خزاں : نصرت نسیم

دھند، بادل، ملگجا سا اندھیرا اورٹنڈمنڈ درخت یوں جیسے خالی ہاتھ جا بجا بکھرے پاوں تلے چرچراتے پتے۔
زندگی موت ملنے بچھڑنے کے کتنے استعارے کتنے اشارے کتنے اسباق پوشیدہ ہیں اس میں گویا چر مراتے پتے پیغام دے رہے ہوں ۔کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو کبھی پھولوں کی سنگت میں سر سبز شاخوں پر خوشی سے جھولتے تھے اور اب قدموں تلے روندے جا رہے ہیں یہ استعارہ یہ کہانی فتح و شکست کی بھی تخت سے تختے اورامیری سے غریبی کی بھی
خزاں کا یہ موسم میرے لئے اپنے اندر کئ کہانیاں، کی رنگ کئ انگ،کئی زاویے رکھتا ہے۔اتنا متنوع موسم شاید ہی کوئی اور ہو جس میں اتنے استعارے اتنی کہانیاں پوشیدہ ہوں۔جس کا ہر پرت ہر زاویہ زندگی سے جڑا ہو اورموت کو چھوتا ہو ۔
درختوں پر جھولتے سوکھے پتے ہوا کے جھونکے سے اڑ کر دور جا گرتے ہیں ۔میرے لئے یہ موت کا استعارہ کہ جانے کب زندگی کی شاخ سے ٹوٹ کر ایک انجان دنیا میں جا گریں۔ان دیکھی ابدی دنیا میں
ایسا ہی یہ موسم جو بہت اندر سےاداسییاں اوربے نام سے غم کی کہانی لئے ہوے
خزاں کے ساتھ ہی اختتام سال تو ایک نیا اشاریہ کہ عمر عزیز کا ایک اور برس خزاں رسیدہ ہو کر ماضی کی گپھاوں میں گم ہونے جا رہا ہے کبھی واپس نہ آئے کے لئے۔جیون کے درخت پر کیا باقی ہے؟ رنجیدہ کر دینے والا سوال
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
مغربی ممالک میں خزاں بہت خوب صورت سرخ سرخ پتوں سے لدے شجر اشجار جو پکار پکار کر کہتےہیں کہ صرف بہار ہی حسین نہیں۔خزاں کا اپنا ایک حسن
جوانی کی بہار تو گزر گئی مگر بڑھاپے کی خزاں کا اپنا ایک حسن و جمال، دل آویزی نانی بن کر دادی بنکر زندگی میں نئ بہار نئ کونپلیں نئے شگوفے پھوٹتے دیکھنا ہمارے بزرگ کیسے برگزیدہ ایک نورانی ہالہ لئے ہوے
چہروں پر نور تقدس وملکوتی مسکراہٹ سجاے ہوے
خزاں کے ٹنڈ منڈ درخت حیات بعدالممات کا سب سے بڑا مظہر
کہ خزاں میں درخت اور اس کی شاخیں یوں کہ جیسے خس و خاشاک لگتا نہیں کہ ہی دوبارہ سر سبزہونگی۔پھر آمد بہار کے ساتھ ہی آلوچے اور خوبانی خشک شاخوں پر سفید سفید پھول کھل کر اللہ مصوری خلاقی وحقانیت کے شاہدکہ جورب خزاں کو بہار میں بدلنے پرقادر اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے
خزاں گردش ایام بھی خوشیوں سے غموں کا سفر بھی
کہیں مرد کی بے وفائی اور کہیں جوان موت کہ زندگی خزاں بن کر رہ گئی ۔خزاں انقلاب زمانہ کہ لوگ محروم اقتدار تو سنبھل نہ پاے امیر فقیر تو یہ سارے خزاں کے رنگ ڈھنگ
دنیا کے بیشتر علاقوں میں درخت خزاں میں سرخ میرون رنگارنگ پتوں سے لدے ہوئے جو یہ پیغام دیتے ہوئے کہ خزاں میں کیسے شوخ رنگ کا لباس قدرت نے ہمیں پہنایا ۔کہ خالق کائنات جمیل ہے اورجمال کو پسند کرتا ہے تو بڑھاپے کی خزاں وبے رنگی کو گہرے رنگوں سے رنگین بنایں خزاں کے یہ درخت یہی پیغام سناتے ہیں ۔کہ کائنات تو رنگوں سے عبارت کہ کیسے کیسے رنگ ہمارے آس پاس بکھرے ہوئے ہمیں تدبر کی دعوت دیتے ہیں
آخر میں اس دعا کے ساتھ کہ رب کائنات ہمیں اپنے رنگ میں رنگ دے ۔ویسے آپس کی بات ہے ساٹھ سال سے زیادہ ہونے کے باوجود میں گہرے اور کھلتے ہوے رنگ پہنتی ہوں اورآپ؟

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post