غواصی


از: یوسف خالد
ایک لَے ایسی ہے جو فطرت نے ہماری روح کی لطافت سے ہم رشتہ کر رکھی ہے — ہمارا حسی نظام جب بھی اس لے سے منسلک ہوتا ہے تو ایک سرشار کر دینے والی رو پورے بدن میں محسوس ہونے لگتی ہے — ایک ان دیکھے جہان کی طلب بڑھنے لگتی ہے — ہم جو زندگی کے ہنگاموں سے اکثر بے زار ہونے لگتے ہیں — ہمیں ایک ایسی فضا درکار ہوتی ہے جہاں شعر و نغمہ اور پر خلوص رفاقتیں یا خوشگوار یادیں کچھ دیر ہمارے ساتھ رہیں اور ہم ایک پر مسرت ماحول میں آنکھیں بند کیے ہر شے سے بے خبر ہو جائیں — کچھ دلفریب آوازوں اور یادوں کی موجودگی میں ایک طرح کا سکوت ہے جس میں ہم خود سے ہم کلام ہوتے ہیں اور اپنی ذات کی یاترا کرتے ہیں –
میرا بھی کچھ وقت انہیں کیفیات کو اوڑھ کر گزرتا ہے – جب کسی آوازکی دلکشی کسی دل نوازدھن سے مل کر ایک طلسماتی فضا پیدا کرتی ہے تو میں اس کے بہاؤ میں بہتا چلا جاتا ہے – سرشاری کے ان لمحوں میں بہت سی یادیں تصویروں کا روپ دھار لیتی ہیں آنکھیں ان تصویروں سے جڑے کرداروں کو ماضی سے حال میں لے آتی ہیں – کردار مجھ سے ہمکلام ہونے لگتے ہیں – میں دیر تک ان کرداروں کے لہجے کی مٹھاس اور گیت کی لے میں کھویا رہتا ہوں -یہ خواب ناک فضا مجھے توانا کر دیتی ہے – میں ان دیکھے جہانوں کی سیاحت کو نکل جاتا ہوں –
میری یہ دنیا مجھے جمالیاتی مسرت عطا کرتی ہے اور میں غمِ جہاں سے بے گانہ ہو کراپنی ذات کی غواصی کرتا ہوں – مجھے اپنی ذات ایک شفاف جھیل کی صورت محسوس ہوتی ہے جس کی تہہ میں میرا تخلیقی رزق موتیوں کی صورت موجود ہے میں یہ موتی چنتا ہوں اور ان سے اپنے شعری پیکر کو مزیّن کرتا ہوں –

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post