وصل : ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

نرم ،گداز ،مرمریں بدن اور الہڑ شوخ جوانی کی حامل دو شیزہ ،پلنگ پرآدھی رات یوں محوِ خواب تھی جیسے کوئی نومولود بچہ ماں کی آغوش میں نیند کے مزے لوٹ رہا ہو۔ اس کے رگ و پے میں بھری تشنہ تمازت اس بات کی متقاضی تھی کہ پیار کا کوئی دھنک رنگ بادل امڈ کر آئے اور یوں برسے کہ ہجر کے صحرا کی ریت سیراب ہوجائے۔وہ حسن اور دلکشی کا ایسا امتزاج تھی کہ جب بات کرتی تو اس کے لفظ خوش بو کی طرح محسوس ہوتے ،وہ ہنستی تو سارا عالم اس کی ہنسی میں ڈوب جاتا ،وہ گنگناتی تو بادِ صبا ٹھہر جاتی،اس کے رسیلے ہونٹ جو کھلتے تو یو ں لگتا جیسے قضا ٹھہر گئی ہو،اجتنا اور الورا کی مورتیں رقص کرنے لگی ہوں ، مدتوں سے لب بستہ غارگیت گنگنانے لگے ہوں،دیوتا فضاؤں میں مسکرانے لگے ہوں، شرابی آنکھیںجو جھپکتی تو مناظر جمود کا شکار ہو جاتے،شر مگیں لہجہ اورچہرے کی شادابی اس کے اپسرا ہونے کی چغلی کھاتے اور جب کبھی اداسی کے گھنے سائے اس کا احاطہ کرتے تو مرا دل اداسیوں کی گہری کھائی میںیوں گم ہو جاتا جیسے سانس ،وقت ،سمندر، ہوا ،دریا ،بارش ، بادل اور اُڑتے پرندے ساقط ہو گئے ہو ں ۔رات کی تنہائی میں محوِ خواب وہ دوشیزہ حسن و جمال میں اپنی مثال آپ تھی ۔
اپریل کے مہینے میں جب سردیاں ضعف کا شکار ہو کر آخری سانسیں لے رہی ہوں، گرمیاںابھی ننھے بچے کی طرح گھٹنوں کے بل چلنا سیکھ رہی ہوں تو مکھیوں اور مچھروں کے لشکر، ان دیکھی مہمات پر نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔مچھرجنگ کاطبل بجاتے،رجز پڑھتے، بہادری کے قصے گاتے خلیل پاشا کے منع کرنے کے باوجودسلطان محمد فاتح کی طرح حضرتِ انساں کی بازنطینی سلطنت پر اُن اُن محاذوں سے حملہ آور ہوتے ہیں جن کی اسے خبر تک نہیں ہوتی۔وہ انسانوں کا خون چوس کر اپنے پیٹ کا جہنم بھرتے اور خود کو ختم کر کے نئی نسلوں کو جنم دیتے چلے جاتے ہیں۔ اپریل کی ایک ایسی ہی سہانی رات وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت محوِ خواب اس حسینہ کے بدن کی تسخیر کو نکل کھڑا تھا ۔ وہ اس کی گھنیری زلفوں کے گرد چکر لگاتا ،تاریکی کی انتہا میں اپنی سانسیں مہکاتا،کانوں کی لوؤں کا لمس محسوس کرتا ،گیت گاتا،گنگناتا،ہواؤں میں تیرتا،اس برکھا رانی کی گردن پر جا براجمان ہوا۔اس کے لمس کی لذتوں سے محظوظ ہوتارہا،گردن سے گالوں اور گالوں سے لبوں تک اس نے یوں سفر کیا جیسے وہ باپ کی جاگیر میں بغیر کسی الجھن اور خوف کے سیر کرتا پھر رہا ہو۔ نندیا سے سپنوں تک تنہائیوں کے کتنے جگ بیتے ،اُس بے چاری کو کچھ خبر نہ تھی وہ تو نیند کی وادیوں میں سپنوں کی سیر میں مشغول تھی ۔اس کی آنکھوں میں تو بن موسم بادل برس رہے تھے ،شام ہاتھوں میں پھولوں کا طشت اٹھائے پھر رہی تھی،چاند محبوب کے لہجے میں اس سے محوِ گفتگو تھا،خوشبوئیں باہیں پھیلائے اسے سینے سے لگائے رقص کناں تھیں۔