""اندر آنا منع ہے""


تبصرہ نگار: یوسف خالد 

          ڈاکٹر سلیمان عبداللہ ڈار کی کتاب—– “”اندر آنا منع ہے””کو باہر سے دیکھا—-ڈاکٹر صاحب کی خوبصورت تصویر نے پوری کتاب کو ڈھانپ رکھا ہے-تصویر اتنی با رعب ہے کہ کتاب کا نام (اندر انا منع ہے) شاید تکلفا” لکھ دیا گیا ہے —اس تصویر کی دلکشی اور جاذبیت ایسی ہے-کہ اس کے عقب میں جو دنیا آباد ہے وہاں تک رسائی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی- یعنی— حسن انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں کتاب پر ۔         انتہائی محترم ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا کی رائے اور جناب سعد اللہ کی تحریر نے بھی کتاب کے اندر جھانکنے کی اجازت نہیں دی– میں کافی دیر تک اس کتاب کے صوری حسن کی گرفت میں رہا–تا ہم یہ خواہش بار بار سر اٹھاتی رہی اور تجسس بڑھتا گیاکہ کسی صورت یہ بورڈ اتر جائے—–اور اندر جانے کی اجازت مل جائے– اسی بے قراری میں کتاب کو الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ —– یہ کیسا گھر ہے جس میں کوئی کھڑکی ہے نہ دروازہ ہواؤں کا گزر شاید کسی روزن سے ممکن ہو مگر اس گھر کی دیواروں پہ لکھے حرف گھر کی چار دیواری کے اندر جس قدر کہرام ہیں ان کی کہانی ہیں ادھورے خواب،تشنہ آرزوئیں گھرکی دیواروں سے ٹکراتی ہیں واپس لوٹ جاتی ہیں مسلسل خامشی ہے ہو کا عالم ہے عجب اک نوحہ خوانی ہے یہ کیسا گھر ہے- جس میں کوئی کھڑکی ہے نہ دروازہ —-
          میری خوش بختی کہ عزیزم قمر ریاض کا فون آگیا—میری مشکل حل ہو گئی—مین نے یہ بورڈ اتارنے یا وقتی طور پر ہٹانے کی بات کی تو قمر ریاض نے کہ جس کہ پاس ڈاکٹر صاحب نے مختارنامہ عام جمع کرا رکھا ہے مجھے بصد خوشی اندر آنے کی اجازت دے دی— حضرات گرامی– اب میرے سامنے پورا منظر نامہ ہے کوئی پہرے دار نہیں-کوئی خوف نہیں–میں آزادانہ اس گھر کی راہداریوں میں گھوم رہا ہوں– ابھی کچھ دیر پہلے میری ڈاکٹر صاحب کے چھوٹے بیٹے سے ملاقات ہوئی ہے-جو مسجد نبوی میں اپنے والد کے ہمراہ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں کو اٹھا کر رب کائینات سے اپنے والد کے لیے دعائیں کرتا رہا اور ڈاکتر صاحب اس معصوم کی توتلی زبان سے ادا ہوتے ہوئے لفطوں کی رم جھم مین بھیگتے چلے گئے—
        “اے اللہ میرے ابو کو صحت دے انہیں معاف کردے تو معافی کو پسند کرتا ہے”
       یہ ننھا فرشتہ اپنے والد کے پیچھے دعا کے الفاظ دھراتا جارہا تھا اور والد کی سماعت غیبی پیغامات کے تصور سے آشنا ہوتی چلی گئی —- آواز سماعت سے ٹکرائی کہ ہر انسان اپنے دل کی زمین کا کسان ہے تمہیں اس زمین پر یقین کا بیج بونا ہو گا ہم تمہیں تاروں کی بلندی دیں گے-قصر شیریں کے لڑکے والی اپنائیت دیں گے-پنجابی بزرگ والی محویت بھی دیں گے-اس مزدور والی آنکھیں بھی دیں گے مگر اپنے دل سے دنیاوی خواہشات کا گند نکالو -تب ناں —حضرات