ویو آف آٹو میشن کی خانہ ویرانی : ڈاکٹراسد مصطفیٰ

ڈاکٹراسدمصطفی
اگر آپ کے دفتر کی چھٹی ہوئی ہے اور اپنی ہوائی یا زمینی گاڑی میں بیٹھ کر ”ہوم“ کا لفظ کہتے ہیں اور وہ گاڑی کچھ دیر میں خود بخود آپ کے گھر کے دروزاے پر جا رکتی ہے تو آپ سمجھ لیں کہ آپ ایج آف آٹو میشن میں پہنچ چکے ہیں لیکن اگر دفترکے اوقات میں آپ کا دل چاہا ہے کہ آپ ذرا گھر سے ہوآئیں اور ایک خاص قسم کا،کاسٹیوم پہنے اور اپنے ذہن کی چپ کو گھر پر فکس کرتے ہی،آپ اپنے آپ کو بیوی بچوں کے درمیان پاتے ہیں تو سمجھ لیں کہ آپ نینو ٹیکنالوجی کے عہد عروج میں پہنچ چکے ہیں۔یہ سفر کسی خواب کا نہیں ہوگابلکہ حقیقت پہ ہی خواب کا گماں ہو گا کیونکہ پچھلے کچھ عرصہ سے نینو ٹیکنالوجی میں مسلسل ترقی ہو رہی ہے اور ایسا لباس بھی تیار ہو چکا ہے جسے پہن کر آپ دوسروں کی نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی میں امکانات بہت زیادہ ہیں اور یہ بہت سرعت کے ساتھ پوری انسانیت کو اپنے حصار میں لینے کے لیے تیار ہے۔ آج کل نینوٹیکنالوجی سے امریکہ، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک بیسیوں مفیداشیا بنائی جا رہی ہیں جو مسلسل انسانی حیرتوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔موبائل فون کی ٹچ سکرین، نینوٹیکنالوجی ہی کی ایک مثال ہے۔اسی طرح یورپ میں ایسے شیشے بنائے جا رہے ہیں جن پر بارش اور موسم کاکچھ اثر نہیں ہو گا۔میڈیکل کے شعبے میں نینو ٹیکنالوجی سے کئی اہم ترین کام ممکن ہو گئے ہیں جو پہلے ناممکن تھے مثال کے طور پر بعض ادوایات کو لیبارٹری میں ٹسٹ کرنا ممکن ہو گیا ہے جن کے اثرات کا پہلے جائزہ نہیں لیا جا سکتا تھا۔اسی طرح جلی ہوئی انسانی جلد کو اپنی اصل سے قریب تر شکل دینے کے لیے بھی نینوٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔ ابھی اس ٹیکنالوجی پر بہت سا کام ہونا باقی ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ اس صدی کے نصف تک انسان مزید وہ کچھ کر لے گا جس کا ابھی وہ صرف سوچ سکتا ہے۔آج کا دور دراصل خود کاریت کا دور ہے جسے ایج آف آٹومیشن کہا جا رہا ہے۔اس دور میں انسان بجلی کی سی سرعت سے ترقی کی نئی منازل طے کرتا چلا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دنیا جس تیزی سے تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے،ماضی کی صدیوں میں ایسی تبدیلیاں نظر نہیں آتیں تھیں۔آج کی یہ تبدیلیاں بے انتہا بھی ہیں اور بے ہنگم بھی۔ علم بشریات کے ماہرین کے مطابق انسان آج جس دور میں زندگی گزار رہا ہے،یہاں تک پہنچتے پہنچتے وہ کئی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔وہ تبدیلیاں جو پہلے صدیوں کے عمل کے بعد آیا کرتی تھیں،اب بہت تیزی سے آتی اور گزرتی چلی جا رہی ہیں۔ انسان ایک عجیب و غریب اضطراب میں گھرا دکھائی دیتا ہے۔ وہ ایک ایجاد سے مانوس ہونے نہیں پاتا کہ دوسری پیچیدہ ایجاد اس کی جگہ لے لیتی ہے۔
ہوش اڑتا جا رہا ہے گرمی ئ رفتار سے
دیکھتا جاتا ہوں میں اور بھولتا جاتا ہوں میں
پتھر کے دور میں انسان کا گزارا شکار پر تھا۔ جب اس نے بیج بونا اور مختلف فصلیں اُگانا سیکھ لیا تو زرعی دور شروع ہوا۔یہ دونوں ادوار ہزاروں برسوں پر محیط ہیں۔صنعتی دور، دو تین سوسال پہلے شروع ہواجب یورپ بالخصوص برطانیہ اپنی صنعتی ترقی کی بنیاد پر ہندوستان سمیت پوری دنیا پر چھا گیا تھا۔صنعتی ترقی کے دور سے شروع ہونے والی لہر کئی اور کروٹیں لیتی ہوئی اب ایج آف آٹو میشن میں داخل ہوچکی ہے۔ اسے صنعتی ترقی کا چوتھا دور بھی کہا جا رہاہے۔ ایک امریکی مفکر آلون ٹافلر کی کتاب”تیسری لہر“ ۰۸۹۱ میں شائع ہوئی تھی۔وہ اپنی اس کتاب میں بتاتا ہے کہ انسانیت کی تحریک میں دو بڑی لہریں آ چکی ہیں اورتیسری لہر کااب آغازہو رہا ہے۔ وہ صنعتی دور کو دوسری لہر جب کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور کو تیسری لہر قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک اس تیسری لہر کے اثرات آگے جا کر ظاہر ہوں گے۔ وہ اس بات پر پریشان نظرآتا ہے کہ پہلی لہر کو ختم ہونے میں ہزاروں سال لگے۔ دوسری لہر دوسو سال میں ختم ہوئی اور ممکن ہے کہ موجودہ لہر اس سے بھی کم عرصے میں ختم ہو جائے گی لیکن اس کے نزدیک اس لہر کے مختصر عرصے میں بہت بڑی تباہی کا خطرہ موجود رہے گا۔ اسے اس بات کی پریشانی ہے کہ انسان اندر سے اتنی تیزی سے تبدیل نہیں ہو رہا جتنی تیزی سے باہر کی دنیا بدل رہی ہے۔ باہر توانسان نے چاند اورخلاؤں کو تسخیر کر لیا ہے، لیکن اندر سے تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ہجوم میں گھری تنہائی اوریہ تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا مختلف تضادات کو جنم دے رہی ہے۔ جدید علوم نے کائنات کے شکستہ آئینے کے الگ الگ ٹکڑے اٹھا رکھے ہیں۔ جدید علوم کے اس آئینے کے ٹکڑوں میں سامنے کی چیزیں تو نظر آتی ہیں لیکن مذہب کے حوالے سے دنیا اور کائنات کا نظریہ سامنے نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو انسان کی عظمت نظر آتی ہے اوردوسری طرف اتنی اخلاقی پستی ہے کہ ہر چیز ٹوٹ کررہ گئی ہے۔ خاندان ٹوٹ گیا ہے، معاشرتی رشتے ٹوٹ گئے ہیں۔ پرانے معاشرے میں دکھ سکھ سا نجھا تھا لیکن جدید معاشرے میں پڑوسی سے رشتہ بھی ناگوار گزرتا ہے۔ اسی طرح سائنسی علوم اور ایجادات نے جہاں انسان کو بہت زیادہ آسائشیں مہیا کی ہیں وہاں انہوں نے کائنات کے ماحول پر بھی حملہ کیاہے اور اس کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔اوزون کی تہہ کی تباہی،زمین پر موسموں کی تبدیلی،کھادوں اور زرعی ادویات کے استعمال سے مشکل اور دوبھر ہوتی زندگی اور ماحولیاتی آلودگی سے مرتی ہوئی حیات، جدید سائنس کی شکوہ کنا ں ہے تو اس میں حیرانی کی بھلا کیابات نہیں ہے۔ایک دور تھا،دنیا بڑی سادہ تھی۔لوگوں میں محبت بھی تھی اوران میں لالچ اور حرص وہوس بھی کم ہوا کرتی تھی۔مغربی اقوام کو دولت مند ہونے اور دنیا پر حکمرانی کا شوق چرایا تو صنعتی ترقی کا آغاز ہوا۔ صنعتی ترقی کا زمانہ وہ تھا جب حیوانی طاقت اور سٹیم انجن کی جگہ مشینوں اور بجلی نے لے لی اور دنیا میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔زندگی کا ہر شعبہ پیداواری عمل کی تیزی اور نت نئی ایجادات سے متاثر ہونے لگا تھا۔پھردنیا میں سرمائے کی فراوانی ہوئی اور سرمایہ دارانہ نظام،جمہوری قبا میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑھنے لگا۔اس دور میں خدا اور مذہب سے دوری کا احساس بھی ابھر ا اور ترقی پسند قوموں نے مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ کہہ کر نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ تاریخ کے اسی موڑ پر انفارمیشن ٹیکنالوجی، سرمایہ دارانہ نظام کی مدد کو آکھڑی ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہوگئی۔یہ تبدیلی بہت تیزی سے آئی ہے، جسے جدید دنیا نے دیکھا بھی ہے اور محسوس بھی کیا ہے، ورنہ ماضی میں آنے والی تبدیلیاں بہت دیر بعد محسوس ہوا کرتی تھیں مثلاً صنعتی ترقی کا پہلا دور اتنا طویل تھا کہ اس نے خود کو محسوس کراتے کراتے دو تین سو سال لے لیے تھے۔
