ادب،نئی نسل اورعہد حاضر کے تقاضے : ڈاکٹراسد مصطفی

ڈاکٹراسدمصطفی
ڈاکٹراسد مصطفی
انسانی سماج کرہ ء ارض پر جس طرح کی زندگی گزار رہا ہے،اس کی بے شمارجہتیں ہیں۔یہ سماج بیک وقت ترقی پزیر بھی ہے اور ترقی یافتہ بھی۔سائنس،قوت اور دولت ہم معنی الفاظ بن چکے ہیں۔ ایک طرف انسان اپنی بلند پروازی میں ثریا سے ہمکنار ہے تو دوسری طرف اتنی ہی پستی،گمراہی اور جہالت کا شکار بھی ہے۔کہیں انصاف کے ایوان سجے ہیں توکہیں ناانصافی اور ظلم کی بدترین تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ انسانی معاشرے میں ایک طرف بے پناہ خوبصورتی ہے، تو دوسری طرف خوفناک بدصورتی دکھائی دیتی ہے۔ادب دراصل ان تضادات کو نمایاں کرنے والی تحریروں کا نام ہے۔ایسی تحریریں کسی بھی صنف میں ہو سکتی ہیں،چاہےغزل،نظم،مضمون،افسانہ،ناول یا ڈرامہ ہو یا قرطاس پر روشنیاں بکھیرتی اور اذہان کو منور کرتی کوئی بھی تحریر ہو۔سو یہ حقیقت ہے کہ ادب زمانے کی کوکھ سے جنم لیتا اور انسانی زندگی کے تاریک گوشوں کو تابانی عطا کر تا ہے۔کسی بھی معاشرے میں تخلیق ہونے والا ادب وہاں کے کلچر اور معاشرت کا بھر پور عکاس اور اس معاشرے کی روحانی،ذہنی،جذباتی اورمادی احتیاجات کا ترجمان ہوتا ہے۔ ہماری روایات،اقداراور زندگی کے مختلف گوشے ادب کا حصہ بنتے اور نئی نسلوں کو منتقل ہوتے رہتے ہیں۔یہ ایک فطری عمل ہے۔ اعلیٰ ادب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ تاریک دور میں تخلیق ہوتا ہے۔میر وغالب،سرسید اور پھر اقبال سے لے کر ترقی پسند تحریک مابعد کا دور انحطاطی دور تھا، سو بڑے شاعر پیدا ہوئے اور بڑا ادب تخلیق ہو ا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معاشرے سے انحطاط کبھی ختم نہیں ہوتا۔تاریخ کا مطالعہ بتا تا ہے ہر تاریکی کے بعد ایک اجالا ضرور آتا ہے لیکن یہ اجالا بھی دن کی طرح وقتی ہوتا ہے۔سورج کو ڈوبنا ہوتا ہے اور پھر سے رات کا سحر طاری ہوجاتا ہے۔آج کا زمانہ نہ تو مکمل روشنی کا دور ہے اور نہ ہی مکمل تاریکی چھائی ہوئی ہے۔جدید تجزیہ نگار اس دور کو Age of relexation قرار دے رہے ہیں۔اس دور میں تہذیبوں کے درمیاں تصادم کم ہے اور باہمی مکالمے کی ضرورت و اہمیت محسوس کی جا رہی ہے۔لیکن دوسروں پر اقتدار اور غلبہ حاصل کرنے کی خواہش نے بڑی طاقتوں کو خاص طور پر وحشی بنا رکھا ہے۔معاشی بالا دستی آج کی مہذب دنیا کی پہلی ترجیح ہے اور اس کے لیے وہ ہر جھوٹ بولنے اور مکاری کرنے کو تیار ہیں۔جہاں تک ہماری معاشرتی صورتحال کا تعلق ہے،ہمارے ہاں کوئی آئیڈیل صورتحال موجود نہیں ہے۔ ہمارے تضادات اور تنگ نظری نے ہمیں ایک بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے۔فرقہ پرستی،لاقانونیت،عصبیت اور دہشت گردی نے معاشرے کی بنیادی قدروں پر حملہ کیا ہے جس سے نہ صرف عام آدمی متاثر ہو ا ہے بلکہ پورا معاشرہ عدم تحفظ اور بے چینی کا شکار ہے۔اپنے فرائض منصبی سے غافل ہمارا نوجوان اندھیرے میں ٹھوکریں کھاتا ہوا چلا جا رہا ہے اور اس کی کوئی متعین ومعلوم منزل بھی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے،محبت ومروت،ہمدردی اور اخلاص جیسے انمول جذبے معاشرے سے روٹھ گئے ہیں۔ہر شخص خود غرضی اور نفس کی غلامی میں مبتلا اور قومی ہمدردی سے بے پروا ہوچکاہے۔ اس پس منظر میں آج کے لکھے جانے والے ادب کی افادیت کا سوال پیدا ہو رہا ہے۔ اقبالؒ نے جو ادب تخلیق کیا وہ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ان کے بعد ہمارے ہاں جو ادب تخلیق ہوا ہے اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ ہمارے نوجوانوں میں حرکت عمل کا جذبہ بیدار کر سکے۔آج بھی جب ہم اردو شاعری میں کوئی چراغ ڈھونڈتے ہیں تو وہ اقبالؒ ہی کی صورت میں ہمیں ملتا ہے۔فکری سطح پر کلاسیکی شاعری کے بعد اس کی پیش روجدید شاعری نے عہد حاضر کے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹا تو ضرور ہے لیکن اس کا تاثر صرف ایک بیانیے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔اگر معاشرے پر شاعری کے کچھ اثرات ہوتے تو پھر اقبال کے بعد اقبال سے بڑی یا ان کے ہم پلہ شاعری کی گئی ہوتی۔