وہ چہرے کے خال و خد دریافت کرتا ان دیکھی اور پر لذت سر زمینوں کی سیر کرتا ، بالآخر چاہِ زنخداں میں اترکر اس کے شیریںخون سے لذت کشید کرنے میں محو ہو گیا۔ اس کے بدن میں جو خون داخل ہوا اس خون کے ساتھ اس کے محبوب کا خون بھی گھل مل گیا ،اس لیے کہ رات کے پہلے پہر اس نے اپنے من کے صحرا کو اس کے خون سے بھی سیراب کیاتھا۔اب دونوں خون شیر و شکر ہو گئے،جسم تو وصل کی لذت سے محروم تھے لیکن خون کو تیسرے بدن میںوصل کی لذت کا موقع مل گیاتھا ۔اس ننھے جاندار کا جسم اب دو انسانی روحوںکے لیے حجلہ عروسی کی صورت اختیار کر گیا تھا،جہاں دنیا کے قوانین ، اقدار اور رسوم کی کوئی قید نہیں تھی،خون روح کا استعارہ بن کر دونوں جسموں سے آزادبہجت و سرورکی لذتوں سے آشنا تھا۔بہجت کا وہ لمحہ جس کی دونوں جسم مدت سے آرزو کرتے آئے تھے ،خون کے قطروں کی صورت ایک دوسرے سے ہم آغوش تھا ،یوں محسوس ہوا جیسے کئی برسوں سے ٹھہری جھیل میں پتھر پڑ گیا ہو،جیسے سلگتی راکھ پر بارش کا قطرہ گر پڑا ہو، جیسے خوابوں میں آکر کوئی شرارت کر گیا ہو،جیسے کوئی بہت قریب آنے سے ڈرتے ڈرتے اتنا قریب آگیا ہو کہ واپسی ناممکن ہو گئی ہو،جیسے ست رنگے جذبوں کی بارش نے جل تھل ،جل تھل کر کے آنگن کی مٹی کو مہکا دیا ہو،جیسے جھلمل جھلمل کرتی چوڑیوں نے اک لے میں بجنا شروع کر دیا ہو۔
سیمیں بدن اور گداز جسم کی حامل دوشیزہ خوابوں کی جن سر زمینوں کی سیر کو نکلی تھی،ان میں بھونچال آگیا ۔وہ موسم جو صدیوں سے نہیں بدلا تھا ،جہاں بازارِ ہستی میں کوئی ابنِ مریم ظہور پذیر نہیں ہوا تھا تو پھر کیسے دل کی سرزمینوں سے کوڑھ شفا یاب ہوتی ۔سمندر کو بادل کا پیغام پہنچانے والے کہیں راستے میں ہی موت کے گھاٹ اتار دے گئے تھے ، تو پھرسنگلاخ اور صحرا زدہ زمینوں کی فرسودہ اقدار پہ کیسے نئی اقدار اور نئی روشنیوں کی برکھا برستی۔ نہیں برس سکتی ۔۔۔۔کبھی نہیں !اس کی صرف یہی صورت تھی جو اس ننھے جاندار کے جسم کی چار دیواری میں بے رحم اور سنگدل دنیا کے رسم و رواج اور اقدار سے پرے ہی۔۔۔۔۔جب وہ گہری اور میٹھی نیند کی دنیا سے بیدار ہوئی تو ٹھوڑی پر درد کے احساس نے اسے بے چین کر دیا ۔ نرم و ملائم انگلیاںیکبار زنخداں کی جانب اٹھتی چلی گئیں ، چاند میں چرخہ کاتنے والی بڑھیا کا آٹا ،بچوں کی آنکھ جھپکنے والی گڑیا ، سرخ گلابوں کی خوش بو ،لال نگینوں والی مالا،بادل اور برسات کی باتیں ،پریوں والی پریم کہانیاں ،بہار کی رت میں کو کو کرتی کوئل ،نیل گگن پر بکھرے تارے،محسن نقوی کی غزلیں ، راشد کی نظمیں ، ساحر کے گیت اور یلدرم کے افسانے سب الٹ پلٹ گئے ۔ اس کی نرم و ملائم انگلیوں کے بیچ وہ ننھا جاندار اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھااس کے جسم کی چار دیوار ی میں اس کا اپنا ،حسین دوشیزہ اور اس کے محبوب کا خون یک جان ہو چکا تھا ۔اب وہاں خود کشی ، محبوب کے قتل اوربے گناہ ننھے جاندار کی موت ایک اور وصل کی صورت ہم آغوش تھی۔ ۔۔۔۔!

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post