کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۲۰)


از : نیلما ناہید درانی

ایک بار پھر سہالہ ۔

فرخندہ اقبال اور 30 سب انسپکٹرز سہالہ سے ٹریننگ کر کے آئیں تو بہت خوش تھیں۔۔۔۔سہالہ میں کمانڈنٹ سروش علوی تھے۔۔۔ان کی بیگم کی بھانجی بھی سب انسپکٹر تھی جو سرگودھا سے ٹریننگ کرنے آئی تھی۔۔۔اب لاہور کے علاوہ دیگر اضلاح میں بھی سب انسپکٹرز بھرتی کی گئی تھیں۔۔۔۔
سروش علوی خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔۔ان کی شکل و صورت مشہور فلمی ھیرو وحید مراد سے ملتی جلتی تھی۔۔۔۔
ٹریننگ کرنے والی خواتین کو راولپنڈی جانے کی بھی اجازت تھی۔۔ان کے گھر والے بھی ان سے ملنے آ سکتے تھے۔۔۔
اور ٹریننگ کے آخر میں سب کو مری کی سیر بھی کروائی گئی تھی۔۔۔۔جو لوگ ٹریننگ کر کے آئے بہت خوش تھے۔۔ٹریننگ کے اختتام پر سروش علوی نے اپنی بیگم کی بھانجی سے شادی کر لی۔۔۔۔

اگلی بار ٹریننگ پر جانے کی ھماری باری تھی۔۔۔لیکن پھر بھی چار مہینے کے لیے گھر سے دور جانے کے تصور سے ہی خوف آتا تھا۔۔۔۔
میرے دو بچے بھی تھے بیٹا ایک ڈیڑھ برس کا اور بیٹی پانچ ماہ کی تھی۔۔۔۔وہ دونوں میری امی اور ڈیڈی کے پاس سمن آباد میں رھتے تھے۔۔۔
سسرال کے گھر کا ماحول ایسا تھا۔۔۔کہ اس سے فرار اختیار کرنے کا بھی یہی ایک راستہ تھا کہ ٹریننگ پر جایا جائے۔۔۔۔شوھر کی اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ جائیداد کے بٹوارے کی عدالتی جنگ جاری تھی۔۔۔۔
جس کے لیے مجھے دن رات گالیاں سہنی ہڑتی تھیں۔۔۔۔

ساس نندوں کی گالیاں سن کر
ہم نے جینے کا ڈھنگ سیکھا ہے
جس کی لا ٹھی ھے بھینس اسی کی ھے
ورنہ دنیا ہے تنگ سیکھا ہے
جس کے آنگن میں بیر لگتے ہیں
وہ ہی کھاتا ھے سنگ سیکھا ہے

بہر حال۔۔۔۔ٹریننگ پر تو جانا تھا۔۔۔۔دونوں بچوں کو امی، ڈیڈی اور خدا کے سپرد کیا۔۔۔عازم سہالہ ہوئے۔۔۔۔

میرے ساتھ 10 سب انسپکٹرز بھی تھیں۔۔۔شاھدہ بھٹی، فرناز ملک، فہمیدہ یاسمین ، شائستہ نیازی، ریحانہ اسلم , فرحت نسیم اود دیگر
جب ھم سہالہ پہنچے تو ھمیں ایک پرانی سی بلڈنگ میں ٹھہرایا گیا۔۔۔
جو کالج کی عمارت سے کافی دور تھی۔۔۔۔اس کے دروازے کے سامنے ایک قبرستان تھا۔۔۔۔اور بائیں طرف کافی فاصلہ پر کمانڈنٹ ھاوس تھا۔۔۔
خواتیں کے اس ھاسٹل کے باھر ایک پہرے دار کھڑا تھا۔۔۔۔۔کسی کو باھر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔نہ ہی ٹیلیفون کی سہولت تھی۔۔۔گھر والوں کو صرف خط لکھا جا سکتا تھا۔۔۔۔
سہالہ کے کمانڈنٹ تبدیل ہو چکے تھے۔۔۔۔اب سروش علوی کی جگہ۔۔۔ایم آر ضیا کمانڈنٹ تھے۔۔۔۔

ھم صبح چار بجے اٹھ کر پی ٹی کے لیے گراونڈ میں جاتے جو کافی فاصلے پر تھی۔۔۔۔وھاں سے واپس آ کر یونیفارم پہنتے۔۔ اور دوبارہ پریڈ گراونڈ میں پریڈ کے لیے چلے جاتے۔۔۔
ایک گھنٹہ پریڈ کے بعد۔۔۔واپس ھاسٹل آتے ناشتہ کرتے اور کتابیں اٹھا کر کلاس میں قانون کی تعلیم کے لیے جاتے۔۔۔دو بجے دوپہر چھٹی ھوتی۔۔۔ھوسٹل آکر دوپہر کا کھانا کھاتے۔۔۔۔تھوڑی دیر آرام کرتے۔۔۔چار بجے دوبارہ پریڈ کا ٹائم ہو جاتا۔۔۔
پریڈ کی ٹریننگ کے لیے ھمارے استاد سر عنایت ھیڈ کانسٹیبل تھے۔۔۔صرف ان کو خواتین کے ھوسٹل میں آنے کی اجازت تھی۔۔۔

