کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۱۲)



از : نیلماناہید درانی
دو نئی اناونسرز۔۔۔۔۔اور ایم آر ڈی کی تحریک
شوکیہ الطاف۔۔۔۔شوکت تھانوی کی صاحبزادی تھیں۔۔۔۔جب ہم بچپن میں ریڈیو پاکستان لاہور پر بچوں کے پروگرام میں جاتے تو بچوں کی آپا۔۔۔آپا شمیم یعنی موھنی حمید کے دائیں بائیں نسبتا دو بڑے بچے بیٹھے ہوتے۔۔۔۔یہ شوکیہ تھانوی اور عرفان کھوسٹ تھے۔۔۔۔۔شوکیہ تھانوی ۔۔۔۔میجر الطاف سے شادی کے بعد۔۔۔شوکیہ الطاف بنیں۔۔۔ایک پیاری سی بیٹی پیدا ہوئی۔۔۔۔1971 کی جنگ میں میجر الطاف شہید ہو گئے۔۔۔اور انھیں جوانی میں ہی شہید کی بیوہ کا اعزاز مل گیا۔۔۔۔۔شوکیہ خوبصورت ۔طرحدار اور نہایت نفیس خاتون تھیں۔۔۔ریڈیو کی ٹریننگ نے ان کی آواز اور انداز گفتگو میں ایک سحر بھر دیا تھا۔۔۔لمبی دراز زلفوں اور تیکھے نقوش نے ان کی شخصیت کو ایسے نکھارا تھا۔۔ساڑھی پہن کر وہ کوئی اپسرا دکھائی دیتیں۔۔۔۔
انھوں نے میک اپ آرٹسٹ ظہیر سے شادی کر لی۔۔۔۔اور شوکیہ ظہیر بن گئیں۔۔۔۔۔
یاسمین خان اچانک چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔اب صرف ھم دونوں اناونسرز رہ گئیں۔۔۔ایک پہلے حصہ کی ڈیوٹی کرتی۔۔۔۔اور دوسری دوسرے حصہ کی۔۔۔۔اگر کسی وجہ سے کوئی ایک چھٹی کر لیتی۔۔۔۔تو بہت مشکل ہوتی۔۔۔ایک اناونسر کو ٹرانسمیشن کے شروع سے آخر تک۔۔۔ڈیوٹی کرنی پڑتی۔۔۔جو بہت تکلیف دہ ہوتا۔۔۔۔۔
انھی دنوں دوبارہ آڈیشن ہوئے۔۔۔اور دو نئی اناونسرز کو سلیکٹ کر لیا گیا۔۔۔۔یہ صبا خورشید اور صوفیہ صنم تھیں۔۔۔۔۔صبا خورشید۔۔۔ شادی کے بعد صبا فیصل کہلائی۔۔۔۔اور اب تک ٹی وی کے مختلف چینلز کے ڈراموں میں اداکاری کرتی ھیں۔۔۔بلکہ اب ان کے بچے بھی اداکاری کے میدان میں آچکے ہیں۔۔۔۔۔صوفیہ صنم کی شادی صحافی بیدار بخت سے ھوئی اور وہ صوفیہ بیدار کہلانے لگیں۔۔۔۔۔آجکل فیصل آباد آرٹس کونسل کی ڈائرکٹر ہیں۔۔۔
پولیس لائن میں خواتین سب انسپکٹرز کی تعداد کافی ھو چکی تھی۔۔۔۔سب انسپکٹر صفیہ بیگم کا تعلق جھنگ سے تھا۔۔۔اس نے کمیٹی ڈالنے کی روایت ڈالی۔۔۔۔جس کی کمیٹی نکلتی اس کے ساتھ سب مل کر رنگ محل صرافہ بازار جا تے اور وہ اپنے لیے سونے کے زیورات خریدتی۔۔۔۔،ان دنوں سونا 1100 روپے تولہ تھا۔۔۔۔
ملک بھر میں ایم آر ڈی کی تحریک چل رھی تھی۔۔۔۔پیپلز پارٹی کی خواتین مال روڈ پر گرفتاری دینے آتیں۔۔۔جن کو گرفتار کر کے سول لائن تھانے لے جایا جاتا۔۔۔۔
