اعزاز

از : سنیہ منان
ایوان صدر مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔یوم آزادی کی آمد آمد تھی ۔ حکومتی عہدیداروں نے فوجیوں کے اعزازمیں ایک خاص تقریب کا اہتمام کیا تھا. فوجی افسران, اعلی عسکری قیادت, بیوروکریٹس اور شہیدوں کے خاندان اس تقریب کا حصہ تھے. کچھ عرصہ پہلے تک وہ اپنے دونوں بیٹوں اور شوہر کے ساتھ ایسی تقریبات میں بڑے ذوق و شوق سے جاتی تھی.
آج بات کچھ مختلف تھی. اس کے ساتھ دونوں بیٹے تو تھے لیکن مجازی خدا کی کرسی خالی تھی.
آج وہ ایک شہید کی بیوہ کے طور پر تقریب کا حصہ بنی تھی. آنکھیں نم تھیں، دل غم سے معمور تھا پر دل میں کہیں ایک عجیب سا سکون تھا کہ شہید کبھی مرتا نہیں۔
دو ماہ پہلے اس کے شوہر کیپٹن جنید احمد کو وزیرستان کے علاقے میں آپریشن کے دوران شرپسندوں نے شہید کردیا تھا. آج کی تقریب میں انہیں اعلی فوجی اعزازات سے نوازا جانا تھا.
اسٹیج پہ میزبان بڑی تندہی سے مہمانوں کو وطن عزیز کیلئے جان دینے والے ایسے بہت سے شہیدوں کی داستان سنا رہی تھی.
        پورے ایوان صدر میں سبز ہلالی پرچم کی بہاریں تھیں. شہیدوں کے ورثا اپنے پیاروں کے فوجی اعزازات بڑی شان و شوکت سے وصول کر رہے تھے،بہت سی ماؤں کی آنکھیں نم تھیں جنہوں نے اپنے لاڈلے سپوت اس دھرتی کی نذر کیے تھے. بہت سی سہاگنوں کے سہاگ وطن کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے منوں مٹی تلے جا سوئے تھے. لیکن سبز ہلالی پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا تھا.
اسٹیج پہ اب اس کے شوہر کیپٹن جنید شہید کا تعارف اور شہادت کا ذکر ہو رہا تھا میزبان نے فوجی اعزاز وصول کرنے کے لئے کیپٹن جنید شہید کےورثا کو اسٹیج پہ آنے کی دعوت دی
وہ نم آنکھوں لرز تے قدموں سے اسٹیج کی جانب بڑ ھی.
مائیک سنبھالا اور اپنی کانپتی مگر مضبوط آواز میں اپنے بیٹوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی:” مجھے اس بات پہ فخر ہے کہ میں آج ایک شہید کی بیوہ کے طور پہ یہاں موجودہوں. فوجیوں کی بیویاں اور مائیں صرف ایک بات جانتی ہیں اور وہ یہ کہ کسی بھی لمحے ان کے پیارے شہادت کا جام نوش کر سکتے ہیں۔
پھر اس نے لمحہ بھر توقف کیا. حاضرین کے چہروں کی جانب ایک بھرپور نگاہ ڈالی اور سلسلہ کلام دوبارہ شروع کیا.” وہ قو میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جن کے فوجی جوان ہمہ وقت سرحدوں پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں. میں آج اس بات کا عزم کرتی ہوں کہ اپنے دونوں بیٹوں کو بھی اس ملک کی خدمت کے لیے وقف کر دوں گی. چاہے وہ سول عہدوں پہ کام کریں یا فوج میں . یہ ملک تب ہی آگے جائے گا جب دیے سے دیا جلے گا.”
اپنی نشست کی جانب بڑھتے ہوئے اس نے اپنے پیچھے تالیوں کی بے تحاشہ گونج میں میزبان کو اسٹیج پہ کہتے سنا:” جب تک وطن عزیز میں ایسی دلیر بیویاں, ایسی مائیں, ایسی بہنیں اور ایسی بیٹیاں موجود ہیں وطن عزیز کے دفاع کو انشاللہ انچ نہیں آ سکتی اور بیشک اللہ اس ملک کی حفاظت کرنے والا ہے.”
اپنی نشست پر بیٹھ کے اس کے دونوں بیٹوں نے اس کے ہاتھ مضبوطی سے تھام لیے ،اپنے باپ کے فوجی اعزاز کو دیکھ کے ان کی آنکھیں ایک نئی امید سے جگمگانے لگیں.

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post