کھانا پکانے کے لیے ایک باورچی بھی ھمیں دیا گیا تھا۔۔۔۔اور ھوسٹل کے باھر ایک پہرے دار بھی موجود ھوتا تھا۔۔۔۔
ھوسٹل کی عمارت اتنی پرانی اور خستہ تھی کہ چھت کی طرف دیکھ کر لگتا ۔۔یہ ابھی ھمارے اوپر آ گرے گی۔۔۔دیواروں کو ھاتھ لگ جاتا تو کرنٹ لگتا۔۔۔دروازے کے باھر دیکھتے تو قبرستان میں دور تک ویران قبریں دکھائئ دیتیں۔۔۔۔خیال آتا کہ شاید ہم اس قید خانہ سے زندہ واپس نہیں جا سکیں گے۔۔۔
کمانڈنٹ تو کیا۔۔۔کسی افسر نے کبھی ھمارا حال تک نہیں ہوچھا تھا۔۔ سروش علوی کی شادی کے واقعے سے سارے محتاط ھو چکے تھے۔۔۔اب ھمارے ساتھ اچھوتوں والا رویہ رکھا گیا تھا۔۔۔۔
ایک روز کمانڈنٹ اپنی بیگم کے ساتھ شام کی واک کے لیے نکلے۔۔۔۔جو کافی فاصلہ پر تھے۔۔۔کچھ ٹرینی آفیسر ھوسٹل کے دروازے پر کھڑی کسی بات پر ھنس رہی تھیں ۔۔۔۔دوسرے روز سے سب کو بطور سزا ایکسٹرا ایک گھنٹہ کی پریڈ لگا دی گئی۔۔۔

اب ایک گھنٹہ مزید پریڈ کرنا تھی۔۔۔
ہم سب ان دنوں ملیشیا کا شلوار قمیض پہنتے تھے۔۔۔جسے کلف لگا کر استری کیا جاتا۔۔۔
ایک شام پریڈ کرتے ھوئے پریڈ گراونڈ کی طرف جا رھے تھے۔۔۔راستے میں ڈپٹی کمانڈنٹ کا گھر تھا۔۔۔اس روز ان کی بھینس گھر کے باھر بندھی تھی۔۔۔۔
جب ہم ہریڈ کرتے ھوئے اس کے قریب سے گزرے تو اس نے ڈر کر رسہ تڑوا لیا۔۔۔اور ھمارے پیچھے بھاگی۔۔۔۔ھم ڈر کے مارے ادھر ادھر بھاگ رھے تھے۔۔۔۔دور تک کوئی چھپنے کی جگہ بھی نہیں تھی۔۔۔بھینس بے قابو ھو چکی تھی۔۔۔۔آخر کار کچھ لوگوں نے آکر اس کو قابو کیا تو ھمارے حواس بحال ھوئے۔۔۔

ایک روز ھم کلاس پڑھ رھے تھے۔۔۔ایک ڈیڑھ گز لمبا سانپ لہراتا ھوا کلاس میں داخل ھوا اور بے تکلفی سے ادھر ادھر گھومنے لگا۔۔۔۔لڑکیوں کی چیخیں سن کر ساتھ والی کلاس سے کچھ ٹرینی آفیسر آئے اور انھوں نے اس سانپ کو مار دیا۔۔۔۔
میرے علاوہ سب انسپکٹر فہمیدہ یاسمین بھی شادی شدہ تھی۔۔۔اسکے بھی دو بچے تھے۔۔۔۔ایک اتوار اس کا شوھر بچوں کو ملانے کے لیے آیا۔۔۔۔۔۔اسی اتوار میرا شوھر بھی میرے بیٹے کو ملانے لایا۔۔۔۔
ان کو ھمارے ھوسٹل تک آنے کی رسائئ دے دی گئی۔۔۔۔
باقی دنوں میں ھم اپنے گھر والوں کو خط لکھتے اور جوابی ڈاک ھمیں پریڈ انسٹرکٹر سر عنایت کے ذریعے موصول ہو جاتی۔۔۔۔۔۔