آج انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی کا دور ہی ایج آف آٹومیشن کی بنیاد بن رہا ہے، جب پوری دنیا انٹر نیٹ سے منسلک ہو چکی ہے اور مشین کی عادی بھی ہوچکی ہے۔کچھ ہی عرصے میں ہم دیکھیں گے ہمارے بیشتر کام ربورٹس سر انجام دے رہے ہونگے۔انگریز مصنف جان پگلانو نے اپنی کتاب”ربورٹس آرہے ہیں“میں سات ان پیشوں کا ذکر کیا ہے جو کمپیوٹر اور ربورٹ کی آمد کی وجہ سے اپنی افادیت کھو دیں گے۔ان میں ماہرین طب،وکلا،ماہر تعمیرات،اکاونٹ کے شعبہ میں کام کرنے والے،جنگی جہازوں کے پائیلٹ،پولیس، جاسوس اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس زیادہ متاثر ہونگے۔ یہ ربورٹس انسانی زندگی میں کس حد تک دخیل ہوں گے، اس کا اندازہ ہم ابھی سے اپنے معمولات سے کر سکتے ہیں کہ ہم مشین کے کتنے محکوم ہوچکے ہیں مثلاًہم گاڑی تک جانے سے پہلے ہی اسے ریموٹ کنٹرول سے کھول لیتے ہیں،اسی طرح ٹی وی،ہیٹر،اے سی اور دوسری الیکٹرانک ڈیوائسز کو باقاعدہ آف کرنے کے بجائے ریموٹ کنٹرول سے آف کرنا ہی کافی سمجھتے ہیں۔ مستقبل کاانسان اس بات میں آسانی اور سہولت محسوس کرے گا کہ اس کے کرنے کے بیشتر کام وہ خود یا اس کا نوکر نہیں بلکہ ربورٹ کرے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام کام جو انسان کرتا ہے یا کرسکتا ہے،کرنے والے ربورٹ وجود میں آچکے ہیں۔بس انہیں تجارتی اور وسیع پیمانے پر بنانے کی ضرورت ہے اور کسی دن وہ، وقت بھی آجائے گا جب انسان ربورٹ فیملیز کے ساتھ وقت گزار رہا ہو گا۔یہ سب کچھ سائنسی ترقیات کی وجہ سے ممکن ہوا ہے اور آنے والے دور میں بھی سائنس ہی کو بالادستی حاصل رہے گی۔سائنس نے مذہبی اعتقادات پر جو شعلہ فشانی صنعتی دور میں کی تھی اس کو مزید تقویت ملنے کا بھی امکان ہے لیکن سوال یہ پید ا ہوتا ہے کہ اس دور میں دنیا بھر کے مسلمان کہاں کھڑے ہوں گے۔کیا ہم یورپ کی تقلید محض ہی کئے جائیں گے اور ان کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی پر اترائیں گے یا خود بھی اس قابل ہوں گے سائنس کی دنیا میں ان کا مقابلہ کر سکیں۔اس حوالے سے یو ٹیوب پر ایک ویڈیو کا مشاہدہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے جس میں ہماری قابل رحم صورتحال واضح کی گئی ہے۔اس ویڈیو میں یہ دکھایا گیا ہے کہ دوہزار پچاس میں ترقی یافتہ ممالک ترقی کرتے ہوئے کہاں پہنچ جائیں گے،جب کہ اس دور میں بھی پاکستانی بجلی کے انتظار میں کھڑے ہوں گے۔ یہ ویڈیو جس حقیقت کی ترجمانی کر رہی ہے اس کے آئینے میں ہمارا پورا معاشرہ اپنی تمام تر آلکسی اور بے ایمانی کے ساتھ دکھائی دے رہا ہے۔ہمارے اندرونی جھگڑے،فرقہ وارانہ نفرتیں،انتقامی سیاست،بے روزگاری،سماجی ناہمواری،صوبائی عدم یکجہتی،لسانی عصبیتیں اور بے شمار مسائل،اس نوعیت کے ہیں جو مضبوط اور سچی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔پھر ہمارا نوجوان طبقہ جو پہلے کبھی کبھار انٹر نیٹ کلبوں میں چھپ چھپا کر کچھ دیر پورنوگرافی کی ویب سائیٹس دیکھ لیتا تھا، اس کے ہاتھ میں موبائل فون اور لیپ ٹاپ تھما دیا گیا ہے، سو اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ پورنو گرافی کی ویب سائیٹس کھولنے والے ملکوں میں پاکستان کا شمار پہلے دو تین ملکوں میں ہونے لگا ہے۔یہ بات جہاں ہمارے اخلاقی زوال کی علامت ہے کہ وہاں حیرت اس بات پر بھی ہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی اسلام سے کتنے دور ہیں اور اللہ کی ناراضی اور گناہ کے کاموں میں دوسری دنیا خصوصاً غیرمسلموں سے کتنا آگے ہیں۔