لاکڈ ڈاون آدمی کی ڈاٸری : اقتدار جاوید

پیش نوشت;

چه آغوش است یارب !موجه ی دریای رحمت را

که  هر کس  ره ندارد هیچ سو ، سوی تو می آید

(بیدل)

“یا رب ! (تیرے)دریاے رحمت کی موج کی کیا آغوش ھے کہ جس کسی کو کہیں راستہ نہ ملے وہ تیری(ھی) جانب آٸے ”

 

آج اتوار ہے، باٸیس مارچ ہے اور لاکڈ ڈاون کا پہلا دن۔ کہیں کسی گاڑی، گاڑی کے ہارن یا اس کے ٹاٸروں کے چِرچِرانے کی آواز نہیں کسی ذی روح کی چاپ کا شاٸبہ نہیں۔یہ صبح کا وقت ہے فضا میں بسیط خاموشی ہے کوٸی آواز کوٸی ہل جُل نہیں۔یہ میرا وہم ہے کہ حقیقت کہ میرے گھر کے سامنے پارک کے پیڑ خاموش ہیں۔لاکڈ ڈاون آدمی کو ایک طویل دن کا سامنا ہے۔

گھر سے باہر نکلنے پر پابندی ہے یہ سرکاری حکم ہے کوٸی باہر نہیں آ سکتا۔سرکاری ترجمان بتاتا ہے یہ مشکل گھڑی ہے اپنے گھر میں رہیں کسی سے نہ ملیں کسی سے ہاتھ نہ ملاٸیں کسی سے معانقہ نہ کریں۔ہاتھوں پر گلوَز  اور ناک پر ماسک چڑھاٸیں۔سرکاری ترجمان کہتا ہے یہ موت کی دستک کا دن ہے۔گھر میں تھوڑی سی ہل جُل ہوتی ہے شاید کوٸی جاگ اٹھا ہے تھوڑی باتوں کی آواز آتی ہے۔ نہیں آواز نہیں کوٸی بِھنبھناہٹ ہے الفاظ ہیں مگر جملہ مکّمل ہو نہیں پاتا جملہ ہے  معانی نہیں مگر احساس ہوتا ہے ذرا زندگی موجود ہے اس کے کچھ آثار ہیں میں کھڑکی کا پردہ ہٹاتا ہوں مگر گھر کے سامنے پارک ویران ہے کوٸی عورت، کوٸی مرد، کوٸی بوڑھا کوٸی بچہ نظر نہیں آتا۔ یہاں صبح صبح بچے جھولوں کی خاطر اور بوڑھے انہیں جھولا لیتے دیکھنے کے لیے آتے تھے مگر آج کوٸی نہیں آیا جھولا ساکت ہےاور پارک میں خاموشی ہے۔

سرکاری ترجمان مجھے  لاک ڈاون کی ضرورت سے آگاہ کرتا ہے اور قرنطین ہونے کی تلقین کرتا ہے۔وہ بتاتا ہے قرنطین ہونے کی کیوں ضرورت ہے۔یہ واٸرس ایک دوسرے کے نزدیک آنے، مصاحفے اور معانقے سے پھیلتا ہے جتنا آپ لوگوں میں جاٸیں گے اتنے غیر محفوظ ہوتے جاٸیں گے۔جتنا آپ لوگوں سے اور لوگ آپ سے دور ہوں گے آپ کے کرونا کے شکار ہونے کے چانس کم ہونگے۔سرکاری ترجمان بتاتا ہے ہمارے ملک میں یہ واٸرس کیسے پھیلا اور یہ کہ ساٸنس اور مذہب دونوں اس سے نمٹنے میں  ناکام ہو چکے ہیں گاو موتر مہم چلانے والے بیمار پڑ گٸے ہیں۔مزاراتِ مقدّسہ بند ہیں اور ویٹیکن ویران ہے۔ترجمان بتاتا ہے مذہبی رہنما اپنے پہلے موقف سے انحراف کر رہے ہیں اس وبا نے جنس ، مذہب، ذات اور خطّے کی تخصیص ختم کر دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وبا ہمارے شہر  کی گلیوں محلوں میں پھیل گٸی ہے۔

تب مجھے مارکیز یاد آتا ہے میں مارکیز کے فلورینٹینو کی طرح گھر پر زرد پرچم لہرانا چاہتا ہوں مگر مجھے اس کی اجازت نہیں ایک لاکڈ ڈاون آدمی کو اس طرح کی عیاشی کا حکم نہیں۔ترجمان وبا سے مرنے والوں کو دفن کرنے کے ایس او پیز جاری کرتا ہے جس میں سب سے اہم مرنے والے کی میت سے دور رہنا ہے۔اسے کفن کی بجاٸے ایک جراثیم کش لباس پہنانا ہے اور سمجھنا ہے کہ یہی کفن ہے۔اس کے گھر والے دوست رشتہ دار میت کے قریب نہیں آ سکتے۔میت کو جنازہ گاہ نہیں لے جایا جا سکتا ایمبولنس سے سیدھا ایک گڑھا اس کا آخری ٹھکانہ ہے۔ روتے ہوٸے قبر پر مٹی ڈالنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ گلاب کے پھول اور پتیاں قبر پر ڈالنی  ہیں، عطر کے چھڑکاو کا حکم نہیں ایک محلول کی شیشی ہے اسے قبر پر سپرے کرنا ہے۔کوٸی دعا اور فاتحہ پڑھنے کے لیے قبر کے نزدیک نہیں آٸے گا۔