ایک دن شائستہ نیازی کی طبیعت خراب تھی۔۔۔وہ پی ٹی ٹھیک طرح سے نہیں کر رہی تھی۔۔۔سر عنایت اس کو بار بار ڈانٹتے شائستہ نیازی سیدھی کھڑی ہو ۔۔۔۔خدا خدا کر کے پی ٹی ختم ھوئی۔۔۔ھم پریڈ کے لیے یونیفارم تبدیل کرنے ھوسٹل میں آئے۔۔۔ابھی جوتے پہن رھے تھے کہ۔۔۔سر عنایت کی آواز آئی۔۔۔”شائستہ نیازی تمہاری والدہ وفات پا گئی ھیں۔۔۔تمہاری چھٹئ منظور ہو گئی ھے۔۔۔تم لاھور چلی جاو۔۔۔ “
انھوں نے اتنے سپاٹ لہجے میں یہ کہا کہ جیسے کوئی معمولی بات ہو۔۔۔شائستہ زمین ہر بیٹھی تڑپ رھی تھی رو رہی تھی۔۔۔۔
اس کے گھر والے رات بھر سہالہ کالج فون کرتے رھے تھے۔۔۔والدہ کی طبیعت خراب ھونے کی اطلاع دینے کے لیے۔۔۔لیکن کسی نے اسے بتانے کی زحمت نہ کی تھی۔۔۔اب فوتگی کی اطلاح پر کہا جا رھا تھا کہ وہ لاھور چلی جائے۔۔۔۔وہ اکیلی کیسے جائے گی۔۔۔تنہا اتنا لمبا سفر کیسے کرے گی۔۔۔میرا دل پھٹا جا رھا تھا۔۔۔۔مگر میں کچھ کر نہیں سکتی تھی۔۔۔
شائستہ چلی گئی۔۔۔ ھوسٹل میں سب کو چپ سی لگ گئی۔۔۔۔وہ جو میس میں کھانے کے دوران مل کر گاتی تھیں۔۔۔۔روتے ھیں چھم چھم نین۔۔۔
وہ بھی خاموش تھیں۔۔۔۔نہ پڑھائی میں دل لگتا نہ پی ٹی اور پریڈ میں۔۔۔سب لوگ سکول سے آکر اپنے اپنے کمروں میں چلی جاتیں۔۔۔۔۔
ایک دن میں نے خواب دیکھا ۔۔۔میرا بیٹا بہت بیمار ھے اور مجھے پکار رھا ہے۔۔۔۔میں چیخیں مارتی ھوئی اٹھی۔۔۔سب لڑکیاں اپنے کمروں سے نکل آئیں۔۔۔۔وہ مجھے خواب میں ڈرنے پر تسلیاں دے رھی تھیں۔۔۔لیکن میرے دل کو چین نہیں تھا۔۔۔۔کچھ دیر بعد جب سب اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لیے گئیں۔۔۔۔تو میں چپکے سے باھر نکلی۔۔۔۔سیدھی چلتی ھوئی سڑک پر آئی۔۔۔۔اور بس پر سوار ھو کر ریلوے اسٹیشن پہنچی۔۔۔لاہور کے لیے روانہ ھوگئی۔۔۔
جب گھر پہنچی تو دیکھا میرا بیٹا بہت کمزور ھو چکا ہے ۔۔۔امی نے بتایا اس کو ٹائفائیڈ ھو گیا تھا۔۔۔ھسپتال بھی داخل رھا ہے۔۔۔تم کو اس لیے نہیں بتایا کہ تم پریشان نہ ہو جاو۔۔۔۔
دراصل جب اس کا والد اسے مجھے ملانے سہالہ آیا تھا تو اس نے واپسی پر ٹرین کے پانی سے دودھ بنا کر اسے پلا دیا تھا۔۔۔ جس سے ڈیڑھ سال کا بچہ بیمار ھوگیا۔۔۔بخار اتر چکا تھا۔۔۔مگر ٹائفائڈ کے اثرات باقی تھے۔۔۔۔
میں نے پولیس لائین جا کر۔۔۔ڈی ایس پی خان نواب خٹک کو یہ صورت حال بتائی۔۔۔انھوں نے کہا۔۔
“آپ نے ٹھیک کیا ہے۔۔۔۔انسان بچوں کے لیے ھی تو کماتا ھے۔۔۔۔۔اب واپس جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ بنا کر درخواست دے دیں”
میرے آنے سے میرے دونوں بچوں کے چہروں پر رونق آگئی۔۔۔۔اور بیٹا صحتیاب ہو گیا۔۔۔
سہالہ سے واپسی کے جرم میں ایس ایس پی آفس لاھور کے کلرکوں نے میری تنخواہ بند کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔

جس کے لیے مجھے ڈی آئی جی جہانزیب برکی کے پاس جانا پڑا۔۔۔سب کلرک اس بات پر خوش تھے کہ اب مجھے نوکری سے بر طرف کر دیا جائے گا۔۔۔کیونکہ سہالہ سے واپس آنا بہت بڑا جرم تھا۔۔۔اور جہانزیب برکی۔۔۔بہت سخت مزاج آفیسر مشہور تھے۔۔
جہانزیب برکی نے میری فائل منگوائی۔۔۔اور دیکھ کر کہا۔۔۔کمانڈنٹ سہالہ نے آپ کے خلاف کچھ نہیں لکھا۔۔۔آپ کی تنخواہ بحال کی جاتی ہے۔۔۔لیکن آپ کو ایک بار سہالہ کی ٹریننگ ضرور کرنی پڑے گی۔۔۔۔
میں اس کے بعد کبھی بھی۔۔۔سہالہ نہیں گئی۔۔۔۔کیونکہ ان دنوں کے تصور سے۔۔۔۔ آج بھی دل خوفزدہ ہو جاتا ہے۔۔۔۔
                                                                                                  (جاری ہے)

نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post