محمد وسیم ایس پی کینٹ بن چکے تھے۔۔۔اور ان سے پہلے والےایس پی کینٹ جہانگیر مرزا ایس ایس پی لاھور تھے۔۔۔۔
اب ڈی آئی جی لاھور کو ڈی آئی جی لاھور رینج بنا دیا گیا تھا ۔۔۔اور ان کا دفتر کرائمز برانچ لاھور کی بلڈنگ میں شفٹ ھو گیا تھا۔۔۔۔جو اب انسپکٹر جنرل پنجاپ کا دفتر اور پولیس ھیڈ کوارٹرز ہے۔۔۔۔
ڈی آئی جی لاھور کا پرانا دفتر جو ضلع کچہری سے متصل تھا۔۔اور۔اسلامیہ کالج سول لائن کے سامنے تھا۔۔۔اب ایس ایس پی لاھور کا دفتر تھا۔۔۔۔اسی عمارت میں ایس پی ایڈمن اور ایس پی ٹریفک لاھور کے دفاتر بھی تھے۔۔۔۔
رانا شوکت محمود اور ان کی بیگم۔۔۔۔سابقہ آئی جی پنجاب کی بیگم نسرین۔۔۔پیپلز پارٹی کی ورکر شاھدہ جبین۔۔۔۔پرویز صالح اور ان کی بیگم نورین کو چئیرنگ کراس سے گرفتار کر کے سول لائن لایا گیا۔۔۔۔
یہ ایس پی کینٹ کے لیے بڑا امتحان تھا۔۔۔۔پرویز صالح ان کے ماموں زاد بھائی تھے۔۔۔۔
ان کو رات بھر پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا اور دوسری صبح جیل منتقل کر دیا گیا۔۔۔۔نورین کو سڑک ہر گرنے سے چوٹ لگی تھی۔۔۔ان کو ھسپتال منتقل کر دیا گیا۔۔۔۔
یہ ایم آر ڈی اور پولیس کی آنکھ مچولی کا کھیل مال روڈ پر ہر شام ریگل چوک سے چئیرنگ کراس تک کھیلا جاتا۔۔۔۔
ایک دن جلوس میں فریال گوھر اور جمال شاہ آئے۔۔۔اس وقت تک ان دونوں کی شادی نہیں ہوئی تھی۔۔۔فریال گوھر کی بہن۔۔۔مدیحہ گوھر پولیس حراست میں تھی۔۔۔۔جلوس کی وجہ سے سول لائن کا آھنی گیٹ بند کر دیا گیا۔۔۔فریال گوھر گیٹ کے اوپر چڑھ گئی۔۔۔۔لیکن ان کو کچھ نہیں کہا گیا۔۔۔
جب بھی کوئی خاتون گرفتاری دینے آتی۔۔۔ان کے ساتھ ہی خواتین وکلا اور سوشل ایکٹوسٹ بھی سول لائن پہنچ جاتیں۔۔۔
ایک دن عاصمہ جہانگیر کی بہن حنا جیلانی نے خواتین پولیس پر الزام لگایا کہ ان کا سلوک خواتین کے ساتھ اچھا نہیں ہے۔۔۔۔ایس پی کینٹ محمد وسیم نے مجھے بلا کر پوچھا۔۔۔حنا جیلانی ان کے کمرے میں موجود تھیں۔۔۔میں نے بتایا کہ ھم ان خواتین کو کھانا کھلاتے ھیں اپنے کمرے میں احترام سے رکھتے ہیں۔۔۔۔۔
اب حنا جیلانی نے الزام لگایا کہ یہ ان خواتین کو باتھ روم نہیں جانے دیتیں۔۔۔۔
جس کے جواب میں میں نے بتایا کہ سول لائنز کی بلڈنگ میں خواتین کے لیے ٹائلٹ موجود نہیں ہے۔۔۔۔ھماری اپنی افسران۔۔۔سول لائن کے سامنے پلازا سینما کے واش روم استعمال کرتی ھیں۔۔۔۔اس پر ایس پی نے اپنے دفتر کا واش روم استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔۔
آخر یہ فیصلہ ھوا کہ ایم آر ڈی کے ارکان کو ان کے گھروں میں ھاوس اریسٹ کر دیا جائے۔۔۔۔اور ان کے گھروں کے باھر پولیس کی نفری لگا دی جائے۔۔۔۔
رانا شوکت محمود اور ان کی بیگم ناصرہ شوکت نے۔۔۔۔خواتین پولیس اہلکار جو ان کے گھر ڈیوٹی پر بھیجی گئیں کو خوشدلی سے قبول کیا۔۔۔ان کو گھر کا ایک کمرہ دے کر ان کے کھانے پینے کا بھی بندوبست کیا۔۔۔۔جس پر جو بھی وھاں ڈیوٹی کرنے جاتا ان کے حسن اخلاق کی تعریفیں کرتا۔۔۔ شاھدہ بھٹی کی ڈیوٹی بیگم راو رشید کے گھر تھی وہ بھی ان سے بہت خوش تھی۔۔۔۔۔ عالیہ منور کو صاحبزادی محمودہ بیگم کے گھر ڈیوٹی پر بھیجا گیا۔۔۔تو ان پر کتے چھوڑ دیے گئے۔۔۔۔رات گئے عالیہ کا فون آیا۔۔۔میں وھاں پہنچی۔۔۔۔صاحبزادی محمودہ بیگم کے دربانوں سے بات کی۔۔۔مگر وہ کسی طور پولیس اہل کاروں کو گھر میں داخل ھونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔۔۔۔ایس پی کینٹ سے وائرلیس کے ذریعے رابطہ کیا۔۔۔وہ اس وقت گشت پر تھے۔۔۔تھوڑی دیر بعد وہ وھاں پہنچ گئے۔۔۔مگر صورت حال وہی تھی۔۔۔۔انھوں نے عالیہ کو واپس پولیس لائن جانے کا کہا ۔۔۔۔اور دوسرے دن احکام پر عملدرامد کا کہہ کر چلے گئے۔۔۔۔
اعتزاز احسن کی والدہ اور بیگم بشری اعتزاز کو گھر میں نظربند کر کے۔۔۔فرناز ملک کو بھیجا گیا۔۔۔فرناز ملک کا پیغام آیا کہ اسے گھر میں داخل نہیں ھونے دیا جا رہا۔۔۔ میں زمان پارک میں واقع ان کے گھر پہنچی۔۔۔مجھے گھر کے اندر جانے کی اجازت مل گئی۔۔۔میں نے ان سے کہا کہ یہ سب انسپکٹر آپ کے گھر ڈیوٹی کرے گی۔۔۔اعتزاز احسن کی والدہ بڑی نخوت اور غرور سے بولیں تو پھر یہ باھر پولیس والوں کے ٹینٹ میں مردوں کے ساتھ رھیں۔۔۔بشری اعتزاز حاملہ تھیں اور ایک ملازمہ سے دبوا رھی تھیں۔۔۔۔میں نے ان کو کہا۔۔۔۔ایک لڑکی مردوں کے ٹینٹ میں کیسے رہ سکتی ہے۔۔۔ویسے بھی اس کی ڈیوٹی تو آپ لوگوں پر نظر رکھنا ہے۔۔۔۔اعتزاز احسن کی والدہ نے پھر اسی نخوت و غرور سے کہا۔۔۔ھم پر کیا نظر رکھنی ہے۔۔۔ھمارے تو گھر کی اتنی گاڑیاں ھیں کہ ایک مہمان آ جائے تو لگتا ھے۔۔۔بارات آئئ ھوئی ھے۔۔۔۔
مجھے حیرت تھی کہ کیا یہ اس شخص کا گھر ہے جسے بھٹو دور حکومت میں جو عوامی دور تھا کے کم عمر ترین وزیر کا درجہ حاصل تھا۔۔۔اور جو بہت مقبول تھا۔۔۔۔ان کی شخصیت کا بت چھناکے سے ٹوٹ گیا۔۔۔۔
                                                                                                     (جاری ہے)
نیلما ناھید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post