گرامی یہ جن کرداروں کا ذکر ہوا ہے ان کرداروں سے ڈاکٹر صاحب جب ملے تو ان پر خلوص محبت اور عشق کے نئے معانی کا در وا ہوا– دیار حبیب میں گزرے ہوئے لمحوں کی کہانی میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے تمام داخلی پرت طشت از بام ہو گئے ہیں—اور اب اس بورڈ کی کوئی اہمیت نہیں رہی کہ(اندر آنا منع ہے) اس کتاب کے پہلے حصے کا عنوان ڈاکٹر صاحب نے ————-“”اے صاحبان دل “رکھا ہےاس حصے کے تمام مضامین میں ہماری ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوتی ہے-جو انسانی تہذیب اور اخلاقی اقدار کے اجلے پن کا مظہر بھی ہے اور مرتی ہوئی اقدار کا نوحہ خواں بھی– بات دل سے نکلی ہے اور دل میں اتر گئی ہے —
        ڈاکٹر صاحب کی تحریر تصنع سے پاک ہے—انداز سادہ اور عام فہم ہے مگر جذبے کی شدت میں کہیں بھی کمی محسوس نہیں ہوتی—ڈاکٹر صاحب کا مشاہدہ بہت گہرا ہے اور جزیئات نگاری میں انہیں کمال حاصل ہے—اور سب سے بڑی بات یہ کہ ڈاکٹر صاحب ایک لمحہ کو بھی منظر سے الگ نظر نہین آتے–یہ مضامین کسی تصوراتی ماحول کی یافت نہیں ہیں بلکہ یہ ایک جیتے جاگتے متحرک انسان کی ذات کا پر تو ہیں — ایک ایسے انسان کی داستان ہے جو اپنے ماحول کا شاہد بھی ہے ناقد بھی ہے اور اس کے خدو خال سنوارنے والا بے لوث کردار بھی ہے- اس کا دل انسانوں کے دکھ درد کو شدت سے محسوس بھی کرتا ہے اور انہیں کم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کرتا ہے–ایک ایسا مسیحا جو اپنی ریاضت سے سسکتی ہوئی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے اور انہیں زندگی کی روشن راہوں سے روشناس کرانے کا جتن کر رہا ہے– ڈاکٹر صاحب کا مطالعہ وسیع ہے انہوں نے زندگی کا ایک ایک پل پورے احساس اور بیداری کے ساتھ گزارا ہے-ان کا سفر جاری ہے وہ کھلی آنکھ سے جو کچھ دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں اسے بہت عمدگی سے کہانی کی صورت عطا کر دیتے ہیں- قاری ان کی کہانیاں پڑھتا جاتا ہے اور پورے کا پورا ماحول قاری کے ساتھ چل پڑتا ہے- ڈاکٹر صاحب بول اٹھتے ہیں——اے میری قوم ذرا غور سے سن!!!! یہ آواز اتنی جاندار ہے کہ سماعت کے قدم رک جاتے ہیں–اور ایک آواز گہرے احساس میں بھیگی ہوئی آواز فضا میں گونجنے لگتی ہے– “””صدیوں پہلے کی بات ہے کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں کی لاڈلی ملکہ ممتاز محل زچگی کے دوران چل بسی تو شاہ وقت نے اپنی محبوبہ کے لیے کوئی مثالی اور انوکھا کام کرنے کی ٹھانی جس کا نتیجہ تاج محل جیسی یاد گار کی صورت نکلا—-اسی دوران برطانیہ کے کنگ ایڈورڈ کی بیوی بھی بعینہی اس طرح زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار گئی-برطانیہ کے بادشاہ نے بھی اس مسلہ اور اس بےدرد جدائی پر بہت غور کیا اور ایک انوکھا فیصلہ کیا کہ جس نا کافی طبی سہولت یا پیچیدگی کی وجہ سے اس کی بیوی اس دنیا سے گئی