ترجمان بتاتاہے کہ اس وبا سے ٹروڈو کی بیوی،  یورپین یونین کے وزیر اعظم، پرنس چارلس اور ایران کے کٸی وزیر شکار ہو چکے ہیں برطانیہ کی ملکہ قرنطین ہو گٸی ہے۔وہ یہ نہیں بتاتا کہ پانچ بڑی عالمی طاقتیں افریقہ اور ایشیا کے لوگوں کو ننگِ انسانیت سمجھتے  تھے۔ یہ افغانستان میں ایک کروڑ آدمی ہلاک کرنے کا کہتے تھے تب ان کے چہرے کسی محبت اور تاثر سے خالی نظر آتے تھے۔ ترجمان بتاتا ہے امریکہ کی پینتالیس ریاستیں اٹلی میں میلان اور لمباردی برطانیہ ناروے سپین جرمنی فرانس، دلّی اور اٹھہتر اضلاع کو مکمل بند کر دیا گیا ہے۔سڈنی کے بونڈی ساحل پر سن بھاتھنگ پر پابندی ہے۔بحر الکاہل کے ساحل اجڑے پڑے ہیں۔ ترجمان یہ نہیں بتاتا کشمیر میں پچھلے سال جولاٸی سے کرفیو نافذ ہے وہاں کسی کو گھر سے باہر جھانکنے کی اجازت نہیں تھی۔ کیسے ایک مظلوم قوم کو قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے ترجمان  یہ بھی نہیں  بتاتا کہ فلسطین جہاں پاکستان سے گٸے دو مریض ہلاک ہو گٸے ہیں کو پچھلی ایک صدی سے قرنطین کیا ہوا ہے۔افغانستان میں کرونا کا پہلا مریض ہلاک ہو گیا ہے ترجمان یہ نہیں بتاتا کہ روسی اور امریکہ نے وہاں ایک  لاکھ بے گناہ سویلین   آدمی مارے ہیں۔وہاں باریاں لگی ہوٸی ہیں پہلے کمیونزم والوں نے کہا کہ ان کو ہم ماریں گے جب وہ تھک گٸے تو سرمایہ داریت والے آ گٸے۔انہوں نے ان کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اسلحہ کی ریل پیل کر دی گٸی پہلے وہ ہیرو تھےاب دہشت گرد ہیں۔اب امریکہ ان کو مارتا ہے۔

ترجمان بتاتا ہے کہ اسلام آباد میں وینٹی لیٹرز کی کل تعداد بیس ہے۔یہ نہیں بتاتا کہ صحتِ عامہ پر توجہ دینے کی بجاٸے ہم نےسڑکیں بہت بناٸیں ہیں ایم ناٸن  سیالکوٹ کے لیے ہے سیالکوٹ میں سات وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔ایک موٹروے ملتان کے لیے ہے جہاں بارہ وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔وہ ان اوور ہیڈز اور انڈر پاسز کی تعداد  بتاتا ہے جو پچھلے دس سالوں میں بناٸے گٸے ہیں۔ترجمان بہت کچھ بتاتا ہے مگر  یہ نہیں بتاتا کہ ہمارے معاشرے میں کافی عرصے سے طبقاتی کرونا موجود تھا اور امیر  اور  سٹیٹس کے مارے ہوٸے پہلے ہی قرنطین ہو چکے  تھے رشتہ دار بہن بھاٸی  ایک دوسرے سے رضاکارانہ آیسولیٹ ہوٸے تھے اب اللہ پاک نے بطور سزا ان کو باقاعدہ آیسولیٹ کر دیا یے۔ اسے قرآن کی یہ آیت یاد آتی ہے فَاعتَبِرُو یا اُولِی الاَبصار۔یہ صبح کا وقت ہے اور باہر موت کا پہرہ ہے میں کہتا ہوں اتنا طویل دن کیسے کٹے گا معاً ترجمان کا تاثّر سے عاری چہرہ ٹیلی ویژن سکرین پر نمودار ہوتا ہے اور اعلان کرتا ہے شاید شام ہو گٸی ہے سورج غروب ہو گیا ہے۔

پس نوشت;

اے مارکیز

اِن وبا کے دنوں میں مجھے واقعی محبت ہو گٸی ہے تم سے، تمہاری بیگم  مرسڈیز سے، کرنل سے جسے کوٸی خط نہیں لکھتا جس کو تم نے مار دیا۔ مرسڈیز جان گٸی تھی کہ تم نے کرنل کو مار دیا تھا اسے کرنل سے محبت ہو گٸی تھی مارکیز اِس وبا نے سب کو ایک صف میں لا کھڑا کیا ہے۔مارنے والوں کو بھی اور مرنے والوں کو بھی،سب موت سے ڈر رہے ہیں ان کی قلب ماہیت ہوٸی یا نہیں کافکا کے گیریگری سمسہ کی طرح میں تبدیل ہو گیا ہوں۔مجھے ان ڈرنے اور مرنے والوں دونوں سے اِن وبا کے دنوں میں محبت ہو گٸی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post