ہمارا مستقبل ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور ہمارے یہ اقبال کے شاہین جو اخلاقی رزالت و گمراہی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں وہ بھلا بلند پرواز،بلند حوصلہ،دورا ندیش اور سیر چشم کس طرح ہو سکتے ہیں۔اس آٹومیشن ایج کے اس جدید دور میں یورپ اپنی تمام تر عریانیت کے ساتھ ہمارے گھروں میں گھس آیا ہے۔ان کا پھیلایا ہوافتنہ جدیدیت اور ترقی کے نام پرہمارے ناپختہ اور پختہ سب ذہنوں کو بھی متاثر کر رہا ہے لیکن سب سے زیادہ خطرہ ہماری نوجوان نسل کو ہے۔ہمیں اپنے بچوں اور نوجوان نسل کو اس طوفان بلاخیز کی حشرسامانیوں سے بچانا ہے اور اس کے لیے سکولوں،کالجوں کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پربھی کوئی بہت بڑی تحریک، عریانیت کے خاتمے کی چلانا ہو گی۔وزیراعظم عمران خان نے اسلام کا حقیقی امیج ابھارنے اوراسلامی ہیروز کے خوبصورت کردار اسے مسلم دنیا کو متعارف کرانے کے لیے ترکی،ملائشیا اور پاکستان کے مشترکہ ٹی وی چینل کے منصوبے کی بات کی ہے۔ہمارا مشورہ یہ بھی ہے کہ یہ اسلامی بلاک فیس بک اور یوٹیوب کے مقابلے پر اپنی ویب سائیٹس شروع کرے، تاکہ جس طرح سماجی تعلق کی مغربی ویب سائیٹس کمیونٹی معیارات کے نام پر حق اور سچ کومٹااور دبایارہی ہیں۔اس کا سدباب ہواور دنیا بھر کے مسلمانوں کو سماجی تعلق کی پرخلوص جگہ بھی مہیا کی جاسکے۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج کی جدید دنیا مذہب سے لاتعلق سی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بیشتر لوگ بغیر مذہب کے زندگی گزار رہے ہیں۔الحاد ان کے ریشے ریشے میں دوڑتا ہے۔اس کے پیچھے سائنس اور دنیا کی مادی ترقی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے سرمائے کے بت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں دولت اور آمدنی کے مقابلے میں دین،مذہب،اخلاقیات سب بے وقعت دکھائی دیتے ہیں۔سرمایہ ہی اہل دنیا کا مقصد ہے اور وہ واحد ذریعہ بن چکا ہے جس سے آرام وآسائش اور آسانیاں خریدی جا سکتی ہیں۔ آج کے مغرب کا فرد ہفتے کے پانچ دن مشین کی کام کرتا ہے اور بقیہ دو دن اپنی کمائی ہوئی دولت سے عیاشی کا سامان خریدتادکھائی دیتا ہے اورکی وجہ یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف دنیاوی عیش و عشرت کا حصول، آسانیاں اور سہولتیں ہی ہیں۔اہل مغرب اپنی راحت وآرام کا بہت سا سامان پیدا کر چکے ہیں اورا
س ترقی میں کمپیوٹر کے بعد ربوٹ ایک نئے انداز میں لوگوں کی زندگی کا حصہ بن رہا ہے۔مغرب میں جنسی آزادی کسی اخلاق کے تابع نہیں ہے۔وہاں جنسِ مخالف سے عمر بھر کے عہد وپیماں بھی کسی الف لیلہ کی کہانی جیسے بے وقعت اور بے حقیقت ہوچکے ہیں۔اب وہاں اس ضرورت کی تکمیل کے لیے بھی ربورٹ ایجاد کر لیے گئے ہیں۔یہ ربورٹ بیک وقت بچوں اور گھر کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ بیوی کا کردار بھی ادا کریں گے۔مغرب نے اپنی راحت اور آسانی کے لیے جس رستے کا انتخاب کیا تھا،وہ اپنے اخلاقی زوال کے ساتھ آج بھی اس پر چل رہا ہے اور ربورٹ کے ”باشعور“ہونے سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا لیکن سوال مشرق کا ہے کہ وہ مشرق جو ایک طرف اپنے دین و مذہب اور روایات سے جڑا ہوا ہے، تو دوسری طرف مغرب کی تقلید میں بھی اندھا ہو چکا ہے، وہ کہاں کھڑا ہوگا۔ اس موقع پر حضرت علامہ اقبال یاد آ رہے ہیں۔
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ گاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کو
ہوس کے پنجہ ء خونیں میں تیغ کار زاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post