نثری سطح پر بھی ہمارے افسانے میں علامت نگاری اور تجریدی انداز واسلوب نگارش نے کہانی اور پلاٹ سے اس قدر اغماض برتا ہے کہ افسانہ ابلاغ کے نام پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ علامتی اور تجریدی انداز واسلوب، نے افسانے سے مقصدیت اورحقیقت پسندی کو کوسوں دور کردیا ہے۔ادب کی دوسری اصناف میں بھی وہ طاقت نہیں ہے جو اپنے مستقبل سے ناآشنا ہمارے نوجوان میں قوت وعمل کی جذبہ بیدار کر سکیں۔ اس پس منظر میں ضرورت ایسی شاعری اور ایسے نثر ی ادب کی ہے جو گل و بلبل کے نغموں سے تہی اور زندگی کے گیتوں سے معمور ہو۔ہمارے نوجواں کو سلائے نہیں بیدار رکھے تاکہ ہم اس Age of Relexation سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آنے والے وقتوں کے لیے اپنے آپ تو تیار کر سکیں۔موجودہ دور ایج آف ریلیکسیشن کے ساتھ ساتھ ایج آف آٹومیشن بھی ہے مشنیوں اورربوٹوں کی سائیکی انسانی زندگی پر حاوی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ہمارا نوجوان تن آسانی کا شکار بھی ہے اور اپنی کامیابی کے آسان راستے ڈھونڈنا چاہتاہے۔مشکل پسندی کا وہ عادی نہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ اس کے ہاتھ میں موبائل فون اور لیپ ٹاپ تھما دیا گیا ہے۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ پورنو گرافی کی ویب سائیٹس کھولنے والے ملکوں میں پاکستان کا شمار پہلے دو تین ملکوں میں ہونے لگا ہے۔یہ بات جہاں ہمارے اخلاقی زوال کی علامت ہے کہ وہاں حیرت اس بات پر بھی ہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ کی ناراضی اور گناہ کے کاموں میں دوسری دنیا خصوصاً غیرمسلموں سے کتنا آگے ہیں۔ہمارا مستقبل ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور ہمارے یہ اقبال کے شاہین جو اخلاقی رزالت و گمراہی کی حدود کو چھو رہے ہیں وہ بھلا بلند پرواز وبلند مقاصد کے حامل کیسے ہو سکتے ہیں۔ان کی تربیت اور ترق
ی کے لیے ادب کی کس صنف میں لکھا جا رہا ہے۔کیا آج کہی جانے والی غزل ان میں شعور پیدا کرے گی یا آزاد اور نثری نظم ان کے جذبوں کو جلا بخشے گی۔کیا موجودہ افسانہ اور ناول انہیں کردار کی بلندیاں عطا کرنے میں ممد معاون ہونگے یا انشائیہ اور سفر نامہ۔حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف ہم ایسے ادب کا ڈھیر لگائے جا رہے ہیں جو معاشرتی بہتری کے حوالے سے قطعاً سود مند ثابت نہیں ہو سکتا تو دوسری طرف مغرب اپنی تمام تر عریانیت کے ساتھ ہمارے گھروں میں گھس آیا ہے۔ہمیں سب سے پہلے اپنے بچوں اور نوجوان نسل کو اس طوفان کی حشرسامانیوں سے بچانا ہے اور اس کے لیے ادبا اور شعرا کو بھی سوچنا چاہیئے اور حکومتی سطح پر کوئی بہت بڑی تحریک،اس عریانیت کے خاتمے کے لیے چلانا ہو گی۔آج کی جدید دنیا مذہب سے لاتعلق سی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بیشتر لوگ بغیر مذہب کے زندگی گزار رہے ہیں۔الحاد ان کے ریشے ریشے میں دوڑتا ہے۔اس کے پیچھے سائنس اور دنیا کی مادی ترقی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے سرمائے کے بت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں دولت اور آمدنی کے مقابلے میں دین،مذہب،اخلاقیات سب بے وقعت دکھائی دیتے ہیں۔سرمایہ ہی اہل دنیا کا مقصد ہے اور وہ واحد ذریعہ بن چکا ہے جس سے آرام وآسائش اور آسانیاں خریدی جا سکتی ہیں۔ آج کے مغرب کا فرد ہفتے کے پانچ دن مشین کی کام کرتا ہے اور بقیہ دو دن اپنی کمائی ہوئی دولت سے عیاشی کا سامان خریدتادکھائی دیتا ہے۔ اس کا مقصود صرف اس دنیاوی عیش و عشرت، آسانیاں اور سہولتیں ہی ہیں۔سو اہل مغرب نے اپنی راحت کا بہت سا سامان تو پیدا کرلیاہے مگر سوال مشرق کا ہے کہ وہ مشرق جو ایک طرف اپنے دین و مذہب اور روایات سے جڑا ہوا ہے تو دوسری طرف مغرب کی تقلید میں بھی مسلسل مصروف ِعمل ہے، وہ کہاں کھڑ اہوگا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post