۔۔ نان حلیم۔۔ پوری حلوہ۔۔۔اور میٹھی لسی پی تھی۔۔۔۔ لیکن یہاں مجھے ڈسپلن قائم کرنے کے لیے۔۔۔ان سے فاصلہ رکھنا پڑا۔۔۔میں کسی کو اپنے دفتر میں۔۔۔ بلا وجہ آنے کی اجازت نہ دیتی تھی۔۔۔اور نہ ہی کسی کو کسی وزیٹر سے ملنے کی اجازت تھی۔۔۔۔ سکول کی دو بجے چھٹی ھو جاتی تھی۔۔۔اس کے بعد تمام ٹریننز اپنے گھروں کو جا سکتی تھیں۔۔۔
ایک دن سب انسپکٹر گل صنویر کو کوئی ڈی ایس پی ملنے آیا۔۔۔۔ گل صنوبر اور نسرین اختر سب انسپکٹر نے سکول ٹائم میں اس کے ساتھ جانے کی اجازت مانگی۔۔۔۔ جسے میں نے منع کر دیا۔۔۔۔ سکول ٹائم کے بعد گل صنوبر اور نسرین اختر۔۔۔۔۔۔اے آئی جی ٹریننگ کے دفتر گئیں اور میرے خلاف ناجانے کیا کچھ کہا کہ۔۔۔ ناصر خان درانی نے میرے گھر فون کرکے۔۔۔ میرا موقف سنے بغیر مجھے ڈانٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔
جس پر میں خوب روئی۔۔۔ میرا دل چاھا کہ میں نوکری چھوڑ دوں۔۔۔۔ یا پھر خود کشی کرلوں۔۔۔۔۔
جب کوئی انسان نہایت محنت اور دیانتداری سے اپنا کام کر رھا ھو۔۔۔اور اس پر اعتبار نہ کیا جائے۔۔۔نہ ھی اس کے کام کو سراھا جائے۔۔۔۔ الٹا ڈانٹ ڈپٹ ھو۔۔۔۔تو مایوسی کی انتہا ھو جاتی ہے۔۔۔۔
دفتر میں مجھ ہر کیا گزرتی ھے میں کسی کو بتا نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔۔اپنی تکلیف بتاتی بھی تو کس کو۔۔۔۔
گھر پر ایک احساس کمتری کے مارے شخص کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔۔۔ جس کی ذھنی حالت میری ہر ترقی اور پوسٹنگ پر پہلے سے زیادہ بگڑ رہی تھی۔۔جس کا مظاھرہ گالی گلوچ۔ اورمارپیٹ سے ھوتا تھا۔۔۔۔۔
انھی دنوں اشرف مارتھ ایک روز میرے آفس آئے۔۔۔ان کے ساتھ اکاونٹنٹ بھی تھا۔۔۔۔ویمن پولیس ٹریننگ سکول کا بجٹ بھی ان کو ملتا تھا۔۔۔ میں نے اپنی پریشانی میں ان سے بھی بات نہ کی۔۔۔۔اور گھر چلی گئی۔۔۔۔
کچھ عرصے بعد اشرف مارتھ کی پوسٹنگ ملتان ھو گئی۔۔۔۔انھوں نے لشکر جھنگوی کا نیٹ ورک پکڑ لیا۔۔۔۔
وھاں سے ان کو ایس ایس پی گوجرانوالہ لگایا گیا۔۔۔۔
ایک روز وہ گھر سے آفس جانے کے لیے نکلے کہ ایک درخت کی اوٹ میں کھڑے دھشت گرد نے ان پر فائرنگ کر دی۔۔۔۔وہ اپنا پستول پکڑ کر گاڑی سے باھر نکلے اور دھشت گرد پر فائر کیا لیکن اتنی دیر میں ان پر گولیوں کی بوچھاڑ ھو چکی تھی۔۔۔۔ وہ موقع پر شہید ھو گئے۔۔۔۔
اشرف مارتھ جیسے شریف النفس اور بہادر آفیسر کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھی۔۔۔۔
بہت دنوں بعد وہ اکاونٹنٹ میرے دفتر میں آیا تو اس نے بتایا۔۔۔۔ جس دن اشرف مارتھ آپ کے آفس آئے تھے۔۔۔اس دن ان کی سالگرہ تھی۔۔۔۔آپ نے ان کو مبارک نہیں دی۔۔۔۔۔
جبکہ چوھنگ کے دفتر میں۔۔۔نبیلہ، نسرین، میں اور سب دفتر والے مل کر ان کی سالگرہ منایا کرتے تھے۔۔۔۔۔
24 جون 1996 کی سالگرہ ان کی آخری سالگرہ تھی۔۔۔۔ جس پر کسی نے ان کو وش نہیں کیا تھا۔۔
اشرف مارتھ کی شہادت مئی 1997 میں ھوئی تھی۔۔۔
(جاری ہے )
نیلما ناہید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post