ہے اس مسلے کا مستقل بنیادوں پر سد باب ہونا چاہیے-یوں اس نے فیصلہ کیا کہ امراض نسواں کے لیے ہر سطح پر جدید ہسپتال بنوائے جائیں اور ایسا ہی ہوا(بعد ازاں لاہور مین بننے والا کنگ ایڈورڈ کالج و ہسپتال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا) حضرات گرمی ! ڈاکٹر صاحب نے انسانی رویوں کو اپنا موضوع بنایا ہے اور ایک اجلے معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنے احساس اور توانائیوں کو وقف کر رکھا ہے-ان کی تحریریں ہلکی پھلکی طنز اور واقعاتی دانش کا مجموعہ ہیں یہ تحریریں قاری پر غشی طاری نہین کرتیں اور نہ اسے بیزار کرتیں ہیں بلکہ ایک خوشگوار انداز میں سوچنے کی دعوت دیتی ہیں –یہی ایک سچے تخلیق کار کی پہچان ہے —- ہر اک موسم یہاں موجود ہر نعمت میسر ہے ہمیں اپنے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے اگر احساس میں خوشبو رچی ہو اپنی مٹی کی تو پھر سارے جہاں سے دیس اپنا خوبصورت ہے —— سامعین محترم! یہ کتاب سوچنے والے اذہان کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہے– —— ذرا چشم تصور سے اس منظر نامہ کے خدو کال دیکھیے اور محسوس کیجیے— کہ —- یہ وہ گھر ہے جہاں ہر شے میں آب و تاب تھی جلوہ نمائی تھی جہاں پر رنگ تھے خوشبو تھی پھولوں سے مزیں لان تھے سرما کی میٹھی دھوپ جس کی بالکونی پر اترتی تھی جہاں اجلی سجیلی چاندنی آنگن میں ساری رات محو رقص رہتی تھی سندرتا ہی سندرتا تھی مگر اب—- رہگزر کی دھول نے اس کے درو دیوار پہ تہہ سی چڑھا دی ہے نہ دروازوں میں رعنائی ہے باقی نہ دیواروں کی میلی اوڑھنی میں ہے کشش کوئی گزر گاہ گزر گاہوں کی زد میں آنے والے گھر بالآخر گھر نہیں رہتے زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے-فطرت اپنے رنگوں ، خوشبو سے دھرتی کو معطر اور پر کشش بنانے کی ریاضت میں مصروف ہے مگر ہم اس اجلی فضا میں جھوٹ،فریبِ،اور مکاری کا زہر گھول رہے ہیں– ایک لمحہ رک کر اس لذت کا اندازہ کریں جو اجلے معاشروں کے افراد کے حصے میں آتی ہے———– باہمی اعتماد،بھروسہ اور ایک دوسرے کے احساسات اور جذبات کا احترام زندگی کو ایک قابل قدر نعمت کے طور پر ہم پر منکشف کر سکتا ہے—آؤ خود سے سچ بولیں اور اعتماد کے رشتوں کی پرورش کریں-
آو اپنی سی کوششیں کر لیں
کم کسی طور نفرتیں کرلیں
اپنے حصے کی بانٹ کر خوشیاں
غمزدوں سے شراکتیں کر لیں
       ڈاکٹر صاحب کی یہ خوبصورت کتاب پڑھیے اور اپنے گرد و پیش میں اتنے پھول اگائیے کہ رنگ خوشبو ہمارا حوالہ بن جائے– بصورت دیگر
موسم گل بے خیالی میں گزر جائے گا جب
موسم گل کی ستائے گی طلب گاری بہت
جب کبھی احساس میں گھل جائے گی یخ بستگی
یاد آئے گی کسی کی گرم گفتاری بہت
—–
ایک آہ سرد سے برفاب ہو جائے گا دل
سانس لینے میں کسی کو ہو گی دشواری بہت
یوسف خالد
Chat Conversation End
You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post